قصہ سات نسلوں کا: تنہائی کے سو برس


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

اس غیر معمولی تخلیق کے مصنف گابرئیل گارسیا مارکیز کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ہسپانوی زبان کے معروف ترین ادیب بھی ہیں اور صحافی بھی۔ ان کی پیدائش 6 مارچ 1927 کو کولمبیا لاطینی امریکا میں ہوئی۔ اُن کی ادبی تخلیقات کو عالمی سطح پر اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کہ اُن کی خدمات کے اعتراف میں 1982 میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اُن کا انتقال 17 اپریل 2014 کو میکسیکو سٹی، میکسیکو میں ہوا۔

ون ہنڈرڈ ایئرز آف سولی ٹیوڈ اُن کا عالمی شُہرت یافتہ ناول ہے جو 1967 میں شائع ہوا۔ ناول نے منظرِ عام پر آتے ہی دھوم مچا دی اور اب تک اس کی تین کروڑ سے زائد جلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ یہ ناول اب تک دنیا کی تقریباً تمام بڑی زبانوں میں چھپ چکا ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ ڈاکٹر نعیم کلاسرا نے ’تنہائی کے سو سال‘ کے نام سے کیا ہے۔ ہمارے ادب فہم بھی اس ناول کو عالمی فکشن کے اہم ترین ناولوں میں شمار کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اردو تراجم کے دلدادہ قارئین بھی اسے اپنی لائبریری کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں۔

مارکیز نے جس پیراگراف پر ناول کا اختتام کیا ہے ہم اُسی سے اس تبصرے کا آغاز کریں گے، یہ اس تصنیف کا نچوڑ ہے اور ہم تبصرہ خواں کی دل چسپی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔

”دستاویزات کا آخری صفحہ پڑھتے ہوئے یوں لگا جیسے وہ کسی بولتے آئینے کے سامنے ہو۔ پھر وہ اپنی موت کے حالات اور واقعات اور پیش گوئی کے صفحات کی طرف بڑھ گیا۔ آخری سطر تک پہنچنے سے قبل وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ آخری سانسوں تک اِس کمرہ سے باہر نہیں نکلے گا۔ یہ بھی پیش گوئی تھی کہ آئینوں کے شہر کو تیز ہوائیں اپنی لپیٹ میں لے لیں گی۔ ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہ بستی لوگوں کے ذہن سے نکل جائے گی۔ صرف وقت کو ہمیشگی اور دوام حاصل ہے۔ ارلیانو کے لیے دستاویزات پڑھنے کے بعد کاغذات پر لکھی ہر بات ہمیشہ سے غیر فانی اور امر تھی اور اُسے یقین ہو گیا کہ یہ واقعات دوبارہ وقوع پذیر نہیں ہو سکتے کیوں کہ جو نسلیں ایک سو سال تک تنہائی کا شکار ہو جائیں انہیں اِس دھرتی پر زندہ ہونے کا دوسرا موقع نہیں ملتا۔“

اس اقتباس کے بعد ناول کا خلاصہ کیے دیتے ہیں تا کہ آپ ایک سو سالہ کہانی کو مختصر وقت میں جان سکیں۔ کہانی کا آغاز جوزے آرکیڈو بوئندہ اور اُس کی محبوبہ ارسلا اگواران کی ایسی شادی سے ہوتا ہے جو خاندانی روایات کے خلاف ہے۔ وہاں ایسی خلافِ روایت شادیوں کے بارے میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ وہ ارگوانے پیدا کرتے ہیں۔ یہ ایسے دم دار بچے ہوتے ہیں جن کی سور کی طرح پونچھ ہوتی ہے۔ اسی ڈر سے ایک عرصے تک بوئندا اور ارسلا مراسم قائم نہیں کر پاتے۔ مگر لوگ اُسے نامردی کے طعنوں سے نوازتے ہیں۔ ایک دن غصے میں وہ کسی کا قتل کر دیتا ہے اور اپنے قریبی ساتھیوں سمیت ایسے دلدلی علاقے کی طرف فرار ہو جاتا ہے جہاں لوگ جانے سے خوف کھاتے ہیں۔

اسی دوران ایک رات نیند میں وہ ایک ایسی بستی کا خواب دیکھتا ہے جہاں ہر طرف خوش حالی ہے اور گھروں کی دیواریں کانچ سے بنی ہوئی ہیں۔ خواب کی تعبیر میں اُسی جگہ پر بستی کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے جس کا نام ماکوندو رکھا جاتا ہے۔ اگلے سو سال کے لیے پلاٹ اسی بستی کے گرد گھومتا ہے۔ بوئندا کے ہاں دو لڑکے، جوزے آرکیڈو بوئندہ اور کرنل آرلیانو بوئندہ اور ایک لڑکی امرانتا بھی پیدا ہوتی ہے۔

کئی سال تک یہ بستی لوگوں کی نظر سے پوشیدہ رہتی ہے مگر ایک دن خانہ بدوشوں کا یہاں سے گزر ہوتا ہے تو وہ اس جادوئی بستی کی خبر ملک بھر میں پھیلا دیتے ہیں۔ خبر سُن کر سب سے پہلے یہاں ایک پادری وارد ہوتا ہے جو گرجا تعمیر کرتا ہے۔ پھر حکومتی عمل داری کے لیے مجسٹریٹ بھی پہنچ جاتا ہے جو اس علاقے کا انتظام وفاق کے سپرد کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس کے بعد بستی میں سیاست کا آغاز ہوتا ہے، لبرل اور کنزرویٹو پارٹیاں کھڑی کی جاتی ہیں۔ مگر جب ملکی سطح پر خانہ جنگی کا آغاز ہوتا ہے تو اس کے اثرات ماکوندو تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ خانہ جنگی کے دور میں بوئندا کا بیٹا کرنل آرلیانو قومی ہیرو کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ اس دوران کرنل آرلیانو کئی خواتین سے لطف بھی حاصل کرتا ہے جن سے اُس کے سترہ بیٹے پیدا ہوتے ہیں۔

سترہ سال کی لڑائی کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ماکوندو کو ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ جوڑنے کے لیے ریلوے ٹریک بچھایا جاتا ہے۔ بنانا کمپنی کی آمد پر کلونیل دَور کا آغاز ہوتا ہے۔ قصہ مختصر جب تک مذہب، سیاست، حکومتی عمل داری، جدیدیت اور صنعتی انقلاب ماکوندو سے دور رہتا ہے بستی خوش حال رہتی ہے مگر جیسے ہی بدلاؤ آنا شروع ہوتے ہیں تو سکون جاتا رہتا ہے اور بربادی سر اُٹھانے لگتی ہے۔ مشکل حالات کے باوجود بوئندہ خاندان ثابت قدم رہتا ہے اور کہانی سات پشتوں تک بڑھتی چلی جاتی ہے۔

آخر میں حالات تکلیف دہ ہو جاتے ہیں اور بوئندہ خاندان کا سورج غروب ہو جاتا ہے۔ اب بستی تباہ حال ہے، خوش حالی بھی ختم ہو چکی ہے اور لوگ ہجرت کر گئے ہیں۔ اب یہاں ایسی اُجاڑ ہے کہ پرندے بھی راستہ بھول گئے ہیں۔ جن گلیوں میں کبھی چہل پہل ہوا کرتی تھی اب وہاں مایوسی اور تنہائی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

مُصنف نے ناول میں جادوئی حقیقت نگاری کو اپنایا ہے اور فلیش بیک طریقہ تحریر کا استعمال کیا ہے۔ وہ بار بار ماضی میں جاتا ہے اور کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے مستقبل میں لے آتا ہے۔ انہوں نے بڑی مہارت سے تصوراتی عناصر کو بغیر کسی رکاوٹ کے حقیقت پر مبنی تفصیلات کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ وہ ایسی دنیا تخلیق کرنے میں کامیاب ہوا ہے جہاں افسانوی واقعات اور روزمرہ زندگی بغیر کسی حجت کے رواں دواں ہیں۔

مارکیز نے خوش اسلوبی سے یہ باور کروایا ہے کہ ہر نسل اپنے اجداد کی میراث اور خصائص کو آگے بڑھاتے ہوئے خواہشات، تنازعات اور چنیوتیوں سے نبردآزما ہوتی ہے۔ حالات میں ڈھلتے ناول میں مصنف نے بوئندا خاندان کی نجی زندگیوں کو مرکزیت بخشی ہے اور اُن کے غیر ازدواجی تعلقات اور ناجائز معاشقوں کو تفصیلاً بیان کیا ہے جو نسل در نسل جاری رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہم یہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ خاندان کے افراد کے درمیان تعامل، باہم محبتیں، مشترکہ جدوجہد، نفرتیں، دھوکہ دہی ناول کے بنیادی جزو ہیں۔

اس ادبی شاہکار نے اپنی اشاعت کے بعد سے ہی قارئین کو مسحور کر رکھا ہے اسی وجہ سے یہ عالمی سطح پر بھی گہرا اثر قائم کیے ہوئے ہے۔ مزید برآں یہ تمثیلی طور پر لاطینی امریکا کی ہنگامہ خیز تاریخ پر ایک دقیق تبصرہ بھی ہے جس میں اس خطے کی سیاسی ہلچل، خانہ جنگیوں اور بیرونی مداخلتوں کی تصویر پیش کی گئی ہے۔

چوں کہ یہ ناول ایک سو سال کی تاریخ پر محیط ہے اور ماکوندو کے قیام سے لے کر بربادی تک کے تمام تر حالات اس میں موجود ہیں۔ مزید برآں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بہت سے کردار بھی جنم لیتے ہیں، اس لیے بعض دفعہ قاری ایک جیسے ناموں اور پیچیدہ واقعات میں الجھ کر تذبذب کا شکار بھی ہو جاتا ہے مگر اس کے باوجود ناول کی اہمیت اپنی جگہ پر ہے اور یہ ایک عمدہ ادب پارہ ہے جس سے مُستفید ہونے کے لیے قاری کو پورا دھیان لگانا پڑتا ہے۔

Facebook Comments HS