لاشوں اور جنازوں پہ سیاست پشتونوں کی روایت نہیں


پاکستان وہ پہلا ملک نہیں ہے جہاں لاشوں اور جنازوں پر سیاست کی جاتی ہے اور نہ ہی پشتون وہ واحد قوم ہے جو اب ایسا کر رہی ہے۔ اگرچہ پشتون روایت میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ یہ جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے روایت نہیں ہے بلکہ اثر ہے جو دنیا کے دیگر اقوام سے پشتونوں نے بھی قبول کیا ہے۔ آج سے دس پندرہ برس پیشتر افریقہ کے مختلف ممالک میں بھی معاصر افریقی سیاست میں جان ڈالنے کے لیے موت، لاشوں اور جنازوں کو مرکزیت حاصل تھی، جس کی سب سے بڑی مثال زامبیا کی ہے جہاں 2008 میں سیاسی حمایت کو متحرک کرنے کے لیے صدر لیوی موانواسا کی لاش پر سیاست اس حد تک بڑھ گئی کہ ان کی موت کے بعد بھی ضروری صدارتی ضمنی انتخاب جیتنے کے لیے ناگزیر حمایت حاصل کرنے کے لیے، وہاں کے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بیک وقت ان کی لاش کو ہی صدر تعینات کیا۔

بالترتیب اقتدار کو برقرار رکھنے اور ایک متبادل سیاسی نظم قائم کرنے کے لیے۔ موانواسا کی موت، لاش اور آخری رسومات پر ایسی سیاست کی گئی کہ دنیا دنگ رہ گئی تھی۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں یہ چلن پاکستان میں بھی چل پڑا ہے۔ جو بھی بندہ کہیں بھی کسی واقعہ یا لڑائی یا حادثے میں مر جاتا ہے سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں اس کی موت اور لاش پر سیاست کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اور پاکستان کے تقلید پسند عوام اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

جب ان کا کام نکل جاتا ہے اور وہ لوگوں کو جمع کر کے اپنا مقصد نکال لیتے ہیں تو اس کے بعد مرنے والے اور ان کے لواحقین کو کوئی پوچھتا ہی نہیں ہے۔ حالیہ کچھ واقعات میں یہ عمل پشتون سیاست اور مزاحمت کرنے والوں کے ہاں بھی شدت سے دیکھنے میں آیا ہے۔ مالاکنڈ یونیورسٹی کے ایک طالب علم کے روڈ حادثہ میں جان بحق ہونے کو لے کر ایسی سیاست کی گئی کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک پشتون مزاحمتی شاعر گلہ من وزیر کی موت پر یہی کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

گلہ من وزیر کو قتل کرنے والے اسی کے علاقے کے لوگ ہیں، پشتون ہیں۔ ان کی موت کا بظاہر سبب ذاتی لڑائی جھگڑا ہی ہے۔ اور یہ سب کچھ لوگوں کے سامنے ہوا اور جو پولیس رپورٹ درج کی گئی اس میں دعویٰ داری ایک دوسرے پشتون قبائلی فریق پر کی گئی جس کے متعلق کہا گیا کہ کچھ دنوں پہلے مرحوم اور ان کا جھگڑا ہوا تھا۔ موت کسی کی بھی ہو اور خاص کر جوان انسان کی ہو تو اس پر سب افسردہ ہوتے ہیں۔ لوگ اس کا سوگ مناتے ہیں۔ اور پھر شاعر کی موت ہوتو لوگ اس حساس شخص کے لیے زیادہ افسردہ ہوتے ہیں۔

لیکن موجودہ وقت میں ایسی موت کو اپنے سیاسی یا تحریکی شہرت اور فائدہ کے لیے استعمال کرنا کسی بھی طور مناسب نہیں ہے۔ آج کل ایک اور فیشن بھی چل پڑا ہے لوگ مشہور ہونے کے لیے یا پھر سوشل میڈیا جیسے ٹک ٹاک وغیرہ پر زیادہ ویوز لینے کے لیے ایسے ہر واقعے کے مقام، زخمی اور لاش کے سرہانے پہنچ جاتے ہیں اور اس کی زیادہ سے زیادہ تشہیر اپنی ویڈیوز کے ساتھ کرتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ شہرت مل سکے۔ یہ ہم پستی کی کس انتہا تک چلے گئے ہیں۔

یہ جو اس قوم میں لاکھوں کی تعداد میں ٹک ٹاکرز پیدا ہو گئے ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی ان مرحومین کی زندگی میں کبھی ان کا نام تک نہ لیا ہو گا۔ نہ کبھی ان سے ملنے گئے ہوں گے۔ اور نہ شاید ان کو جانتے ہوں گے۔ مگر جونہی کوئی مر جاتا ہے۔ سب اس کے ہمدرد بن جاتے ہیں۔ یہی حال نقیب اللہ محسود کی موت پر ہوا تھا۔ لیکن اس کے بعد کسی نے بھی ان کے قاتلوں اور قتل کے محرکات تک کو سامنے لانے اور سزا تک پہنچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

ہمارے ہاں لاشوں پر سیاست کی جاتی ہے جبکہ دنیا میں اگر کسی پر زیادتی کر کے اسے مارا جاتا ہے اس پر احتجاج کیا جاتا ہے جیسے ایران میں 22 سالہ کرد خاتون مہاسا امینی کی پولیس تشدد میں ہلاکت کے واقعہ سے ایران میں سیاسی بھونچال آ گیا تھا۔ مہاسا امینی کی موت پر پورے ایران میں اٹھنے والی احتجاج کی طاقتور لہر نے طاقت کے کئی مراکز کی بنیادیں ہلا دی تھیں۔ مہاسا امینی کو ایران کی اخلاقیات نافذ کرنے والی پولیس ( Morality Police ) نے گرفتار کیا تھا۔ اس پر الزام یہ تھا کہ اس نے حجاب اس طرح نہیں پہنا ہوا تھا، جس طرح حکومتی قوانین کے مطابق پہننا چاہیے کیونکہ اس کے بال حجاب سے باہر نظر آ رہے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مہاسا کو دل کا دورہ پڑا اور وہ زمین پر گر گئی۔ دو دن بے ہوش رہنے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا لیکن مہاسا کے ساتھ نظر بند ایک مرد اور ایک خاتون کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس پر بہت تشدد کیا۔ ، مہاسا کی موت نے دبی ہوئی چنگاری کو شعلہ بنا دیا اور پورے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

یہ مظاہرے 1979 ء کے اسلامی انقلاب کے لیے ہونے والے مظاہروں کے بعد سب سے بڑے مظاہرے تھے، جن کے بہت گہرے سیاسی اثرات مرتب ہوئے اور اس سلسلے میں وہاں قانون حرکت میں آیا۔ امریکہ میں 2020 میں ایک امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کے پولیس کی تشدد سے ہلاکت نے پورے امریکہ کو ہلا ڈالا تھا اور امریکہ کی تاریخ میں جو احتجاج اس کے لیے کیا گیا شاید اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہ ملے۔ مگر اس پر کسی بھی امریکی سیاسی جماعت یا تنظیم نے سیاست نہیں کی اور نہ اسے اپنی شہرت اور فائدے کے لیے استعمال کیا اور نہ ہی اس واقعہ کو بنیاد بنا کر کوئی ایسا پروپیگنڈا کیا جس سے ریاست کو نقصان پہنچے۔

حالانکہ اس کی موت ایک پولیس افسر کی وجہ سے ہوئی تھی جس نے تقریباً نو منٹ تک اس شخص کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھا ہوا تھا، وہ سانس لینے کے لیے بھیک مانگ رہا تھا منت سماجت کر رہا تھا مگر اس پولیس افسر نے اس پر رحم نہیں کیا۔ اس کے لیے احتجاج کرنے والوں میں صرف سیاہ فام ہی نہیں تھے بلکہ ہر رنگ و نسل کے لوگ تھے۔ اس احتجاج کے نتیجے میں امریکن حکومت کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ معافی مانگے اور آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

جولائی 2023 میں فرانس کے شہر پیرس کے نواحی علاقے نینٹیرے میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ایک پولیس افسر نے کار ڈرائیور ناہیل مرزوق کو گولی مار دی تھی، جس کی بعد اس کی موت ہو گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد پورے ملک میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ اس واقعہ نے بھی فرانس سمیت پورے یورپ کو متاثر کیا تھا۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس پر پوری دنیا میں آواز اٹھائی تھی۔ لیکن اس واقعہ کو لے کر فرانس کی کسی بھی سیاسی جماعت یا تنظیم نے کوئی سیاست نہیں کی اور نہ ہی اس واقعہ کو اپنے لیے شہرت کا غیبی اشارہ جان کر اس سے فائدہ اٹھایا۔

دنیا میں ایسے ہزاروں واقعات ہوئے ہیں جن میں پولیس اور حکومت کی وجہ سے لوگ مارے گئے جس پر احتجاج کرنا ان مہذب لوگوں کا فرض بنتا ہے۔ یہ احتجاج اس لیے کیا جاتا ہے کہ مقتولین کو انصاف مل سکے اور معاشرے میں ایسے فعل پھر سے نہ دہرائے جائیں۔ مگر ہمارے ملک میں ایک اور ہی ہوا چل پڑی ہے جو بھی سیاسی کارکن یا کسی تنظیم کا ورکر یا کوئی بھی عام شخص کسی بھی واقعہ یا حادثے میں مر جاتا ہے اس کو بنیاد بنا کر اپنی سیاست چمکائی جاتی ہے اور لوگوں کو جذباتی کرنے کا ایسا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔

یہ کام اب اس ملک میں سب کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا رجحان ہے جس کو اگر نہ روکا گیا تو اس ملک میں حکومتی املاک اور لوگوں کی جان و مال کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے کہ ہمارے ملک میں عوام مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی فسطائیت، مذہبی انتہا پسندی، اور شخصی فرسٹریشن کا شکار ہیں۔ ان کو پر تشدد احتجاج پر اُکسانا کچھ زیادہ مشکل کام نہیں۔ اس سے ملک و سماج دشمن فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اور اس دور میں جہاں سچ اور جھوٹ کا تعین کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ جدید سافٹ ویئرز اور اے آئی کی مدد سے کوئی کسی بھی طرح کی جعلی ویڈیو یا تصویریں بنا سکتا ہو اور اس کا استعمال کر سکتا ہو اس دور میں قوم اور حکومت کو زیادہ محتاط رہنا ہو گا۔ ابھی تو صورتحال یہ ہے کہ یہ موقع پرست لوگ کسی کے حادثاتی موت کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر صورتحال یہی رہی تو پھر وہ دن دور نہیں جب یہی لوگ اپنے لوگوں کو مار کر اس کا الزام لگا کر ملک میں آگ لگانے کی کوشش کریں گے۔ پشتونوں کی روایت رہی ہے کہ وہ موت، جنازے اور لاش پر سیاست نہیں کرتے تھے۔

گزشتہ پندرہ برس میں عوامی نیشنل پارٹی کے بشیر بلور، میاں افتخار حسین کے اکلوتے فرزند، بشیر بلور کے بیٹے ہارون بلور کتنے پشتونوں کو شہید کیا گیا۔ مگر پشتون روایات کے مطابق اس پر سیاست نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کے قربانی کو اپنے فائدے اور شہرت کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایسے مواقع پر سب پشتون اپنے دشمنی ایک طرف رکھ کر لوگوں کے غم میں شریک ہوا کرتے تھے۔ اور ایسے مواقع سے فائدہ اٹھانے کو بے غیرتی تصور کرتے تھے اور اسے پشتون روایت کے خلاف سمجھتے تھے۔ لاشوں اور جنازوں پر سیاست وہ قومیں کرتی تھیں جو کمزور ہوا کرتی تھیں وہ ان موقعوں پر رو دھو کر یا احتجاج کر کے اپنا غم غلط کرتے تھے۔ جبکہ پشتون ایسے مواقع پر جنگ بندی کا اعلان کیا کرتے تھے۔ اپنے دشمنوں تک کو راستہ دے دیا کرتے تھے۔ ان کے مہمانوں کی حفاظت کیا کرتے تھے۔ اب کے پشتون قوم نے یہ بہت ہی غلط راستہ چناُ ہے۔ چاہے باجوڑ میں ایک سیاسی کارکن کی موت ہو، چاہے مالاکنڈ یونیورسٹی کے طالب علم کی حادثاتی موت ہو اور اب مرحوم مزاحمتی شاعر گلہ من وزیر کی ناگہانی موت کا واقعہ ہو۔

ان پر سیاست کرنا اور اس کو اپنی سیاست و شہرت اور ویوز کے لیے استعمال کرنا ایک قابل مذمت فعل ہے۔ اور پشتون قوم کو بھی ایسے واقعات سے فائدہ اٹھانے والوں کا سماجی بائیکاٹ کرنا چاہیے اس لیے کہ اگر یہ فیشن ایک مرتبہ چل پڑا تو پھر ہر پشتوں مظلوم کے حقیقی مجرم اس کی آڑ میں خود کو بچاتے رہیں گے اور یہ موقع پرست لوگ پشتونوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاتے رہیں گے۔ جس سے من حیث القوم ان کا نقصان ہو گا۔

یہ وہ وقت ہے جب اس طرح کے فتنوں سے اپنے بچوں اور قوم کو بچایا جائے۔ انہیں مثبت اور تعلیمی و ترقیاتی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے۔ تاکہ یہ خطہ بھی دوسرے علاقوں کی طرح ترقی کرے۔ آخر کب تک پشتون دوسروں کی جنگوں کا ایندھن بنتے رہیں گے۔ کب بندوق چھوڑ کر قلم اٹھائیں گے۔ یہ تب ہی ممکن ہو سکے گا جب ان شعبدہ بازوں سے یہ قوم خود کو الگ کر کے اپنی پہچان ایک تعلیم یافتہ اور پختون ولی کے ذریعہ ثابت کرے گی۔ پختون ولی میں بدل اور تورہ اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ حادثوں اور ذاتی لڑائی جھگڑوں میں مرنے والوں کو بنیاد بنا کر ان پر سیاست کی جائے اور ان مرنے والوں کی لاشوں اور جنازوں پر ویڈیوز بنا کر اس سے اپنی شہرت میں اضافہ کیا جائے اور پوری قوم کو گمراہ کیا جائے۔

پختون ولی میں جو جس کام کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس سے ہی بدل لیا جاتا ہے۔ تورہ یہ ہے کہ حقیقی انصاف حاصل کیا جائے یا اسے ممکن بنایا جائے۔ اس وقت جو ہو رہا ہے۔ وہ اس کے مطابق نہیں ہو رہا۔ اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ پشتون نوجوانوں کو غلط سمت میں لے کر جا رہا ہے۔ اگر واقعات کا تسلسل اسی طرح جاری رہا تو پھر ایک دن آئے گا جب ہم حقیقت اور فریب میں تمیز نہیں کرسکیں گے۔ اور وہ وقت اس قوم پر بہت بھاری ہو گا اس لیے کہ اس کا فائدہ اٹھا کر پشتونوں کو آپس میں ہی لڑایا جائے گا اور جب دونوں طرف سے اپنے لڑتے ہیں تو نقصان کی تلافی پھر صدیوں میں نہیں ہو پاتی۔ پشتون قوم امیر یعقوب خان کے دور میں ایک تجربے سے گزری ہے جس کی قیمت وہ اب تک ادا کر رہے ہیں اور پتہ نہیں کب تک ادا کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS