شاہی اور باغی: شکست تخت پہلوی (7)

شاہ کے شاہانہ پائے تخت سے دور نجف کے مقام پر جلاوطن بوڑھا آدمی صبح ہونے سے پہلے ہی جاگ جاتا۔ پورے دن کی سرگرمیاں ٹھیک وقت پر ہوتیں۔ انہیں دیکھ کر لوگ اپنی گھڑیاں ٹھیک کرلیتے تھے۔ یہ شخص آیت اللہ خمینی ہیں۔ وہ صبح پانچ بجے نماز کے لیے اٹھتے، دو گھنٹے بعد ناشتہ کرتے۔ پنیر، روٹی اور کچھ خشک میوہ۔ صبح کا باقی حصہ خبریں دیکھتے، کتابیں پڑھتے، تقاریر تیار کرتے اور لوگوں سے ملاقاتیں کرتے گزرتا۔ ظہر کی نماز کے بعد دوپہر کا کھانا ہوتا۔ ایک طویل قیلولہ کے بعد پھر لکھنا پڑھانا اور ملاقاتیں اور ایک تیس منٹ کی چہل قدمی۔ رات کا کھانا سادہ ہوتا۔ آخری نماز کے بعد پھر لکھنا پڑھنا اور رات دس بجے چراغ بجھا دیے جاتے۔ خمینی اپنی جلاوطنی سے نالاں تھے۔ ”پتہ نہیں میں نے ایسے کون سے گناہ کیے ہیں۔ عمر کے آخری برسوں میں مجھے نجف بھیج دیا گیا“ ۔ ایک غیر ملک جہاں عرب تھے، سنی مذہب کی اکثریت تھی۔ وہ اپنے معتقدین سے دور تھے اور ناخوش تھے۔ پہلوی رژیم کی امید تھی کہ خمینی عوام سے دور رہیں گے تو بھلا دیے جایں گے۔ جنرل نصیری نے شاہ کو بتایا ”خمینی ساٹھ کے وسط میں ہیں۔ بوڑھے ہیں وہ کبھی دوبارہ ایران میں قدم نہیں رکھ سکیں گے چہ جائیکہ پہلوی حکومت کو سر نگوں دیکھیں“ ۔
نجف کے مقامی شیعہ عالم آیت اللہ محسن حکیم نے خمینی کو غیر ملکی ناپسندیدہ شخصیت کہا اور اپنے جذبات کا کھل کر اظہار بھی کیا۔ ان دونوں علما کا ایک بار مباحثہ ہوا۔ خمینی نے واضح کیا کہ وہ پہلوی اور ان کے سفید انقلاب کے خلاف اپنا انقلاب لانے کا سوچ رہے ہیں۔ شیعہ روایت میں امام حسین اور ان کے خانوادے کی شہادت سے بڑھ کر کوئی اور سانحہ نہیں۔ یہ قتال خلیفہ یزید کے ہاتھوں کربلا کے مقام پر ہوئے۔ آیت اللہ حکیم، خمینی کی اس بات سے اختلاف رکھتے تھے کہ شاہ ’نئے یزید‘ ہیں اور علما کا فرض ہے کہ وہ ایران میں بادشاہت کے خاتمے کے لیے متحد ہو جایں۔ حکیم کا کہنا تھا۔ ”اگر ہم نے ایسا کیا تو بہت گڑبڑ مچے گی لوگ ہمیں ملامت کریں گے۔ ایسا کرنا لوگوں کو موت کے منہ میں بھیجنا ہو گا“ خمینی نے جواب دیا کہ اموات انقلاب کے لیے ناگزیر ہیں۔ ہمیں قربانی دینی ہوگی۔ تاریخ گواہی دے گی کہ جب مذہب کو خطرہ تھا تو شیعہ علما اس کے خلاف کھڑے ہوئے اور مذہب کا دفاع کیا اور ان میں سے کچھ مارے گئے”۔
ایک اور قسم کی بغاوت محل میں ہوئی۔ شہزادی شاہناز جو تاج پوشی کی تقریب میں آنسو بہا رہی تھی اب یکسر بدل گئی۔ اس کے بارے میں شاہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حواس میں نہیں ہے۔ اس کے دماغ میں جنونی خیالات آتے ہیں۔ اور بیٹی کو دھمکی دی کہ وہ اسے عاق کر دیں گے۔ شاہناز خوبصورت تھی لیکن بے سکون۔ اردشیر زاہدی سے اس کی شادی ٹوٹنے کے قریب تھی۔ لندن اور واشنگٹن میں کئی سال گزار کر وہ واپس تہران آ گئے۔ شادی ٹوٹ گئی لیکن اردشیر زاہدی اپنی ملازمت پر برقرار رہے۔ شاہناز نے اپنی نئی دلچسپی ڈھونڈ لی۔ خسرو جہان بانی۔
خسرو جہان بانی کے والد ایک سابق جنرل تھے جو شاہ کے لیے کام کرتے رہے۔ ان کا تعلق قجار خاندان سے تھا۔ خسرو بہت خوش شکل تھا۔ کئی سال امریکہ میں گزار کر تہران واپس آیا۔ امریکہ سے کافی کچھ سیکھ کر آیا۔ اس میں ہیپی ولیج سے منشیات کا استعمال بھی تھا۔ خسرو اپنے حلقے میں بہت مقبول تھا۔ اس کی دوستی بھی بڑے بڑے اہم لوگوں سے تھی۔ وزیروں مشیروں کے بیٹے بیٹیوں سے اس کی دوستی تھی اور اس بورژوا طبقے میں بیٹھ کر وہ مارکس ازم کا جھوٹا پرچار کرتا۔ کوکین، چرس اور ہیروئین کے استعمال میں ملوث تھا۔ شہنشاہیت کے خلاف بولتا اور ایران کو ریپبلک بنانے کی بات کرتا۔ اس کے مطابق شاہی خاندان کے القاب واپس لے لیے جائیں اور مراعات اور ٹرسٹ فنڈ سے بھی محروم کر دینا چاہیے۔ شہزادی شاہناز کا یہ بدترین انتخاب تھا۔ شاہ اس پر شدید تحفظ رکھتے تھے کہ شاہناز نے خسرو کا طرز زندگی اپنا لیا اور وہ دونوں شاہ کی بیٹی کے ناتے ملنے والے ماہانہ وظیفے سے اپنی ضروریات اور نشہ پورا کر رہے تھے۔ شاہ جتنی بھی کوشش کرتے انہیں جدا کرنے کی، اتنا ہی بیٹی اپنے محبوب کی طرف کھنچتی چلی جاتی۔

پھر ایک معمولی جرم میں خسرو کا کورٹ مارشل کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ 1969 کے موسم گرما میں شاہ کی بیٹی ہر روز صبح جیل کے باہر ملاقات کے وقت کا انتظار کرتی نظر آنے لگی۔ وہ خود کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتی۔ ننگے سر اپنے محبوب کے دیدار کے لیے آتی۔ خسرو کو ایک دوسری جیل بھیج دیا گیا اور شاہناز ایران چھوڑ کر خود ساختہ جلاوطنی میں سوئٹزرلینڈ چلی گئی۔ وہاں سے ایک خط اپنے والد کے نام بھیجا اور واضح کر دیا کہ وہ سزا یافتہ مجرم سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ اگست 1969 کو مزید اسکینڈل سے بچنے کے لیے خسرو کو آزاد کر دیا گیا اور اس کی محبوبہ بھی جنیوا سے تہران لوٹ آئی اور باپ کو راضی کرنے کی ایک آخری کوشش کی۔ 5 اگست کی شام اسد اللہ علم نے احکامات دیے کہ خسرو کو شہزادی کی رہائش گاہ میں داخل ہونے سے روکا جائے لیکن وہ کسی طرح اندر داخل ہو گیا۔ اسے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ شہزادی نے علم سے فون پر بات کی اور کہا کہ اگر خسرو کو گرفتار کیا تو وہ بھی ساتھ جائے گی۔ اسد اللہ علم کے سمجھانے کے بعد شہزادی نے ایک گھنٹے کا وقت مانگا۔ علم کا انتظار صبح تین بجے جا کر ختم ہوا۔
علم اور خسرو سعد آباد میں آمنے سامنے بیٹھے۔ خسرو نے بتایا کہ اپنے ’ہیپی‘ طرز زندگی کو چھوڑ کر حقیقی زندگی بسر کرنا چاہ رہا ہے۔ شاہ کی بھی اپنی بیٹی سے ایک خوشگوار ملاقات ہوئی اور بیٹی کو یقین دلایا کہ وہ اس سے بہت محبت کرتے ہیں اور اس کی خوشیوں میں حائل نہیں ہوں گے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ بیٹی اپنے خاندان کی عزت کرے اور کوئی غلط قدم نہ اٹھائے جس سے خاندان کی عزت پر حرف آئے۔ خسرو کی طرح شاہناز نے بھی یقین دلایا کہ وہ اپنا طرز زندگی تبدیل کر لے گی۔ شاہ کو تسلی ہو گئی۔ چھے ہفتے بعد شاہناز نے خواب آور گولیاں کھا لیں۔ اسے وقت پر بچا لیا گیا۔

فروری 1970 میں شاہ، فرح اور بچے سوئٹزرلینڈ اسکینگ کے لیے چالیس دن کی چھٹیوں پر گئے جو معمول سے کہیں زیادہ تھیں۔ ادھر آیت اللہ خمینی نے نجف میں طالب علموں کو یکے بعد دیگر 13 لیکچر دیے اور بادشاہت کے خاتمے اور اسلامی ریاست کے قیام کی بات کی۔ اصل موضوع ’ولایت فقیہ‘ تھا جس کے تحت شیعہ مذہب میں اسلامی علما اس وقت تک اسلام کے قوانین پر مبنی حکومت بنائیں جب تک امام غائب کا ظہور نہ ہو جائے۔ جو پیغمبر اسلام کے سلسلے کے بارہویں امام تھے۔ خمینی کی شعلہ بار تقریروں، سخت ترین الفاظ اور تشدد پر آمادہ پیغامات نے نوجوان انتہا پسند گروہوں کو متاثر کیا۔ ایران کی آبادی کا 54 فیصد نوجوانوں پر مشتمل تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو مغربی طرز حکومت سے متاثر تھے۔ مڈل کلاس طبقے کی نئی نسل تعلیم یافتہ تھی اور سیاست کو سمجھنے لگی تھی۔ خطے میں جو کچھ ہو رہا تھا اس سے بے خبر نہیں تھے۔ وہ عرب نہیں تھے لیکن یہ ممکن نہیں تھا کہ ان کے برادر اسلامی ملکوں میں جو کچھ ہو رہا ہو، وہ اس سے لاتعلق رہیں۔ 1967 میں عرب اسرائیل جنگ نے مغرب کی حکمت عملی کا یہ تصور توڑ ڈالا کہ اس خطے میں کبھی انصاف اور امن ہو سکے گا۔ اس کے نتیجے میں نیشنلزم، سوشلزم اور مذہبیت نے جڑیں پکڑ لیں۔ ناکامی اور شرمندگی سے مسلمانوں نے سنی ہوں یا شیعہ مسجدوں کا رخ کیا اور پرانے اطوار اپنانے شروع کر دیے۔ نئی نسل کے بائیں بازو گروہ میں نمایاں نام علی شریعتی کا تھا جنہیں نے مارکسسٹ اور اسلام کے بیچ پل باندھنے کی کوشش کی۔ یہ سمجھایا کہ پیغمبر اسلام کا زور بھی سماجی انصاف اور بھائی چارہ پر تھا۔ اور اس میں شہنشاہیت اور آمریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ شریعتی کی اسلام کی اس انقلابی توضیح نے بائیں بازو کے گروہوں کو متاثر کیا جو پہلوی حکومت کو جابر اور آمر مانتے تھے۔
*** ***

شاہ نے اپنی خفیہ پولیس ’ساواک‘ میں کچھ اہم تبدیلیاں کیں۔ ان کے لیے یہ اشد ضروری تھا کہ ساواک کے افسر ان کے وفادار اور قابل اعتماد ہوں۔ جب شاہ نوعمر شہزادے تھے اور تعلیم کے لیے سوئٹزرلینڈ جا رہے تھے تو اپنے ساتھ اپنے دوست حسین فردوست کو بھی لے گئے تھے۔ فردوست بورڈنگ اسکول میں شاہ کا ساتھی رہا۔ 1965 میں جب شاہ نے ساواک میں تبدیلی کا سوچا تو ساواک کی سربراہی اپنے پرانے دوست کے حوالے کردی۔ یہ ایک حساس پوسٹ تھی اور شاہ اپنے دوست کو اپنی ’آنکھیں اور کان‘ بنانا چاہتے تھے۔ فردوست کا کام یہ تھا کہ وہ ہر روز شاہ کو ہر محکمے کی تازہ رپورٹ فراہم کرے۔ فردوست کے بارے میں اکثر لوگوں کی رائے اچھی نہیں تھی۔ خود ملکہ کو بھی تحفظات تھے۔ فردوس کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ وہ ایک پراسرار اور چالاک شخص ہے۔ فردوست کا اثر و رسوخ نیچے سے اوپر تک تھا اور سب جانتے تھے کہ شاہ اس کی بات کو اہمیت دیتے ہیں۔ شاہ کو خبردار کرنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن وہ اپنے دوست کے بارے میں کوئی منفی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔ ”یہ لوگ مجھے ایک سچا دوست بھی نہیں رکھنے دیتے“ شاہ الٹا شاکی ہوئے۔ حسین فردوست جلد ہی ایک امیر ترین شخص بن گیا۔
شاہ کے والد رضا شاہ بھی حسین فردوست کو پسند نہیں کرتے تھے اور اپنے بیٹے کی اس دوستی سے ناخوش تھے۔ شاہ کا یہ رجحان رہا تھا کہ وہ ذہین، کارآمد اور مخلص لوگوں کے بجائے نصیری اور فردوست جیسے لوگوں کو پاس رکھتے جو کمزور اور درمیانے درجے کی ذہانت رکھتے تھے۔ سلطنت کو سرہاتے اور فائدے اٹھاتے۔

ایرانی تاریخ دان عباس میلانی لکھتے ہیں کہ فردوست اپنے دل میں کدورت رکھتا تھا۔ وہ کبھی بھول نہیں پایا کہ وہ ایک معمولی سپاہی کا بیٹا تھا جب اسے بچپن میں ہی شاہ کی خواہش پر والدین سے دور شاہ کے ساتھ سوئٹزرلینڈ بھیج دیا گیا۔ وہ ساری عمر رشک میں مبتلا رہا۔ وہ ان سب کو شدید ناپسند کرتا تھا جو اپنی ذہانت اور صلاحیتوں سے اونچے مقام پر پہنچے۔ اس کی ساری عمر ملک کے طاقتور ترین خاندان کی خدمت کرتے اور انہیں خوش کرتے گزری اور وہی بات کہتے جو شاہی خاندان سننا چاہتے۔ بچپن میں شہزادے کے ساتھ ٹینس کے کھیل میں جان بوجھ کر غلط بیانی کرتے اور شہزادے کے والد کو بتاتے کہ شہزادہ ٹینس میں کمال رکھتا ہے۔ اب جب وہ ایک حساس عہدے پر تھے پھر بھی اپنی اس عادت سے مجبور شاہ کو اچھی خبریں ہی دیتے۔ حقیقت میں ملک میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ شاہ کو بتایا نہیں گیا۔ شاہ کو دھوکے میں رکھا گیا اور یہ دھوکا ان کا عزیز دوست انہیں دے رہا تھا۔ اس کے علاوہ شاہ کو خاندانی سیاست کا سامنا بھی تھا۔ کئی گھریلو محاذ کھلے ہوئے تھے۔

رضا شاہ کی اپنی بیویوں سے کل ملا کر سات بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ ایک بادشاہ کے لیے اتنے سارے بھائی بہن ہونا ٹھیک نہیں ہوتا۔ شاہ نے ان سب کو الگ رکھا ہوا تھا۔ شہزادہ غلام رضا شاہ کے سوتیلے بھائی تھے اور فوج کے افسر تھے ان کا کہنا تھا ”ہم جب اکٹھے ہوتے تو سیاست پر بات نہیں کرتے۔ فوج میں میرا عہدہ اچھا تھا۔ میں اعلیٰ حضرت کو رپورٹ دیتا لیکن پھر آہستہ آہستہ میری حیثیت کم ہوتی گئی۔“ غلام رضا کی بیوی شہزادی مانیژہ قجار خاندن سے تعلق رکھتی تھیں انہیں وہ مراعات نہیں ملتی تھیں جو شاہ کی بیوی اور سگی بہنوں کو ملتی تھیں۔ غلام رضا کا یہ بھی کہنا تھا، ”بچپن میں ہم سب الگ الگ گھروں میں پلے اور بہت کم سب اکٹھے ہوتے۔ ہمیں کبھی پرجوش طریقے سے خوش آمدید نہیں کہا گیا۔ ملاقاتیں بہت رسمی ہوتی تھیں۔ ہم ملکی سیاست پر بات کرنے سے احتراز کرتے کہ کہیں اسے مداخلت نہ سمجھا جائے۔“ جب ان سوتیلے بہن بھائیوں کو شاہی مقام نہ ملا تو انہوں نے تجارت کے ذریعہ اپنی حیثیت مستحکم کرنے کی کوشش کی اور اپنے وظیفے بڑھانے کے لیے آپس میں ایکا کر لیا۔ شاہ نے بھی یہی مناسب سمجھا کہ ان کے منہ پیسوں سے بند کر دیے جائیں۔

شاہ کی بہن شہزادی اشرف کی پہلی شادی علی قیوام سے ہوئی جو زیادہ عرصہ نہیں چلی۔ شادی سے ایک بیٹا شہرام ہوا۔ امریکی سی آئی اے کے مطابق شہرام ایک ایسا بزنس مین تھا جو ہر ہتھکنڈا اپنا سکتا تھا۔ شہرام کی کئی کمپنیاں تھیں جن میں ٹرانسپورٹ، نائٹ کلب اور تعمیراتی اور اشتہاری کمپنیاں شامل تھیں۔ شہزادہ شہرام کا اصل بزنس اسمگلنگ تھا۔ وہ ایران کے قیمتی نوادرات ملک سے باہر اسمگل کر رہا تھا۔ وہ اپنی ماں کے نام پر یہ کر رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کسٹم اسے چیک نہیں کرے گا۔ بات کھلی تو اشرف شرمندہ اور ششدر رہ گیں۔ شاہ کو اپنے بھانجے پر اتنا غصہ تھا کہ وہ اسے جیل یا جلا وطن کرنا چاہ رہے تھے لیکن بہن کی منت سماجت سے اسے معاف کر دیا۔ ملکہ فرح نہیں چاہتی تھیں کہ اسے آسانی سے معاف کر دیا جائے۔ ان کے خیال میں عوام اسے ناپسند کریں گے اور مستقبل میں ان کے بیٹے کو بھی تخت کا وارث بننے میں مشکلات آ سکتی ہیں۔

1971 کے موسم سرما میں شہزادی شاہناز نے خسرو جہانبانی سے جنیوا میں ایرانی سفارت خانے میں شادی کر لی۔ شاہ نے اسد اللہ علم کو ہدایات دیں کہ ان کی بیٹی کے معاونت کی رقم منتقل نہ کی جائے اور اس کے شوہر کو پابند کیا جائے کہ وہ کبھی عدالت میں اپنی شکل نہ دکھائے۔ ایرانی قانون کے مطابق منشیات کے استعمال کرنے والے کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ شاہ کا کہنا تھا ”ایک باپ کی حیثیت سے میں اپنی بیٹی کو معاف کر سکتا ہوں لیکن ایک شہنشاہ کی حیثیت سے میں ایک ناکارہ شخص کو داماد قبول نہیں کر سکتا۔ ان دونوں کا طرز زندگی منافقت ہے۔“ شہزادی فاطمہ، جو شاہ کی سوتیلی بہن تھیں، شادی میں شریک تھیں ان کا کہنا ہے کہ دولہا دلہن بہترین لباس میں تھے اور شاہناز بہت خوبصورت اور خوش لگ رہی تھی۔ شادی کے بعد شادی شدہ جوڑا شہزادہ پاتریک علی کے گھر رہنے لگے۔ پاتریک شاہ کا بھتیجا تھا اور علی رضا پہلوی کا بیٹا تھا جو 1954 میں ایک ہوائی حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ نوجوان پاتریک علی 1971 سے مذہب کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ ایک امریکی سفارت کار کے مطابق غیر متوقع طور پر کچھ نوجوان مذہبی ہو رہے تھے خاص طور پر وہ جو یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ کیمپسوں میں اسلامی یونین بن رہی ہیں اور تہران کی مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اس کی وجہ ایک ایسا شخص ہے جو دور کہیں بیٹھا اپنی تقریروں سے انقلاب لانے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ (جاری ہے)



