دانشور امبرٹو ایکو اور فاشزم کی نشانیاں
جب فاشزم کی تیزابی بارش حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو وہ عوام کو ہی نہیں خواص کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ لوگ بے بس اور مایوس ہونے لگتے ہیں۔ دانا وہ لوگ ہیں جو فاشزم کی موسلادھار بارش ہونے سے پہلے ہی دور سے آتے بادلوں کی نشاندہی کریں تا کہ عوام و خواص حفظ ما مقدم کے طور پر فاشزم کی روک تھام کے اقدام کر سکیں۔
بیسویں صدی میں جن لوگوں نے فاشزم کے مصائب کو سہا اور ان سے بہت کچھ سیکھا ان میں سے ایک اٹلی کے دانشور امبرٹو ایکو تھے جنہوں نے فاشزم کی نشانیوں پر تفصیل سے لکھا۔
وہ کہتے ہیں کہ فاشزم کی ایک نشانی یہ ہے فاشسٹ حکومت ان افراد اور اداروں پر، جو حکومت سے اختلاف کریں، نہ صرف غداری کا الزام لگاتی ہے بلکہ سخت سزائیں دینے کی کوشش بھی کرتی ہے۔
UMBERTO ECO انیس سو بتیس میں اٹلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مسولینی کے فاشزم کے سیاسی ماحول میں آنکھ کھولی۔ ان کی بچپن سے ایسی تربیت کی گئی کہ دس برس کی عمر میں انہوں نے مسولینی اور فاشزم کے حق میں ایک ایسا زوردار مضمون لکھا کہ انہیں انعام سے نوازا گیا۔ انہوں نے اس مضمون میں یہ موقف پیش کیا کہ اٹلی کی کامیابی کے لیے فاشزم ناگزیر ہے۔
کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ان کی داخل کی آنکھ کھلی اور تنقیدی شعور بیدار ہوا تو ان پر فاشزم کے تاریک پہلو اجاگر ہوئے۔
امبرٹو ایکو کے والد انہیں وکیل بنانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے ادب کا راستہ اختیار کیا اور ایک فلسفی، ایک دانشور، ایک مترجم اور ایک ناول نگار ہونے کو ترجیح دی۔
انیس سو اسی میں انہوں نے اپنا پہلا معرکتہ الآرا ناول THE NAME OF THE ROSE رقم کیا جس نے بین الاقوامی شہرت پائی اور اس کے متعدد زبانوں میں ترجمے ہوئے۔
ناول لکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے تاریخ، اساطیری کہانیوں اور لوک ورثہ پر فلسفیانہ اور ادبی مضامین بھی لکھے اور مختلف کتابوں کے تراجم بھی کیے۔
امبرٹو ایکو نے ادب میں ہی نہیں فلسفے میں بھی روایت کی شاہراہ چھوڑ کر من کی پگڈنڈی کو اپنایا اور روایتی مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہا۔ انہوں نے ایک ایسی انجمن بنائی جس نے عوام و خواص کو عقائد اور روایتوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا سکھایا۔
امبرٹو ایکو جن ادیبوں سے متاثر ہوئے ان میں ارجنٹینا کے بورخیس اور آئرلینڈ کے جیمز جوائس شامل ہیں۔
امبرٹو ایکو کو کتابوں سے اتنا لگاؤ تھا کہ ان کے دو گھروں میں دو لائبریریاں تھیں۔ ایک لائبریری میں تیس ہزار اور دوسری لائبریری میں بیس ہزار کتابیں تھیں۔
امبرٹو ایکو نے، جو نوجوانی میں فاشزم کے حق میں تقریریں کرتے تھے، ادھیڑ عمر میں فاشزم کے خلاف مقالے لکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انسان دوست شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کی یہ سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام و خواص کی ایسی ذہنی اور سماجی تربیت کریں کہ وہ فاشزم کے نظام کو کبھی کامیاب و کامران نہ ہونے دیں۔
امبرٹو ایکو کا کہنا تھا کہ ہمیں فاشزم کی نشانیوں کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کیونکہ اگر ہم غافل ہو گئے تو ہمارے لیڈر ہماری سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا کر ہمیں فاشزم کے جال میں پھنسا دیں گے۔
امبرٹو ایکو نے اپنے مقالوں میں ڈھکے چھپے فاشزم کی جو نشانیاں بتائی ہیں ان میں چند ایک درج ذیل ہیں۔
فاشزم کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ روایت کے کندھے پر بندوق رکھ کر حملہ کرتی ہے۔ ایسی حکومت عوام کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ روایت کی پاسداری کر رہی ہے لیکن روایت کی آڑ میں چھپ کر وہ ایک آمرانہ و جابرانہ نظام حکومت قائم کرنا چاہتی ہے۔
فاشزم کی دوسری نشانی یہ ہے کہ وہ جدید خیالات و نظریات کو رد کرتی ہے۔
فاشزم کی تیسری نشانی یہ ہے کہ وہ تنقیدی سوچ پر پابندیاں عاید کرتی ہے۔ اسی لیے وہ آزاد خیال شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کو پابند سلاسل کرتی ہے۔ امبرٹو ایکو نے اپنے مقالے میں دانشور گرامچی کی مثال دی جسے فاشسٹ حکومت نے طویل عرصے کے لیے جیل میں ڈال دیا تھا (یہ علیحدہ بات کہ گرامچی نے جیل کی کوٹھڑی میں بھی تخلیقی کام نہ چھوڑا اور اپنی ڈائری میں اپنے بصیرت افروز نظریات رقم کیے جن سے بہت سے انقلابیوں نے بہت استفادہ کیا)۔

فاشزم کی چوتھی نشانی یہ ہے کہ ایسی حکومت سارے ملک کے لیے ایک ہی سماجی لائحہ عمل اور سیاسی راستے کا انتخاب کرتی ہے اور عوام کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اسی راستے پر چلیں۔ ایسی حکومت عورتوں اور اقلیتوں کے انسانی حقوق کا احترام نہیں کرتی۔
فاشزم کی پانچویں نشانی یہ ہے کہ وہ عوام کو باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ انہیں ہر حال میں حکومت کا ساتھ دینا ہے۔ اگر وہ تنقید کریں گے تو غدار کہلائیں گے اور انہیں قید و بند کی مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔
فاشزم کی چھٹی نشانی یہ ہے کہ وہ سیاسی ہیرو تخلیق کرتی ہے اور ساری قوم کی مقبولیت کی ایسی راہ ہموار کرتی ہے کہ وہ اس لیڈر کو اپنا ہیرو مان لیں۔ ان حالات میں سیاسی پارٹی سے زیادہ ایک کلٹ جنم لیتا ہے جہاں ہیرو کو خدا، ناخدا اور مسیحا سب کچھ مانا جاتا ہے اور یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ وہ مسیحا سب سیاسی معاشی اور سماجی مسائل کا حل جانتا ہے اور اگر اسے اقتدار مل گیا تو وہ سیاسی و سماجی معجزے کر دکھائے گا۔
فاشزم کی ساتویں نشانی یہ ہے کہ حکومت روابط کے تمام اداروں، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات پر قابض ہو جاتی ہے اور ایک ایسا بیانیہ تخلیق کرتی جو فاشسٹ حکومت کے حق میں ہوتا ہے۔
اگر کوئی دانشور یا انسانی حقوق کا ادارہ اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اس کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔
امبرٹو ایکو نے ساری دنیا کی جن معزز اور معتبر یونیورسٹیوں میں ادب اور فلسفہ پڑھایا ان میں یورپ کی مختلف یونیورسٹیوں کے علاوہ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی اور انگلستان کی اوکسفورڈ یونیورسٹی بھی شامل ہیں۔
امبرٹو ایکو کی مشہور اور مقبول عام کتابوں میں ان کے ناولوں کے ساتھ ساتھ ان کی ادبی اور فلسفیانہ مضامین کی کتاب FAITH IN FAKES بھی شامل ہے جس میں انہوں نے روایتی میڈیا کا مقابلہ کرنے کے لیے SEMIOLOGICAL GUERRILLA کا تصور پیش کیا جو بہت مقبول ہوا۔
امبرٹو ایکو جب چوراسی برس کے ہوئے تو انہیں لبلبے کا کینسر ہوا اور وہ اسی بیماری کی وجہ سے دو ہزار سولہ میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔
امبرٹو ایکو کی مقبولیت ان کے مرنے کے بعد گھٹنے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ ساری دنیا کے سیاسی کارکن اور سیاسی رہنما اور انسانی حقوق کی جنگ لڑنے والے مرد و زن ان کے نظریات اور فاشزم کے بارے میں ان کی نصیحتوں سے استفادہ کر رہے ہیں۔
امبرٹو ایکو بچپن اور نوجوانی میں فاشزم کے سماجی و سیاسی عذاب سہ چکے تھے اسی لیے وہ ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے تھے جو امن، انصاف اور انسانی حقوق کے احترام کا آئینہ دار ہو۔




