بھیشم ساہنی کی یاد میں


راولپنڈی، مارچ 1947ء ، ہندو مسلم فسادات کا زور ہے۔ گلیوں محلّوں میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔ افراتفری کا عالم ہے۔ ایسے میں ایک جوان رضاکار اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ گلی گلی جاکر لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس دوران اُسے ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ایک بڑا سا کنواں ہے اور عورتیں اپنی آبرو بچانے کے لیے بھاگ بھاگ کر اُس کنویں میں کود رہی ہیں، جن کی گود میں بچے ہیں وہ بچوں سمیت چھلانگ لگا رہی ہیں۔

جن کے ساتھ جوان بہو بیٹیاں ہیں وہ جبراً انھیں کھینچ کر اُس کنویں میں دھکیل رہی ہیں۔ کوئی انھیں روکنے کی کوشش بھی نہیں کر رہا۔ ہر جانب ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ جب ذرا امن قائم ہوتا ہے تو وہ جوان اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کنویں کے پاس جاتا ہے، یہ دیکھنے کے لیے کہ اگر کوئی زندہ بچا ہو تو اس کی مدد کی جا سکے، لیکن جب وہ کنویں میں جھانکتا ہے تو دیکھتا ہے کہ مردہ عورتوں کی پھولی ہوئی لاشیں اندر تیر رہی ہیں۔ اس واقعے کو اس خوفناک منظر کو وہ شخص عمر بھر نہیں بھول سکا۔ کنویں کا وہ اندھیرا وہ تاریکی زندگی بھر اُسے گھورتی رہی۔اُس نوجوان کا نام بھیشم ساہنی تھا۔

بھیشم ساہنی، ہندی کے نامور ادیب تھے۔ وہ 8 اگست 1915ء کو راولپنڈی کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والد ہربنس لال ساہنی اور والدہ لکشمی دیوی کی ساتویں اولاد تھے۔ اپنے بڑے بھائی، مشہور ہندوستانی فلمی اداکار بلراج ساہنی ہی کی طرح انھوں نے بھی گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور یہیں اُن کی وابستگی افسانوی ادب کے ساتھ ہوئی۔ ان کی پہلی کہانی ’آبلہ‘ گورنمنٹ کالج لاہور کے رسالے ’راوی‘ میں شائع ہوئی تھی جبکہ دوسری کہانی ’نیلی آنکھیں‘ ایک ہندی ادبی جریدے ’ہنس‘ میں چھپی۔

بھشم ساہنی نے نوجوانی ہی میں تحریک آزادی میں حصّہ لینا شروع کردیا تھا۔ 1942ء کی ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کے دوران وہ جیل بھی گئے۔ وہ کانگریس پارٹی کے ضلعی سیکریٹری تھے۔

Bisham Sahni

1947 ء میں ہونے والی ملک کی تقسیم نے سب کچھ بدل دیا۔ بھشیم ساہنی کو راولپنڈی سے ہندوستان ہجرت کرنا پڑی۔ ہجرت کے اس تجربے نے انھیں شدید متاثر کیا اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے فن میں طرح طرح سے اظہار پاتا رہا۔ 1948ء میں وہ ’انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن‘ (اپٹا) کے ممبر بن گئے۔ ان کے بڑے بھائی بلراج ساہنی پہلے ہی اس ایسوسی ایشن کے ممبر تھے۔ بھیشم ساہنی نے یہاں ہدایت کاری بھی سیکھی اور اداکاری بھی۔

انھوں نے بلراج ساہنی کی طرح فلموں میں قسمت آزمائی کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے اور انھیں بے روزگاری کے دن گزارنے پڑے۔ وہ کمیونسٹ پارٹی سے منسلک ہو گئے اور کئی سال انبالہ میں رہے۔ بعد میں انھوں نے خالصہ کالج میں بطور لیکچرار ملازمت اختیار کرلی۔ انھوں نے چندی گڑھ سے ڈاکٹر اندر ناتھ مدان کی زیر نگرانی اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان ‘Concept of the hero in the Novel’ تحریر کیا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ 1952ء میں وہ دلّی چلے آئے اور دلّی کالج میں انگریزی ادب کے پروفیسر کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔

کچھ عرصے بعد جب روس کے ساتھ ہندوستان کا ادبی اور سماجی تعلق استوار ہوا تو بھیشم ساہنی اس میں پیش پیش تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے کئی برس ماسکو میں گزارے۔ ماسکو میں کئی بڑے بڑے روسی ادیبوں کی تحریروں سے ان کی شناسائی ہوئی، خاص طور پر لیو ٹالسٹائی کی تحریروں سے۔ انھوں نے ان کہانیوں کا ہندی میں ترجمہ کیا، اسی طرح ہندی کی بھی متعدد کہانیاں انھوں نے دوسری زبانوں میں ترجمہ کیں۔ روس میں اپنے کام کی معیاد ختم ہونے پر وہ دلّی واپس آ گئے اور دوبارہ دلّی کالج میں انگریزی کے استاد کی حیثیت سے کام کرنے لگے جہاں سے 1980ء میں انھوں نے ریٹائرمنٹ لی۔

Bisham Sahni

دلّی میں قیام کے دوران انھوں نے معروف ہندی ادبی جریدے ’نئی کہانی‘ کی ادارت کی۔ انھیں کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی لیکن سنسکرت، اُردو، ہندی، انگریزی اور پنجابی میں خاص مہارت حاصل تھی۔ انھوں نے اظہار کے لیے ہندی زبان کو چُنا۔ پنجابی کا محاورہ ان کی ہندی نثر کی نمایاں پہچان تھا۔ ادب کے ساتھ ان کا رشتہ آخر دم تک قائم رہا وہ نہ صرف ادبی طور پر فعال رہے بلکہ مختلف النوع سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں میں مصروفِ عمل بھی رہے۔

وہ عصری ہندی افسانے کے چند سب سے متاثر کن ناموں میں سے ایک تھے، یہی نہیں، ان کا شمار ہندی کے اہم ترین ڈرامہ نگاروں میں بھی ہوتا ہے۔ وہ صرف کردار تخلیق ہی نہیں کرتے تھے بلکہ انھیں اسٹیج پر ، اور کبھی کبھی پردہ سیمیں پر چلتا پھرتا بھی دکھاتے تھے۔ وہ نہایت عمدہ ہدایت کار تھے۔ خود انھیں بھی فنِ اداکاری سے گہرا لگاؤ تھا، اگرچہ اس کا مظاہرہ انھوں نے کم کم ہی کیا۔ ہم نے انھیں سعید اختر مرزا کی فلم ’موہن جوشی حاضر ہو‘ میں اداکاری کرتے دیکھا تھا، پھر وہ اپنے مشہور ناول ’تمس‘ پر بننے والی فلم میں بھی دکھائی دیے۔

آخری بار وہ 2002ء میں بننے والی اپرنا سین کی فلم ’مسٹر اینڈ مسز ائیّر‘ میں ایک بوڑھے مسلمان کے کردار میں نظر آئے جو ہندو مسلم فسادات کا شکار ہوجاتا ہے۔ تقسیم، ہجرت اور فسادات کی کہانی نے کبھی بھیشم ساہنی کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ انھوں نے اس موضوع پر متعدد کہانیاں لکھیں لیکن جس کہانی میں یہ موضوع پوری طرح اُبھر کر سامنے آیا وہ ان کا سب سے مشہور ناول ’تمس‘ ہے۔ تقریباً تیس برس تک یہ موضوع ان کو اُکساتا رہا اور جب 1974ء میں اُن کا یہ ناول شائع ہوا تو یوں معلوم ہوا جیسے تقسیم کا یہ عظیم انسانی المیہ پوری طرح ادب میں محفوظ ہوگیا ہے۔ ’تمس‘ سے پہلے ہندی ادب میں یشپال کے ناول ’جھوٹا سچ‘ کو اس موضوع پر سب سے متاثر کن ناول سمجھا جاتا تھا، لیکن بھیشم ساہنی کے ’تمس‘ میں تقسیم کی شاید سب زیادہ حقیقت پسندانہ عکاسی کی گئی ہے۔ اس ناول کو 1975ء میں ساہتیہ اکیڈمی کے موقر ادبی اعزاز سے نوازا گیا۔

ادب کے ساتھ بھیشم ساہنی کا تعلق محض ادب کی تخلیق کے لیے نہیں تھا، وہ ادیبوں کے اُس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جو سامراج کے خلاف جدوجہد میں عملاً شریک تھا اور آزاد ہندوستان میں معاشرتی، سیاسی اور معاشی مساوات کی جنگ جاری رکھے ہوئے تھا۔ وہ پریم چند کی ادبی روایت کے امین تھے اور ادب میں حقیقت پسندی اور انسانی اقدار کے حامی تھے۔ ادیب کے طور پر بھیشم ساہنی کے فن پر پریم چند اور یشپال کے گہرے اثرات نظر آتے ہیں۔

انھوں نے بھی زندگی کی ستم ظریفی اور بے ضابطگیوں کو اپنی کہانی کا موضوع بنایا، اگرچہ پریم چند کی طرح انھوں نے دیہی object کو استعمال نہیں کیا لیکن مجموعی طور پر ماحول اور کردار کو جس طرح انھوں نے بیان کیا ہے اور عام آدمی کی جدوجہد کی جیسی تشریح کی ہے وہ انھیں پریم چند کے اسلوب کے قریب لے آتی ہے۔ ان کی کہانیاں نچلے طبقے کی زندگی اور ان کی جدوجہد کو نمایاں طور پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے کی زندگی کے تضادات اور کشمکش کو بھی بڑی خوبی سے ظاہر کرتی ہیں۔ ان کہانیوں میں انھوں نے جہاں زندگی کے تلخ حقائق کا بیان کیا ہے وہیں عام لوگوں کی زندگی کے آدرشوں کا نقشہ بھی پیش کیا ہے۔ یہ اُن کی اشتراکی تحریک سے وابستگی ہی کا اثر تھا کہ اُن کی تحریروں میں عام آدمی کی امّیدوں، دکھوں اور جدوجہد کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔

وہ انسان دوستی کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں ہندوستان کی سیاسی، سماجی، اور ثقافتی حقیقت کی واضح تصویر پیش کی۔ ان کے فن کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انھوں نے جیسی زندگی گزاری، جو جدوجہد کی، اس ہی کا جیتا جاگتا نقش اپنی کہانیوں میں اُبھارا۔ ان کے لیے زندگی اور فن میں کوئی فرق نہیں تھا۔ وہ اپنے فن کی سچائی کو اپنی زندگی کی سچائی مانتے تھے۔ انھوں نے سماج میں عورت اور مرد کے رشتے کو بار بار موضوع بنایا۔

وہ گرہستی کے لیے عورت اور مرد کو گاڑی کے دو پہیّوں کی طرح لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں اور ترقی اور خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے دونوں کے مابین مثالی توازن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کہانیوں میں ہم آہنگ زندگی گزارنے والے مثالی جوڑوں کو بڑی خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ مثالی معاشرے کے قیام کے لیے خواتین کی مناسب تعلیم، مالی آزادی اور شخصیت کی نشوونما بے حد ضروری ہے۔ وہ شادی بیاہ کو محض صدیوں سے چلی آ رہی ایک رسم نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے سماجی اور جذباتی معاہدے کے طور پر دیکھتے تھے۔

انھوں نے ہندوستانی سماج اور سیاست میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی، لیڈروں کے منافقانہ روّیے، مذہبی شدّت پسندی کے رجحان، فرقہ واریت اور اخلاقی قدروں کے زوال کے بارے میں بھی جم کر لکھا۔ مارکسزم سے متاثر ہونے کے سبب وہ سماج میں پھیلی معاشی بدنظمی اور اس کے المناک اثرات کو شدّت سے محسوس کرتے تھے۔ وہ عام لوگوں کے کثیر الجہتی استحصال کو سماجی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اور سرمایہ دارانہ نظام کو اس کی سب سے بڑی وجہ گردانتے تھے۔

ان کا ادبی اور ثقافتی نکتہ نظر نہایت سادہ اور عملی تھا، جس میں تطہیر کا عمل جاری رہتا تھا۔ ترقی پسندانہ سوچ کی وجہ سے ان کا ادب ایسی اقدار کا حامل تھا جو انسانی فلاح اور بہبود کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ وہ استحصال سے پاک اور مساوات پر مبنی ایک ترقی پسند معاشرے کی تشکیل کا خواب دیکھتے تھے اور یہی خواب اپنی کہانیوں، ناولوں اور ڈراموں کے ذریعے اپنے پڑھنے والوں کو دکھاتے تھے۔

بھیشم ساہنی کی ادبی جہتیں نہایت متنوّع ہیں۔ انھوں نے ’تمس‘ کے علاوہ بھی مزید ناول تحریر کیے جن میں ’جھروکے‘، ’کڑیاں‘، ’بسنتی‘، ’مایا داس کی ماڑی‘، ’کنتو‘ اور ’نیلو نیلما نیلوفر‘ شامل ہیں۔ انھوں نے سو سے زیادہ مختصر کہانیاں یا افسانے تحریر کیے جو ان کے9 افسانوی مجموعوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ناولوں اور افسانوں کے علاوہ بھیشم ساہنی نے چھ اسٹیج ڈرامے بھی تحریر کیے جن میں ’ہانوش‘، ’کبیرا کھڑا بازار میں‘، ’مادھوی‘، ’معاوضے‘، ’رنگ دے بسنتی چولا‘ اور’عالمگیر‘ شامل ہیں۔

انھوں نے بچوں کے لیے بھی متعدد کہانیاں لکھیں جو ان کے مجموعے ’غلیل کا کھیل‘ میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنے بھائی بلراج ساہنی کے بارے میں ایک سوانحی کتاب Balraj: My brother انگریزی میں تحریر کی اور خود اپنی آپ بیتی ’آج کے اتیت‘ کے عنوان سے لکھی۔11 جولائی 2003ء کو ہندی کے اس بے مثال ادیب کا انتقال ہوگیا۔

شاید بھیشم ساہنی جیسے ادیبوں کو پڑھنے کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے کیوں کہ نہ تو ہمارے معاشرے کے تضادات ختم ہوئے ہیں اور نہ ان کہانیوں کی معنی خیزی اور relevance میں کوئی فرق آیا ہے۔بھیشم ساہنی نے ہندوستانی سماج کے جن مسائل پر کہانیاں لکھی تھیں وہ مسائل اتنے ہی پاکستان کے بھی ہیں۔

Facebook Comments HS