وجاہت مسعود کا ادبی محبت نامہ اور عورتوں کے مسائل
یہ میری خوش بختی ہے کہ وجاہت مسعود جیسے سنجیدہ دانشور اور تجربہ کار سماجی و سیاسی تجزیہ نگار نے میری ذات اور میرے نظریات کے حوالے سے نہ صرف ایک کالم لکھا ہے بلکہ مجھ ناچیز درویش سے ایک اہم سوال بھی پوچھا ہے۔ اس سوال سے یوں لگتا ہے جیسے ایک درویش دوسرے درویش سے سماجی مسائل پر مکالمہ کرنا چاہتا ہے۔
’ہم سب‘ کے قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ وجاہت مسعود اور میرے انداز تحریر میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ وہ مسجع و مقفیٰ اور میں سادہ و سلیس زبان استعمال کرتا ہوں۔ ان کے لیے ابوالکلام آزاد جیسی انشا پردازی اور میرے لیے میر کے اشعار کا سہل ممتنع فن کی معراج ہے۔
یہ علیحدہ بات کہ اختلاف الرائے کا ہم دونوں خیر مقدم کرتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ میں ان کے سوال کا جواب دوں میں اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ وجاہت مسعود کے مجھ پر بہت سے احسانات ہیں۔ انہوں نے ’ہم سب‘ پر میرے بہت سے متنازعہ فیہ کالموں کو چھاپ کر میری جو حوصلہ افزائی کی میں اس کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اس بات کا اقرار انہوں نے ’ہم سب‘ کے کالموں کے مجموعے میں ان الفاظ میں کیا تھا
’مجھے‘ آدرش ’میں شامل تحریروں کا اولیں قاری ہونے کا اعزاز نصیب ہوا۔ سچ میں ہر دفعہ اس خیال سے دل بیٹھ جاتا تھا کہ نامعلوم یار عزیز نے اس دفعہ کس بارودی سرنگ کو فتیلہ دکھایا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی شائستہ بیانی میں کلام نہیں لیکن ہم مقہور لوگ تو خطہ اشتعال کے باشندے ہیں۔ خیر گزری کہ ڈاکٹر صاحب موت کے کنویں سے ہمیشہ وہی دھیمی مسکراہٹ سجائے برآمد ہوئے جس سے ہم ایسوں کی متزلزل انسانیت کو قرار آ جاتا ہے‘
وجاہت مسعود نے اپنے کالم میں جس نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے میں اس سے متفق ہوں اس لیے ان کے اختلاف سے اتفاق کرتا ہوں کہ اگر معاشرے میں مردوں اور عورتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہو جائیں اور عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری نہ سمجھا جائے تو ہم ایک انصاف پسند پرامن معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔
میں وجاہت مسعود کے اس نقطہ نظر سے بھی متفق ہوں کہ ہر معاشرے میں ایک اقلیت ایسی ہوتی ہے جو استحصال کرتی ہے اور ایک اکثریت ایسی ہوتی ہے جس کا استحصال کیا جاتا ہے۔
میرا وجاہت مسعود سے بس اتنا اختلاف ہے کہ یہ استحصال صرف صنفی بنیادوں پر نہیں ہے۔ وجاہت رقم طراز ہیں
’ مردانہ بالادستی وہ بدترین نا انصافی ہے جس سے استحصال کی ثقافت جنم لیتی ہے‘
میری نگاہ میں استحصال کی چند اور مثالیں بھی ہیں جن کی کوکھ سے نا انصافی کے انسانی مسائل جنم لیتے ہیں۔ میں چند مثالیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔
نا انصافی اور استحصال کی پہلی مثال غربت ہے۔ ہم ساری دنیا کے انسانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، امیر اور غریب۔ مراعات یافتہ اور غیر مراعات یافتہ۔
ایک طرف امیروں کی وہ اقلیت ہے جو محلوں میں رہتے ہیں، قیمتی گاڑیوں اور جہازوں میں سفر کرتے ہیں، کشتیاں اور کاٹیج رکھتے ہیں، جن کے بچے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں اورجن کے رشتہ دار بیرونی ممالک میں جا کر علاج کرواتے ہیں۔ دوسری طرف غریبوں کی وہ اکثریت ہے جن کے بچے رات کو بھوکے سوتے ہیں، جن کے سروں پر کوئی چھت نہیں، جن کے بچے تعلیم سے محروم رہتے ہیں اور جن کے رشتہ دار بیمار ہوں تو علاج نہیں کروا سکتے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظاموں کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتے جا رہے ہیں
نا انصافی اور استحصال کی دوسری مثال رنگ اور نسل ہے۔ اس مسئلے کی مثال اپارتھائیڈ کا نظام ہے جو پہلے جنوبی افریقہ میں قائم تھا اور اب فلسطین میں موجود ہے۔ اس نظام میں ایک اقلیت ان حقوق و مراعات سے مالامال زندگی گزارتی ہے جس سے اکثریت محروم رہتی ہے۔
نا انصافی اور استحصال کی تیسری مثال جنسی ترجیحات کی ہے۔ اس قسم کی نا انصافی کی مثال گے اور لیسبین مرد اور عورتیں ہیں جنہیں معاشرہ قبول نہیں کرتا اور انہیں ظلم و تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔ مغرب میں پچھلی چند دہائیوں میں راک ہڈسن جیسے ایکٹروں، ایلٹن جان جیسے موسیقاروں اور انسانی حقوق کی جنگ لڑنے والے کارکنوں کی کوششوں سے ایسے قوانین بنے ہیں جن کی وجہ سے ایسے لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
نا انصافی اور استحصال کی چوتھی مثال جسمانی اور ذہنی معذوری ہے۔ جو مرد اور عورتیں جسمانی معذوری اور ذہنی بیماری کا شکار ہیں ان کے بارے میں آج بھی مشرق و مغرب میں بہت سے تعصبات پائے جاتے ہیں۔ ایسے انسان بہت سے انسانی حقوق سے محروم رہتے ہیں۔

نا انصافی اور استحصال کی پانچویں مثال صنفی امتیاز ہے۔ وجاہت مسعود نے اس مسئلے کے بارے میں میری رائے مانگی ہے۔
دنیا میں نجانے کتنے ممالک اور معاشرے ایسے ہیں جو اکیسویں صدی میں بھی پدرسری نظام سے متاثر ہیں۔ جہاں مرد عورتوں کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں، ان سے کنیزوں جیسا سلوک کرتے ہیں اور پھر ایسے غیر انسانی سلوک کا مذہبی اور ثقافتی جواز بھی پیش کرتے ہیں۔
ہمیں یقین نہیں آتا کہ دنیا میں ایسے معاشرے بھی موجود ہیں جہاں کے لوگ اکیسویں صدی میں بھی زمانہ جاہلیت میں رہتے ہیں۔ وہاں عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے کی، ملازمت کرنے کی، اپنا شریک حیات پسند کرنے کی حتیٰ کہ اکیلے سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
میں اپنے سوشلسٹ دوستوں سے کہتا ہوں کہ کھیت کا کسان اور فیکٹری کا مزدور ایک جنگ لڑتا ہے جو طبقاتی جنگ ہے۔ اگر مزدور عورت ہے تو وہ دو محاذوں پر جنگ لڑتی ہے۔ طبقاتی محاذ پر بھی اور صنفی محاذ پر بھی۔
اگر مزدور عورت کالی بھی ہے تو وہ تین محاذوں پر جنگ لڑتی ہے، طبقاتی محاذ پر بھی، صنفی محاذ پر بھی اور نسل کے محاذ پر بھی۔

اگر مزدور کالی عورت لیسبین بھی ہے تو وہ چار محاذوں پر جنگ لڑتی ہے، طبقاتی محاذ پر بھی صنفی محاذ پر بھی نسل کے محاذ پر بھی اور جنسی ترجیحات کے محاذ پر بھی۔ اگر کالی مزدور عورت ڈپریشن کا شکار بھی ہے تو وہ بھی چار محاذوں پر جنگ لڑتی ہے۔
پشاور کے زنانہ ہسپتال میں کام کرتے ہوئے میں کئی ایسی ماؤں سے ملا جو پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار تھیں۔ ان میں سے بعض نے اقدام خودکشی بھی کیا تھا۔ میں وجاہت مسعود سے متفق ہوں کہ ماؤں کو انسانیت کے لیے بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ ایسی قربانیاں جن کا مردوں کو احساس تک نہیں۔
پچھلی صدی میں جہاں مغرب میں بے ٹی فریڈین۔ سیماں دی بووا۔ اورڈی لورڈی، ایما گولڈمین اور مشرق میں کشور ناہید، کملا بھسین، نسرین انجم بھٹی، فہمیدہ ریاض، عذرا عباس، عشرت آفرین، نوال السعداوى اور فروغ فرخ زاد جیسی لکھاریوں نے عورتوں کی آزادی و خود مختاری کی جنگ لڑی، وہیں کینیڈا کے ہنری مورگن ٹیلر جیسے انسان دوست مرد بھی تھے جنہوں نے عورتوں کے ابارشن کے حقوق کے لیے قربانیاں دیں۔

میں وجاہت مسعود کی اس حوالے سے بھی عزت کرتا ہوں کہ انہوں نے ’ہم سب‘ پر پہلے ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کی اور پھر بہت سی دیگر خواتین کی تخلیقات چھاپ کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ میری نگاہ میں عورتوں کی آزادی و خود مختاری کی جنگ میں مردوں کا کردار اہم رہا ہے لیکن اس کردار پر کھل کر تبادلہ خیال نہیں ہوا۔
وجاہت مسعود نے اپنے کالم میں مجھ سے ایک سوال کیا تھا اس لیے میں بھی ان سے ایک سوال پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں۔
میری نگاہ میں لڑکیوں کی تعلیم و تربیت میں باپ اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ بچیوں کے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ میں وجاہت مسعود سے یہ جاننا چاہوں گا کہ انہوں نے
باپ بننے کے تجربے سے کیا سیکھا؟ اور وہ روایتی باپوں سے کیا کہنا چاہیں گے؟
میں کبھی باپ تو نہیں بنا لیکن میں نے ماموں کا کردار نبھایا۔ اپنی بھانجی کے لیے ایک نثری نظم لکھی تھی وہ حاضر ہے۔ امید ہے اس نظم سے وجاہت مسعود کو ایک اور کالم لکھنے کی ترغیب و تحریک ہوگی
عورتوں کی ڈگری اور چار نسلیں
آج ایک اہم دن ہے
آج میں بہت خوش ہوں
آج میری بھانجی وردہ کی کانووکیشن ہے
میں بڑے فخر سے اس تقریب میں شرکت کر رہا ہوں
وہ گاؤن پہن کر
سٹیج پر ڈگری حاصل کر رہی ہے
اور میں سوچ رہا ہوں
میری نانی سرور کی تعلیم دو جماعتیں تھی
وہ صرف اپنا نام لکھ سکتی تھیں
میری والدہ عائشہ نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی
انہیں پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن
ان کے روایتی والد اور بھائی نے کہا
تمہیں شادی کرنا ہے
بچے پیدا کرنے ہیں
کھانا پکانا ہے
سلائی کرنی ہے
زیادہ پڑھائی نہ کرو
رشتہ ملنا مشکل ہو جائے گا
میری بہن عنبر کی تیرہویں جماعت میں شادی کر دی گئی
انہیں سسرال بھیج دیا گیا
وہ بچے پالتی رہیں اور ساری عمر حور، زیب النسا اور خواتین ڈائجسٹ کے افسانے پڑھتی رہیں
میری بھانجی وردہ کینیڈا میں میرے ساتھ رہیں،
وہ کالج گئیں اور بڑی محنت سے ڈگری حاصل کی۔
آج میں ان کی گریجوئیشن کی تقریب میں شرکت کر رہا ہوں۔
اور سوچ رہا ہوں ہمارے ننھیال میں عورت کو ڈگری حاصل کرنے میں چار نسلیں لگ گئی ہیں۔
وردہ بخوبی جانتی ہے کہ اس کی ڈگری تعلیم کی وہ کنجی ہے جس سے اس کے لیے زندگی کے بہت سے دروازے کھل جائیں گے۔






ڈاکٹر صاحب آپ کا وقت بہت قیمتی ہے۔ کیا ای میل مل سکتا ہے۔ فیس بک پر بھی رابطہ ممکن نہ ہوسکا۔