مخصوص نشستیں: خو گر حمد کا گلہ
سپریم کورٹ کے 13 رکنی فل بنچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست مسترد کرتے ہوئے اکثریتی فیصلہ میں مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دیا۔ اس فیصلے سے جو بنیادی سوال پیدا ہوا وہ یہ ہے کہ ایک جماعت (سنی اتحاد کونسل) جس نے جماعتی حیثیت سے عام انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا اس کی مخصوص نشستوں کے متعلق درخواست قابل سماعت کس قانون کے تحت قرار پائی۔ فل بنچ کا اکثریتی فیصلہ سینئر جج منصور علی شاہ نے سنایا۔
چیف جسٹس سمیت 4 ججوں نے دائر درخواستوں کی مخالفت کی اکثریتی فیصلے میں پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پارلیمانی جماعت قرار دیا گیا۔ فیصلے کے مطابق جن امیدواروں نے پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ دیا وہ اس کے امیدوار رہیں گے انہیں آزاد یا کسی اور جماعت کا رکن قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اس فیصلے پر کچھ ایسے سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں کہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ”خو گر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے“
1۔ پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کے جو آزاد ارکان سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے وہ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کریں گے تو فلور کراسنگ کا قانون اس فیصلے کے بعد تحلیل ہو گیا؟
2۔ فیصلے کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ نشان کے بغیر سیاسی جماعت کی قانونی حیثیت برقرار رہتی ہے لیکن الیکشن ایکٹ 2017 ء کے تحت وہ جماعت تو رہتی ہے لیکن انتخابی نشان کے بغیر بطور جماعت انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی معزز جج صاحبان نے اسے مدنظر نہیں رکھا۔
3۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اب اس امر پر بات ہو سکتی ہے کہ یہ فیصلہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا ماضی قریب میں اعلیٰ عدلیہ کے بعض ججز نے عمران کو ایسے مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری دی جو درج بھی نہیں ہوئے تھے۔
4۔ دوسری مثال چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں ظفر علی شاہ کیس کی ہے، جس میں بن مانگے جنرل مشرف کو 3 سال حکومت کرنے اور آئین میں ترمیم کا حق دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ آج بھی آئینی اور قانونی حلقوں میں متنازع ہے کہ آئین میں ترمیم کا جو اختیار جنرل مشرف نے مانگا ہی نہیں تھا ’وہ بھی تفویض کر دیا گیا۔ حالیہ مقدمہ سنی اتحاد کونسل کا تھا الیکشن کمیشن، پشاور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک وہ مقدمہ لڑتی رہی جبکہ پی ٹی آئی ایک مہمان اداکار کی طرح پس منظر میں تھی لیکن پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ نے وہ سب دے دیا جو اس نے مانگا ہی نہیں تھا۔
پی ٹی آئی کے کسی وکیل نے مخصوص نشستوں کی ڈیمانڈ نہیں کی۔ اس مقدمے میں انتخابی نشان چھن جانے کے متعلق کوئی دلیل دی گئی، نہ جماعتی شناخت واپس مانگی گئی، نہ یہ مانگ کی گئی کہ اس کے ممبران کو پارلیمنٹ میں اراکین پی ٹی آئی کے طور پر بٹھایا جائے۔ سب سے عجیب یہ کہ درخواست مسترد کی گئی اور فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں دیا گیا۔
5۔ انتخابی نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کی پہلے سپریم کورٹ نے توثیق کی تھی، اس فیصلے اور حالیہ فیصلے کو ملا کر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ ایک بار پھر حالات کے مطابق قانون و آئین کی نئی تشریح لکھی گئی۔
6۔ کیا یہ تشریح آئین و قانون کے مطابق ہے یا سوشل میڈیا پر ہوئی کردار کشی، دھمکیوں، دھونس اور کچھ دیگر معاملات اور وکلاء کے احتجاج کا نتیجہ؟
7۔ جن حالات میں پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لیا گیا ایسے ہی حالات اور مسائل کی وجہ سے ماضی میں مسلم لیگ (ن) سے بھی (2018) سینیٹ انتخابات کے وقت امیدواروں کی تقرری کے لئے نواز شریف کے جاری کردہ سرٹیفکیٹ کو غیرقانونی قرار دے کر مسلم لیگ کے سینیٹ میں کامیاب امیدواروں کو آزاد قرار دیا گیا۔ دونوں فیصلوں کو ملا کر تجزیہ کریں تو تمام تر احترام کے ساتھ یہ کہنا پڑے گا کہ ”نظریہ ضرورت“ ابھی زندہ ہے۔ سیاسی مقدمات میں ابھی عدالتی فیصلے آئین و قانون کے بجائے نظریہ ضرورت، جذباتی ابال اور پسند و نا پسند، ذرائع ابلاغ پر لگی عدالتوں اور ججوں کے خلاف ایک فریق کی مہم کے نتیجے میں گھبراہٹ میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔
8۔ پی ٹی آئی کو اگر مخصوص نشستوں کا حق دار قرار دینا ہی تھا تو سپریم کورٹ کو انتخابی نشان سے متعلق اپنے پہلے فیصلے کو پڑھنا چاہیے تھا یا اس سے رجوع کر لینا چاہیے تھا۔
9۔ بصد احترام یہ سوال بھی کرلیتے ہیں، کہ الیکشن کمیشن اور پارلیمان کے فرائض بھی اگر کسی دوسرے ادارے نے سنبھالنے ہیں تو پھر ان اداروں کی ضرورت کیا ہے۔ ماہرین قانون کی نظر میں تحریک انصاف سے انتخابی نشان کی واپسی کا فیصلہ الیکشن ایکٹ 2017 کے قوانین کی تحت درست تھا۔ فیصلے ”باہر بنے یا بنائے گئے ماحول کو دیکھ کر دینے ہیں تو پھر پولیٹیکل پارٹی ایکٹ اور الیکشن ایکٹ بے معنی ہو جاتا ہے۔
چند اینکرز اور درجنوں یوٹیوبرز فیصلے سے 18 گھنٹے قبل ٹی وی سکرینوں اور چینلوں پر بتا رہے ہوں کہ فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں، 8 / 5 کے تناسب سے ہو گا کیا یہ الہام کا نتیجہ تھا، یا وہ ججز کی ذاتی پسند و ترجیحات سے آگاہ تھے۔
بادی النظر میں سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ ایک نئے دستوری قانونی اور سیاسی بحران کا دروازہ کھولنے کا موجب بنے گا اس کی واحد وجہ یہی ہوگی کہ درخواست سنی اتحاد کونسل نامی مذہبی سیاسی جماعت کی تھی اور فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں سنایا گیا۔
کھمبیوں کی طرح اگنے والے یوٹیوبرز اور تجزیہ نگاروں سوشل میڈیا پر لگائی عدالتوں اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں یکسانیت کیوں ہے۔ اس کا جواب شاید کوئی نہیں دیے گا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ فیصلے کی غلطیوں کو سدھارنے کے نام پر نیا بلنڈر سرزد ہو گیا۔ ماضی میں پارٹی ڈسپلن کے متعلق ایک ہی طرح کے مقدمات میں دو متضاد فیصلے دے کر سپریم کورٹ کے ’ہم خیال گروپ ”نے آئین کو ازسرنو لکھا تھا۔ یہ فیصلہ بادی النظر میں اسی کا عکس ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ پر حکمران اتحادی جماعتوں کے علاوہ پاکستان الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی جن تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے ان میں یہی نکات اٹھائے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے باضابطہ اعلامیہ جاری کیا کہ پی ٹی آئی اس کیس میں نہ تو الیکشن کمیشن اور نہ ہی پشاور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں پارٹی تھی اس لئے سپریم کورٹ کا اسے مخصوص نشستیں دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں ہے۔
رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں اس کا نام ویب سائٹ پر موجود ہے۔ الیکشن کمیشن نے کسی عدالتی فیصلے کی قطعاً غلط تشریح نہیں کی۔ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات درست نہیں تھے جس کی وجہ سے الیکشن ایکٹ کے تحت اس سے انتخابی نشان واپس لیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) نے اسے پی ٹی آئی کے ساتھ خصوصی مہربانی سے تعبیر کیا۔ خواجہ محمد آصف اور وزیر قانون اعظم تارڑ اور اے این پی قیادت کے بقول عدلیہ نے آئین کے بجائے سیاسی فیصلہ دیا۔ جس نے ریلیف مانگا ہی نہیں اسے دے دیا گیا۔ فاضل عدالت نے آئین کی تشریح کے بجائے آئین سازی کا فرض سنبھال لیا۔ پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس فیصلہ میں ”لاڈلے ازم“ اور ”گڈ ٹو سی یو“ کی واضح جھلک ہے۔ ایم کیو ایم کے مصطفی کمال نے کہا اس فیصلہ سے آئین، قانون اور جمہوریت کو سخت نقصان پہنچا۔
یہ فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا کی طرح نظرثانی کا متقاضی رہے گا۔ ارکان اسمبلی کی اہلیت سے متعلق آئین کی دفعہ 63 کی متعلقہ شقوں کی وضاحت کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ سیاسی ’آئینی اور قانونی حلقوں میں تنقید کی زد میں آیا۔ اس فیصلہ کے تحت کسی رکن اسمبلی کو پارٹی سے وفاداری بدلنے پر ووٹ کا حق استعمال کرنے سے قبل ہی نااہلیت کا مستوجب ٹھہرایا گیا اس فیصلے کو آئین کو خود تحریر کرنے کے مترادف قرار دیا گیا۔ اس فیصلے کی طرح یہ فیصلہ بھی ملک میں سیاسی انتشار و خلفشار کا سبب بنے گا۔


