”علم الاقتصاد“ اور آج کے معاشی تقاضے
علم الاقتصاد علامہ اقبال کی نثر و نظم میں پہلی کتاب ہے جو 1904 میں شائع ہوئی۔ یہ برصغیر میں اکنامکس کے موضوع پر اردو زبان میں پہلی مطبوعہ کتاب تھی۔ کسی نے کہا یہ واکر کی political economy کا اردو ترجمہ ہے تو کسی نے اسے اقبال کی طبع زاد کتاب کہا۔ مگر حقیقت میں یہ تصنیف اقبال کی تبحرِ علمی اور معاشی امور پر اقبال کی گرفت کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر کچھ باتیں ضمنی طور پر عرض کرنا ضروری ہیں اقبال نے ملکی معاشی ترقی کے لیے دو باتوں پر خصوصی توجہ دینے کا کہا۔
اقبال نے قومی تعلیم کو معاشی ترقی اور ملکی پیداوار کی افزائش کا لازمی وسیلہ قرار دیا ہے
دوسرا آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کا مسئلہ ہے۔
طالب علم ہونے کے ناتے معاشی ترقی کے حوالے سے مجھے لگتا ہے کہ اقبال کا پہلا نکتہ کم از کم آج کے دور میں اتنا کارگر نہیں ہے (قارئین کا نقطہِ نظر مختلف ہو سکتا ہے ) ایسا اس لیے نہیں ہے کہ آج کے دور میں تعلیم یا قومی تعلیم سے احتراز ہے یا اس سے معاشی ترقی نہیں ہو سکتی۔
مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے ملک کے معروضی حالات بعض اوقات زیادہ پڑھے لکھوں کی معیشت اتنی بہتر نہیں کرتے جتنا کم پڑھے لکھے ترقی کر جاتے جیسا کہ ملک کے امیر ترین لوگوں میں ملک ریاض (بحریہ ٹاؤن والے ) ہیں۔ یا آج کل ایک ٹک ٹاکر پتلو نام کا ہے جو شاید واجبی سا پڑھا لکھا ہے مگر بہت سارے پڑھے لکھے اسے اس کے طرز زندگی کو دیکھ دیکھ کے رشک کرتے ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ سوشل میڈیا سے وہ ماہانہ کروڑوں روپے کماتا ہے۔
اس سارے تھیسز کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا نخواستہ تعلیم کوئی غیر ضروری چیز ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ ایسی تعلیم جو وقت کے تقاضوں سے ہٹ کر ہو یا جو تھیوریٹکل تعلیم تو ہو مگر ہنر یا فنی تعلیم بالکل نا ہو ایسی تعلیم کم از کم آج ثابت شدہ ہے کہ آپ کو تیس چالیس ہزار کی نوکری تو دلا سکتی ہے اس سے زیادہ بہتر معیشت کے خواب دیکھنا دیوانے کا خواب ہے۔
تو کیا تعلیم کے بغیر ترقی کی جا سکتی ہے؟
ایسا بھی نہیں ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ تعلیم بالخصوص وہ تعلیم جو عہد موجود کے تمام فنی و تکنیکی تقاضوں پہ پوری اترتی ہو اور جس کے عملی اطلاق کے بغیر زندگی کا کوئی ایک شعبہ نامکمل ہو۔ جیسا کہ کمپیوٹر کی تعلیم، موبائل فون یا سائبر ٹیکنالوجی سے متعلقہ فن کی تعلیم یا اے آئی artificial intelligence سے بنیادی واقفیت یا آن لائن ٹریڈنگ ایسے انقلابی تلازمے ہیں جن کے بغیر آج کا نوجوان صرف زندگی کی گاڑی کو دھکا لگا سکتا ہے ترقی کی صف میں شامل نہیں ہو سکتا۔
اقبال کا دوسرا نکتہ تھا آبادی سے متعلق۔
فی زمانہ وہ بھی شاید ایک خاص تناظر میں موثر نہیں ہے کہ آج کی دنیا انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی دنیا ہے۔ جس میں likes، comments، shares وغیرہ وہ پراڈکٹس ہیں جو جتنی زیادہ ہوں ڈالر اُتنے زیادہ ملتے ہیں۔ تو پھر اس حساب سے تو بندے جتنے زیادہ ہوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس جتنے زیادہ ہوں معاشی ترقی اُتنی ہی زیادہ ہو گی۔
لہذا اقبال کے علم الاقتصاد میں بتائے گئے بہت سے معاشی اشاریے اور مشورے ایک خاص وقت تک موثر اور قابل عمل تھے مگر آج کے دور میں ترقی کی رفتار نوری سالوں کی رفتار کی جانب گامزن ہے۔
ایک آخری معاشی نکتہ جس کا براہ راست تعلق تعلیم کے ساتھ ہے وہ یہ ہے کہ یونیورسٹیاں تھوک کے حساب سے ڈگریاں بانٹ رہی ہیں اور ہم نوجوان اسی حساب سے وصول کر رہے ہیں مگر نوجوان ڈگری کی تحصیل کے بعد میدان عمل میں اتنے کارگر ثابت نہیں ہو پا رہے۔
آج کل ایک شعبہ content writing کا بھی ہے جس سے پیسے کمائے جا سکتے ہیں ہمارے نوجوان کو لکھنا تک نہیں آتا یعنی ایسا لکھنا جس میں ایک مفید یا معینہ موضوع پر گرامر اور تحریری قواعد کے حساب سے ایک پرفیکٹ تحریر لکھی جائے کہ جو کسی entrepreneur کو پیش کی جائے تو وہ اس کے پیسے دینے پہ رضامند ہو جائے۔ یہ بھی المیہ ہے اور اس دور میں skillful اور creative writing میں مہارت رکھنے والے اس فیلڈ میں بھی ہزاروں روپے روزانہ کی بنیاد پر کما رہے ہیں۔
بہ ہرحال اقبال کی اقتصادی مشاورت سے تو زمانے کے تقاضے اور ضرورت کے حساب سے اعتنا برتا جا سکتا ہے مگر اقبال کے اس شعر سے بے اعتنائی ممکن نہیں
وہ قوم نہیں لائقِ ہنگامہِ فردا
جس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے


