2 انسانی سماج کی تاریخ :قسط


غلام دارانہ عہد :۔ جب انسان میدانی علاقوں میں آباد ہو گیا تو اس کو نئے مسائل کا سامنا ہونے لگا۔ اس کی خوراک میں خاصہ اضافہ ہو گیا تھا۔ اب اضافی خوراک جو اناج کی مد میں تھی۔ اس کو محفوظ کرنے کا طریقہ بھی سیکھا جا چکا تھا۔ ایک ہی وقت میں سارے انسان پہاڑی علاقوں سے آ کر میدانوں میں آباد نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ بڑی تعداد پہاڑوں پر اسی طرح رہ رہی تھی۔ اب جو لوگ میدانی علاقوں میں آباد تھے۔ ان کے مرد شکار کی غرض سے جاتے تو پہاڑوں میں آباد لوگ ان کی بستیوں پر حملہ کر دیتے۔

خواتین اور بچوں کو قتل کر دیتے اور ذخیرہ خوراک لے کر پہاڑوں پر چلے جاتے۔ اس قضیے کے حل کے لئے کچھ نوجوانوں کو تربیت دی گئی کہ وہ بستیوں میں رہ کر ان پہاڑی حملہ آوروں سے بستی کو محفوظ رکھیں گے۔ اب جب حملہ آور آئے تو ان کی اکثریت کو قتل کر دیا گیا۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ ان بستیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے سردار مقرر کیے گئے۔ جس کے لئے بستیوں کے افراد نے اپنے قبیلے کے سب سے بزرگ آدمی کا انتخاب کیا۔

یہ سردار بھی پورے قبیلے کو اپنی اولاد سمجھتے تھے اور قبیلے کے مکین بھی اس کی اتنی عزت و احترام کرتے تھے کہ انسانی تاریخ میں یہ عزت و احترام کسی بادشاہ یا کسی لیڈر کو نصیب نہ ہوئی۔ اب جو پہاڑی لوگ میدانی بستیوں پر حملہ کرتے تو قبیلے کے تربیت یافتہ نوجوان ان کو قتل کرنے کے بجائے پکڑ لیتے۔ ان سے کاشت کاری اور غلہ بانی کروائی جاتی۔ پہلے یہ لوگ پورے قبیلے کے اجتماعی غلام ہوتے۔ لیکن رفتہ رفتہ غلاموں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور انفرادی غلام رکھنے کا رواج بھی ہونے لگا۔

آہستہ آہستہ ہر چیز اجتماعی ملکیت سے انفرادی ملکیت میں تبدیل ہونے لگی۔ قدیم اشتراکی نظام جو انسان کی ابتداء سے موجود تھا۔ ایک نئے عہد میں داخل ہوتا ہے۔ جس کو ہم غلام دارانہ عہد کہتے ہیں۔ معاشی رشتے کا ظہور ہوتا ہے۔ آقا اور غلام، آقا زمین اور اوزاروں کا مالک ہے۔ جبکہ غلام ہر طرح کے انسانی حقوق سے محروم آقا کی ملکیت ہے۔ جو اس کے سیاہ و سفید کا مالک ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانی سماج کی تاریخ میں یہ عہد وہ ہے جس میں انسان کا انسان پر جبر اور بربریت کی مثال پہلے یا بعد کے کسی عہد میں نہیں ملتی غلام کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔ نہ وہ شادی کر سکتا نہ ہی غلام اور لونڈی کسی قسم کا جنسی رشتہ قائم کر سکتے تھے۔ اس کی ذاتی کوئی خواہش نہیں تھی۔ آج کے عہد میں جانوروں کے حقوق بھی تسلیم کیے جاتے ہیں اور مغرب میں ان پر عملی طور پر عمل بھی ہوتا ہے۔ یعنی ایک غلام کو آج کے جانور جتنے حقوق بھی حاصل نہ تھے۔

آقا اس کو قتل کر سکتا تھا ،اس کی خرید و فروخت کر سکتا تھا، لونڈیوں سے جنسی تعلق قائم کر سکتا تھا، اسے اختیار تھا کہ اس تعلق سے جو اولاد پیدا ہو اسے اپنا نام دے یا غلام بنا لے۔ غلاموں کو کنٹرول کرنے کے لئے باقاعدہ قوانین بنائے گئے۔ جن کو اخلاقی سمجھا جاتا تھا۔ جس کے پاس زیادہ غلام ہوتے اسے اتنا بڑا سماجی احترام حاصل ہوتا۔ یقیناً یہ ایک ایسا عہد تھا۔ جس میں انسانیت کی سب سے زیادہ تذلیل کی گئی۔ بیسویں صدی کی چھٹی دہائی تک ہمیں غلاموں کی تجارت کے شواہد ملتے ہیں۔

21 ویں صدی کی دوسری دہائی میں ان تاجروں کے مجسمے گرائے گئے۔ جنہوں نے غلاموں کی تجارت سے پیسے کمائے تھے اور یورپ میں ان پیسوں سے فلاح و بہبود کے کام کیے تھے۔ ان سے نفرت کا اظہار کیا گیا۔ جو کل ہیرو تھے آج سماج دشمن بلکہ انسانیت دشمن قرار پائے۔ اس روئے زمین پر کلاسیکی غلام داری عہد تقریباً چالیس ہزار سال تک قائم رہا کیونکہ انسانی سماج میں اس چالیس سالہ عہد میں پیداواری آلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ جس کی وجہ سے سماجی ڈھانچہ بھی جوں کا توں ہی رہا۔ غلاموں کی بغاوتیں تو ہوتی رہی لیکن بے دردی سے کچل دی جاتی رہی۔ تاریخ کا جبر جاری رہا۔ انسان انسان کا غلام رہا اور جانوروں سے بدتر زندگی گزارتا رہا۔ انسانی تاریخ طبقاتی کشمکش کی تاریخ ہے۔ ایک ظالم اور دوسرا مظلوم ہے (جاری ہے )

Facebook Comments HS