عدلیہ اور ججز مخالف مہم کے ممکنہ مضمرات
ریاست کا ایک اہم نقطہ آزاد عدلیہ اور اس سے جڑا منصفانہ و شفاف نظام ہوتا ہے۔ کیونکہ عدالتی نظام ہو یا انصاف پر مبنی نظام کی ساکھ عمومی طور پر اسی سے آزاد اور خود مختار معاشروں کی عکاسی ہوتی ہے۔ لیکن کیونکہ ہم ایک بڑے ریاستی بحران کے عمل سے گزر رہے ہیں اور بحران میں جہاں دیگر ادارے متاثر ہوئے ہیں وہیں عدلیہ کے محاذ پر بھی ہمیں سنگین نوعیت کے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پاکستان میں عدالتی نظام پر پہلے ہی سے ”نظریہ ضرورت“ کی چھاپ رہی ہے۔
اسی بنیاد پر ہمارے عدالتی نظام کی عالمی درجہ بندی پر بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور ہم اس درجہ بندی میں بہت پیچھے کھڑے ہیں۔ حالیہ کچھ عرصہ میں ہمارے عدالتی نظام پر ایک بڑا سیاسی بوجھ بھی پڑ گیا ہے۔ کیونکہ سیاسی مسائل جب سیاسی پلیٹ فارم یا سیاسی محاذ پر حل نہیں ہوں گے اور سیاست دان سیاسی فیصلے خود کرنے کی بجائے عدالتی نظام کا سہارا لیں گے تو پھر عدلیہ یا ججز کی حمایت اور مخالف کی جنگ یا ان کے فیصلوں کو سیاسی رنگ بھی دیا جائے گا۔
مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ پر حکومت کا ردعمل عدلیہ اور ججز کے سخت خلاف ہے۔ اسی ردعمل کی بنیاد پر حکومت و عدلیہ میں ایک نئے ٹکراؤ کا ماحول جنم لے رہا ہے۔ کچھ عرصہ سے عدلیہ اور ججز پر مختلف نوعیت کے دباؤ کا مسئلہ سامنے آ رہا ہے۔ سپریم کورٹ سے لے کر صوبائی ہائی کورٹ یا مقامی سطح پر موجود عدالتی نظام اور اس سے جڑے ججز اپنے اوپر مختلف نوعیت کے دباؤ کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ دباؤ محض زبانی بنیادوں پر ہی نہیں کیا جا رہا بلکہ بہت سے ججز نے تحریری طور پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ ہمیں عدالتی نظام سے جڑے فیصلوں میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔
بات محض یہاں تک محدود نہیں بلکہ ججز کے بقول ان کو اور ان کے اہل خانہ کو باقاعدہ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں اور مجبور کیا جا رہا ہے کہ یا تو ہم مختلف مقدمات سے خود کو علیحدہ کر لیں یا وہ ایسا کچھ کریں جو ہم چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ موجودہ حالات ماضی کے حالات سے بہت مختلف بھی ہیں اور سنگین بھی۔ اسی بنیاد پر مختلف طبقات کی جانب سے انفرادی یا اجتماعی طور پر ججز کو نہ صرف تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ ان کی کردارکشی سمیت ان پر سنگین نوعیت کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ جو حالات ہیں وہ ایک بڑے ریاستی بحران یا عدالتی نظام میں مداخلت یا بڑے ٹکراؤ کی منظر کشی کی نشاندہی کرتے ہیں جو درست حکمت عملی نہیں۔
بدقسمتی سے یہ ہمارا ایک مجموعی سیاسی یا غیر سیاسی مزاج بن گیا ہے کہ اگر عدالتی فیصلے یا بنچ میں موجود ججز کے فیصلے ہماری مخالفت میں آتے ہیں تو ہمارے لیے عدالت ہو یا ججز ان پر نہ صرف تنقید بلکہ ان پر اقرباپروری پر مبنی سنگین الزامات اور ذاتیات یا غیر اخلاقیات پر مبنی مخالفانہ مہم بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ آج بھی جو ججز عدالتی نظام سے جڑے داخلی اور خارجی مسائل پر طاقت ور اشرافیہ یا سیاسی فریقین کی مرضی اور منشا سے ہٹ کر کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو انھیں مختلف نوعیت پر مبنی دباؤ یا الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسی طرح سماج میں موجود ایک مخصوص افراد خاص سوچ کی بنیاد پر ججز کے خلاف عدالت یا سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرتے ہیں تاکہ ججوں کی کردار کشی بھی کی جائے اور ان پر دباؤ ڈال کر مجبور کیا جائے کہ وہ مخصوص گروپوں کے مفادات پر مزاحمتی رویہ یا فیصلے اختیار نہ کریں۔ سوال یہ بھی ہے کہ ججز پر الزامات اسی وقت کیوں سامنے آتے ہیں جب وہ کسی بھی فرد یا گروہ کے خلاف اپنا فیصلے سناتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ اپنی سیاست یا مخالفانہ مہم کی بنیاد پر عدالتوں کو مضبوط کرنے کی بجائے ان کو کمزور کیا ہے۔ ججز کی تقرری، ججز کے فیصلے سے لے کر بار اور بنچ کے درمیان اپنے مفاد کو ترجیح دینا اور بار کو ججوں کے خلاف استعمال کرنے کی پالیسی نے عدالتی نظام کو کمزور کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب عدلیہ ہو یا ججز خود عدم تحفظ کا شکار ہوں گے اور ان کو آزادانہ بنیادوں پر فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہو گا اور ججز خود اپنے لیے انصاف کی دہائی دیں گے تو پھر انصاف کا نظام کہاں کھڑا ہو گا۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ عدالت یا ججوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کی تصویر محض ہمارے داخلی معاملات تک محدود نہیں بلکہ عالمی دنیا میں بھی مختلف رپورٹس میں ہمارے عدالتی نظام میں مداخلتوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
خو دان معاملات میں بار اور بنچ کا ایک نہ ہونا یا ان میں شعوری یا لاشعوری طور پر تقسیم کا عمل خود عدلیہ کے نظام کو کمزور کرنے کا سبب بنے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ عدالت ہو یا ججز ان کی کردار کشی یا ان پر سنگین الزامات کون لگا رہا ہے یا ان لوگوں کو پس پردہ ایجنڈا کیا ہے اور کون ان سازشوں میں شریک ہے۔ خاص طور پر ججز کی نجی معاملات یا نجی زندگیوں کو بنیاد بنا کر ان کو یا ان کے خاندان کو ہراساں کرنے کا عمل زیادہ سنگین ہے جس کا خاتمہ سب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
کیونکہ متبادل آوازوں کو دبانے کا کھیل یہ حکمت عملی مجموعی طور پر پورے ریاستی نظام کو کمزور کرتی ہے تو دوسری طرف ادارہ جاتی خود مختاری کے نظام کو بھی چیلنج کرتی ہے۔ جب بار اور بنچ سمیت سیاسی جماعتیں ہوں یا میڈیا سمیت سول سوسائٹی کی طاقت آزاد عدلیہ کی بنیاد پر کھڑے ہوں گے تو عدالتی نظام میں موجود رکاوٹوں کو جو انصاف کے نظام کو خراب کرتی ہیں، روکا جاسکتا ہے۔ ججز کی حمایت اور مخالفت میں بھی جو ٹرولنگ ہمیں سوشل میڈیا کی سطح پر دیکھنے کو مل رہی ہے وہ بھی ہمارے مجموعی عدالتی نظام کو تقسیم کرنے کا سبب پیدا کر رہی ہے۔
کیونکہ اس مہم میں جہاں کچھ صداقت ہو سکتی ہے وہیں اس کھیل میں مخالفانہ مہم کو بنیاد بنا کر معاملات کو اور زیادہ خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بالخصوص جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے عدالتی مداخلت کے تناظر میں چیف جسٹس کو خط لکھا اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو ان ججز کے خلاف ایک منظم مہم منفی بنیادوں پر چلائی جا رہی ہے یا ججوں کو ہم مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی کے طور پر پیش کر کے ان سمیت عدالتی فیصلوں کو بھی متنازعہ بنا رہے ہیں۔
کسی کی قانونی ڈگری کو چیلنج کیا جا رہا ہے تو کسی پر کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات یا ان کی سیاسی وابستگی کو بنیاد بنا کر مہم چلانا کسی بھی طور پر عدالتی نظام کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس مہم کو ہر صورت اور ہر سطح پر روکا جانا چاہیے وگرنہ ہمارے عدالتی نظام اور اس سے جڑے فیصلوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ ججوں پر شک کرنا یا ان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں لیکن یہاں مقصد جوابدہی یا انصاف کم بلکہ ان پر الزامات عائد کر کے انصاف پر مبنی نظام کو کمزور کرنا ہے۔
یہ عدالت اور سپریم کورٹ سمیت ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عدالتی نظام میں ججز کی جانب سے جو مداخلتوں کی بنیاد پر سوالات زبانی یا تحریری طور پر سامنے آرہے ہیں اس پر سخت نوٹس لینا چاہیے۔ جو لوگ بھی ججوں کے خلاف مہم کا حصہ ہیں ان کو موقع دیا جائے کہ وہ ججز کے بارے میں لگائے گئے الزامات کو ثابت کریں وگرنہ ان کو قانون کی سخت گرفت میں لایا جائے۔ کیونکہ اگر اس عمل کو نہ روکا گیا تو آج جن ججز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے توکل اور ججز بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔
اس تاثر کی نفی ہو کہ اس مخالفانہ مہم میں حکومت ان لوگوں کے پیچھے نہیں ہے جو عدلیہ یا ججوں کو ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں۔ ان تمام معاملات میں حکومت کی جانب سے ہم عملاً خاموشی دیکھ رہے ہیں جو ان کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہے اور اس کا نتیجہ حکومت پر الزامات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بالخصوص ججوں کا میڈیا ٹرائل کا سامنے آنا سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اگر ہم نے سیاست، جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی سمیت ایک پرامن پاکستان کے طور پر پیش کرنا ہے تو عدلیہ سمیت اداروں کی آزادی اور خود مختاری ہماری ترجیحات کا اہم حصہ ہونی چاہیے۔ آزاد عدلیہ کا تصور ہی آزاد جمہوریت کے معاملات کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے اور جو ہمارے آئینی سیاسی اور قانونی حقوق ہیں ان کی فراہمی کو یقینی بنانے کا عمل ہی ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔


