اُداس نسلیں : ایک انسانی زاویہ سے نوآبادیاتی تاریخ کی داستاں


ننگی شاخوں پر پرندے خوراک کی امید میں بیٹھے ہیں۔
اور ایک دوسرے کو دلاسا دے رہے ہیں۔
نیچے ان کے خداؤں کے کارواں اپنی حمد و ثناء گاتے ہوئے گزر رہے ہیں
پر پیڑ کہاں ہیں؟
میں دنیا کے چوراہوں میں بیٹھ کر بھیک مانگتا ہوں۔
اور دنیا میں پیغمبر آنا بند ہو چکے ہیں۔
اب لوگ صرف کہانیاں سنا کر چلے جاتے ہیں۔
پر لوگ کہاں ہیں؟ ( 478)

یہ نسلیں اپنی ذہنوں پر اُداسی کے بوجھ کے ساتھ اِس طرح کی نظم و شاعری لے کر ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہو رہی تھیں۔ ان نسلوں نے شاعری تو نہیں پڑھی تھی لیکن یہ الفاظ خود بخود ان کے ذہن کا حصہ بنتے جا رہے تھے، جس میں ایک قسم کی اصلیت اور حقیقت موجود تھی۔ مصنف عبداللہ حسین کا ناول ”اُداس نسلیں“ حقیقی اور اصلیت بھرپور داستان اِن مصیبت زدہ نسلوں کی عکاسی کرتا ہے۔ عبداللہ حسین کا اصل نام محمد خان تھا، لیکن انہوں نے اپنے لیے قلمی نام عبداللہ حسین استعمال کیا۔

اپنے ناول ”اُداس نسلیں“ کے پیچھے ایک کہانی کو بیان کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں، کہ ناول لکھتے وقت وہ ایک سیمنٹ بنانے کی فیکٹری میں بطور کیمسٹ ملازم تھے۔ جب فیکٹری میں کوئی کام نہ ہوتا تو وہ ناول لکھنے لگ جاتے۔ ابتدا میں وہ اسے صرف ایک لو سٹوری کے طور پر لکھ رہے تھے، لیکن آگے چلتے چلتے اس میں تاریخ بھی شامل ہوتی گئی، جس کا انہیں خود بھی علم نہ ہوا۔

ناول کی اشاعت کے حوالے سے ایک اور کہانی یہ ہے کہ جب وہ اپنا ناول لے کر پبلشر کے پاس گئے تو پبلشر نے انہیں یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ناول تو بہت اچھا ہے لیکن آپ کی شہرت نہیں ہے اور آپ کو لوگ جانتے نہیں ہیں۔ اس کے باوجود، ان کی داستان کی اصلیت اور حقیقت نے ناول کو مقبولیت دی اور اسے ادب کی دنیا میں ایک اہم مقام دلایا۔ اک تقریب جو انجمن ترقی پسند مصنفین ”نے عبداللہ حسین کی یاد میں منعقدہ کی اِس میں ان کی بیٹی نور فاطمہ کو بھی مدعو کیا۔ سامعین کے اصرار پر کہ وہ کچھ ذاتی نوعیت کی باتیں بتائیں جو عام طور پر عبداللہ حسین کو پڑھنے والے اور ایک ادیب کے طور پر انہیں جاننے والے ان کے بارے میں نہیں جانتے، نور فاطمہ نے کہا۔ بہت بچپن ہی میں والدہ کی وفات ہو جانے کے باعث بابا کی پرورش شملہ میں ایک اینگلو انڈین خاتون، میری، کے ہاتھوں ہوئی۔ اس سے دو مثبت باتیں نکلیں ایک تو بطور سیکولر ان کی شخصیت وضع ہوئی اور دوسرا ان کی انگریزی زبان بھی بہتر ہوئی۔“

یہ باتیں عبداللہ حسین کی شخصیت کی اصلیت اور حقیقت کو اُجاگر کرتی ہیں۔ ان کی زندگی کے یہ لمحات ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور اَدبی فکر پر گہرا اثر ڈالنے والے تھے، جس کی جھلک ان کے کاموں میں بھی نظر آتی ہے۔ تاریخی ناول اُداس نسلیں جس میں ایک افسانوی کہانی کو مشہور تاریخی واقعات کے ساتھ نہایت خوبصورت طریقے سے بتایا گیا ہے۔ میں کیونکہ تاریخ کی طالب علم ہوں تو میں نے اِس ناول کو تاریخ کی روح سے دیکھا اس ناول کو ہم نو آبادیاتی نظر سے بھی بڑھ سکتے ہیں کیونکہ اس میں برطانوی ہند کی عکاسی نہایت باریک بینی سے کی گئی ہے اور ان کے اثرات کی خوب نشاندہی کی گئی ہے اس ناول میں زبان کی بجائے انسانی نفسیات برطانوی ہند کے دور کی منظر نگاری پر بہت زور دیا گیا۔

ناول جو کہ 1857 کے غدر سے شروع ہوتا ہے اور پاکستان سے بننے تک کا کچھ زمانہ بتاتا ہے ناول کی شروعات سو گھروں پر مشتمل سو مربعوں پر محیط روشن پور گاؤں کے تعارف سے ہوتی ہے جس کے مالک روشن علی خان ہے۔ 1857 کے غدر کے بعد جب نوابزادے موت کے آغوش میں اور انگریز اقتدار میں آئے تو اِس سے ایسے بہت گاؤں وجود میں آئے روشن آگاہ جس نے غدر کے دوران زخمی انگریزوں کی مدد کی تھی جب جنگ ختم ہوئی اور مجرم کیفر کردار کو پہنچے تو کرنل جانسن نے جو شاہ انگلستان کا قریبی عزیزوں میں سے تھا تحفہ کے طور پر روشن خان کو زمین دی اور آغا کے لقب سے نوازا۔

یہ ناول روشن آغا اور مرزا محمد بیگ سے شروع ہو کر ان کی تیسری نسل پر ختم ہوتا ہے ناول کے دیگر کردار میں نعیم، عذرا، نعیم کا بھائی علی، علی کی بیوی عائشہ، نجمی، پرویز، انیس، مہندر سنگھ اور دیگر کردار شامل ہیں جو بڑی ترتیب سے پلانٹ کا حصہ بنتے ہیں اور کردار نبھاتے ہیں۔ مرزا بیگ ایک کمزور کسان اور اس کے اوپر حکومت کرنے والا روشن آغا جو انگریزوں کو ٹیکس کی وصولی اور جنگ کے لیے نوجوانوں کی فراہمی میں مدد کرتے نظر آتے ہیں جنگ کے حالات واضح کرتے ہیں کہ انگریزوں کے لیے ہندوستان سے لے جانے والے انسانوں سے زیادہ قیمتی گھوڑے تھے پانی کی قلت انجانی جگہ اور موت کے سائے نے نوجوانوں کو ذہنی مریض بنا دیا تھا جنگ ختم ہونے پر زندہ لوٹ آنے والے نوجوانوں کے خیالات بدلنے لگے اور ایک دوسرے سے سوال کرنے لگے جنگ کے بارے میں اپنے حقوق کے بارے میں پھر 13 اپریل کو ”جلیانوالہ باغ“ کا واقعہ پیش آیا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

اس واقعے نے ہندوستانیوں کو انگریزوں کے خلاف متحد ہونے پر مجبور کیا اور آزادی کی تحریک کو نئی توانائی دی۔ ناول میں ان واقعات کو انسانی نفسیات کے زاویے سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ناول میں تقسیم کے بارے میں لوگوں کی سوچ، ہندو مسلم فساد، معاشی حالات اور سالوں کے دوستانہ تعلقات کے درمیان ان دیکھی زمین کی دیوار کھڑی ہوتی دکھائی گئی ہے۔ یہاں تک کہ حاکم طبقہ ملک چھوڑنے کا اعلان کرتا ہے تیسرا طبقہ محکوم طبقے کہ ہاتھوں بے گھر ہو جاتا ہے۔

Facebook Comments HS