اگلے جنم موہے پیدا نا کیجیو: الوداع ثانی زہرا


dr tehreem javaid

نور مقدم، مختاراں مائی، سارا انعام کی فہرست میں ایک اور اضافہ۔ اور قدرِ مشترک وہی جی ہاں اپنے ہی جنم دینے والوں کے بے حسی۔ مجازی خدا سے کیا شکوہ جب اپنے پیدا کرنے والے پالنے والے ہی منہ موڑ لیں۔ صرف یہی سوچ کر کہ کیا کہے گا زمانہ۔ زمانے کا تو کام ہے کہتا رہے گا لیکن والدین کی بے حسی بیس سال کی ماں کو بھی پھندا لینے پہ مجبور کر دیتی ہے۔

جی ہاں ٹھیک پڑھا پھندا لینے پہ۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم خودکشی کی طرف ہی اشارہ کرتا ہے۔ لیکن میری رائے میں قاتل صرف وہ شوہر نہیں جس نے پے درپے بچے پیدا کرنے کی مشین بنا دیا بلکہ وہ ماں باپ بھی ہیں جنہوں نے بیٹی سے لاتعلق ہو کر آنکھیں بند کر کے یہ تصور کیے رکھا کہ گھر بسا ہوا ہے۔ جس گھر میں عورت کے جسم کو چھوڑیے اگر روح کو بھی زخمی کیا جاتا ہے وہ گھر نہیں صرف قید خانہ ہوتا ہے۔ وہاں گھر بسایا نہیں وقت کاٹنے کی سعیِ لاحاصل کی جاتی ہے۔

شادی کے وقت زہرا کی عمر سولہ سال تھی۔ قصوروار اگر شوہر ہے تو وہ ماں باپ کیسے بری الذمہ ہو گئے جو اس بوجھ کو جلد سے جلد اتارنے کی فکر میں ہلکان رہتے ہیں۔ کم عمری کی شادی پہ سوال اٹھائیں گے تو سنگ ہی سنگ اپنے منتظر پائیں گے۔ کیونکہ اسلام میں تو سوال کرنے کی اجازت شاید نکل آئے لیکن پاکستان میں نہیں ہے۔

گزارا کرنے کے درس کے پیچھے زیادہ تر تو معاشی مجبوریاں نظر آتی ہیں لیکن بدقسمتی سے اس کیس میں جہاں باپ گھریلو ناچاقی کے بعد بیٹی کو یونیورسٹی میں تعلیم دلوا رہا تھا یقیناً دو وقت کی روٹی اس پہ بار نا تھی لیکن وہی ذہنی غربت آڑے آ گئی اور ایک ایسے رشتے کو نبھانے کا بوجھ اس پہ لاد دیا گیا جسے قائم کرنے میں اس کی کوئی مرضی نا تھی۔ عورت کو کس کے بچے پیدا کرنے ہیں آخر یہ حق بھی تو ماں باپ کو ہی حاصل ہے نا۔

کیا وجہ ہے کہ بیٹے کی دو بیویاں بھی پالی جا سکتی ہیں لیکن بیٹی کو شادی کے بعد پالنا گناہ بن جاتا ہے (مذکورہ کیس میں ثانی کے شوہر کی پہلی بیوی بھی اسی گھر میں موجود رہی) حالانکہ قانونی اور شرعی طور پر مطلقہ یا بیوہ بیٹی کا خرچ باپ کے ذمہ ہے لیکن وہی باپ مالی آسودگی کے باوجود بیٹی کو گھر بسانے کے نام پہ مقتل گاہ کی طرف دھکیلتا رہا۔

اس خطے میں ایک انوکھا ہی اسلام نازل ہوا جس میں طلاق کی گنجائش ہی نا رکھی گئی۔ عورتیں شادی کے ختم کرنے سے مر جانا بہتر سمجھتی ہیں کہ ماں باپ کے گھر چار دن کا پڑاؤ بھی مکینوں کو ِکھلنے لگتا ہے۔ یا خدا اگر واقعی عرب قبلِ اسلام بیٹیوں کو دفن کر دیتے تھے تو کوئی ایسی روایت پاک و ِہند میں بھی نازل فرما کہ جنم لینے سے روز مر جانے کا سفر اذیت ناک ہے۔ بہت ہی اذیت ناک۔

ہر ایسے واقعہ کے بعد کچھ عرصہ سوشل میڈیا ٹرینڈ چلتے ہیں اور پھر وہی تھانے کچہری کے چکر میں انصاف دفن ہو جاتا ہے۔ کیونکہ کم عمر کی شادی پہ سوال کریں گے تو ملا غضب ناک ہو گا اور اس غضب ناکی سے تو سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ بھی نا بچ پائے تھے اور گھر پہ محفلِ میلاد منا کر ہی گلو خلاصی ہوئی تھی۔

اس وقت صوبے کی وزیرِاعلی اور چیف جسٹس دونوں خواتین ہیں۔ اگر یہ دونوں ثانی کی لاش کو انصاف نہیں دلا پاتیں تو یہ یقین مزید پختہ ہو گا کہ اشرافیہ کی خواتین کا ان عہدوں پہ تقرر بس نمائشی ہوتا ہے۔ اس کا کام سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔

Facebook Comments HS

One thought on “اگلے جنم موہے پیدا نا کیجیو: الوداع ثانی زہرا

  • 19/07/2024 at 10:46 صبح
    Permalink

    اللّٰہ مولا مرحومہ کی بخشش فرما کر جنت میں جگہ عطا فرمائے ۔ امین ۔

Comments are closed.