اپنی تلاش میں سرگرداں۔ ناز فاطمہ


بھیڑ میں تنہا ’خاموشی سے ہم کلام‘ دنیا داری سے بے پروا ’نئی دنیاؤں کے سفر کی طلب گار‘ مسلسل سفر کی خوگر۔ خوش فکر اور خوش نظر شاعرہ ناز فاطمہ۔ انسانی نفسیات کا بغور جائزہ لیتی ’معاشرتی ناہمواریوں کو بلند آہنگ میں بیان کرتی اور اپنی ذات کی دریافت کی کوشش میں مسلسل سوال کرتی یہ شاعرہ بھیڑ سے ہٹ کر اپنی ایک پہچان رکھتی ہے۔ میں کون ہوں کیا ہوں کس لیے ہوں جیسے سوالات اسے ہر لمحہ مضطرب رکھتے ہیں۔ اپنے انھیں سوالات کے جوابات کی تلاش میں وہ تخلیق فن میں مصروف عمل ہو جاتی ہے۔

اس کے یہاں شاعری محسوسات کا ایسا اظہار ہے جو ابلاغ کے ساتھ ساتھ اس کے کتھارسز کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔ اپنے اندر کی اداسی کم کرنے کا وسیلہ ہے۔ صبح اس کے ساتھ ہنستی ہے تو شام اس کے لیے روتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ کشف کے سفر میں واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ ایک حساس اور سچی اور خالص فنکار کی طرح اسے بھی خوشیاں راس نہیں آتیں اور آنسو پھیلتے جاتے ہیں مگر زندگی کے اس مسلسل سفر میں ٹھہراؤ کا لفظ اس کی لغت میں نہیں۔ وہ لکھتی ہے

دور بہت دور آگے کہیں یہ وقت چلا جائے گا
انسان بدل جائے گا ’زمانے کا‘ جینے کا ہر انداز بدل جائے گا
ہم جو جدید ہیں زمانہ قدیم میں ڈھل جائیں گے
گزرے ہوئے بیتے ہوئے سن عیسوی میں ہی رہ جائیں گے
وقت کا پہیہ کچل ڈالے گا گزرتے لمحوں کا عذاب
بے باک ہو جائے گا یہیں ہر نیک و بد کا حساب
پھر کہاں ماضی و مستقبل ’کہاں لمحہ موجود
فنا ہو جائے گا موجود ہر ذی نفس کا وجود
تب بھی میں زندہ رہوں گی
اشعار کی صورت آواز کی صورت
اس نظم میں ناز اپنے اپ کو سن تین ہزار دس میں دیکھتی ہے۔

سچ تو یہی ہے کہ تیز رفتار زندگی میں لوگ تیزی سے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ ہر گزرتا لمحہ تغیر کا پیامبر ہے۔ ہم چلے جائیں گے ہماری جگہ نئے لوگ لے لیں گے۔ لفظ اور فن کے ساتھ ہمارا مضبوط اور سچا تعلق ہمیں آئندہ زمانے میں بھی زندہ رکھے گا۔ فنا کا سفر رکے گا نہیں۔ سزا کا سفر جاری رہے گا۔ پاکستانی سماج میں عورت کا مقام و مرتبہ۔ عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا اور ان کی فطری صلاحیتوں کے مطابق انہیں معاشرے میں ایک باعزت مقام دلانا ناز فاطمہ کی زندگی کا ایک اہم مقصد ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے ایک ادارہ ’نیشنل آرٹ زون‘ بھی قائم کیا ہے۔ یہ ادارہ ساہیوال میں کام کر رہا ہے۔ اس میں مختلف فنکاروں بالخصوص خواتین فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر خصوصی پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں۔

ناز لکھتی ہیں :
عورت مرد کے لیے اب بھی کیوں پہیلی ہے
جو اتنے مضبوط رشتے ہیں تو اتنی کیوں اکیلی ہے

معاشرتی گھٹن اور اظہار پر پابندیاں ناز فاطمہ کے راستے کی دیوار نہیں۔ وہ جو کہنا چاہتی ہے ببانگ دہل کہتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ہمارے معاشرے کی حساس عورت خود کو الماری میں رکھ کر بھول گئی ہے۔ وہ لمحہ لمحہ مر رہی ہے اور درحقیقت وہ جو کچھ نہیں ہے۔ تصنع بھری ہنسی ہنس رہی ہے۔ سب کے ساتھ خوش خوش نظر آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جو سب کو پسند ہے وہ کر رہی ہے۔ مردوں کی اس معاشرے میں عورت کی حقیقی آزادی کے لیے جو آوازیں بلند ہو رہی ہیں ان میں ایک اہم آواز ناز فاطمہ کی ہے۔

ناز کے لیے عورت کی آزادی محض ایک نعرہ یا فیشن نہیں ہے۔ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ ناز فاطمہ اس تصویر کائنات کو حقیقی اور خالص رنگوں سے مزین دیکھنا چاہتی ہے اسے بناوٹ اور تصنع سے بیزاری ہے۔ ناز کی مشاہداتی حس بہت تیز ہے۔ وہ عمیق نظر سے اپنے گرد و پیش کا جائزہ جلیتی ہے اور پھر اسے نہایت خوبصورتی سے لفظوں کا پیرہن عطا کرتی ہے۔ مایوسی اور نا امیدی جیسے الفاظ ناز فاطمہ کو پسند نہیں۔ وہ انفرادی محسوسات کے ساتھ ساتھ اجتماعی اور قومی حالات اور کیفیات پر بھی قلم اٹھاتی ہے۔

وہ کہتی ہے کہ پاکستان کا دامن تو پھولوں سے بھرا ہے پھر کون ہے جو ہمیں کانٹوں پہ گھسیٹتا ہے۔ وہ اپنے وطن میں امن و آشتی کی خواہاں ہے۔ پاکستان کو ایک ایسا وطن دیکھنا چاہتی ہے جہاں ہر انسان کو آزادی سے جینے کا حق حاصل ہو۔ کسی کو مذہب کے نام پر تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے اور نہ ہی مذہب کو آلہ کار بنا کر انسانوں کی جانوں سے کھیلا جائے۔ فرقہ واریت کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔ وہ انسان دوست ہے اور انسان دوستی کی قائل ہے۔

وہ کہتی ہے
میرا عشق میری عبادت میرا جنون
اب میرا قلم ہے میری تحریر ہے
سمندروں سی دریاؤں سی میری ہر تخلیق ہے
وہ کہتی ہے
لفظو۔ مجھے پناہ دو
لفظو۔ مجھے غموں سے چھپا لو

لفظ اس کے ایسے تعلق دار ہیں جن کی وہ ہر لمحہ منتظر ہے۔ زندگی میں بہت کچھ کرنے کی طلب گار ناز فاطمہ اپنے لفظوں سے تاریکیوں کو اجالوں میں اور اداسیوں کو خوشیوں میں تبدیل کرنے کے لیے ہمہ وقت سرگرداں ہے۔ وہ نفرتوں کی زمین میں محبتوں کا بیج ہونا چاہتی ہے حسد کینہ اور جھوٹ کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ عشق۔ اس کی شاعری کا اہم جزو ہے جو اسے ہر لمحہ متحرک رکھتا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ محبت کا نغمہ کبھی بے سر نہیں ہو سکتا۔

وہ عشق کو ایک لافانی لمحے سے تشبیہ دیتی ہے۔ اس کے نزدیک عشق ایک ایسی کشتی ہے جو پتوار کے بغیر چلتی ہے۔ بشارت ہے عبادت ہے۔ زندگی کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ فطرت سے باتیں کرتی ’زندگی کو کھوجتی یہ خوش فکر شاعرہ اردو شاعری کی ایک اہم آواز ہے۔ نا معلوم سے معلوم تک کا سفر تیزی سے طے کرتی ناز فاطمہ لمحوں کو لفظوں میں زندہ رکھنے کا ہنر جانتی ہے اور یہ کسی بھی فنکار کی بہت بڑی خوبی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل قریب میں ناز فاطمہ کی آواز کم و بیش دنیا کے ہر گوشے میں اردو کی ایک زندہ اور طاقتور آواز کے طور پر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہو گی۔

Facebook Comments HS