عدالتی فعالیت اور ملکی نظام کی بقا

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ تقسیم اختیارات کے اُس آئینی ڈھانچہ کے لئے دھچکا ثابت ہوا، جس پہ وفاقی نظام کا نازک توازن قائم تھا، اس فیصلہ کے بعد الیکشن کمشن جیسے آئینی ادارے کا دائرہ اختیار، وفاقی حکومت کی اتھارٹی اور پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار درہم برہم ہونے سمیت خود نظام عدل اپنی ساکھ کو متنازع بنا بیٹھا۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ آرٹیکل 51 کی شق ڈی کے تحت مخصوص نشستیں صرف اُن جماعتوں کو مل سکتی ہیں، جو الیکشن کمیشن میں ترجیحی فہرست جمع کرا چکی ہوں۔
پی ٹی آئی زیر سماعت مقدمہ میں فریق تھی نہ مخصوص نشستوں بارے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کر رہی تھی، پی ٹی آئی کا بنیادی دعویٰ یہ تھا کہ اس کے حمایت یافتہ آزاد اراکین چونکہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو چکے ہیں لہذا مخصوص نشستوں کے کوٹہ میں سے ایس آئی سی کو بھی حق ملنا چاہیے۔ الیکشن کمشن کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ سپریم کورٹ نے آئین کے متعلقہ آرٹیکلز کی تشریح کی بجائے آئین کو دوبارہ لکھ دیا۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے ایس آئی سی میں شامل ہونے والے ممبران پارٹی میں واپس آتے ہیں تو پارلیمنٹ کے اندر کئی لاینحل قانونی پیچیدگیاں سر اٹھا لیں گی۔ پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز نے بھی کہا ہے کہ حیرت ہے پی ٹی آئی کو ایسے لاوارث ریلیف سے نوازا گیا جس کی جوڈیشل تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ عام طور پہ سپریم کورٹ ماتحت عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کا جائزہ لیتے وقت آرٹیکل 185 پر انحصار کرتی ہے لیکن اس مخصوص کیس میں سپریم کورٹ نے دیگر فریقین کو سنے بغیر پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا بلکہ اس مقدمہ میں زیر بحث 80 ارکان کو حق دفاع دیا نہ متذکرہ اراکین کی جانب سے پی ٹی آئی سے وابستگی کا دعویٰ طلب کیا، چنانچہ بادی النظر میں یہ متنازع فیصلہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مقدمہ بھی سنی اتحاد کونسل جیسی اُس مہمل جماعت کی جانب سے دائر کیا گیا، جس نے بحیثیت پارٹی عام انتخابات میں حصہ لیا نہ الیکشن ایکٹ 2017 کو عدالت میں چیلنج کیا بلکہ پی ٹی آئی کی حمایت سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار انتخابات کے بعد سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو کر پارلیمنٹ کے اندر ایک ڈمی جماعت کی تشکیل کے ذریعے ایسا فائدہ اٹھانے چاہتے تھے جس کی قانون میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔ بدقسمتی سے پچھلے 76 سال میں ہماری اجتماعی دانش اس قسم کے ماورائے آئین فیصلوں کو قبول کرتی رہی اس لئے سپریم کورٹ کے آٹھ ذیشان ججز نے آئین و قانون سے ماورا فیصلہ سنانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی بلکہ اس فیصلہ کا بینیفشری گروہ طلسماتی پروپیگنڈا کی تکرار کے ذریعے ریاستی اتھارٹی کو احساس جرم، اضطراب اور شک کی تاریکیوں کی طرف دھکیل رہا ہے، اس لئے دستور کو دوبارہ لکھنے والے ججز کی خود اعتمادی متاثر نہیں ہو گی۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جدید انسانی تمدن میں فیصلہ سازی کے عمل پر کئی عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں، جن میں ماضی کی روایات (جیسا کہ دو سو کیس میں نظریہ ضرورت پیدا کیا گیا) ، علمی تعصبات (جیسے بعض ججز خود کو عقل کل سمجھتے ہیں ) ، ججز کے انفرادی اختلافات، ججز کے ایک گروپ کا سیاسی مطابقت میں یقین اور پھر سوشل میڈیا کے ذریعے رائے عامہ کا دباؤ قبول کرنے جیسے عوامل شامل ہیں، تاہم انکشافی اذہان میں ایسے شاک آبزرور موجود ہوتے ہیں جو فیصلہ سازوں کے اُس نفسیاتی و علمی بوجھ کو دور کر دیتے ہیں جو بسا اوقات آئینی حدود سے تجاوز کا محرک بنتا ہے۔
صحتمند استدلال وہ معیاری طریقہ ہے جس میں عدالت کسی فیصلے تک پہنچنے کے لئے کیس سے جڑے مخصوص حقائق پر قانونی اصولوں کا اطلاق کرتی ہے تاہم بعض ججز اصولوں کے قیاسی اطلاق کے ساتھ ایسے پالیسی دلائل بھی شامل کر لیتے ہیں جو ہمیشہ سے عدالتیں اپنی ججمنٹ کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتی آئی ہیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ یہی فیصلہ سماجی طور پر بھی مطلوب تھا۔ فیصلے کرنے کا یہ انداز اس فقہی قیاس پر محمول ہوتا ہے کہ ریکارڈ کی بجائے ججز اپنی معلومات کے مطابق کسی نتیجہ تک پہنچنے کا انتخاب کرتے ہیں۔
بیرونی ماحول بھی فیصلہ سازی کو نمایاں طور پر متاثر کرتا ہے جس کے نتائج غیر ارادی اور بعض اوقات بالواسطہ طور پر جان بوجھ کر پیدا کیے جاتے ہیں جو مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتے ہیں یعنی غیر متوقع فوائد سے لے کر ناپسندیدہ خرابیوں تک یا ابتدائی ارادوں کے برعکس اچانک پیدا ہونے والے خدشات پہ محیط ہوتے ہیں۔ لاریب، ہمارے سیاسی ماحول میں عدالتی فیصلوں کے سب سے براہ راست اور واضح اثرات ایسی ہی صورتوں میں نمایاں ہوتے ہیں۔
ٹرائل کورٹس اور اپیل کورٹس کو بجا طور پر ان قوانین کا اطلاق کرنا چاہیے جو آئین، قانون، آرڈیننس اور ضوابط کی معروف شکل میں موجود ہوتے ہیں، جیسے میرٹ پر فیصلہ تکنیکی یا طریقہ کار کی بنیادوں کی بجائے حقائق اور کیس سے متعلق بنیادی قانون کے مطابق تنازعات کو بطریق احسن اور حتمی طور پر نمٹا دینے والا فیصلہ ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ عدالتی نظرثانی کی اہمیت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، جیسا کہ فیض آباد دھرنا کیس اور میاں نواز شریف کا مخصوص نشستوں کے کیس میں نظرثانی اپیل دائر کرنا ہے مگر کئی دیگر ماہرین مختلف ادارہ جاتی ترتیبات یا عدالتی فعالیت کی حرکیات کے عواقب کو دیکھتے ہوئے اپنے دلائل کو ملکی قوانین کے فطری تناظر میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جن لوگوں نے مارشل لاؤں یا کسی قسم کے عبوری ادوار کو دیکھا، ان میں سے اکثر سیاسی بحران جیسی غیر یقینی صورتحال کے دوران عدالتوں کی مداخلت کو نہایت تلخ تجربات کے طور پہ دیکھتے ہیں، جیسے ظفر علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ نے اسمبلی بحال کرنے کی بجائے جنرل مشرف کے مارشل لاء کو سات نقاط پہ عملدرآمد کے لئے تین سال تک حکومت چلانے اور آئین میں ترمیم کا ایسا حق بھی دے دیا جو اس کے اپنے دائرہ اختیار میں بھی نہیں تھا۔
یہاں ہماری توجہ خاص طور پر مداخلت پسند عدالتوں کی فعالیت کے اس تنگ دائرہ پہ مرکوز ہے جو آئینی حدود عمل سے باہر نکل کر کام کرنے میں طاقت، شہرت اور دوام تلاش کر رہی ہیں لیکن ہمارے پس منظر میں واضح طور پر آئینی مداخلتیں اور منتخب حکومتوں کی تیز رفتار تبدیلیوں کے وقت عدالتیں فعال جبکہ قانون کی حکمرانی معطل ہو جانے کی صورتوں میں غیر فعال نظر آتی ہیں۔ جیسے جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف کے مارشل لاؤں کے دوران عدالتیں آئین کے تحفظ سے دستبردار ہو کر آمریت کی ظلمتوں میں پناہ گزیں ہو گئیں بلکہ ایسے حالات میں اکثر ججز یہ راہ عمل ”انقلاب کو جواز یا مقبول بغاوت کو نظریہ ضرورت کے لبادے پہنانے کے لئے اپناتے رہے۔
امر واقعہ بھی یہی ہے کہ ان نظاموں میں جہاں قانونی تسلسل بار بار منقطع ہوتا ہے، وہاں اس حقیقت کو چھپانے کی بہت کم کوشش کی جاتی ہے کہ آئین کے بنیادی اصول دوبارہ لکھے جا رہے ہیں۔ ان اصولوں کی من مانی تشریح اور دانستہ طور پر پیدا کیے جانے والے تنازعات کا فیصلہ کرنے کے لیے ازخود ڈیزائن کیا جا رہا ہے اور ایک جج جو اس طرح کی ترتیب کو مسترد کر کے اپنی گردن باہر نکالے تو اکثر اس کا سر کاٹ دیا جاتا ہے، جسٹس صفدر، سعیدالزمان صدیقی، جسٹس وجیہہ الدین اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تازہ ترین مثال موجود ہے لیکن یہاں پر سیاسی واقعات کا رخ بعض دفعہ اپنے روایتی راستے سے ہٹ سکتا ہے بلکہ بسا اوقات بنیادی طور پر بدل بھی جاتا ہے، جیسے ایمرجنسی لگا کر جسٹس افتخار چوہدری کی برطرفی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی وکلاء تحریک جس نے عدلیہ کو مقتدرہ کے گرفت سے نکلنے کا موقعہ فراہم کر کے ملکی سیاست کا پیراڈائم بدل دیا۔
بلاشبہ ریاستی مقتدرہ کے خلاف تازہ عدالتی مزاحمت بھی اُسی کایا کلپ کا شاخسانہ ہے جسے 2007 کی وکلاء تحریک نے مومینٹم دیا تھا اور اسی تناظر میں اپریل 2009 میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے 31 جولائی 2007 کی ایمرجنسی کو آئین توڑنے کا جرم قرار دے کر جنرل مشرف پہ سنگین غداری کا مقدمہ چلانے کا حکم دے دیا، بعد ازاں سپریم کورٹ کے اسی فیصلہ کے تحت تینوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس پہ مشتمل آئینی ٹربیونل نے سابق صدر کو موت کی سزا سنا کر ماورائے آئین تبدیلی کی روایت کا تسلسل توڑ دیا تھا۔
اب خطہ میں نمودار ہونے والے نئی صف بندی اور عالمی سیاست کی بدلتی حرکیات نے ہماری ریاست کے اہم اداکاروں کے حسابات کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا، چنانچہ اب پُر اعتماد ججز اور ہماری عدالتیں اپنی مضبوط پوزیشن سے کھلے ہوئے سیاسی ماحول میں احتیاط سے نظام کی رہنمائی کر سکتی ہیں یا پھر تباہی بھی مچا سکتی ہیں۔

