غلام جائیداد
گھوڑوں کا اصطبل دو گھنٹے کی بارش سے کیچڑ ہو گیا تھا۔ پندرہ سالہ سیاہ فام للؔی اصطبل کے ایک کونے میں کیچڑ پہ کچھ اور غلاموں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ بارش رکی تو اصطبل کے ملازم نے سب غلاموں کو مکئی کی ڈبل روٹی کے پانچ پانچ ٹوسٹ دیے۔ اس کے ہاتھ میں ایک لمبا کوڑا تھا اور کمر سے ایک چمڑے کا تھیلا لٹک رہا تھا جس میں کچھ اوزار تھے۔ ملازم نے ان بیس غلاموں کو حکم دیا کہ وہ خود کو صاف کر کے خشک کپڑے پہن لیں۔ للؔی اور دیگر غلاموں نے جلدی جلدی مکئی کی ڈبل روٹی کے ٹکڑے کھائے اور تیار ہو گئے۔ پھر وہ ملازم ان غلاموں کو ایک کھلے باڑے میں لے آیا اور ہر ایک کو الگ الگ جگہ پہ بٹھا دیا گیا۔
نوخیز للؔی کا پہلا مالک جوئے میں بہت کچھ ہار چکا تھا اور اب وہ کچھ جانور اور غلام بیچ کر قرضہ اتار ریا تھا۔ للؔی کبھی نہیں بھول سکتی تھی جب اس کو ذرا ذرا سی غلطی پہ کوڑوں کی سزا ملتی تھی۔ اس کی پیٹھ کا گوشت تک باہر نکل آتا اور ہر کوڑے پہ وہ موت کی خواہش کرتی تھی۔
آج ان غلاموں کی نمائش کا دن تھا۔ کئی خریدار اس کے قریب آ کر رکے اور اس کی عمر اور کام کے بارے میں کچھ سوالات کیے۔ پھر اس کی قمیض اونچی کر کے پیٹھ کو دیکھتے۔ پیٹھ پہ کوڑوں کے نشان سے یہ اخذ کیا جاتا تھا کہ یہ غلام یا تو کام نہیں صحیح کرتی تھی یا یہ مالک کی وفادار نہیں تھی۔ للؔی نظریں نیچی کئی بیٹھی رہی، اور اس کی روح بین کرتی رہی۔ ”مجھے اس مالک نے عیسائی بنا دیا، اب وہ مجھے ایک جانور یا بے جان شے سمجھ کر بیچ رہا ہے۔ کیا واقعی میں اپنی جلد کی رنگت کی وجہ سے جانور کے ہی برابر ہوں؟ جانور کو تو مسٹر فلنٹ نے عیسائی نہیں بنایا، میں کیا ہوں، میں کون ہوں؟“
شام کا وقت آیا تو پھر ان سب غلاموں کو اصطبل میں بھیج دیا گیا۔
اگلے دن پھر ان غلاموں کو ایک بڑے کمرے میں لایا گیا۔ کچھ لوگ کرسیوں پہ بیٹھے ہوئے تھے۔
ایک نوجوان آدمی ہاتھ میں رجسٹر لے کر بیٹھا ہوا تھا۔ باری باری ہر غلام کو اس آدمی کے پاس لے جایا جاتا۔ وہ اس غلام کے کوائف بتاتا اور پھر بولی شروع ہو جاتی۔
للؔی کا نام پکارا گیا، ایک ذلت اور ندامت کی لہر اس کے انگ انگ میں سرایت کر گئی۔
”للؔی، عمر پندرہ سال، نو جوان، کپاس کے کھیتوں کے تمام کام آتے ہیں۔ “
پھر بولی شروع ہوتی ہے۔ 200 ڈالر۔ 210 220، 230، بولی تین سو ڈالر تک گئی۔ للؔی کو مسٹر سینڈز کی جائیداد بنا کر رجسٹر میں اندراج کیا گیا۔ اس خرید اور فروخت کی دستاویز تیار کی گئی۔ للؔی نے دوسری طرف منہ پھیر کر متلی کی اور یاسیت کی گہرائیوں میں مزید ڈوب گئی۔
”میں ایک گائے یا بھینس ہوں، بلکہ ان سے بھی بدتر مخلوق ہوں۔ ان جانوروں کو تو ذرا ذرا سی غلطی پہ کوڑے نہیں پڑتے، ان کو درختوں سے باندھ کر لٹکایا نہیں جاتا، اور نہ ہی ان کا جنسی استحصال ہوتا ہے۔ اے میرے آسمانی باپ! مجھے تو سیاہ فام انسان کے بجائے ایک گائے یا بھینس ہی بنا دیتا۔“
اگلے دن للؔی کو پانچ اور غلاموں کے ساتھ مسٹر سینڈز کے سامنے لایا گیا۔ مسٹر سینڈز نے اپنی نئی جائیداد کا غور سے معائنہ کیا۔ ہر غلام کے کام کے بارے میں احکامات جاری کیے۔ للؔی کو کپاس کے کھیتوں میں کام کرنے کے بجائے اس کے مالک نے اپنے باپ کی تیمار داری پہ معمور کیا۔ یہ سب للؔی کے لئے نئی دنیا تھی لیکن مسٹر سینڈز اسے پرانے مالک کے مقابلے میں نرم دل لگتا تھا۔ ایک پرانے ملازم مارتھا نے اسے دو دن گھر کے طور طریقے سکھائے اور کام سے آگاہ کیا۔ اسے محسوس ہوا کہ مسز سینڈز اسے دیکھ کر کچھ پریشان سی ہو گئی تھی۔ للؔی اس پریشانی کی وجہ نہیں سمجھ سکی۔
پھر للّی کو سینیئر مسٹر سینڈز کے پاس لے جایا گیا۔ سینیئر مسٹر سینڈز بہت نحیف ہو چکا تھا، اور اس کی بات بھی آسانی سے سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ لیکن جب تک وہ جاگ رہا ہوتا، وہ بولتا رہتا۔ جب للؔی کو اس کی بات سمجھ نہیں آتی تو وہ اس کو گالیوں سے نوازتا۔ لیکن یہ ذلت للؔی کے لئے کھیتوں میں انتہائی مشقّت، اور ظلم و ستم کے مقابلے میں کچھ کم ہی تھی۔ مسٹر سینڈز روز اپنے باپ کے کمرے میں آتا اور اس کے پاس کچھ وقت گزارنے کے علاوہ للؔی سے بھی باتیں کرتا۔ جیسے جیسے دن گزرتے گئے، وہ باپ سے زیادہ اب للؔی سے گفتگو کرتا، اور کبھی اس کے لباس کی، اور کبھی اس کی آنکھوں کی تعریف کرتا۔ کچھ دنوں بات وہ اسے چھونے بھی لگ گیا۔ شروع شروع میں اسے مسٹر سینڈز کا رویہ بہت اچھا لگا کہ وہ اس سے ہتک سے بات نہیں کرتا تھا۔ لیکن اب اس کی دست درازی بہت بڑھ چکی تھی۔
للؔی نے انتہائی خوف سے آہستہ سے کہا۔ ”مسٹر سینڈز، یہ مجھے آپ کا اس طرح چھونا اچھا نہیں لگتا۔ آپ براہ مہربانی ایسا نہیں کریں۔ “
مسٹر سینڈز نے اسے پلٹ کر سختی سے جواب دیا۔ ”تم مجھے نہیں بتا سکتی کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہیں دس کوڑوں کی سزا دوں۔ یاد رکھو تم میری جائیداد ہو۔“ یہ کہہ کر وہ تیزی سے مڑا آور تھوک کر چلا گیا۔ کچھ قدم چل کر اس نے للؔی پہ ایک بم پھینکا۔ ”کل تم سورج غروب ہونے کے بعد اس بڑے درخت کا پاس میرا انتظار کرنا۔ اتوار کے روز تم چرچ میں گئی تھی۔ کیا تم فادر کی بات بھول گئی کہ مالک کے حکم پہ عمل کرنا غلام کا فرض ہے؟“
”مسٹر سینڈز، مسٹر سینڈز، یہ نہ کریں میرے ساتھ۔ میں ہمیشہ آپ کی وفا دار رہوں گی ہمیشہ کے لئے، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ “
للؔی کے مالک نے کوئی جواب نہیں دیا۔ للؔی زمین پہ گر پڑی۔ ”یسوع مسیح۔ میں نے تجھے اپنا مولا مان لیا ہے، میں تیری اور تیرے باپ کی عبادت کرتی ہوں۔ میری عزت کو بچا لے۔ میں تیرے آگے تڑپ تڑپ کر یہ گزارش کر رہی ہوں۔ جس طرح تو مسٹر سینڈز کا مالک ہے اسی طرح تو میرا بھی مولا ہے۔ پھر مسٹر سینڈز کیوں آزاد ہے اور میں ایک غلام! مجھے اپنی عزت کھو جانے سے پہلے موت دے دے۔ مجھ میں حوصلہ نہیں ہے خود کشی کا یا سینڈز کو مارنے کا۔ میرے خدایا، میں تو ایک انسان ہوں پھر میں اس کی جائیداد کیوں بن گئی؟“
للؔی روتی رہی، پھر اسے خیال آیا کہ سینیئر سینڈز چائے کا انتظار کر رہا ہو گا۔ اس نے اسکارف سے اپنے سیاہ چمکتے ہوئے گال خشک کیے اور گھر کی طرف بھاگی۔
دن ڈوب رہا تھا، اس سے کہیں زیادہ للؔی کا دل نامعلوم سمندر میں غرق ہو رہا تھا۔ وہ سارا دن خود کشی کرنے کے بارے میں سوچتی رہی آخر اس نے موٹی رسی سے گلے کا پھندا بنایا، اسے اپنے گلے میں ڈالا۔ موت اس کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھی۔ للؔی کے سر سے پاؤں تک شدید کپکپی کی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ اس نے بلا سوچے پھندا گلے سے اتارا اور اس کو دور جوہڑ میں پھینک دیا۔ کپکپی کی جگہ ہچکیوں نے لے لی تھی۔ ”اے خدا، آج کا دن تو صور پھونک کر قیامت کا دن بنا دے۔ “
شام ڈھل چکی تھی۔ للؔی ایک بت کی طرح اس بڑے درخت کے نیچے کھڑی ہوئی تھی۔ اس کے آنسو خشک ہو چکے تھے اور وہ جذبات سے عاری ہو گئی تھی۔ اسے دور سے گھوڑے کی ٹاپوں کی آوازیں آ رہی تھیں وہ ان آوازوں کو اچھی طرح پہنچاتی تھی۔ مسٹر سینڈز کو دیکھ کے اس پہ لرزہ طاری ہو گیا۔ مسٹر سینڈز مسکراتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا، پاس پہنچ کر وہ رک گیا۔ ”مجھے خوشی ہے کہ تم نے میرے احکامات پہ عمل کیا۔“
للؔی نے کوئی رد عمل نہیں دیا، اس کا آقا دو قدم آگے بڑھ کر اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا۔ ”تم اس ہلکی ہلکی تاریکی میں کتنی اچھی لگ رہی ہو۔“ اس کے دونوں ہاتھ للؔی کے سڈول جسم کو ٹٹول رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد مالک اپنے غلام جائیداد سے کھیل رہا تھا۔ للؔی کو محسوس ہوا جیسے اسے کوئی بار بار خنجر سے زخمی کر رہا تھا، جیسے اس کے جسم کو روح سے جدا کر رہا تھا۔ وہ تکلیف سے کراہتی رہ گئی۔ ”گڈ گرل، میں کل پھر اسی وقت آؤں گا اور تم میرے لئے تیار رہنا۔“
تھوڑی تیر بعد مسٹر سینڈز وہاں سے جا چکا تھا اور للؔی ایک مردے کی طرح درخت کی بڑی شاخ پہ چت جھکی ہوئی حالت میں ساکت پڑی ہوئی تھی۔
للؔی روز اپنے آقا کے ہاتھوں پاش پاش ہوتی رہی۔ وہ روز ذلّت کے سمندر میں غرق ہوتی رہی۔ وہ ہر وقت موت کی تمنا کرتی لیکن اس میں اپنی جان لینے کا حوصلہ نہیں تھا۔ اس کا دل چاہا کہ کسی کو اپنا درد دکھ بتائے لیکن مسٹر سینڈز نے اسے اس کے بارے میں بات کرنے سے منع کیا ہوا تھا۔
للّی سوچتی رہتی۔ ”یہ زمین کیوں نہیں مجھے یا میرے مالک کو نگل لیتی، آسمان کیوں نہیں پھٹ جاتا، کوئی تیز آندھی کیوں نہیں آتی؟ مسٹر سینڈز پہ کوئی تو عذاب آئے جو مجھے اس دوزخ سے نکالے جانے کا بہانہ بنے۔ “
ہاں، ایک اور عذاب ضرور آیا مگر للؔی کے لئے۔
اگلی قسط کا انتظار کریں۔



Comments are closed.