میں محبت سے مارا جاؤں گا


مجھے کتب بینی کرتے ہوئے بیس سال سے اوپر ہو چکے ہیں۔ فلسفہ، نفسیات، ادب، تاریخ اور دیگر اہم فکری موضوعات پہ جب بھی کوئی کتاب پڑھنے کے واسطے منتخب کرتا ہوں تو کتاب کے کور سے بھی پہلے کتاب کے عنوان کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ بطور مصنف و قاری میری نظر میں کسی بھی کتاب کو چند الفاظ یا کسی جملہ میں سمیٹنا اک کٹھن کام ہے۔ بہرطور سڈنی سے تعلق رکھنے والے شاعر ارشد سعید کی کتاب ’بہتے پانی پہ تصویر‘ میں کشش محسوس ہوئی۔اور صفحات الٹتے ہوئے میں ذکر بالا عنوان کو انٹر لِنک کرتا رہا۔

 غزلوں اور 10نظموں سے مزین کتاب تصورات میں اک بہتی نہر دکھلاتی ہے۔

وہ شکیب جلالی کیا خوب کہہ گے:

کہاں کی سیر نہ کی توسنِ تخیل پر
ہمیں تو یہ بھی سلیماں کے تخت ایسا تھا

اور اس نہر پہ رنگوں کی گل کاریاں کرتی غزلیں کسی لہر کی طرح ناچتی ہوئی ملیں گی۔

میں اس کی سرد آنکھوں میں کھو گیا تھا کہیں
وہ ایک لڑکی جو پڑھتی مری کلاس میں تھی؂

حدود ِ شام سے آگے نظر نہیں آئی
وہ تیرگی جو کسی روشنی کی آس میں تھی

(صفحات: 39-40)

اوپر دیے گے اشعار میں سے اک مصرعہ کسی کلی کی طرح علیحدہ کر کے تصور کریں ۔ آپ کو شام کی حدود سمندر کی لہروں میں رچی ہوئی محسوس ہوگی۔جہاں شاعر اپنے تصورات کو جنم دیتا ہے۔تیرگی بمعنی اندھیرا دور کسی روشنی کی آس میں پائے جانے والے امکان سے منسلک ہے۔اس مصرعہ کا تجزیہ اگر پہلے مصرعہ میں ذکر ’سرد آنکھوں‘ کے ساتھ کیا جائے تو ہجر کے موسموں کی ابتداء کے اشارے بھی ملتے ہیں۔

لطف کی بات یہ ہے کہ دورانِ مطالعہ موسم بھی سہانا ہوگیا تھا۔ میری کھڑکی کے اس پار بارش کے قطرے ٹِپ ٹِپ کرتے چادروں کے درمیان سے کسی بچے کی طرح سلائیڈ لیتے ہوئے زمین پہ اتر رہے تھے۔ اب جیسے ہی میں نے ان کی اگلی غزل پڑھی ۔ لگا ڈھلتے سایوں کی کیفیت سے چاند نکل آیا ہے۔ رات ہونے لگی ہے۔ ہاں مکمل اندھیرا نہیں ہے۔ نئی دنیا اور تازہ خیالات کے اِمکانات موجود ہیں۔

آئی گھٹا تو چاند بھی نادیدہ ہوگیا
دل موسمِ بہار میں رنجیدہ ہوگیا

تعریف کر کے ہم اُسے بہلائیں کس طرح
وہ حُسنِ یار اب تو جہاندیدہ ہوگیا

(صفحہ نمبر: 104)

آپ اگر غزلوں کے حوالہ جات کو فالو کریں تو شام سے گہری ہوتی رات کے اشارے ملیں گے۔ بہتے پانی کی تصاویر اب کسی مصنوعی ذہانت کے بَوٹ کی طرح رات کا گہرا منظر تخلیق کر رہی ہیں۔ ذکر اگر شام، اندھیرے، چاند اور بارش کا چل نکلا ہے تو آسماں پہ ستاروں کا ٹمٹمانا بھی تو بنتا ہے۔ایک دوسری غزل کا قطعہ ملاحظہ ہو:

وہ جگنو تھا یا ستارہ تھا میں نے دیکھ لیا
محبتوں کا اشارہ تھا میں نے دیکھ لیا

بھلا میں کس لئے اشجار کی طرف دیکھوں
ہوا کو کس نے سنوارا تھا میں نے دیکھ لیا

(صفحہ نمبر:ـ 135)

ارشد سعید اپنی تخلیقات میں اپنے مشاہدات سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔ ایسے مشاہدات جو عمیق ہیں اور دُور سے لگتا ہے کہ تخلیق کار شاید تغافل میں مبتلا تو نہیں یا جہاں سے امکانات کی روشنی پھوٹ رہی ہے اس سے بھی واقف ہیں؟اور یہ جان لینا بھی دلچسپ ہے۔ ایسے جیسے کسی بچے کا کھویا ہوا چاند اچانک آسمان پہ بادلوں سے ابھرنے لگا ہو۔ اور وہ اپنے آس پاس والوں کو چہک چہک کر بتا رہا ہو کہ ’مل گیا، ہاں وہ دیکھو مل گیا ہے‘۔

ایک ایسا دور کہ جہاں شعراء میں اُمید مانند پڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے ۔ انسانی مجوزہ نظام سے بغاوت امڈ رہی ہے۔ ویسے میں سڈنی میں بسے اس شاعر نے معاشرتی موضوعات پہ بھی لکھا ہے ۔ چونکہ وہ کتاب میں شامل نہیں ہیں تو ان کا ذکر پھر کسی موقع پہ ادھار چھوڑ رہا ہوں۔ہاں ایک اہم نظم کا ذکر کرنا لازم ہے جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔جن احباب نے ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کا فالو اپ کیا ہوگا۔ انہیں اس نظم میں تازہ جسم سے اُبلتے خون کا تلخ ذائقہ ملے گا۔ ہاں وہ چند آخری سانسیں، وہ سفید چادر اور اندھیرے میں جلتی قندیل ہمیں بہت کچھ فکر کرنے پر مجبور کر گئی ہے۔بالخصوص تانیثی ادب میں مردوں کی غیرت قابلِ فکر و رحم معلوم ہوتی ہے۔

میں زندہ تھی اور خوش تھی
کہ میری کمائی ہوئی دولت سے

میرے بابا کا حقہ
میرے بھائی کا تمباکو

اور میری ماں کا چولہا جلتا تھا
ہاں میں مر چکی ہوں!

میرے میلے جسم پر سفید چادر بچھائی جا چکی ہے
میرا ذکر ختم ہوا،میری خبریں ختم ہوئیں

لیکن!
آج بھی کسی غیرت مند کی شب کا آغاز

اُس کی خواب گاہ میں جلائی گئی
اِک قندیل سے ہوتا ہے

(سفید چادر: صفحہ نمبر: 160-161)

پردیس کی زندگی کا اک بلیدان یہ ہوتا ہے کہ انسان انتہائی اور ضرورت سے زیادہ حقیقت پسند ہوتا چلا جاتا ہے۔آسٹریلیا جیسے پریکٹیکل ماحول میں رہتے ہوئے بھی ارشد جی نے اپنے چہرے کی مُسکان اور لفظوں کی نرمی کو مزاج کا جزوِ لازم بنایا ہوا ہے۔موصوف سے میری اولین ملاقات بیس مارچ 2022ء کو ایک ادبی محفل میں ہوئی تھی۔ کینبرا کے ادبی سرگرم جوان لکھاری ذیشان ساحل اس ملاقات کی وجہ بنے۔ جب ان کا تعارف کرایا تو ان سے ملاقات کرنے کا ارادہ کر لیا۔برسبیل تذکرہ اس محفل میں ذیشان صاحب کی اردو الفاظ کی ادائیگی کی تعریف نہ کرنا بخالت ہوگا۔

تقریب میں جب ہم سبھی اپنی اپنی تخلیقات شیئر کر نے کے بعد ریفرشمنٹ کی طرف بڑھے تو ہنستا مسکراتا چہرہ مجھے بغور دیکھ رہا تھا۔

قریب ہوئے اور شناسائی کا سفر چل نکلا۔

شعراء کا شخصی خاکہ جب بھی کھینچنے لگتا ہوں تو مجھے ان کے ہاں نرگسیت کا پہلو تنگ کرتا ہے۔ خود سے محبت اہم ہے مگر ضرورت سے زیادہ ہمیں آس پاس کی دنیا سے بے خبر کر دیتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہم شیشوں سے بنے محل میں بند ہو گئے ہیں۔ باہر بارش ہو رہی ہے، یا شدید طوفان آیا ہے۔ دھوپ یا بہار کسی بھی شے کی خبر نہیں ہو پاتی ہے۔ ارشد صاحب نے مذکورہ فریم کو مکمل جھٹکتے ہوئے کمال شفقت اور عاجزی سے وقت بتایا۔ہم دونوں نے علمی و ادبی خیالات پہ بالا بالا ذکر کیا۔کیا شعراء ایسے عاجز و انسان دوست بھی ہوتے ہیں۔ عملی طور یہ جواب پا کر دل شاد ہوتا چلا گیا۔

2018ء کو ماورا کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی دوسری کتاب میں دس نظموں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ماں، جیدی کی یاد میں، سفید چادر، چُپ، راہ نما اور دیگر نظمیں ادب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے کسی ٹریٹ سے کم نہیں ہیں۔ ایک اور اہم نکتہ سرِورق تخلیق کرنے والے جناب اسلم کمال کا ہے جو اکثر کتب ریویوز میں دب کر رہ جاتا ہے۔’بہتے پانی پہ تصویر‘ کے سرِورق پہ اک چہرہ ہے جس کے پسِ منظر میں ممکنہ طور پہ ڈوبتا سورج اور اُبھرتا چاند لہروں میں اپنے اپنے رنگ گھول رہے ہیں۔آنکھوں کے اندر چاندنی کا رنگ اترا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ہم انسان بھی ان چاند سورج کی طرح اپنے اپنے نمبر پہ آ جا رہے ہیں اور اس گذرتی دنیا کو شاعر اپنے ادبی امیجز میں رنگ دے رہا ہے۔

المختصر، ویک اینڈ پہ ارشد سعید کی کتاب پڑھ کر لطف ملا۔ قوی امید ہے کہ بہت جلد صاحِب اپنی تیسری کتاب سے ہمیں خوشگوار سرپرائز دیں گے۔

Facebook Comments HS