خواب بُننے والوں کے خواب – ریجنل کلچرل کانفرنس بہاول پور 2024


مورخہ گیارہ جولائی کو بہاول پور آرٹس کونسل کے زیرِ اہتمام پہلی ایک روزہ ریجنل کلچرل کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کی خاص بات یہ تھی کہ اِس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تو صبح ساڑھے دس بجے ہونا تھا، لیکن میں نو بجے ہی گھر سے نکل آیا۔ راستے میں احمد پوری گیٹ، درواڑی گیٹ اور فرید گیٹ دکھائی دیے تو طبیعت ہشاش بشاش ہو گئی۔ صادق ڈین ماڈل ہائی سکول کے بالمقابل کھڑی ریل کی بوگی ابھی اونگھ رہی تھی۔

یونیورسٹی چوک پر نصب علی نعیم کے بنائے ہوئے مجسمے نے مجھے آنکھ ماری تو میں بے اختیار مسکرا اٹھا۔ اولڈ کیمپس کی پرپیچ راہداریوں میں جابجا ہمایوں اعظم کے بنائے ہوئے پورٹریٹ اور لینڈ سکیپ آویزاں تھے۔ گراسی پلاٹوں میں قدِ آدم سپیکر نصب تھے، جن پر وقفے وقفے سے جمیل پروانہ، فقیرا بھگت اور حسین بخش ڈاڈھی کے منتخب گیت چلائے جا رہے تھے۔ اِس سے پہلے کہ سورج باؤلا ہوتا، میں کانفرنس ہال میں داخل ہوا اور اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ گیا۔ کامران سہیل نے بتایا پہلے سیشن کی صدارت مجھے کرنا ہوگی، اور اگر ڈاکٹر نواز کاوش تشریف نہ لا پائے تو مقامی ادب کے متعلق گفتگو بھی۔ ہمیشہ کی طرح چیٹ جی۔ پی۔ ڈی اور میٹا اے آئی ہی کام آئے۔ وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے۔

مہمان تو کم و بیش ساڑھے دس بجے ہی سارے آ چکے تھے لیکن ٹیکنیکل ماڈل ہائی سکول کے گھڑیال نے گیارہویں گھنٹی بجائی تو کانفرنس کا باضابطہ آغاز ہوا۔ ڈائریکٹر آرٹس کونسل میاں عتیق احمد نے کہا وہ اِس خطے کا لوک ورثہ محفوظ کرنا چاہتے ہیں اور اِسے فلم، تھیٹر، فائن آرٹس، ادب اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے ہر اس آدمی تک پہنچانے کے خواہاں ہیں، جو مقامی ثقافتوں کی تاریخ اور اُن کے آرٹ میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اُن کا خیال تھا یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے اِس مردم خیز، لیکن مرکزی دھارے سے کٹے ہوئے ریجن میں ثقافتی سیاحت اور فنونِ لطیفہ کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے اِس خطے کو خواب بُننے والوں کی سرزمین قرار دیا۔

مجھے یاد آیا یہ مولوی لطف علی اور خرم بہاولپوری کی دھرتی ہے، جن کے گمشدہ دیوان مجاہد جتوئی نامی ایک آشفتہ سر نے ازسرِ نو مرتب کیے ہیں، اور بدلے میں بس اِتنا مانگا ہے کہ خواب بُننے والوں کے خواب لوٹا دیے جائیں، لیکن آخر وہ خواب گئے کہاں؟ کیا اُنہیں بھی ملتان کے آموں کی طرح کارپوریٹ سرمایہ داری نے نگل لیا یا وہ اُن لاٹ صاحبان کی اندھا دھند ہوس اور جاہ پسندی کی نذر ہو گئے، جن کا بولا ہوا ہر شبدھ اپنے اندر ایک قانون کا درجہ رکھتا ہے؟

امتیاز لاشاری نے بتایا کبھی یہاں تارے گِنے اور خواب بُنے جاتے تھے، چاندنی راتوں میں نغارہ بجتا تھا، صبحیں روشن اور جوان تھیں، بارش کے بعد رنگ برنگی جڑی بوٹیاں اگتیں تو ہواؤں میں مہک سی گُھل جایا کرتی، جال کے درخت پر پیلھوں کے رنگ برنگے پھول اگتے تو صحرا کی ریتلی دھرتی ایک دم سے اتنی رنگین ہو جاتی کہ دھنک کے رنگ بھی ماند لگتے، پھر آہستہ آہستہ زمین سمٹ گئی اور آسمان سکڑ گیا تو خواب گری کی صنعت پر بھی زوال آ گیا۔ ایسا قحط پڑا کہ لوگوں نے پیلھوں چُننے، دِل رنگنے اور خواب بُننے چھوڑ دیے۔

میں دٙم سادھے اُس بندۂ صحرائی کو سنتا رہا۔ اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی ویرانی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ خود کلامی کر رہا ہو، کیونکہ اُس کا جسم یہاں تھا مگر اُس کی روح کہیں اور تھی۔ بہ ظاہر تو وہ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایک ذمے دار افسر تھا، مگر یہ بھی تو ممکن ہے کہ افسری محض ایک لبادہ ہو، اصل میں وہ ایک خواب بُننے والا ہو۔ شاید وہ اِس لمحے بھی ایک خواب بُن رہا تھا، مگر اِس خواب کے پر ٹوٹے ہوئے تھے۔ اس نے بتایا وہ صحرا کا آخری آدمی ہے، خواجہ غلام فرید کی ایک کافی سنائی، اور ڈائس سے نیچے اتر آیا۔

مجاہد جتوئی کا خیال تھا کہ اگر کوئی ایسی اُفتاد آن پڑی کہ چولستان جل کر بھسم بھی ہو گیا، تو خواجہ غلام فرید کے کلام سے ایسا ہی ایک اور چولستان بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سرسوتی کے گم ہو جانے کے بعد ویسی ہی ایک اور سرسوتی کیوں نہیں بنائی جا سکی؟ وہی سرسوتی، جسے ویدانتا میں سب سے مہان ماں اور سب سے پوتر دریا کا نام دیا گیا، اور جس کے کنارے کرک شیتر لڑی گئی۔ پھر مجھے تارڑ کا ناول ”بہاؤ“ یاد آیا اور مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔

تارڑ یاد آیا تو ”قربتِ مرگ میں محبت“ اور انڈس کوئین بھی یاد آئے۔ ڈاکٹر معظم نے بتایا کہ انڈس کوئین کو بہاول پور لانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، مگر اُس کا حجم اتنا زیادہ تھا کہ اُسے سالم حالت میں یہاں نہیں لایا جا سکتا تھا۔ مجبوراً اُس کا ریپلیکا بنانا پڑا، جو اِس وقت نور محل بہاول پور میں عباسی دور حکومت کی ایک اہم نشانی کے طور پر موجود ہے۔ ناجیہ سرور کا کہنا تھا نوادرات کو اُن کے مسکن سے جدا کرنا ایک ظالمانہ فعل ہے، کیونکہ یہ عمل اُن سے اُن کی تاریخ، پسِ منظر اور ارتقاء کا امکان چھین لیتا ہے۔ مجھے ایک دم خالد سعید یاد آیا، جس کا خیال تھا کہ بظاہر بے جان چیزوں کی بھی اپنی ایک روح ہوتی ہے۔

تو کیا کسی گمشدہ ثقافت کی بھی کوئی روح ہو سکتی ہے، جو کسی بڑے فن کار کے دستِ ہنر سے شہ پا کر روحِ عصر کا حصہ بن جائے؟ شاید آشوتوش گواریگر نے ”موہنجوداڑو“ بنا کر کچھ ایسا ہی کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ایک آنچ کی کسر رہ گئی! ممکن ہے کسی روز کوئی عباس یا حمزہ، وجیہہ اور نور کو اپنے ساتھ ملا کر ”ہاکڑہ“ یا ”سرسوتی“ بنائے، جس کی موسیقی اور بیک گراؤنڈ سکور اعجاز توکل کا ہو، اور وہ ایک آنچ کی کسر بھی پوری ہو جائے؟ خواب لے لو خواب! اندھے کباڑی نے اپنے رنگ برنگے خوابوں کی گٹھڑی اٹھائی اور فکشن کلب بہاول پور کے حوالے کر دی۔

ڈاکٹر روبینہ یاسمین نے کہا اُن کا تعلق لاہور سے ہے، مگر اُنہیں یہ خطہ اِتنا پسند آیا کہ وہ پنجاب یونیورسٹی سے استعفیٰ دے کر یہاں آ گئیں، اور اب زندگی بھر یہیں رہنا چاہتی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِس خطے کی ثقافت اور تاریخ کو اُس طرح سے ڈسپلے نہیں کیا جا سکا، جیسا کہ اِس کا حق بنتا تھا۔ ڈاکٹر عصمت اللہ شاہ نے بتایا اُنہوں نے مقامی لوک کہانیاں، اور ڈاکٹر نصر اللہ خان ناصر نے مقامی لوک گیت اکٹھے کیے کیونکہ وہ اِس اجتماعی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرنا چاہتے تھے، مگر سوئی وہار کے کھنڈرات اور تیزی سے معدوم ہوتے قلعوں کا کیا ہو گا کہ وہ بھی تو اِسی اجتماعی ورثے کا حصہ ہیں؟ ٹھیک اُسی لمحے جہانگیر مخلص نے قلعہ بجنوٹ کی ایک ہائی ڈیفینشن تصویر کھینچی اور انسٹا گرام پر اپ لوڈ کر دی۔ میں نے اُس پر دل کا نشان بنایا اور کانفرنس ہال سے باہر نکل آیا۔

Facebook Comments HS