پاکستان میں امارت اسلامی کا منصوبہ شائع ہو گیا
تین ہفتہ قبل اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ جمعیت علماء اسلام نے پشاور میں گرینڈ جرگہ کا اہتمام کیا۔ یہ حقیقت قابل توجہ ہے کہ جو جماعت عام انتخابات میں بدترین شکست سے دوچار ہوئی اور عوام نے جس جماعت کے اراکین کو منتخب کر کے پارلیمنٹ میں نہیں بھجوایا، وہ جرگہ بلکہ گرینڈ جرگہ منعقد کر کے ملک کی قسمت کے فیصلے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خیر یہ نہایت گرینڈ جرگہ تو منعقد ہوا لیکن اس کے بعد اس اجتماع شکست خوردگان کے مدارالمہام فضل الرحمن صاحب نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب فرمایا۔ اور اس کے آخر میں ان عوام کو جنہوں نے انہیں ووٹ نہیں دیے تھے یہ خوش خبری سنائی کہ چند دن بعد جنوبی اضلاع میں امارت اسلامی کا قیام نظر آ رہا ہے، ہم پورے پاکستان کو امارت اسلامی بنانا چاہتے ہیں، صوفی محمد کے ساتھ ہمارا نظریاتی اختلاف نہیں تھا لیکن ان کا زاویہ ٹھیک نہیں تھا۔
صوفی محمد صاحب کے نام سے تو آپ سب واقف ہوں گے۔ ان صاحب نے سوات کے علاقہ میں بغاوت کر کے دھونس سے اپنی ریاست قائم کر کے وہاں پر ریاست پاکستان کی عملداری ختم کر دی تھی۔ اور اس سال جنوری میں ہم نے یہ خبر بھی پڑھی تھی کہ فضل الرحمن صاحب نے افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ صاحب سے شرف ملاقات حاصل کیا ہے۔ شاید ہیبت اللہ صاحب نے کچھ گر بتائے ہوں کہ عوامی حمایت کے بغیر اقتدار پر قبضہ کس طرح کیا جاتا ہے؟
شاید بعض پڑھنے والے یہ خیال کریں کہ فضل الرحمن صاحب خبروں میں رہنے کے لئے پاکستان میں امارت اسلامی کا نظریہ پیش کر رہے ہیں۔ لیکن اب یہ آثار نظر آ رہے ہیں کہ مختلف حلقوں کی طرف سے اس قسم کے نظریات پیش کیے جا رہے ہیں۔
حال ہی میں ایک مذہبی رسالہ الاعتصام کی 5 جولائی اور 12 جولائی کی اشاعت میں ایک مضمون ’عصر حاضر میں نظام اسلامی کا خاکہ‘ شائع ہوا۔ اس رسالہ کے سرورق پر یہ دعویٰ درج ہے کہ یہ رسالہ مسلک اہل حدیث کا داعی اور ترجمان ہے۔ اس مضمون کے شروع میں اس بات کا رونا رویا گیا ہے کہ پاکستان مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ہر پانچ سال بعد انتخابات جیسے فضول عمل پر اربوں روپیہ پھونک دیا جاتا ہے۔ اور انتخابی مہم کے دوران کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔ ہر امیدوار کروڑوں روپیہ کی فضول خرچی کرتا ہے۔ اس کے بعد دھاندلیوں کے الزامات شروع ہو جاتے ہیں۔
اب ان مسائل کا حل کیا ہے؟ اس کا حل یہ تجویز کیا گیا ہے کہ اسلامی نظام میں تو چند اہل حل و عقد مل کر امیر اسلامی کا انتخاب کرتے ہیں۔ اور چونکہ اس کے لئے عوام کی مرضی معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے وہ تمام قباحتیں دور ہو جاتی ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اس تجویز کے دلائل دیتے ہوئے صاحب مضمون نے اچانک خلافت راشدہ کے دور کی مثالیں پیش کرنی شروع کر دیں کہ خلیفہ کا انتخاب کس طرح کیا جاتا تھا۔ وہ یہ بھول گئے کہ وہ پاکستان کے سربراہ حکومت کے انتخاب کی بات کر رہے تھے کسی خلیفہ کا انتخاب زیر بحث نہیں تھا۔ ایک وقت میں تو عالم اسلام کا ایک ہی خلیفہ ہو سکتا ہے۔ اگر فرض کریں کہ پاکستان کے کسی شہر میں چند لوگ ایک شخص کے خلیفہ بنانے کا اعلان کر دیں اور پاکستان کے لوگ اسے تسلیم بھی کر لیں تو کیا ترکی سعودی عرب یا ملیشیا کے مسلمان بھی سر جھکا کر اس کی بیعت کر لیں گے؟
اس کے بعد انہوں نے یہ دلیل پیش کی کہ اگر چیف جسٹس وکلاء کے ووٹوں سے اور آرمی چیف فوجیوں کے ووٹوں سے نہیں مقرر ہوتا تو ملک کا سربراہ ووٹوں سے مقرر کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ اب یہ سوال رہ جاتا تھا کہ اس امیر اسلامی کا انتخاب کون کروائے گا۔ مصنف نے اس کا حل یہ تجویز کیا کہ :
’پاکستان کے قومی الیکشن فوج کی نگرانی میں ہوئے تو امیر ریاست کے چناؤ کے لئے اہل حل و عقد کا اجلاس آرمی چیف کی قیادت میں ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں‘
اور اس کے بعد ایک اہم احتیاط کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا:
’بحث مباحثے کے بعد اتفاق رائے سے ایک امیر ریاست کا انتخاب کریں اور پھر اس کی بیعت کریں۔ چناؤ کے عمل میں میڈیا و کیمرے کی آنکھ کو دور رکھیں۔ البتہ چناؤ کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیں۔ ‘
ظاہر ہے کہ اگر عوام اپنی رائے دینے کے مجاز نہیں تو انہوں نے اس انتخاب میں تانکا جھانکی کر کے کیا کرنا ہے؟ کیا کوئی خاتون پاکستان کی امیر بن سکتی ہے تو اس امیر کی شرائط یہ درج کی گئی ہیں ’مسلمان مرد اور پاکستان کا شہری ہو۔ تارک نماز نہ ہو۔ اور صاحب استطاعت ہو تو باقاعدہ زکٰوۃ ادا کرتا ہو۔ عمر چالیس سال سے کم نہ ہو۔‘
اب پاکستان کا ایک امیر تو منتخب ہو گیا۔ یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ ان صاحب کے نوے دن یعنی دور اقتدار کتنا طویل ہو گا۔ اس کا جواب یہ دیا گیا
’امارت اسلامیہ کے امیر کا تعین تا زیست ہو۔‘ یعنی یہ صاحب ضیاء الحق صاحب کی طرح آخری دم تک منصب امارت پر فائز رہیں گے۔
اب امیر تو مقرر ہو گیا۔ لیکن آخر ایک دن تو اس کی زندگی کا اختتام ہو گا پھر کیا ہو گا؟ یہ ذکر کرنے کے بعد کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ہر وقت اقتدار کی تگ و دو میں الجھی رہتی ہیں۔ اس کا حل یہ تجویز کیا گیا:
’امارت اسلامیہ کا امیر قوم کے اہل حل و عقد کے مشورے سے ولی عہد نام زد کرے تا کہ امیر کی وفات کے بعد اقتدار کی منتقلی کا فتنہ نمودار نہ ہو۔ چنانچہ ملک کے استحکام کے لئے ولی عہدی موزوں طریق ہے۔ ‘
یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کا کیا بنے گا؟ اس کا متبادل یہ تجویز ہوا ہے کہ ملک میں ایک مجلس شوریٰ مقرر کی جائے۔ کیا یہ مجلس شوریٰ عوام منتخب کریں گے؟ نہیں۔ اس کی بجائے امیر پاکستان کے مختلف گورنروں سے مختلف شعبوں کے صالح ماہرین کے ناموں کی فہرست طلب کرے گا۔ پھر ان تجویز کنندگان کا انٹرویو کرے گا اور اپنی پسند کے لوگ منتخب کر کے انہیں مجلس شوریٰ کا رکن مقرر کرے گا۔ کیا یہ مجلس شوریٰ امیر پاکستان کا فیصلہ رد کر سکتی ہے؟ نہیں۔ اس مجلس شوریٰ پر امیر کی اطاعت لازم ہوگی۔
یہ خاکہ پیش کرنے کے بعد اس مضمون کے اختتام پر یہ نوید سنائی گئی ہے کہ اس طریق پر اسلامی انقلاب آئے گا۔ سڑکوں پر ہنگامے کرنے سے نہیں لوگوں کے اس طرح دل بدلنے سے یہ انقلابی تبدیلیاں نمودار ہوں گی۔
گزشتہ دو کالموں میں خاکسار نے دنیا نیوز پر مجیب الرحمن شامی صاحب کے کچھ پروگراموں کے متعلق چند گزارشات پیش کی تھیں۔ ان میں سے آخری پروگرام میں محترم شامی صاحب نے فرمایا تھا کہ علماء کو کسی اقلیت سے کوئی مسئلہ نہیں۔ انہیں صرف احمدیوں کے طرز عمل پر کچھ تحفظات ہیں۔ جناب من۔ کسی اقلیت یا اکثریت کا سوال نہیں۔ یہ مخصوص طبقہ ہر قیمت پر نہ صرف حکومت بلکہ لوگوں کی نجی زندگیوں پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ چشم کشا نظریات صدیوں قبل بغداد کے کسی عالم یا درباری کی کتاب سے نقل نہیں کیے گئے۔ اسی سال کے اسی مہینے میں پاکستان میں ان نظریات کا پرچار کیا جا رہا ہے۔
آپ کے سامنے دو راستے ہیں۔ اگر ان خیالات کو برداشت کرنا ہے تو آئین جمہوریت بنیادی حقوق اور آزادی خیال کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہنا پڑے گا۔ اگر روشن خیال پاکستان کی طرف سفر کرنا ہے تو ان خیالات کو سختی سے رد کرنا پڑے گا۔ اگر آپ خاموش رہنے میں مصلحت سمجھ رہے ہیں تو اس فقیر کی یہ گزارش ضرور یاد رکھیں کہ یہ مخصوص طبقہ کسی اقلیت کا جینا حرام کر کے خاموش بیٹھ نہیں جائے گا۔ ان کے اصل مقاصد وہی ہیں جن کے حوالے اس عاجز نے پیش کر دیے ہیں۔ مشتری ہوشیار باش۔


