بائیں بازو کی پارٹیاں پاکستان کے تناظر میں
روایتی طور پر بائیں بازو کی سیاست کمیونسٹ اور سوشلسٹ نظریات کے حامل دانشوروں اور باشعور پڑھے لکھے طبقے کی میراث ہے۔ خواہ وہ پڑھا لکھا کسی محل کا شہزادہ ہو یا پھر کسی ایک عام سے گاؤں کے کسی ایک عام گلی کوچے کا باشندہ ہی کیوں نہ ہو۔ بائیں بازو کا کارکن ایک نظریاتی شخصیت کا حامل وقت کے جابر حاکموں کے خلاف عوامی حقوق اور آزادی کے لئے مختلف طریقوں سے جہدوجہد کرتا رہتا ہے۔
یہی وہ بائیں بازو کی قوتیں تھیں جنہوں نے روس اور چین جیسے ملکوں میں عظیم انقلاب برپا کیے۔ چین میں ماؤ کا انقلاب اور سابق سوویت یونین میں بالشیوک انقلاب نے ان ملکوں کے سیاسی، معاشی اور انتظامی ڈھانچہ کو بدل کر رکھ دیا۔ چین میں ایک ہی سیاسی جماعت ”کمیونسٹ پارٹی آف چائنا“ کی حکومت دہائیوں سے چلی آ رہی ہے۔ اسی طرح روس میں پیوٹن پچھلے دو دہائیوں سے اقتدار پر براجمان ہیں۔
لیکن اگر ہم تاریخی طور پر پاکستان کے بائیں بازو کی قوتوں اور ان کی سیاسی حکمت عملی کا بغور مشاہدہ کریں تو برصغیر کی تقسیم سے لے کر اب تک ان کے حوالے سے کچھ زیادہ سیاسی کامیابی نظر نہیں آتی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ پاکستان ایک پسماندہ، جاگیردارنہ نظام کا حامل جس کے سماج میں بہت بڑی طبقاتی تقسیم پائی جاتی تھی/ ہے۔ لیکن پھر کیوں بائیں بازو کی قوتیں ایسا کوئی انقلاب برپا نہیں کر پائیں؟ اگر ہمارے بائیں بازو کے کسی کارکن یا دانشور سے یہ سوال کیا جائے تو وہ اس کا وہی روایتی جواب دے گا کہ تقسیم کے بعد امریکہ نے سرد جنگ کے دوران پاکستان سمیت بہت سارے تیسری دنیا کے ملکوں کو کمیونزم کے خلاف نظریاتی جنگ لڑنے پر آمادہ کیا جس میں پاکستانی ریاستی مشینری پیش پیش تھی۔ یہ دلیل بالکل اپنی جگہ درست ہے اور ایسا ہوا بھی مگر ہم سارا کا سارا ملبہ صرف امریکیوں اور پاکستانی امراء پر پھینک کر خود کو اس سے مبرّا کریں تو یہ شاید ذرا زیادتی ہوگی۔
تقسیم کے بعد بھی اسی طرح بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے ہندوستان اور پاکستان میں اپنے درمیان سیاسی تقسیم کو جاری رکھا۔ پاکستان میں مثال لے لیں کہ مبارک ساغر کی سوشلسٹ پارٹی اور سجاد ظہیر کی کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے درمیان تقسیم ہمیشہ سے قائم رہی باوجود اس کے کہ وہ پاکستانی عوام کے حقوق اور ان کی فلاح کے لئے کوشاں تھے۔ ”کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان“ کے سیاسی رہنما راولپنڈی سازش کیس ( 1951 ) میں جیلوں میں بند کر دیے جاتے ہیں اور پارٹی 1954 میں کالعدم قرار دی جاتی ہے۔ بچے کچے لیڈر باچا خان اور مولانا بھاشانی کی نئی جماعت ”عوامی نیشنل پارٹی“ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ صرف دس سال کے اندر یہ پارٹی 1967 میں دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے مولانا بھاشانی پرو چائنا اور ولی خان پرو سوویت یونین گروپس بنا لیتے ہیں۔ مزید برآں، ایک سال کے عرصے میں ولی خان کی بائیں بازو کی یہ جماعت مزید تقسیم ہو کر 1968 میں افضل بنگش کی قیادت میں ”مزدور کسان پارٹی“ قائم کر لیتی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو اسلامک سوشلزم کا نعرہ بلند کر کے جب اقتدار میں آتے ہیں تو بائیں بازو کی روایتی جماعتیں ان کی سخت مخالفت کرتی ہیں۔ یہاں تک کے نیپ پہ پابندی عائد ہو جاتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بائیں بازو کی قوتیں اس طرح فعال نہیں ہو پاتیں اور پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو جاتا ہے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد پاکستان میں تقریباً بائیں بازو کی سیاست جمود کا شکار رہی۔
آج اگر ہم دیکھیں تو ہمیں بائیں بازو کی تین مرکزی جماعتیں کچھ حد تک فعال نظر آتی ہیں۔ ان میں ”حقوقِ خلق پارٹی“ ، ”مزدور کسان پارٹی“ اور ”عوامی ورکرز پارٹی“ شامل ہیں۔ بد قسمتی سے یہ تینوں سیاسی جماعتیں بھی کسی ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر کچھ زیادہ فعال کردار ادا نہیں کر پا رہیں۔ کچھ عرصے پہلے ”لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ“ کے نام سے ایک کمزور اتحاد کا ظہور تو ضرور نظر آیا مگر عملی اقدامات میں ابھی تک فقدان ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں میں اندرونی اور نظریاتی اختلافات ان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اس کا اظہار حمزہ علوی اپنے تحریروں کے ذریعے بہت دفعہ کر چکے ہیں۔ حالانکہ بین الاقوامی مخالف قوتیں یا ریاستی جبر ثانوی وجوہات ہیں۔
ہم بائیں بازو والے ہمیشہ اپنے آپ کو ترقی پسند کہتے ہیں اور رجعت پسندی کی مخالفت کرتے ہیں جیسے کہ کوئی رجعت پسند مذہبی جماعت ہو۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ مذہبی جماعتیں ایم، ایم، اے کی چھتری تلے جمع ہو کر سیاست کر سکتی ہیں مگر بائیں بازو کے نام نہاد دانشور عوامی مفادات کے لئے ایک چھتری تلے اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ہر ایک نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوئی ہے۔ کچھ نئی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی جس سے کوئی متبادل نظام تشکیل دیا جا سکے۔
تاہم، ہمیں آج اس چیز پہ غور و فکر کرنا پڑے گا کہ چائنا اور روس میں جیسے انقلاب آیا ہے اسی طرح کا انقلاب یا متبادل پاکستان میں ہرگز ممکن نہیں۔ وہ بائیں بازو کے لئے مثالی جہدوجہد، مثالی انقلاب یا مثالی ریاستیں تو ہو سکتی ہیں مگر ان کے خیالات یا نظریات کو بغیر چھانے پاکستان میں تھوپ کر متبادل نہیں لایا جا سکتا۔ کیونکہ یہاں کے سماجی، سیاسی اور معاشی حالات ان ملکوں سے مختلف ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا شعور وہاں کے لوگوں کے شعور سے بہت حد تک مختلف ہے۔ اور نہ ہی یہاں کوئی مرکزی یا سخت گیر جہدوجہد کامیاب ہو سکتی ہے جو چائنا اور روس میں ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ، چائنا نے اس وقت تک اقتصادی ترقی نہیں کی تھی جب تک کہ ڈینگ ژیاؤ پنگ نے اقتصادی آزادی کی پالیسی نہیں اپنائی تھی ورنہ ماؤ کے دور میں تو لاکھوں چائنیز بھوک سے مر گئے تھے۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ کے مطابق جسم کو جو کوٹ فٹ آ جائے اسے پہن لو باوجود اس کے آپ کو اس سے اختلاف ہو۔


