شاعروں کی شاعرانہ خصوصیات


شعرا کبھی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہوتے تاہم بقول ڈاکٹر اشفاق احمد ورک شعرا ”تعارف“ کے سوا دنیا کی ہر چیز کے محتاج ہوتے ہیں۔ شعرا اپنی زندگی کا کچا چٹھا ببانگِ دُہل کھول سکتے ہیں۔ ان کے ہاں کردہ تو کیا نا کردہ سر گرمیوں کا بیان بھی خلعتِ فاخرہ سے کم نہیں ہوتا۔ شاعرات تک اپنے دل کی بات کھلے بندوں کہہ کر طشت از بام کر دیتی ہیں مگر عملی زندگی میں اپنی ہی کہی یا لکھی ہوئی باتوں کی بھنک بھی نہیں پڑنے دیتیں۔ یہ شاعری کا ہی کمال ہے ورنہ ایسے بد مست اعترافات کے بعد زندگی کرنا کہاں ممکن؟

شعرا نہ صرف اپنے ماضی و حال سے پردے اٹھاتے ہیں بلکہ مستقبل کے منصوبوں کو بھی آشکار کرتے ہیں جیسے کسی حسینہ کے سنگ شب باشی، کسی کو بھگا لے جانا یا پھر ناکامی کی صورت میں کسی کی یا اپنی زندگی برباد کرنا وغیرہ۔ مزے کی بات یہ کہ بے تحاشا داد بھی وصول کرتے ہیں۔ یوسفی صاحب لکھتے ہیں،

” جس طرح شعر کہا جاتا ہے اسی طرح بنا سمجھے داد بھی دی جاتی ہے۔ شعر اصل میں مشاعرے میں سننے سنانے کی چیز نہیں بلکہ تنہائی میں پڑھنے، سننے، سمجھنے اور سہنے کی چیز ہے۔ کلام کتابی شکل میں ہو تو لوگ شاعر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ میں کلیات ِ میر سے سینکڑوں اشعار نکال کے دکھا سکتا ہوں جو مشاعرے میں پڑھ دیتے تو عزت ِ سادات اور دستا ر ہی نہیں، سر بھی سلامت لے کر نہ لوٹتے“ ۔ ذیل میں شعرا کی چند خصوصی خصوصیات ملاحظہ کریں۔

1۔ غیر شرعی خواہشات کا غلبہ :

زندگی تو کیا شعرا پر موت کے بعد بھی غیر شرعی خواہشات کا غلبہ غالب رہتا ہے۔ مگر چند شریف النفس شعرا وہاں بھی دنیا داری اور اپنے محبوب کی عزت کا دھیان رکھتے ہیں۔ بقول قمر جلالوی،

قمر، وہ سب سے چھپ کر آرہے ہیں فاتحہ پڑھنے
کہوں کس سے کہ میری شمعِ تربت کو بجھا دینا
2۔ دل و جگر سے خون کا اخراج :

تمام شعرا کے اشعار میں ان کے دل اور جگر سے خون کے بے تحاشا تخیلاتی اخراج کے انکشافات ہوتے رہتے ہیں۔ شبِ ہجراں و یلدا کی طوالت ختم نہیں ہوتی حتیٰ کہ اندھے شعرا کو بھی شبِ دیجور میں دور کی سوجھنے کی لت پڑ جاتی ہے۔

3۔ مے کشی اور پاپ بیتیاں :

شاعر اپنے شباب و شراب کی آپ بیتیاں، پاپ بیتیاں اور گھات بیتیاں بصد افتخار بیان کرتے ہیں۔ جنت کی ہوا راس نہ آنے کی صورت میں میخانے کا در کھلا رکھنے کا تقاضا کرتے ہیں اور اللہ کے حضور سجدہ ریزی کے لئے بھی مے خانے کا انتخاب برحق گردانتے ہیں۔ ایک واعظ کو کسی شاعر نے یوں بھی جواب دیا ”ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں“ ۔ ایک اور شاعر نے تنگ آ کر لکھ دیا

اک گزارش ہے حضرتِ ناصح

آپ اب کوئی اور کام کریں

جگر مراد آبادی چل کر مشاعروں میں جاتے اور اٹھا کر لائے جاتے۔ تاہم آخری عمر میں تائب ہوئے۔ بکثرتِ مے نوشی حافظ شیرازی ایسے شاعر کا جنازہ پڑھانے سے علما گریزاں ہوئے۔ غالب تو ولایت کی راہ میں بادہ خواری کو رکاوٹ سمجھتے رہے مگر ہاتھوں کی عدیم الجنبشی کے باوجود ساغر و مینا کی زیارت کے خواہاں تھے۔ میر، ناسخ، سودا، ذوق داغ، چراغ حسن حسرت، اسرار مجاز اور سینکڑوں بلا کے مے نوش تھے۔ فیض، احمد فراز اور صوفی تبسم کے پیمانے اتنے وسیع تھے کہ احمد ندیم قاسمی ایسے بادہ گریز شخص کو بھی مے نوشی پر اکساتے گئے۔

شعرا اپنی سوانح عمری و آپ بیتی بھی لکھتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی ماں کا لعل سچی آپ بیتی لکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ سچ لکھے تو ”پاپ بیتی“ ہوگی نہ کہ آپ بیتی۔ فراز سے کسی نے خود نوشت لکھنے کی فرمائش کی تو بولے ”اس لئے نہیں لکھتا کہ اس سے بہت سی شادیاں ٹوٹنے کا اندیشہ ہے“ ۔ بس رکنا ہو گا ورنہ اس میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام ہیں جن کا ذکر فساد کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ یوں سمجھئیے کہ اب ایسی فہرست مرتب کی جائے جن میں شراب نہ پینے والوں کے نام ہوں تو ایک ڈیڑھ درجن ہی ہوں گے۔ البتہ اک شاعر نے یہ کہہ کر لاجواب کر دیا کہ لوگ لوگوں کا خون پیتے ہیں، ہم تو صرف شراب ہی پیتے ہیں صاحب! ۔

اہلِ ادب کی ادب روسٹ رنگ رلیاں

اہل ادب کے دلوں میں دیگر ہزاروں تمناؤں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی دوروں کی حسرت بھی موجزن رہتی ہے۔ سو سرکاری نظر التفات و شر پرستی کے حصول کی خاطر ہر جائز و ناجائز سر گرمی سے دریغ نہیں کرتے۔ اور دیارِ غیر میں نہ صرف مشاعرہ پڑھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں بلکہ جملہ منفعتیں بھی سمیٹ لاتے ہیں۔ بیرونی دنیا کی رنگا رنگی سے اپنی بے کیف اور درویشانہ زندگی کی خوب ”دَف“ مارتے ہیں۔ یوں کہیے کہ

دن کو رہتی ہے فقیہان ِ ادب سے صحبت رات کو شوقِ غزالانِ کلب رکھتے ہیں
اپنے وطن سے نو سو چوہوں کا ادھورا ہدف بالآخر دیارِ غیر میں پایہ تکمیل کو پہنچ ہی جاتا ہے۔
4۔ ہجر پسند طبقہ :

شاعروں کو اپنے محبوب سے ملنے کی خواہش محض شاعری کی حد تک ہی ہوتی ہے۔ حقیقت میں یہ ہجر پسند طبقہ ہے۔ بصورتِ وصل یا من مانی شعری ذوق جاتا رہتا ہے۔ جتنا بڑا شاعر دیکھو اتنا ناکام شوہر، باپ بیٹا اور بھائی نکلے گا۔ یقین نہ آئے تو جون ایلیا کی بیٹی کو پڑھ لیں۔ شاعر ظالم ہونے کے باوجود بھی مظلوم ہے اور ہر وقت اپنی بے بسی پہ نالاں ہے۔

5۔ علالت مآب ہستیاں :

جسمانی و فکری مظلومیت کا پیکر ہوتے ہیں۔ دنیا کے تمام مہلک امراض انہیں لاحق رہتے ہیں۔ محبوب کی بے وفائیوں، رقیبوں کی بے حیایوں اور گھر والوں کی لن ترانیوں کے موجب ان کے اعضائے رئیسہ مفلوج ہو جاتے ہیں۔ دل، پھیپھڑے۔ گردے، جگر، اور پتا شدید متاثر رہتے ہیں گویا یہ تا دمِ مرگ امراض ِ دل اور جگر کے عارضوں میں گھِرا ہوا طبقہ ہے۔ شعرا دنیا و مافیہا کے تمام درد سوائے ”دردِ زِہ“ جھیلتے ہیں۔

6۔ دسمبرائے ہوئے لوگ :

شاعر دسمبرائے ہوئے لوگ ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں سردیوں خصوصاً دسمبر پر لکھنا لازم ہے۔ نہ جانے جنوری کو کیوں گھاس نہیں ڈالتے، ۔ لگتا ہے نحیف و بے سکت شعرا کے دسمبر میں ہی کام ”بن“ یا پھر تمام ہو جاتے ہوں گے۔ ایسے میں کتاب تنہائی کی ساتھی ہے نہ وصل ہجر کا درماں ہے بلکہ رضائی مقصود اور اٹیچ باتھ مطلوب ہے۔ سرد ناکیوں میں شعرا کی مردانگی و عاشقی قدرے مشکوک ہوجاتی ہے اور اپنے گھروں میں بھی رضائی بہن بھائی کا سما ں ہوتا ہے۔ البتہ جلنے والے شعرا کو یقیناً سردی میں جاڑے سے کم پالا پڑتا ہو گا۔

7۔ مبالغانہ دانش اور ادبی یوٹوپیا ؛

شعراء مبالغے اور غلو کی معراج پر متمکن ہوتے ہیں۔ حقیقت پسندی جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ علما کے حوروں کے ”ایچ ڈی“ بیان کی طرح شاعر بھی اپنی محبوباؤں کی شان میں قصائد لکھتے، اعضا نگاری کرتے کہ الامان۔ تشبیہات تو مت پوچھئیے۔ اگر چاند کو خبر ملے کہ زمین پر کیسے کیسے لوگوں کو چاند کہا جاتا ہے تو وہ زمین پر کود کر خودکشی کر لے۔ ماہرینِ طوماریات ہونے کے باعث رائی کا پہاڑ بنانا اور ہتھیلی پر سرسوں جمانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ خود الطاف حسین حالی کہتے ہیں،

گنہگار واں چھوٹ جائیں گے سارے

جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے
ادھر میر انیس اپنی شاعرانہ صلاحیتوں پر یوں اِتراتے ہیں،
گُلدستہ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں

اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں

گویا ایک کو سو اور سو کو ہزار ثابت کر کے منوانا شعرا کا ہی کمال ہے۔ شاعری کو ادبی یوٹوپیا کہنا بھی غلط نہ ہو گا۔

8۔ سامعین کی گھات میں رہنا

شعرا ہر وقت کسی سامع کی گھات میں رہتے ہیں۔ نہ ملے تو پذیرائی و رونمائی کے محافل برپا کرتے یا کروا لیتے ہیں۔ ماضی میں شاعروں کے پاس کاپی ہوا کرتی تھی مگر آج اس کی جگہ شاعری سے لدے ہوئے موبائل فون لے چکے ہیں۔ اہلِ محلہ اور دوست احباب ان کی نظروں سے اوجھل رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ مشاعروں اور تقریبوں کے علاوہ ان کی نظریں احباب کی بیٹھکوں پر بھی ہوتی ہیں۔ مشاعروں میں شعرا ہاتھوں اور آنکھوں سے باقاعدہ داد کی بھیک مانگتے ہیں اور لے کر ہی اٹھتے ہیں۔

9۔ شعرا کی حسرت مآ بیاں :

شعرا کی پوری زندگی حسرتوں میں گزر جاتی ہے اور کبھی بھی مقام ِشکر جچ نہیں پاتا۔ ان حسرتوں میں داد و تحسین کی حسرت، تعریفی ایوارڈز، چاند کی چاندنی سے دو گھڑی ملنے کی حسرت، ان گنت محبوباؤں سے ملاقات اور انھیں گل کے روبرو کرنے کی حسرتیں شامل ہیں۔ البتہ چند شعرا حسرتوں کو دور جا بسنے کے مشورے بھی دیتے گئے۔ جوش ملیح آبادی ان خوش نصیبوں میں سے تھے جن کی تمام حسرتیں پوری ہوئیں۔ کسی نے ان کی تندرستی کا راز پوچھا تو فرمایا، کوئی ٹینشن نہیں ہے، اٹھارہ عشق کیے، سبھی کامیاب رہے۔

10۔ زعمِ نرگسیت :

شعرا و ادبا بظاہر عاجزی کا پیکر مگر اندر سے فنکارانہ نرگسیت دبائے ہوئے ہوتے ہیں۔ علم و فن کے لحاظ سے دوسروں کو عامی سمجھتے ہیں۔ قدما میں یہ زعم کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ میر تقی میر سے کچھ لوگوں نے اشعار کی فرمائش کی تو فرمایا ”قبلہ میرے اشعار آپ کی سمجھ میں نہیں آنے کے۔ میرے کلام کے لیے فقط محاورہ اہل ِاردو ہے یا جامع مسجد کی سیڑھیاں“ ۔ تاہم ایک لحاظ سے ان کا موقف درست بھی تھا کیونکہ،

سیکھتوا کو دیجئیو جا کے سیکھ سہائے

سیکھ نہ دیجو باندرا کہ بئیے کا گھر جائے
11۔ پیشہ ورانہ رقابت :

ہر دور ہی ادبی مناقشات، نوک جھونک، طنز و ہذیان اور چشمک کا دور رہا۔ ملا وجہی و غواصی، انیس و دبیر، مصحفی و انشا، میر و سودا، مولانا آزاد و عبدالماجد دریا بادی، گوپی چند نارنگ و شمس الرحمان فاروقی، حمایت علی شاعر و محسن بھوپالی، سر سید و اکبر الہ آبادی، شرر اور چکبست، انشا و جرات، ولی و فراقی، ناسخ و آتش، علامہ اقبال اور علامہ مشرقی، غالب و ذوق، حالی و شبلی، احمد ندیم قاسمی و وزیر آغا، ڈاکٹر سلیم اختر و انور سدید، احمد فراز و افتخار عارف، منیر نیازی و ظفر اقبال اور بہت سوں نے رسمَِ انتشاری و خلفشاری نبھائی۔ ماضی میں پاک ٹی ہاؤس میں تو ایسے ایسے منچلوں کی چلتی رہی کہ ہاتھ تو کیا کرسیاں تک چلیں اور نگاہ پست، سخن دل خراش، جاں بے سوز ہوئی۔ ایک وقت میں اہل ادب کے بہت سے گروہوں نے ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کے اپنے اپنے مکاتب بنا کر پاک ٹی ہاؤس کے محاصرے جاری رکھے۔ گویا ادب سے ہی بے ادبی کا جنم ہوا۔

Facebook Comments HS