پنجاب: لواخ کے بدلتے معنی کے تناظر میں


وہ شاعر اور ادیب جو مٹی کے بیانیے پر حملہ آور فاتحین کے بیانیے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کی آبیاری کرتے نظر آتے ہیں، مقامی کلچر اور زبان کے دشمن ہوتے ہیں اور کسی قوم کی پستی کے سب سے بڑے ذمہ دار یہی نظریہ ساز ہوتے ہیں۔

دوسری طرف مٹی سے جڑے ادیب اور شاعر اپنی اصل شناخت کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں ؛اختر رضا سلیمی کا شمار ایسے ہی لوگوں میں کیا جا سکتا ہے۔

”جاگے ہیں خواب میں“ اور ”جندر“ کے بعد ”لواخ“ ان کا تیسرا ناول ہے، جو گزشتہ برس شائع ہوا ہے۔ ان کا یہ ناول بھی اپنے گزشتہ ناولوں کی طرح اپنی مٹی اور اس سے وابستہ کرداروں کو سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے ؛وہ کردار جو جھوٹی تاریخ کی گپھاؤں میں دانستہ دفن کر دیے گئے ہیں۔ لواخ ایک طرح سے ان کے پچھلے ناولوں ہی کا تسلسل ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے مارکیز کے بیشتر ناولوں اور کہانیوں میں ہمیں ایک خاص طرح کا تسلسل نظر آتا ہے۔

اختر رضا سلیمی نے اردو کے ناول نگاروں سے رشتہ استوار کرنے کے بجائے اپنا ناتا لاطینی امریکی ناول نگاروں سے جوڑا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے ناول اردو ناول کی روایت سے بہت مختلف ہیں۔ اسلوب کے لحاظ سے بھی اور تکنیک کے اعتبار سے بھی۔

اس ناول میں انھوں نے مارکیز کی طرح کہانی کو آخر سے شروع کیا ہے اور پہلے فقرے ہی میں بتا دیا ہے کہ کہانی کس طرف جائے گی بلکہ پہلا فقرہ ایک طرح سے پورے ناول کا خلاصہ بھی ہے لیکن اس کے باوجود یہ ناول قاری کو آخری فقرے تک باندھے رکھتا ہے۔ کہیں کہیں ہمیں حوان رولفو کی جھلکیاں بھی مبہم پن کی صورت نظر آتی ہیں۔

ناول کا پہلا فقرہ صفحے کے دو تہائی حصے کو محیط ہے، طویل فقرہ سازی کی یہ روایت ہمیں حوزے سارا ماگو کے ناولوں ملتی ہے جہاں ایک ایک فقرہ کئی کئی صفحات کو محیط ہوتا ہے۔ طویل فقرہ سازی کی روایت اس سے پہلے اردو ناول نگاری میں نظر نہیں آتی اور اگر کہیں کوئی طویل فقرہ موجود بھی ہو تو کسی ناول نگار نے شعوری طور پر ایسا نہیں کیا ہو گا۔ سلیمی صاحب کے ہاں یہ شعوری کوشش نظر آتی ہے۔ اس سے پہلے جندر میں بھی انھوں نے ایسے ہی طویل فقروں کا تجربہ کیا تھا۔ طویل فقرہ لکھنے کے لیے زبان پر پوری کمانڈ ہونا ضروری ہے ہر شخص طویل فقرے لکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ناول نگار نے ”لواخ“ میں مذکورہ تکنیکوں کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ انھوں نے سیاست، تاریخ، مقامی کلچر، حملہ آوروں اور مقامی لوگوں کی نفسیات کو ایک دوسرے میں اس طرح مکس کیا ہے کہ اس سے ایک کولاژ سا بن گیا ہے۔

ناول کا لوکیل مشرقی ہزارہ اور مری کا علاقہ ہے۔ مری تو اب بھی پنجاب کا حصہ ہے لیکن ہزارہ خبیر پختونخوا میں شامل ہے۔ ہزارہ بھی صدیوں تک پنجاب ہی کا حصہ رہا ہے۔ انگریزوں نے 1901 ءمیں جب شمال مغربی سرحدی صوبہ بنایا تو پشاور، کوہاٹ اور بنوں کے ساتھ ساتھ ہزارہ کو بھی پنجاب سے کاٹ کر اس صوبے میں شامل کر دیا۔ باقی علاقوں میں اب پشتون کلچر کے عناصر حاوی ہیں لیکن ہزارہ اب بھی اسی پرانے کلچر میں رنگا ہوا ہے، جسے عام طور پر پنجابی کلچر کہا جاتا ہے۔ سو میں اس ناول کو پنجاب ہی کی تہذیب و ثقافت کا آئنہ دار سمجھتا ہوں۔

”لواخ“ اپنے پڑھنے والوں کو پنجاب کی تہذیبی شناخت کے کھو جانے کا نوحہ سناتا ہے اور بتاتا ہے اس شناخت کو مذہب اور جدیدیت نے کس طرح گم کیا۔

یہ ناول نہ صرف پنجاب کی مقامیت، اعلیٰ اقدار اور جیتے جاگتے معاشرہ کی تصویر دکھاتا ہے بل کہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ پنجابی لوگ اپنی سادگی اور بھول پن کی وجہ سے مکار حملہ آوروں کا شکار کیسے بنتا ہے؟ یہ ناول مقامی لوگوں کی ناکامی کے اسباب بھی بیان کرتا ہے اور ان کی خامیوں اور خوبیوں کا پردہ بھی چاک کرتا ہے۔ پنجابی معاشرے گزشتہ دو سو برسوں میں کن بحرانوں سے گزرا یہ ناول اس کی بہترین تصویر پیش کرتا ہے۔

ناول نگار نے مقامی علامتوں کی مدد سے جنگ آزادی سے پہلے اور بعد کی سیاست، اس دور کے سماج اور اس میں کارفرما اندرونی اور بیرونی عوامل کو اپنے دل کش بیانیے کے پس منظر میں بہت خوب صورتی سے بیان کیا ہے۔ یہ ناول مقامی تاریخ، اس کے بہادر کرداروں اور ان کی عزت نفس کو وسیع تناظر میں موضوع بناتا ہے۔ اور اس بات کو بھی کہ کس طرح انگریزوں نے آئندہ نسلوں کے ذہنوں کو بدلنے کے لیے مخصوص تناظر میں تاریخ لکھوائی اور یوں حقیقی بیانیے کو یک سر بدل کر رکھ دیا۔ پھر یہ بدلا ہوا بیانیہ اتنی طاقت کے ساتھ رائج کر دیا گیا ہے کہ بعد میں آنے والی نسلیں اسے ہی حقیقت سمجھ بیٹھی ہیں۔ جھوٹی تاریخ جب سچی بنا کر پیش کی جائے اور لوگ بے خبری میں اسے سچ مان لیں تو وہ قوم غیرت، شرم و حیاء، بہادری، علم، پہچان وغیرہ سے بیگانی ہو کر رہ جاتی ہے اور ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا۔

یوں تو اس ناول میں کئی کردار ہیں مرکزی کردار سکندر کی یادداشت سے ابھرتے ہیں۔ لیکن ان میں کچھ کردار بے جان بھی ہیں۔ جیسے تلوار، نوشتہ، پگڑی اور لواخ۔ اردو میں اس سے پہلے اس نوع کے کردار مرزا اطہر بیگ کے ہاں بھی ملتے ہیں۔ (جیسے حسن کی صورت حال میں میز کا کردار)۔

ان بے جان کرداروں نے ناول میں جان ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تلوار اور پگڑی جو بالترتیب طاقت اور عزت کی علامتیں ہیں پنجاب میں لوگوں کے لباس کا ایک جزو لازم تھیں۔ لواخ کے نام سے ہم پہلی دفعہ متعارف ہوئے ہیں لیکن یہ دوسرے ناموں سے ہمارے ہاں موجود تھی جس کا ذکر آگے آئے گا۔ اسی طرح گتکے کا کھیل بھی پنجاب میں مقبول رہا ہے۔

پرانے زمانے میں تلوار چلانے کا فن بہادروں کی شخصیت کا ایک لازمی حصہ ہوا کرتا تھا۔ بچوں کو کھیل کھیل میں تلوار چلانے کے فن سے روشناس کروا دیا جاتا ہے۔

”پریکٹس میکس اے مین پرفیکٹ“

پہلے لڑائی میں جیت کے لیے عملی بہادری، مہارت اور ذہنی پھرتی کا عمل دوران جنگ میں زیادہ کارفرما ہوتا تھا۔ اب صرف دماغ اور ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھ گیا ہے۔

نوشتے کی علامت ہمیں تاریخ کی اہمیت و طاقت سے روشناس کرواتی ہے۔ ناول کے مرکزی کردار کے باپ کو جب پتہ چلتا ہے کہ انگریز ایک سکھ کو پیسے دے کر ہماری تاریخ لکھوا رہا ہے تو وہ اپنی تاریخ لکھنے کا فیصلہ کرتا ہے اور محاذ جنگ پر جاتے وقت اپنے بیٹے کے حوالے کرتا ہے کہ وہ اسے اگلی نسلوں کو منتقل کرے۔

نوشتہ ایک ایسی یادداشت ہے جو پچھلی نسل کی تاریخ کو اگلی نسل میں منتقل کرنے کی ذمے داری نبھائے۔ یہ نوشتہ ایک طرف مقامی لوگوں کی شناخت برقرار رکھنے پر روشنی ڈالتا ہے تو دوسری طرف انگریز کی نالج اینڈ پاور پالیسی کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے۔ یہ علم کی طاقت کو تسلیم کرتا ہے اور گورے کی کامیابی کے پیچھے کارفرما ذہن کو بھی طشت ازبام کرتا ہے۔

اس ناول میں لواخ کا لفظ مختلف اوقات میں مختلف معنی کے ساتھ سامنے آیا۔ مقامی لوگوں کی فراست، حالات کے تناظر میں اپنی پالیسی یعنی لواخ کے رائج معنی میں فوری بدلاؤ لے آنا، تاکہ بستی کے لوگ اس بدلتے معنی کو سمجھ جائیں اور حملہ آور دھوکا کھا جائیں۔ لواخ روشنی کا استعارہ بھی ہے اور خطرے کا سگنل بھی۔

ناول کے آخر میں مرکزی کردار کی طرف نوشتہ اور تلوار دونوں نذر آتش کر دیے جاتے ہیں اور پگڑی کو وہ بھیک مانگنے کا کاسہ بنا لیتا ہے۔ جس سے ناول نگار یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ اور طاقت تو نذر آتش کر ہی دی ہے، پرکھوں کی عزت کو بھی پیروں تلے روند دیا ہے۔

پرانے وقتوں میں ساندل بار میں چوباروں پر رات کو دیے جلا کر چوہدری لوگ ایک دوسرے کی خیر خبر لیا کرتے تھے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پنجاب کا کلچر ایک جیسا ہی تھا، چاہے وہ ساندل بار کا میدانی علاقہ ہو یا ہزارے اور مری کا پہاڑی علاقہ۔

ناول میں جہاں اور کئی رسوم و رواج کا تذکرہ آیا ہے وہیں گتکے کے کھیل کا بھی بار بار اعادہ کیا گیا ہے۔ یہ وہ کھیل ہے جو کسی دور میں پورے پنجاب میں کھیلا جاتا تھا۔ اس کے ذریعے بچوں کو ایک طرح سے کھیل ہی کھیل میں جنگ کی تربیت بھی دی جاتی تھی تاکہ وقت آنے پر وہ اپنا دفاع خود کر سکیں۔

بڑا شاعر اور ادیب بڑا ادب ہی تخلیق نہیں کرتا، زبان کو وسیع کرنے کا فریضہ بھی سر انجام دیتا ہے۔ اختر رضا سلیمی نے جندر اور لواخ جیسے نئے الفاظ اردو کو دیے اور اب یہ لفظ اردو ہی کے سمجھیں جائیں گے۔ ان کے علاوہ انھوں نے اپنے ناولوں کے ذریعے چونگ، لیتری، پسار اور گلورنا جیسے لفظ بھی اردو میں داخل کیے۔ انھوں نے ان الفاظ کو ایسے سلیقے سے برتا ہے کہ انھیں فرہنگ دینے کی ضرورت نہیں پڑی۔ جس طرح جندر کا پہلا پیرا پڑتے ہی ہم جندر سے واقف ہو جاتے ہیں اسی طرح اس ناول کا پہلا فقرہ پڑتے ہی لواخ کے معنی بھی ہم پر روشن ہو جاتے ہیں۔

یہ بات اختر رضا سلیمی اور رائے محمد خاں ناصر میں مشترک نظر آتی ہے۔ رائے محمد خاں ناصر نے بھی اپنی پنجابی کتابوں کے لیے ایسے عنوانات کا چناؤ کیا جن کا موجودہ پنجابی معاشرے میں استعمال نہ ہونے کے برابر تھا جیسے ”ہرکھ“ ، ہونگ ”،“ ہڈک ”اور“ ہیت ”

لواخ کی زبان کہانی کے بہاؤ سے بہت مطابقت رکھتی ہے جس نے ناول کی فضا بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ناول ناول نگار کے تاریخی شعور کا غماز ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو اب یک سر بدل چکا ہے اس کے ماضی کی باز یافت تاریخی شعور کے بغیر ممکن نہیں۔

اس ناول کا پلاٹ اس دور کے ایک حقیقی کردار حسن علی خان کے خاندان کی سکھوں اور انگریزوں کے ساتھ ہونے والی لڑائیوں کے گرد بنا گیا ہے۔ ان لڑائیوں میں مقامی سرداروں نے مذکورہ خاندان کا ساتھ دیا۔ یہ بات بھی ساندل بار میں 1921 میں ہونے والے ”ساکا ننکانہ“ سے مماثلت رکھتا ہے، جس میں مقامی سرداروں نے سکھوں کی بجائے گوردوارہ جنم استھان کے مینجر نرائن داس کا ساتھ دیا صرف اس وجہ سے کہ ان کے علاقے پر باہر کے سکھوں نے حملہ کیا تھا۔

تاریخ کو موضوع بنانے والے ناول عموماً خشک اور بوریت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس لواخ انتہائی دلچسپ ہے اور قاری کو آخر تک اپنے ساتھ باندھے رکھتا ہے۔

پنجاب کے سیکولر امیج پر مذہبی شدت پسندی کیسے اثر انداز ہوئی؟ اس موضوع کو بہت خوب صورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ کہانی کا تسلسل بھی نہیں ٹوٹتا اور ناول نگار اس پیچیدہ مسئلے کو قاری پر کھول کر رکھ دیتا ہے۔

پنجابیوں کو ایک خاص بیانیے کے تحت ”ڈھگا“ کہا جاتا ہے۔ یہ ناول پنجابی عقل و فہم کو بڑی خوب صورتی سے سامنے لاتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ کس طرح سے ہر مقامی بات میں دانش چھپی ہوتی تھی۔ مثلاً اًس ناول میں حالات کے مطابق حکمت عملی بدلنا۔ ڈیرے کو مستقل ٹھکانہ اور حالات و خطرات کی روشنی میں لواخ کے معنی بدل ڈالنا وغیرہ

اس ناول میں 1857 کے آپس پاس کاجو کلچر پیش کیا گیا ہے اور آج بھی پورے پنجاب میں رائج تھا۔ پورے پنجاب میں اچھے رشتے کے حصول کے لیے پوری مشاورت اور کوشش کی جاتی تھی تاکہ آنے والی نسل اپنی روایات سے بیگانی نہ ہونے پائے۔ کچھ عرصہ پہلے تک پنجاب میں خونی رشتہ دار اور اور بڑوں کی نصیحت کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔ بڑے اپنے فیصلے چھوٹوں پر ٹھونستے نہیں تھے بلکہ مشاورت کا رواج عام تھا۔ اچھی قدروں کو اپنی وراثت کے طور پر اگلی نسلوں میں منتقل کرنا بھی پنجابی معاشرے کا ایک اہم پہلو رہا ہے۔

تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ پنجابی قوم نے حملے میں پہل کبھی نہ کی۔ جنگ میں پہل ہمیشہ حملہ آوروں نے کی اور پنجابیوں نے ہمیشہ مزاحمت دکھائی۔ یہ الگ بات ہے کہ ناظم خان جیسے غدار پہاڑوں ہی میں پنجاب کے میدانی علاقوں میں بھی پیدا ہوتے رہے۔ جن کی وجہ سے مقامی سورماؤں کو بسا اوقات ہزیمت بھی اٹھانا پڑی۔ اور ویرانی اور وحشت ان علاقوں کا مقدر بنی۔ ویسی ہی وحشت اور ویرانی جیسی لواخ میں بیان ہوئی ہے۔

”لیکن یہاں موجود ویرانی، اس ویرانی سے بالکل مختلف تھی؛ اس میں ایک خاص طرح کی وحشت تھی، جو کاٹنے کو دوڑتی تھی۔ اس دن مجھے اندازہ ہوا کہ کھنڈر حویلی کی ویرانی عام ویرانیوں سے مختلف کیوں ہے :شاید وہ جگہیں، جہاں انسان ہنستے کھیلتے، بھاگتے دوڑتے اور بولتے چالتے رہے ہوں، جب کسی وجہ سے ویران ہوجاتی ہیں تو اس میں دہشت کے درجے کو پہنچی ہوئی، وحشت شامل ہو جاتی ہے۔“

یہ ناول ہمیں یہ بات بھی باور کراتا ہے کہ انسان چاہیے کیسے ہی بدترین حالات سے کیوں نہ گزرے محبت کے لمحات نہیں بھولتا۔

” اچانک میری نم آلود آنکھوں کے سامنے حاجرہ بی بی کا ہنستا مسکراتا چہرہ ابھرا۔ اس کی آخری آرام گاہ کی تلاش میں، میں نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی؛ ایک قبر کو، اس کی قبر فرض کر کے، اس کے لیے فاتحہ کی۔“

یہ ناول مذہبی رواداری کا نقشہ بھی کھینچا ہے جس میں لوگ بلا امتیاز رنگ و نسل مہمان نوازی کیا کرتے تھے۔

” ندی کنارے سفر کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آدمی، اگر کسی وجہ سے سفر کرنے کے قابل نہ رہے تو ہر تھوڑے فاصلے پر، اسے جندر کی صورت میں قیام کی سہولت مل جاتی ہے اور روکھا سوکھا ہی سہی کھانے کو بھی کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے۔ جندروئی بڑے مست الست لوگ ہوتے ہیں اور عموماً کھانے پینے کے پیسے نہیں مانگتے، اگر انھیں دے دیے جائیں تو لینے سے انکار بھی نہیں کرتے اور مجھ جیسے آدمی کی تو سادھو، سنت یا فقیر سمجھ کر، زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے عوض ہندو اور سکھ جندرویوں کو سورگ اور مسلمانوں کو جنت جانے کی کنجی مل جاتی ہے ؛ سو بستیوں میں مانگ کر کھانے اور مسجدوں میں مولویوں کے، جو بے چارے خود مانگ تانگ کر کھاتے ہیں، متھے لگنے سے بہتر ہوتا ہے کہ آدمی جندرویوں کے ہاں ٹھہر جائے۔“

دل کو موہ لینے والے بیانیے کے حامل اس ناول میں پروف کی خاصی غلطیاں موجود ہیں۔ جن سے قاری کو ایک دھچکا سا لگتا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر یہ ناول اپنا استدلال قاری تک پہنچانے میں پوری طرح کامیاب رہا ہے۔ اختر رضا سلیمی جیسے جرات مند تخلیق کاروں کی پاکستان کو بہت ضرورت ہے، جو اپنے شاندار ماضی کو موجودہ اور آنے والی نسلوں سے متعارف کروا سکیں۔ یوں تو یہ ناول ہر قاری کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے لیکن ادب، تاریخ، سیاسیات اور معاشرتی و سماجی علوم کے طالب علموں کو یہ ناول ضرور پڑھنا چاہیے۔

Facebook Comments HS