خوشیوں کے تعاقب کی وبا ( 3 )


ایک دور میں تکلیف سہنے کو کردار کی عمدگی، اخلاقی بڑائی، عوامی بھلائی اور روحانی بالیدگی سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔ مصائب سے پامردی سے لڑتا انسان مذہبی شہادت اور معاشرتی فضیلت کے تصورات کو اپنے خون پسینے سے پروان چڑھاتا تھا۔ سمجھا جاتا تھا کہ روحانی و عقلی طور پر پختہ انسان غم اور خوشی کی وقتی لہروں سے اوپر اٹھ چکا ہوتا ہے۔ اس کی کھال سخت اور دل بڑا ہوتا ہے۔ معمولی حالات اس کی کور کو نہیں ہلا نہیں سکتے۔

جسٹن شمٹِ حشرات کے مطالعہ میں ایک انچ بڑی بلُٹ چیونٹی کے کاٹے کو سکیل پر لیول فور کی درد تسلیم کرتا ہے یعنی سب سے ”خالص، شدید درد“ جو جلتے کوئلوں پر پاؤں میں تین انچ کھبے کیل کے ساتھ چلنے کے مترادف ہے۔ ڈنک کا اثر چوبیس گھنٹے تک باقی رہتا ہے۔ بلٹ چیونٹی سے بھری پوٹلی میں ہاتھ ڈال کر ڈسوانا کچھ معاشروں میں شجاعت کے حتمی ٹسٹ کا ایک حصہ رہا ہے۔ لیکن زیادہ تر لوگوں نے اس قسم کے مقابلے کرانے اب بند کر دیے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی مزید درد نہیں سہنا چاہتا۔ مگر کیوں؟ کیا درد بڑھ گیا ہے یا برداشت کم ہو گئی ہے؟

آج کے پین۔فری معاشرے میں تکالیف اور صدمات سہارنے کے لیے ہمارے پاس ایپیڈیورل۔ وایکوڈین اور نورکو ہیں۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ بلاوجہ درد سہنے سے انسان میں دیرپا نفسیاتی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا ایسا اینٹائیٹلڈ دور ہے جہاں کہیں تو ہم بچوں کو بنا کارکردگی ٹرافیاں انعام کرتے ہیں۔ ہرٹ فیلینگ کے لیے ہر کمرے میں ایک سیف سپیس موجود ہے۔ جھوٹی تعریفوں سے مجروح عزت نفس کی مرہم پٹی کی جاتی ہے۔

ہم کردار کی کمیوں کو سدھارنے پر مائل ہونے کی بجائے خود کو ہر حال میں قبول کرنے کی راہ پسند کرتے ہیں۔ مضبوط ہونے کی بجائے محفوظ رہنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ یہ نیا ہیڈونزم ہے جس میں صرف خوشی ایک ایسی جنس ہے جس کے لیے تمام زندگی وجود میں آئی ہے۔ اور اس خوشی کے لیے ہمیں استحقاق ہے کہ ہم جو چاہیں، جب چاہیں، جیسے چاہیں کر سکتے ہیں۔ بے جا روک ٹوک اور سختی ہم میں ایسے نفسیاتی مسائل پیدا کر سکتی ہے جس سے مبینہ طور پر فرد اور معاشرے کی تباہی ممکن ہے۔

لیکن جیسے کہ ہمیں معلوم ہے بے تحاشا خوشی۔ ذہن میں اس کے مفہوم کو بدل دیتی ہے۔ اسے پہچاننے کی حسیات ہم میں مرنے لگتی ہیں۔ خوشی سے لذت کشید کرنے کی ہماری صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے۔ مگر سب سے زیادہ ہمارے اندر کا فطری جذباتی توازن بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ انسانی زندگی مختلف نوع کے جذبات سے عبارت ہے۔ تاہم خوشی اور غم کا اپنا ایک منفرد کلیہ ہے جس کا توازن ہمیں بیدار و مطمئن رکھتا ہے۔

جذبات کے سکیل پر ہر خوشی ایک مختصر وقت کا ہائی ہے۔ ختم ہو جاتی ہے۔ اب اس کے تسلسل کے لیے اس کی مقدار بڑھائیں گے تو اس کا ذائقہ معدوم ہو جائے گا۔ اور مقدار بڑھانے سے بھی ہماری پیاس بجھے گی نہیں بلکہ اور بڑھ جائے گی۔ پھر دوسری جانب جتنی تکلیف ہم مٹائیں گے اتنے ہی نازک مزاج اور حساس ہوتے جائیں گے۔ یوں بتدریج ہماری برداشت اتنی کم ہو جائے گی کہ ہر دکھ پہاڑ سا لگے گا۔

اور اگر کوئی حقیقی غم نہ ہو تو وقتی طور پر قدرتی توازن برقرار رکھنے کو انسانی دماغ خود سے تکلیف گھڑ لیتا ہے۔ یعنی تکلیف پیدا کرنے کے لیے ہمیں ہر وقت بلٹ چیونٹی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمیں صرف اس کے تصور کی ضرورت ہوتی ہے۔ آنکھ کے آنسو سے لے کر ہارٹ اٹٰیک تک اپنی جملہ وجوہات سمیت ہر قسم کا درد ہم خود تخلیق کر سکتے ہیں۔ اتنا سچا کہ اس کی شدت سکیل پر بھی دکھائی دے۔

کامل خوشی کے تعاقب کی بیماری میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ نہ ہماری اعلی تعلیم اور فیملی سپورٹ و دوست احباب۔ نہ روپے کی فراوانی اور زندگی کی آسانی۔ کچھ بھی ہمیں کافی نہی ہوتا۔ ہاں مگر شاید تھوڑی سی اور خوشی؟ انسٹنٹ والی! لامحدود! خوشیاں جو کبھی سوشل میڈیا سے، ہر قسم کی موویز۔ ویڈیو گیمز یا منشیات و بے راہ روی سے کشید کی جاتی ہیں۔ یہ کبھی نہ ختم ہونے والی ٹی وی سیریز اور سنیکس ہیں۔ یا فیس بک لائیکس ہیں۔ وائرل ٹویٹس ہیں۔ ملین سبسکرائیبرز ہیں۔ یہ زینیکس۔ پروزیک۔ سائیکاڈیلکس ہیں۔ اور اگر کام نہ بنے تو کبھی کبھی یہ بڑا درد ہیں۔ یہ خود اذیتی ہیں۔ یہ احمقانہ حد تک خطرناک رسک ہیں۔ یہ خود کشی کی کامیاب و ناکام کوششیں ہیں۔

اور یہاں ہم خود سے ایک انتہائی اہم سوال پوچھتے ہیں : ”ہم کیوں جی رہے ہیں؟“ کبھی نہ آسودہ کرنے اور نہ ختم ہونے والا خوشی کا مسلسل تعاقب اس عظیم الشان کائنات اور خدا کی فطرت پر بنے انسان کی زندگی کی تمام تر غرض و غایت ہو سکتا ہے؟ ہمیں تو ”خوشی کی لاحاصل جستجو“ میری ہیز اے لٹل لیمب کے ساتھ گا لینا چاہیے تھا۔ پھر ہمیں ابتدائی جماعتوں میں دور کی زمینوں کے نقشہ جات پڑھا دیے جاتے۔ عالمی امن کا مسئلہ ہائی سکول کی اسائنمنٹ میں حل ہوجاتا۔ اگلی کہکشاؤں کا سفر ہمارا فیلڈ ٹرپ ہو سکتا تھا۔

لیکن ہم ہمیشہ یہ سب سمجھنے میں دیر کر دیتے ہیں۔ دل کی بیماریاں دنیا میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ لیکن صرف شعبہ امراض قلب کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر ہم پہلی بار سوچتے ہیں کہ خوشی کے پیچھے زندگی سے لمبی، عمر بھر کی دوڑ میں ایک اچھی کارڈیو روٹین شامل کرنا یقیناً سود مند ہو سکتا تھا۔ (جاری ہے۔ )

Facebook Comments HS