گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، درس گاہ یا درگاہ
گورنمنٹ کالج لاہور وہ درس گاہ ہے جو انسان کے نقوش کو بدل کر رکھ دیتی ہے اب یہ درس گاہ نہیں درگاہ کا رتبہ حاصل کر چکی ہے اس نے وقت کے ساتھ جدت کو گلے بھی لگایا ہے اور ماضی سے جڑت بھی رکھی۔
یہاں ہمیں چھ سال رہنے کا شرف حاصل ہے ان سالوں میں کئی چہرے ملے جو پردوں میں لپٹے ہوئے تھے اور ہر پردہ اپنے وقت پر گر گیا لیکن کچھ درویش صفت لوگ بھی تھے جو اصل چہرے اور اصلیت کے ساتھ جڑے ہوئے تھے
کچھ دن قبل عزیر دوست نے ایم فل کی ٹرانسکرپٹ نکلوا کر بھیجی تو معلوم ہوا کہ ہم پی ایچ ڈی کے اہل ہیں۔
ہمارا ایم فل کا مقالہ عصر حاضر کے نامور افسانہ نویس اور ناول نگار محمود دولت آبادی کے ناول ”گاواربان“ کا اردو ترجمہ ”چرواہا“ تھا اور نگران عصر حاضر کے سکالر محقق پروفیسر اعزاز ڈاکٹر اقبال شاہد صاحب تھے۔
محمود دولت آبادی ضعیف ہیں ان کی عمر 83 سال ہے۔ محمود دولت آبادی ایران کے دور حاضر کے سب سے با اثر مصنفین میں سے ایک ہیں۔ دولت آبادی کے اسلوب کی اہم خصوصیات میں سے ہم سریلی نثر، مقامی، پرانے ڈھانچے اور الفاظ کے استعمال کا ذکر کرتے ہیں اور اسی منفرد اسلوب کے ساتھ اس وقت کے سیاسی اور سماجی مسائل کی عکاسی کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ محمود دولت آبادی کی تخلیقات میں بہت ہی باریک بیانات اور تشبیہات ہیں۔ جو قاری کو شروع ہی سے مسحور کر دیتی ہیں، اور اسے کہانی کی گہرائی میں لے جاتی ہیں، گویا ایسا لگتا ہے قاری بھی کہانی کا حصہ ہے۔ سماجی تھیم والی کہانیاں، گزشتہ برسوں کی دیہی اور خانہ بدوش زندگی کے رنگ و بو اور مسائل جن سے یہ لوگ نبرد آزما تھے۔ ہیروز اتنے حقیقی نظر آتے ہیں کہ قاری کے ذہن میں دیر تک عکس بن کر چھائے رہتے ہیں۔ اس کی کہانیاں تفصیلات اور مختلف کرداروں سے بھری ہوئی ہیں، جن میں سے ہر ایک خاص رجحان اور گروہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس ناول کا مرکزی خیال جنگ عظیم دوم کے دوران فوج میں زبردستی بھرتی اور دیہاتی لوگوں کا اس پر ردعمل ہے۔ یہ ناول مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ سخت بھی ہے۔ بعض کردار کھل کر بیان کیے گئے ہیں جیسا کہ مغربی ادب میں سڈنی شیلڈن نے اپنے ناول Nothing lasts Forever (کچھ بھی ہمیشہ کے لئے نہیں ) اور روبیٹو بولینو نے ناول ”2666“ وغیرہ میں بیان کیے ہیں۔ پاکستانی اردو ادب میں منٹو، عصمت چغتائی نے اس طرح کے کردار لکھے ہیں۔ ان کے ادب کے مابین ایک چیز متضاد ہے کہ سڈنی شیلڈن، روبیٹو بولینو اور دولت آبادی کے ناولوں میں روزمرہ کے کردار لکھے ہیں جن کا مقصد اصلاح نہیں ہے بلکہ جیسے دیکھے ویسے ہی لکھ دیے جیسے محمود دولت آبادی چرواہا میں لکھتے ہیں کہ
”صفوراً کا بھائی گہرے گڑھے میں چھپا ہوا تھا اور اس کی نظریں چالاک شکاری کتے پر تھیں جس نے نمبردار کی کتیا کو رام کیا ہوا تھا جو دوسرے کتوں کو وہاں سے بھگا کر اس سے میل کرتا تھا ”
محمود دولت آبادی نے ناول کے اختتام کو اس قدر جذباتی اور سنجیدہ بنایا ہے کہ قاری کی آنکھ نم ہوجاتی ہے۔ اور ناول کے اختتام پر قاری ایک دفعہ سن ہو جاتا ہے۔
یہ ناول چرواہا مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی سنجیدہ اور معانی خیز ہے۔ محمود نے اس کی کہانی کو انتہائی مہارت کے ساتھ لکھا ہے۔ ناول کا پھیلاؤ اگرچہ مختصر ہے مگر کہانی کی گرفت مضبوط ہے۔ محمود دولت آبادی نے اس ناول میں گاؤں والوں کے خوف و ہراس اور دکھ و تکالیف کو اس قدر نازک، فنی اور تخلیقی انداز میں دکھایا ہے کہ وہ با آسانی یہ اذیت ناک منظر قاری تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ ناول مختصر ہونے کے باوجود مضبوط اور طاقتور ہے۔ اس ناول کوپڑ ھتے ہوئے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایران کے گاؤں کی نہیں، بلکہ پاکستان کے کسی گاؤں کی کہانی ہوں اور یہ کسی بھی کوچہ میں پڑھا جائے وہ اسی کوچہ کی ہی کہانی لگتی ہے۔ ناول میں کرداروں کے درمیان مکالمہ نگاری اس قدر معانی خیز اور دلچسپ ہے کہ قاری کے اندر ایک نیا تجسس پیدا ہوجاتا ہے کہ اگلی سطر میں کیا بیانیہ ہو گا اور یہی انداز بیان اسے تمام دوسرے ادیبوں سے منفرد کرتا ہے۔
میں انتہائی مشکور ہوں صدر شعبہ فارسی ادب ڈاکٹر بابر نسیم و دیگر اساتذہ کرام ڈاکٹر غلام اکبر صاحب، ڈاکٹر طاہرہ یاسمین صاحبہ، ڈاکٹر رضوانہ خالق صاحبہ، ڈاکٹر اقصیٰ ساجد صاحبہ اور بلال حسن مغل صاحب کا اور بطورِ خاص سپاس گزار ہوں پروفیسر اعزاز ڈاکٹر محمد اقبال شاہد صاحب کا جن کی زیرِ نگرانی میں نے اپنا مقالہ مکمل کیا۔
میں تمام ممبرانِ شعبہ فارسی کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے مجھے برداشت کیا۔
میں احسان مند ہوں ان احباب کا جنہوں نے مقالہ مکمل کرنے میں میری مدد کی خاص طور پر اقصی قریشی (کلاس فیلو ) رائے لاریب حیدر غازی کا ۔
اس مقالہ کا اِنْتِساب ”بقول منشاء یاد پنجابی زبان کے فتنہ گر کہانی کار اور ڈھاہ لگی ستی کے خالق“ جد اعلیٰ پدر روحانی عمومن ملک مہر علی کے نام ہے خدا تعالیٰ ان کی عمر دراز فرمائے اور عزت مرتبہ کو مزید طول دے۔


