بنگلہ دیش کیوں ابل رہا ہے؟ پس منظر اور وجوہات
جب یہ خبریں آنے لگی کہ عوامی لیگ کے طلبا ونگ بنگلہ دیش چھاترا لیگ نے احتجاج کرنے والے طلبا سے تصادم کا راستہ اختیار کر لیا ہے تو اسی وقت یہ واضح ہو گیا کہ اس احتجاج کے محرکات اس کشمکش سے جا ملتے ہیں جو کہ بنگلہ دیش کے قیام سے ہی شروع ہو گئی تھی اور اب شیخ حسینہ کے عملی طور پر یک جماعتی اقتدار میں اپنے اصل چہرے کے ساتھ واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ راقم الحروف نے تین جنوری دو ہزار چوبیس کو تحریر کرتے ہوئے شیخ مجیب الرحمن کی جانب سے تاحیات صدر بننے اور بنگلہ دیش میں یک جماعتی نظام حکومت قائم کرتے ہوئے بکسال ( بنگلہ کراشک سرامک عوامی لیگ ) پر کالم کی گنجائش تک گفتگو کی تھی اور اب اس سب کو ازسر نو شیخ حسینہ عملی طور پر نافذ کر چکی ہے۔
اس کے خلاف عوامی جذبات وقت کے ساتھ ساتھ مشتعل ہوتے جا رہے ہیں۔ اس پر سونے پر سہاگہ اس صورت حال نے کر دیا ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک کروڑ اسی لاکھ سے زائد طلبا نوکریوں کے لئے جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی صنعت گارمنٹس چالیس ارب ڈالر کی برآمدات اور چالیس لاکھ افراد کو ملازمتیں فراہم کرنے کے باوجود ان طلبا کے لئے ملازمتیں پیدا کرنے سے قاصر ہے اور وہ جذبات جو دہک رہے تھے اب جلتے نظر آرہے ہیں مگر بنگلہ دیش میں ابلتے جذبات کو صرف اس حد تک محدود نکتہ نظر سے دیکھنا کہ یہ صرف طلبا کو ملازمتوں کی عدم دستیابی تک محدود ہے درست نہیں ہو گا۔
یقینی طور پر اس وقت اس کی بنیادی وجہ یہ ہی بن سکی ہے مگر اس صورت حال کے قیام کی بنیادی وجہ معاشرے میں موجود امتیازی نظام ہے اور اس نظام سے سقوط ڈھاکہ کے وقت سے لے کر آج تک ایک مخصوص گروہ فائدہ مند ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سقوط ڈھاکہ کے ذرا سی دیر بعد ہی یہ احساس پنپنے لگا تھا کہ بنگال در حقیقت انڈیا کے ان دیکھے تسلط میں آ گیا ہے۔ جب ہم اس کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس احتجاج کا بنیادی مطالبہ انیس سو اکہتر میں پاکستان سے لڑنے والوں کی خصوصی مراعات کو ختم کرنا ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ تحریک صرف وہ طلبا چلا رہے ہیں کہ جن کے بزرگ انیس سو اکہتر کی بد امنی کا حصہ نہیں بنے تھے مگر اس بد امنی کی وجہ سے ان پر لوگ مسلط ہو گئے۔ اور ان لوگوں کو سرکاری اداروں میں مسلط رکھنے سے حکمران شیخ حسینہ کو اپنے اقتدار کو مسلط رکھنے میں بہت سہولت حاصل ہے۔
اس کشمکش کی وجہ سے بنگلہ دیش میں حالات کس قدر خراب ہیں اس کو سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہو گا کہ وہاں کے سرکاری نشریاتی ادارے تک آف لائن ہیں۔ میڈیا اور انٹرنیٹ پر اس نوعیت کی پابندی اس سے قبل پوری دنیا میں صرف دو ہزار گیارہ میں مصری انقلاب کے وقت دیکھی گئی تھی۔ انڈیا کا حد سے زیادہ اثر و رسوخ بلکہ دبانے کی حد تک کھلا رویہ عوام کو ادھر گھائل کر چکا ہے۔ شیخ حسینہ کا بھارت کی طرف صرف جھکاؤ نہیں ہے بلکہ یہ بنگالی عوام کو نظر آتا ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرتی ہے کہ جو انڈیا کے ماتھے پر تیوریاں چڑھادے چاہے بنگلہ دیش کا مفاد تیوریاں چڑھنے میں ہی کیوں نہ ہو۔
ابھی صرف انڈیا کو خوش کرنے کی غرض سے شیخ حسینہ نے اپنا دورہ چین وقت سے پہلے ختم کر دیا اور 414 کلو میٹر طویل تیستا آبی پراجیکٹ کو انڈیا کے سپرد کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔ اس ایک ارب ڈالر مالیت کے آبی منصوبہ پر انڈیا بہت تشویش کا اظہار کر رہا تھا۔ لیکن جون میں بنگلہ دیش نے چین سے اس میں سرمایہ کاری کی باضابطہ طور پر درخواست کی تھی مگر پھر چین کو یہ باور کرانے کے لئے کہ شیخ حسینہ انڈیا سے کتنی مخلص ہے اب یہ منصوبہ انڈیا کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل شیخ حسینہ ہی وہ پہلی سربراہ حکومت بنی جنہوں نے نریندر مودی کے تیسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد انڈیا کا دورہ کیا اور یہ صرف کوئی خیر سگالی کا دورہ نہیں تھا بلکہ اس میں چین کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت اور بنگلہ دیش نے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے سمندری سلامتی، معیشت، خلائی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔
بنگلہ دیش کی گارمنٹس کی صنعت میں اکثر خام مال چین سے آتا ہے جبکہ انڈیا بنگلہ دیشی مصنوعات خریدنے والا ایشیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ وہ بنگلہ دیش سے پندرہ ارب ڈالر کی مختلف مصنوعات سالانہ بنیادوں پر خریدتا ہے اور شیخ حسینہ جان بوجھ کر بنگلہ دیش کی معیشت کو مزید انڈیا کے زیر اثر کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بحر ہند میں انڈیا کے عزائم کو پورا کرنے کے لئے اس کی مدد بھی کر رہی ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ بحر ہند میں انڈیا کے عزائم چین کی بحر ہند پالیسی کا مقابلہ کرنے کی غرض سے ہے۔ افریقہ کے مشرقی ساحلوں سے لے کر آسٹریلیا تک اس کا حصہ ہے۔
انڈیا نے بحر ہند میں اپنی صف بندی کرتے ہوئے کولمبو سیکورٹی کنکلیو معاہدہ میں اپنے سمیت سری لنکا، مالدیپ، ماریشیس کو شامل کر رکھا تھا مگر اب بنگلہ دیش بھی اس کا مستقل ممبر بن گیا ہے۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد بحر ہند میں انڈیا کے مفادات کے تحت سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنا ہے اور بحر ہند میں چینی اثر و نفوذ کا مقابلہ کرنا ہے۔ اگر ہم گزشتہ دو تین ماہ کے بنگلہ دیشی اقدامات کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ واضح طور پر نظر آ جائے گا کہ شیخ حسینہ بہت تیزی سے بنگلہ دیش کو انڈیا کی ایک مکمل طور پر سرپرستی میں چلنے والی ”دیسی ریاست“ کا روپ دینے کی طرف گامزن ہے جس میں ”دیسی حکمران“ کو کمپنی بہادر کی جانب سے مکمل تحفظ کی یقین دہانی حاصل ہو اور اس کے بعد کمپنی بہادر عوام کے ساتھ جو چاہے کر گزرے۔
وہاں پر یہ تصور عوام میں راسخ ہو رہا ہے کہ شیخ حسینہ بنگالی فوج کو بھی قابو میں رکھنے کے لئے وہ ہی حربہ اختیار کر رہی ہے کہ جو ان کے والد شیخ مجیب الرحمن نے اختیار کیا تھا کہ اگر ان کو داخلی طور پر فوج سے کوئی خطرہ محسوس ہوتا تو اب کے اشارے پر انڈین فوج سرحد پر نقل و حرکت بڑھا کر یہ پیغام دیتی کہ ہم شیخ مجیب کو بچانے کے لئے سرحد پار کر سکتے ہیں اور اب بھی نریندر مودی ”اب کی بار چار سو پار“ میں ناکامی کے بعد شیخ حسینہ کو بچانے کے لئے یہ کر سکتا ہے کہ اس سے اسے انڈیا میں بہت پذیرائی حاصل ہو سکتی ہے۔ یہ وہ کشمکش ہے کہ جس سے بنگالی معاشرہ اس وقت دو چار ہے اور اس تمام نفرت کا اظہار کا موقع دستیاب ہو گیا ہے۔ شیخ حسینہ کے والد بھی بنگلہ دیش میں اسی طرز سے آگے بڑھ رہے تھے۔ افسوس کہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ آج تک تاریخ سے کسی نے سبق نہیں سیکھا۔

