معاشی اور سیاسی ابتری: ہوش مندی سے کام لیجیے
بجلی کی قیمت پھر بڑھ گئی۔ ریاستوں کو خطرات سے واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے مگر ان خطرات سے اگر بر وقت نمٹا نہ جا سکے تو پھر یہ زبردست تباہی کا باعث ضرور بن جاتے ہیں اور ان خطرات میں صف اول میں معاشی ابتری ہوتی ہے بلکہ معاشی ابتری ہی تمام خطرات کی ماں ہوتی ہے اور یہ معاشی ابتری برے فیصلوں سے جنم لیتی ہے۔ اس میں کسی شک و شبہ کی سرے سے گنجائش ہی موجود نہیں ہے کہ موجودہ معاشی تباہی کی بنیاد بلیک لا ڈکشنری کو سامنے رکھتے ہوئے کالے فیصلہ کے اجرا کے وقت سے شروع ہوئی تھی مگر اب صرف اس پر ہی سر پیٹ کر وقت گزاری نہیں کی جا سکتی ہے بلکہ اس کے بد اثرات کو رفع کرنے کی غرض سے عوام کو محسوس ہونے والے اقدامات ہی مسئلہ کا حل ہے۔
وجوہات چاہے جو مرضی بیان کردی جائے مگر عوام اس سے متفق اور مطمئن نہیں ہو سکتے ہیں کہ روز بروز بجلی کی قیمتوں میں اضافہ سے ان کو واسطہ پڑے۔ پیٹرول دوبارہ سے آگ لگانے لگا ہے۔ اس میں رتی برابر بھی اختلاف نہیں کیا جا سکتا ہے کہ گزشتہ کچھ ماہ میں اشیائے خرد و نوش کی قیمتوں میں فرق پڑا ہیں مگر اگر ہم سماجی میڈیا یا عوامی رائے کو جاننے کے لئے دیگر ذرائع پر نظر دوڑائے تو یہ حقیقت منہ کھولے کھڑی نظر آئے گی کہ عوام اس قیمتوں کی کمی کو زیر بحث لانے کی بجائے بجلی بجلی اور بجلی کی گردان دوہرا رہے ہیں اور وہ اس سے انتہائی مایوس محسوس ہوتے ہیں کہ یہ قیمتیں کبھی زوال کا بھی شکار ہوں گی ۔
میرا کیس اس وقت یہ نہیں ہے کہ عوام کسی سیاسی جماعت کی کارکردگی سے مطمئن ہے یا نہیں کیوں کہ سیاسی جماعتوں کی زندگی میں ایسی اونچ نیچ آتی ہی رہتی ہے۔ اقتدار میں رہتے ہوئے عوامی توقعات پر پورا اترنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے جو بہرحال بہت کٹھن کام ہے۔ لیکن میں یہ بہت زیادہ محسوس کر رہا ہوں کہ عوامی بے چینی کا رخ ریاست کی جانب ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس بی چینی کو ماضی کا قصہ بنانے کی غرض سے ہم نے اپنے دوست ممالک چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو پاکستان کے معاشی معاملات کو بہتر کرنے کے لئے سفارتی طریقوں سے متحرک کرنے کی کوشش کی۔
ان کی دوستی شک و شبہ سے بالاتر ہیں مگر یہ ہمیں خود بھی سوچنا چاہیے کہ اپنے ملک میں سیاسی بے چینی ہمارے ملک کے طاقت ور خود پیدا کریں۔ اس کے نتیجہ کے طور پر معیشت دھڑام سے نیچے گر پڑے اور پھر یہ تصور رکھے کہ ہمارے دوستوں کو آنکھیں بند کر کے ہماری مدد پر کمر بستہ ہو جانا چاہیے۔ بین الاقوامی تعلقات میں ایسا نہیں ہوا کرتا ہے اور ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے۔ اس کے لئے قائل کرنا پڑتا ہے۔ میں بہت احتیاط سے بھی اس معاشی کمزوری سے پنپتے جذبات کو بیان کروں تو صرف اتنا عرض کروں گا کہ سماجی میڈیا پر پاکستان کا مقابلہ انڈیا اور حتی کہ بنگلہ دیش کی معاشی کارکردگی سے کیا جا رہا ہے اور اس نوعیت کے تبصرے دیکھنے، سننے کو مل رہے ہیں کہ جن کو ضبط تحریر میں نہیں لایا جا سکتا ہیں۔
پاکستان کی معاشی حالت سدھرنے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال ہے اور ہم خیبر پختون خواہ اور بلوچستان سے روز کی بنیاد پر اپنے فوجیوں و پولیس والوں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے جوانوں کے جنازوں کو کندھا دے رہے ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں مزید پس و پیش سے کام نہیں لینا چاہیے کہ ہماری نائن الیون کے بعد کی بھی افغان پالیسی ناکام ہو چکی ہے اور سوائے زبانی جمع خرچ کے افغان طالبان نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں ان پاکستان دشمن عناصر کی بیخ کنی نہیں کریں گے چاہے وہ پھر دوبارہ سے دو ہزار ایک کے حالات کا ہی کیوں نہ شکار ہو جائے۔
اور اس سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ پاکستان کو اس دہشت گردی کے عفریت سے اسی طرح سے سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔ بلوچستان میں ایک اور بھی معاملہ بار بار سر اٹھا رہا ہے کہ وہاں سے یا وہاں پر خواتین کا مارچ شروع ہو جاتا ہے اور یہ ایک حقیقت بن چکی ہے کہ صرف بلوچستان میں ہی نہیں بلکہ پنجاب سمیت پورے ملک میں یہ تصور تیزی سے راسخ ہوتا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ مقتدر ادارے انصاف نہیں کر رہے ہیں۔ پاکستان کے نامی گرامی شخصیات جو پنجاب سے بھی تعلق رکھتی ہے ان کی حمایت کرنا اپنا فرض عین سمجھ رہے ہیں۔
حالاں کہ جب کسی دوسرے صوبے کا مزدور تک دہشت گردوں کے ہاتھوں جان سے جاتا ہے تو یہ مارچ کرتے افراد اس کی مذمت میں ایک لفظ بھی ادا نہیں کرتے ہیں۔ ”لا پتہ“ افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں اپنے انجام تک پہنچ گئے اور یقینی طور پر ان کے لواحقین کو علم ہو گا کہ ان ”لا پتہ“ افراد کا کیا پتہ ہیں۔ ریاست کے لئے ایک خطرہ طاقت پکڑتا چلا جا رہا ہے۔ اور ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان کے معاملات، نعرے صرف ”لا پتہ“ افراد کی بازیابی تک محدود نہیں ہیں۔
مگر اس سب کے باوجود ہم کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی فضا میں گرما گرمی روز بروز برق رفتار ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اور چلو سیاسی جماعتوں میں تو حدت شدت پھر بھی قابل برداشت ہیں مگر یہ تاثر کے ریاست کے ادارے خود ایک باہمی تصادم کی کیفیت میں آ رہے ہیں یا آ چکے ہیں۔ آئین پر عمل درآمد نہ ہونے کے تصور سے لے کر آئین کو از خود تحریر کرنے تک کا تصور قائم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس وقت تمام مقتدر طاقتوں بشمول سیاسی جماعتوں کو ہوش مندی سے کام لینا چاہیے۔ کیوں کہ موجودہ صورتحال سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور جمہوریت بھی کسی حادثہ سے دو چار ہو سکتی ہے۔ انیس سو ستر سے ستتر تک اور انیس سے اٹھاسی سے ننانوے تک کی کھینچا تانی کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔

