غدار کون؟ شیخ مجیب، جنرل یحییٰ یا ذوالفقار علی بھٹو


کیا آپ نے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھی ہے؟

میں نے اب یہ رپورٹ اور اس کا سپلیمنٹ پڑھ لیا ہے، اور جیسا پچھلے مضمون میں کیا، جن کتابوں کو میں نے اس مضمون کو لکھنے کے لئے پڑھا ہے ان کا ذکر آخر میں کر دوں گا۔ پچھلے مضمون میں میرا مقصد ستائیس مئی کو عمران خان کے اکاؤنٹ سے کی جانے والی ٹویٹ؛ ہر پاکستانی کو رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہیے کہ اصل غدار تھا کون؛ یحییٰ یا مجیب، میں موجود تفصیل کا ذکر کرنا نہیں بلکہ اس ٹویٹ کے پیچھے ممکنہ محرک اور مقاصد پر اپنی رائے دینا تھا۔

عمران کی ٹویٹ کے مندرجہ بالا متن کے علاوہ اس میں شامل ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ مقتدرہ نے ہمیشہ مجیب کو غدار بنا کر پیش کیا اور یحییٰ اور اس کے حواریوں کے مکروہ کردار کا ذکر تک نہیں کیا۔ اس کے علاوہ یہ کہ مجیب پاکستان ہی میں رہنے کا خواہش مند تھا جب کہ یحییٰ کی مشرقی پاکستان کو بچانے کی کوئی نیت نہیں تھی۔ مجیب نے جمہوری اصولوں کے مطابق اکثریتی جماعت کو اقتدار کی منتقلی کا مطالبہ کیا جبکہ یحییٰ اپنی کرسی بچانے کے لیے اقتدار کی منتقلی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ مجیب کو سویلین ہوتے ہوئے ملٹری کورٹ سے سزا دلوائی گئی جبکہ یحییٰ اس وقت کی دیگر عسکری قیادت کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان لوٹتا رہا۔

رپورٹ پر مزید کمنٹری میں یہ ہے کہ کمیشن پاک فوج کی سینئیر قیادت کی بزدلی، ان کی ناقص حکمت عملی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے سقوط ڈھاکہ کی وجہ بننے والے عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کرتا ہے۔ جبکہ مقتدرہ نے ہمیشہ مجیب کو غدار ثابت کرنے کی کوشش کی، آخر اس کا قصور کیا تھا؟ کیا پاکستان کے عوام نے اسے سب سے زیادہ نشستوں پر کامیاب نہیں کروایا تھا اور کیا جمہوری اصول کے مطابق اقتدار عوامی لیگ کو منتقل نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟ اگر ان باتوں کا جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ جس مجیب کو غدار ثابت کیا گیا کیا واقعی وہ اس لقب کا حقدار تھا یا اصل غدار یحییٰ تھا؟

عمران کی ٹویٹ اور اس میں شامل ویڈیو تبصرہ میں ایک اہم پہلو ایوب اور خاص طور پر بھٹو کے کردار کا ذکر نا کرنا ہے اور سارا الزام یحییٰ اور بالعموم پاکستانی فوج کو دینا ہے۔ مجھے یہ بات واضح لگتی ہے کہ کسی اور وقت میں عمران کی اس ضمن میں رائے اسی طرح الٹ ہوتی جیسی اس کی رائے مجیب کے بارے میں یو ٹرن لے گئی یعنی اس مجیب کو جسے کسی وقت میں مثال بنا کر نواز شریف کو غدار قرار دیا۔ اب اپنے آپ سے مماثلت میں اسے ہی وفادار ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں اب یحییٰ کو غدار قرار دینے پر اصرار ویسا ہی ہے جیسا جنرل باجوہ کو اپنے دور حکومت میں پاکستان اور جمہوریت کا سب سے بڑا خیرخواہ اور بعد میں میر جعفر قرار دینا تھا۔

یقیناً ٹویٹ اور اس میں شامل ویڈیو یحییٰ پر عمران کی طرف سے غداری کے فتوی میں شک کی کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور بلاشبہ عمران کے اس وقت کے بیانیہ کی ضرورت بھی یہی ہے کہ اس زمن میں سب الزام ایک جنرل کو دے دیا جائے اور سیاستدانوں یعنی مجیب اور بھٹو کے کردار کا ذکر گول کر دیا جائے۔ میں اس مضمون میں سقوط ڈھاکہ کے صرف سیاسی محرکات کا ذکر پہلے تو کمیشن کی رپورٹ اور پھر کچھ کتابوں اور ایک کالم نگار کے حوالے سے کروں گا۔ بھٹو کی طرف سے کمیشن کا مینڈیٹ اولاً صرف فوجی سرنڈر کے اسباب کا جائزہ تھا لیکن بعد میں کمیشن ممبران نے اپنے تئیں بقیہ پاکستان کے سیاستدانوں کو بھی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی دعوت دے دی۔

سب سے پہلے تو رپورٹ کے بارے میں یہ نوٹ کر لینا چاہیے کہ اس کا اجرا خود بھٹو ہی نے روک دیا تھا لیکن سن دو ہزار میں یہ رپورٹ پہلے ڈان اخبار اور پھر وین گارڈ پریس سے کچھ حصوں کو مخفی رکھتے ہوئے پبلش ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے کچھ حصوں کو مخفی رکھنے کا فیصلہ پاکستان کے دوست ممالک کو ان کے سقوط ڈھاکہ کے دوران کردار پر کسی ممکنہ شرمندگی سے بچانے کی نیت سے کیا گیا تھا۔ کمیشن نے محدود دائرہ کار ہونے کے باوجود اپنا کام بظاہر پوری تندہی سے کیا ہے جو رپورٹ کی ڈرافٹنگ، اس میں دیے دلائل کی ترتیب اور انگریزی زبان کے اچھے استعمال سے بھی واضح ہوتا ہے۔ بہرحال رپورٹ کی سب سے بڑی کمزوری کمیشن کے دائرہ کار کا صرف بقیہ پاکستان تک محدود رہنا تھا جو یقیناً دانستاً نہیں بلکہ مجبوراً تھا۔

بھٹو کی طرف سے بنائے اس کمیشن کے کام پر مزید تنقید بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر سلمان تاثیر نے اپنی بھٹو کی سیاسی زندگی پر لکھی گئی کتاب میں اس رپورٹ کا ذکر کیا ہے جس کو اردہیشیر کاؤس جی نے اپنے ڈان اخبار میں یحییٰ کے بارے لکھے کالموں میں بھی دہرایا تھا۔ سلمان لکھتے ہیں ؛ جنگ کے خاتمے پر بھٹو نے چیف جسٹس حمود الرحمان جو خود بنگالی تھے کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا اور خود اس ان کیمرہ رکھی گئی کارروائی کے سامنے پیش بھی ہوا لیکن پھر اس رپورٹ کو پبلش نہیں کیا۔

بھٹو کے ناقدوں نے اس بات کو اچھالا کہ بھٹو نے رپورٹ پبلش کرنے کی ہمت اس لئے نہیں کی کیونکہ وہ خود سقوط ڈھاکہ میں بری طرح ملوث تھا۔ تو جہاں ناقدوں کی اس بات کے صحیح ہونے امکانات موجود ہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ رپورٹ اس حادثہ کی سیاسی ذمہ داری پر حتمی حرف نہیں تھا اور بہرحال کمیشن کے کام کرنے کے حالات سے یہ اخذ کرنا بھی کوئی دور کی بات نہیں کہ اس سے بھٹو کے حق میں جانبدار رہنے کی غلطی سرزد ہوئی۔

اس رپورٹ کے برعکس سقوط ڈھاکہ کے اسباب پر وقت کے ساتھ ساتھ ایسی غیر ملکی تحقیق بھی سامنے آتی رہی جس کا دائرہ کار پاکستان، بنگلہ دیش، انڈیا اور امریکہ کے متعلقہ لوگوں کے ڈائرکٹ انٹرویوز اور تاریخی رکارڈ کی پڑتال تک پھیلا ہوا تھا۔ اس کام میں ایک جامع کتاب دو سکالرز رچرڈ سیسون اور لو ای روز کی تھی۔ اس کتاب میں سقوط ڈھاکہ کی سیاسی ذمہ داری کا تعین یوں کیا گیا؛ اقتدار کی منتقلی کے لئے یحییٰ نے (بنگالیوں میں محرومی کے تاثر کو ختم کرنے کی کوشش میں) دو بنیادی اقدام اٹھائے تھے یعنی ون یونٹ کا خاتمہ اور الیکشنز کو ون پرسن ون ووٹ کے اصول پر کروانے کا فیصلہ۔

لیکن جہاں مجیب (ایک ڈبل گیم میں) متحدہ پاکستان کو قائم رکھتے ہوئے ویسٹ پاکستان کی (چھوٹی) پارٹیوں کی حصہ داری کے ساتھ حکومت بنانے کا وعدہ کر رہا تھا وہاں بھٹو اقتدار کی ایسی منتقلی کے لئے تیار نہیں تھا جس کی ٹائمنگ اس کے حق میں نا ہو۔ بھٹو کے لئے (اکثریت اور حکومت بنانے کے عمل میں پیپلز پارٹی کی شمولیت کی ضرورت نا ہوتے ہوئے بھی) نیشنل گورنمنٹ میں زبردستی حصہ داری اپنی سیاسی پارٹی کو بچانے اور اس کی مقبولیت قائم رکھنے کے لیے لازم تھی۔

کمیشن نے سقوط ڈھاکہ کی ذمہ داری کے تعین میں یحییٰ کے جمہوریت کی بحالی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات اور آخر وقت تک دو بڑی سیاسی پارٹیوں کو مل کر کر کام کرنے کے لئے قائل کرنے کی کوششوں سے زیادہ اس کی خود اقتدار کے لالچ کی ممکنہ نیت پر کمنٹری کی ہے۔ لیکن بھٹو اور مجیب کے کردار پر بہرحال ایک بنگالی واقف حال جی ڈی چوہدری (جن کی کتاب کا حوالہ پیچھے مضمون میں ہے ) کا کمنٹ جو اور کتابوں سے اخذ کیے گئے نتائج سے مطابقت رکھتا ہے یوں ہے ؛ سقوط ڈھاکہ پاکستان کے جنرلوں کی اپنے آپ کو ملک کے مفاد کا (سب سے بڑا) محافظ سمجھنے اور اقتدار کے لئے حد سے زیادہ مشتاق سیاستدانوں مجیب اور بھٹو کے بے قابو عزم کی ایک افسوسناک داستان ہے۔

یہ ہی بات سلمان تاثیر کی کتاب میں یوں درج ہے ؛ سقوط ڈھاکہ کا الزام کبھی بھی حتمی طور پر (شاید) کسی ایک بنیادی کردار کو نا دیا جا سکے مگر بھٹو، مجیب اور یحییٰ اس میں حصہ دار ہیں کے بارے میں کوئی شک نہیں رکھنا چاہیے۔ بہت سے لوگ ان تینوں میں سے بھٹو کو ایک واحد بڑی حد تک تجربہ کار سیاستدان کے طور مرکزی ملزم سمجھتے ہیں جو اپنے اٹھائے اقدام کے نتائج کو بھی سمجھ سکتا تھا۔

میں نے ان مضامین کے لئے مندرجہ ذیل مزید کتابوں کو پڑھا ہے۔ ایسا کرنے کا ایک ممکنہ فائدہ متفرق معلومات اور اخذ کیے گئے نتائج کے موازنہ میں ان کا تصدیق ہو جانا تو ہے ہی مگر پراپیگنڈہ کا پکڑ لینا بھی ہے۔ مثال کے طور پر عمران کی ٹویٹ میں شامل ویڈیو میں دکھائے گئے ایک بنگالی کے قتل میں جہاں پاکستانی فوج کو ملوث دکھایا گیا ہے وہ درحقیقت سقوط ڈھاکہ کے بعد مکتی باہنی کے ایک رکن کی طرف سے کسی بہاری کا قتل تھا جس کی تصویر ایک مغربی جرنلسٹ نے لی اور اسی وقت کے اخباروں میں شائع ہو گئی۔

۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ اور اس کا سپلیمنٹ
۔ بھٹو ایک پولیٹیکل باؤگرافی، سلمان تاثیر
۔ وار اینڈ سیسیشن، رچرڈ سیسون اور لو ای روز
۔ بلڈ اینڈ ٹئیرز، قطب الدین عزیز

Facebook Comments HS

One thought on “غدار کون؟ شیخ مجیب، جنرل یحییٰ یا ذوالفقار علی بھٹو

  • 17/07/2024 at 7:48 شام
    Permalink

    Sensible analysis.

Comments are closed.