پاکستان کا منشیات زدہ پھتو کون؟


یہ ستر کی دہائی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے۔ نام تو اس کا غالباً فتح محمد تھا لیکن محلے میں سب اسے پھتو ہی کہتے تھے۔ پھتو چائے کے ہوٹل میں کام کرتا تھا۔ زیادہ تر افیم کے نشے میں ہی غرق رہتا تھا اور اسی پینک میں گلی سے مہدی حسن یا نورجہاں کا کوئی فلمی گیت اونچی آواز میں گاتا ہوا ‏گزرتا تھا۔ ”تو جہاں کہیں بھی جائے، میرا پیار یاد رکھنا“ اس کے گلے میں خاصا سر تھا۔ یار لوگ ملکی سیاست، کھیلوں اور فلموں پہ پھتو کے دلچسپ تبصروں سے محظوظ ہوتے تھے۔

اس لحاظ سے پھتو محلے کی جانی پہچانی شخصیت تھا۔ ہفتہ دس دن میں، کبھی جب وہ نہا دھو کے، بالوں میں تیل لگا کے اور اہتمام سے بالوں میں کنگھی کر کے اور اس دور کے مطابق لمبی لمبی قلموں کے ساتھ ماتھے پہ ایک لٹ گرا کے اور نئے کپڑے پہن کے نکلتا تو کچھ اور ہی شخصیت دکھتا تھا۔ دن یونہی گزرتے گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ پھتو کے انداز بھی بدلتے گئے۔ اس کی نشے کی عادت پختہ ہوتی گئی اور بات صرف افیم کے نشے تک محدود نہ رہی۔

کچھ ہی سالوں میں سیاسی صورت حال کافی بدل گئی۔ جنرل ضیاء کے دور میں پھتو نے افیم چھوڑ کے چرس اور پھر ہیروئن کا نشہ شروع کر دیا۔ آہستہ آہستہ پھتو کی شخصیت میں تبدیلی آتی گئی۔ وہ پھتو جس کی باتیں اور تبصرے پُرلطف ہوا کرتے تھے، اب ہیروئن کے نشے میں اس کی حسِ مزاح کہیں دور کھو کے رہ گئی۔ اب وہ کسی چائے کے کھوکھے پہ کام نہیں کرتا تھا کیونکہ مالک نے اس کی بگڑتی نشے کی عادت کی وجہ سے نکال دیا تھا۔ کبھی کبھار وہ گھروں میں سفیدی یا رنگ و روغن کرتا نظر آتا، لیکن زیادہ تر فارغ ہی رہتا تھا۔

‏اس کا چھوٹا بھائی کسی خلیجی ریاست میں جاب کرنے لگا۔ تو ان کے گھر کی صورتحال قدرے بہتر ہو گئی۔ لیکن پھتو کو جس مہنگے نشے کی لت لگ چکی تھی وہ پورا کرنا اس کے لئے روز بروز مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اب اس نے اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے ایک نیا وتیرہ بنا لیا۔

کبھی وہ ہاتھ میں راڈو گھڑی پکڑے لوگوں ‏کو یہ کہہ کر بیچتا نظر آتا کہ بھائی نے باہر کے ملک سے بھیجی ہے، لیکن مجھے گھڑی پہننے کا شوق نہیں ہے اس لئے آپ کو آدھی قیمت پہ بیچ رہا ہوں۔ کبھی وہ گھر سے ٹیپ ریکارڈر اور کبھی کوئی اور چیز ہاتھ میں پکڑے محلے میں لوگوں کے پیچھے پھرتا نظر آتا۔ محلے کے لوگ تو اسے اچھی طرح جانتے تھے، لہٰذا ان کے آگے اس کی دال نہ گلتی تھی۔ لوگ اس سے کوئی بھی چیز خریدنے کی بجائے اس کی ماں کو بتا دیتے تھے۔ چنانچہ پھتو کو اپنے سامان کی فروخت کے لیے کچھ محنت کرنا پڑتی اور دوسرے محلوں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ نشہ پورا کرنے کے چکر میں اس نے گھر کی ہر قابل فروخت چیز بیچ ڈالی۔

اس کی بوڑھی بیوہ ماں اس کے آگے بے بس تھی۔ بے چاری اس غم میں جلد ہی ختم ہو گئی۔ پھتو اپنی ناگفتہ بہ حالت کی وجہ سے لوگوں کے لئے عبرت کا نشان بن گیا۔ اب ہر کوئی اس سے کنی کتراتا اور اسے آتا دیکھ کے راستہ بدل لیتا کہ کہیں وہ روک کر ادھار پیسے مانگنا شروع نہ ہو جائے۔ ماں کی موت کے بعد دو چار سال میں وہ بھی ایڑیاں رگڑتا بے بسی کی موت مر گیا۔ یقین جانیے یہ سچا واقعہ ہے، کسی سیاسی صورت حال سے مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی۔

ایسے لوگ پھتو ہوں یا پیا جی کے نام سے جانے جاتے ہوں، ہمارے معاشرے میں پھیلے ایک کینسر کی نشان دہی کرتے ہیں۔ میں کچھ بھی لکھوں قارئین اسے ایک مخصوص سیاسی پس منظر اور کسی ایک سیاسی رہنما کے خلاف ہی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ میری ایسی کوئی منشا نہیں ہوتی۔ تاہم، فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ پاکستان کا پھتو کون ہے؟

Facebook Comments HS