چورانوے فیصد سادہ دل پاکستانی ملک چھوڑ کر کہاں جائیں؟


سوشل میڈیا کو جہاں انفارمیشن ریوولوشن کہا جاتا ہے وہاں اس کے منفی اثرات بھی کم تباہ کُن نہیں۔ ایک طرف جہاں آج کے بچے شعور کے اُس لیول پہ ہیں جہاں تک پہنچنے میں پندرہ بیس سال پُرانی جنریشن کو تیس تیس سال لگے تھے وہاں اس کے سماجی اور مذہبی انحطاط کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انٹرنیٹ اور ٹچ موبائل جہاں بچوں کی سوچ کو جِلا بخشتا ہے وہیں بچوں کے اخلاقی انحطاط کا باعث بھی بن رہا ہے۔ اخلاقی اقدار زوال پذیر ہیں اور بچوں کا باپ کو خبطی سمجھنے کا رویہ پروان چڑھ رہا ہے۔ ممکنہ طور پر اس کے اثرات کا کلائمیکس آج سے پندرہ بیس سال بعد نظر آئیں گے۔

بچوں کے سکول کی ٹیچر سے بچوں کی اخلاقی تربیت کے حوالے سے گفتگو ہوئی تو کہنے لگی ”سر! بڑی افسوسناک صورتحال ہے بچوں کے والدین بچوں کو لیپ ٹاپ، ٹیب اور موبائل دے کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں، بچوں کی تربیت کا یہ پہلو والدین کی ترجیح ہی نہیں ہے۔ اب تو“ ٹیچر یار! Why Don ’t you understand me ”والے بچے پروان چڑھ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کا دوسرا افسوسناک پہلو یہ کہ جس شخص کے بارے جو مرضی سیکنڈل پوسٹ ہو جائے ہر شخص اُس کی صداقت جانے بغیر اُس پروپیگنڈے کو پھیلائے جاتا ہے اور تب تک اُس شریف شخصیت کی عزت کا جنازہ نکل چُکا ہوتا ہے۔ بعد میں وہ لاکھ صفائیاں دیتا پھِرے۔ یعنی جو کام آج سے چند سال پہلے ”زرد اخباروں“ سے لیا جاتا تھا وہ اب ایک فیس بُک پوسٹ کے فاصلے پہ ہے۔ سوشل میڈیا اخلاقیات سے نا یہاں کوئی شناسا ہے نہ کسی کو غرض۔

پاکستانی سوسائٹی ایسی کہ اس حوالے سے یا کسی بھی حوالے سے کوئی قانون بنا بھی دیا جائے تو اُس کے غلط استعمال کا حقیقی خطرہ پہلے آن موجود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی اصل منشا یہ تھی کہ سرکاری طور پہ ہونے والے ہر کام میں شفافیت آئے لیکن اُس کا استعمال ہمارے ذہین لوگوں نے یوں ڈھونڈا کہ چند بلیک میلرز نے اسے کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ درخواست لکھی اور سرکاری افسران جو ماشا اللہ خود بھی اِسی گنگا میں نہاتے ہیں اُن کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ اکثر ایسے افسر ایسے لوگوں سے ڈیل کر لیتے ہیں چند نہ کرنے والے سوشل میڈیا کی پوسٹس کا شِکار ہو جاتے ہیں۔

چند دن پہلے ایک معروف خاتون اینکر نے اپنے خاوند پر تشدد کا الزام لگایا۔ مبینہ طور پر ”میک آپ زدہ زخموں“ نے سارے پاکستان کی ہمدردیاں سمیٹ لیں۔ سوشل میڈیا کا پریشر اتنا بڑھا کہ وزیرِ اعلی پنجاب کو اُس ملزم کو فوری گرفتار کروانا پڑا۔ کِسی کو یہ خیال ہی نہ آیا کہ الزام علیہ کا کم از کم موقف ہی لے لے۔ نہ کوئی سرکاری افسر نہ صحافی اور نہ ہی یو ٹیوبر۔

اب شوہر کا موقف سامنے آیا ہے اور انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ میڈم نے وہ زخموں کا سارا فوٹو سیشن سٹیج کیا تھا۔ اور یہ کہ وہ سی سی ٹی وی کی فوٹیج سے سب ثابت کرنے کو تیار ہے۔ آپ ذرا اُن تصویروں پہ غور کر کے دیکھیں تو وہ واقعی فیک لگتی ہیں۔ تشدد کے وقت عین دونوں آنکھوں کے نیچے اتنے پرفیکٹ اینگل سے نیل بن ہی نہیں سکتے اور دوسرا تشدد کرنے والے کا اصل نشانہ جسم کے باقی حصے ہوتے ہیں، چہرہ اور خصوصاً آنکھیں شاذ ہی ہوتی ہیں۔

ایک مناسب درجے کا افسر اس کہانی کی حقیقت کو دو گھنٹے میں کھول سکتا ہے اور یہ سب کہانی پلانٹڈ ثابت ہو بھی گئی تو ”اُس ظالم“ کے لئے کیا چارہ کار ہے؟ وہ کس کس کو تفتیش کا نتیجہ دکھا دکھا کر اپنی بے گُناہی ثابت کرتا پھِرے؟ اتنی افسوسناک صورتحال دیکھ کر گیلپ پاکستان کا 94 % لوگوں کے مُلک چھوڑ کر جانے کا سروے ٹھیک ہی لگتا ہے بلکہ اپنا شُمار بھی اُس % 94 میں لگتا ہے۔ پر اتنے سارے لوگوں کے پاس آخر متبادل کیا ہے؟ ہم سب جائیں تو کہاں جائیں؟ خداوند! یہ تیرے سادہ دل بندے کِدھر جائیں؟

Facebook Comments HS