قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (10)
برصغیر میں برطانوی راج کے آخری تیس برس ایک تلاطم خیز سیاسی عہد کی کہانی ہے۔ اس دوران بڑے طوفان اٹھے، ان گنت لہریں بنتی اور بگڑتی رہیں۔ آل انڈیا کانگرس نے جنوری 1930ء میں اپنے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور میں مکمل آزادی کا مطالبہ کیا تو مسلم لیگ ایک داخلی بحران سے دوچار تھی۔ مارچ 1927ء میں قائداعظم کی ’تجاویز دہلی ‘منظور نہیں ہوسکیں۔ مسلم لیگ پنجاب سر محمد شفیع کی قیادت میں الگ ہوگئی اور علامہ اقبال اس دھڑے کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔ تجاویز دہلی میں کل چار نکات تھے۔ قائداعظم اور ان کے ہم نوا چار مطالبات کی بنیاد پر جداگانہ انتخابات سے دست بردار ہونے پر تیار تھے۔ یہ چار تجاویز سندھ کی صوبہ جاتی شناخت، سرحد اور بلوچستان میں دیگر صوبوں کے مساوی اصلاحات، پنجاب اور بنگال میں آبادی کے تناسب سے مسلم نشستوں نیز مرکزی مقننہ میں مسلمانوں کی ایک تہائی نشستوں سے تعلق رکھتی تھں۔ ان چاروں مطالبات میں کسی مذہبی مطالبے کا پرتو نہیں تھا۔ یہ خالص سیاسی اور دستوری تجاویز تھیں۔ جناح لیگ توقعات پر پوری نہیں اتر سکی تو قائداعظم مارچ 1929ء میں میاں شفیع کو مسلم لیگ کی صدارت سونپ کر اگلے پانچ برس کے لیے برطانیہ منتقل ہو گئے۔ ترکی میں مارچ 1924ء میں مصطفی کمال نے خلافت ختم کر دی تھی لیکن ہندوستان میں خلافت تحریک کی بازگشت اس کے بعد بھی سنائی دیتی رہی۔ اس کا حوالہ منیر انکوائر ی کمیشن رپورٹ میں ماسٹر تاج الدین انصاری سے سوال جواب میں ملاحظہ کیجئے۔ اس دوران کہیں مجلس احرار تھی تو کہیں کشمیر کمیٹی، کہیں نیلی پوش تحریک تھی تو کہیں چوہدری رحمت علی کا کتابچہ، کہیں مسجد شہید گنج کا تنازع تھا تو کہیں منزل گاہ مسجد سکھر کے فسادات۔ علامہ اقبال نے 1930ء میں خطبہ الٰہ آباد پیش کیا۔ اس خطبے کے متن میں چھ مقامات پر جمہوریت کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے اور ہر چھ مواقع پر اقبال نے جمہوری نظام پر تنقید کی ہے۔ تضاد ملاحظہ فرمائیے کہ سید امیر علی The Spirit of Islam لکھتے ہیں تو اسلام میں جمہوری روح دریافت کرتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کہیں جمہوریت کی مخالفت نہیں کی۔ بلکہ کہا کہ ’ہم نے جمہوریت کے اصول ساڑھے تیرہ سو برس پہلے سیکھ لیے تھے‘۔ پاکستان کا خواب دیکھنے والے اقبال جمہوری بندوبست کے مخالف تھے۔
یہی وہ زمانہ ہے جب مسلم ہندوستان کے منظر پر 1903ء میں پیدا ہونے والے اورنگ آباد کے سید ابوالاعلیٰ مودودی نمودار ہوئے۔ ان کے والد پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے تاہم یہ پیشہ ترک کر چکے تھے۔ سید مودودی نے براق ذہن پایا تھا۔ کسی دینی مدرسے سے سند حاصل نہیں کی۔ 1920ء میں جمعیت علمائے ہند کے ترجمان ’الجمعیة‘ کے مدیر مقرر ہوئے۔ 1925ء میں جمعیت علمائے ہند اور کانگرس میں اشتراک ہوا تو بطور احتجا ج الجمعیة کی ادارت چھوڑ دی۔ 1927ءمیں ’ الجہاد فی الاسلام‘ تصنیف کی۔ یہ وہی برس ہے جب علامہ شبیر احمد عثمانی نے ’الشہاب‘ کے عنوان سے مسئلہ ارتداد پر کتابچہ شائع کیا تھا۔ اس دوران سید مودودی حیدر آباد دکن تشریف لے گئے جہاں ان کے برادر بزرگ ابوالخیر مودودی دارالترجمہ سے وابستہ تھے۔ 1932ء میں حیدر آباد ہی سے سید مودودی نے رسالہ ’ترجمان القرآن ‘ کی اشاعت شروع کی۔ 1935ء میں ’پردہ‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کے مندرجات خاصے پاپیادہ ہیں۔ رفتہ رفتہ ترجمان القرآن میں سیاسی موضوعات بھی زیر بحث آنے لگے۔ ہندوستانی سیاست میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کے کردار کا ابتدائی ترین حوالہ دارالعلوم ندوة العلما لکھنوکے مدرس مولانا اسحاق سندیلوی کی کتاب ’اسلام کا سیاسی نظام‘ میں مولانا عبدالماجد دریابادی کے جنوری 1956ء میں لکھے گئے پیش لفظ میں ملتا ہے۔ واضح رہے کہ اسی کتاب میں مشمولہ مولانا معین الدین ندوی کے مقدمہ کا پہلا جملہ ہی بیان کرتا ہے ’اسلام کا مقصد اگرچہ دنیا میں حکومت و سلطنت کا قیام نہیں ہے لیکن وہ حسن عمل کا لازمی نتیجہ ہے‘۔ اس جملے کی معنویت پر آپ کو دعوت فکر ہے۔ ہمیں تو ماجد دریابادی صاحب کے پیش لفظ سے ایک اقتباس پیش کرنا ہے۔
’سن غالباً 1940ء تھا یا شاید اس سے بھی کچھ قبل جب مسلم لیگ کا طوطی ہندوستان میں بول رہا تھا کہ ارباب لیگ کو خیال پیدا ہوا کہ جس اسلامی حکومت (پاکستان) کے قیام کا مطالبہ شدومد سے کیا جا رہا ہے خود اس کا قانون اساسی بھی تو خالص اسلامی بنانا چاہیے اور اسی غرض سے یو پی کی صوبہ مسلم لیگ نے ایک چھوٹی سی مجلس مقرر کر دی جو اس کے خیال میں شریعت کے ماہرین تھے کہ یہ مجلس ایسا نظام نامہ مرتب کر کے لیگ کے سامنے پیش کرے، اس مجلس نظام اسلامی کے چار ممبران کے نام تو اچھی طرح یاد ہیں۔ 1۔ مولانا سلیمان ندوی، 2۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، 3۔ مولانا آزاد سبحانی، 4۔ عبدالماجد دریابادی۔ باقی دو ارکان کے نام اب ذہن میں نہیں۔‘
مجلس کے مصارف کے کفیل نواب صاحب چھتاری قرار پائے اور انہوں نے غالباً 500 روپے کی رقم اسی وقت مجلس کو عطا بھی کر دی۔ مجلس کا تمہیدی اجلاس دارالعلوم ندوہ (لکھنو) میں ہوا۔ علامہ ندوی مجلس کے داعی قرار پائے، موصوف نے تجویز دی کہ کتاب کا ابتدائی مسودہ مولانا حکیم محمد اسحاق سندیلوی تیار کریں جس کی نقل ہر رکن کے پاس جائے۔ یہ ارکان ایک بار پھر جمع ہو کر مسودہ کی آخری شکل طے کر دیں‘۔ پھر یوں ہوا کہ یہ مسودہ ماجد دریابادی صاحب کے مطابق کہیں گم ہو گیا اور پچاس کی دہائی میں دریافت ہوا۔ یہ ’مجلس نظام اسلامی‘ کا مالہ و ماعلیہ تھا۔ نواب احمد سعید خان چھتاری وہی شخصیت ہیں جنہوں نے 17 اکتوبر 1936ء کو لال باغ (لکھنو) میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے عام اجلاس میں صدر مجلس محمد علی جناح سے متعدد امور پر سخت اختلا ف کیا تھا۔ خود عبدالماجد صاحب کو مجلس کے قیام کا برس یاد ہے اور نہ اس کے تمام ارکان کا نام۔ مسلم لیگ کی دستاویزات میں ایسی کسی مجلس کا کوئی ذکر نہیں۔ اس مجلس کا تیار کردہ مسودہ ایسا وقیع تھا کہ ’گم ہو گیا‘۔ اس دوران ترجمان القرآن نیز ’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘ میں سید ابوالاعلیٰ مودودی مطالبہ پاکستان پر کیا فرماتے رہے، اس کا ذکر آئندہ نشست میں۔

