آزادی کس سے مانگیں؟


ہم کیا چاہتے آزادی۔ ہم چھین کے لیں گیں آزادی۔ ان نعروں کی گونج سنتے ہوئے ہمارے اس خطے کو ایک صدی سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ ان نعروں کے حق میں اور ان کے خلاف بولنے والے بدلتے چلے آئے ہیں۔ پہلے پہل یہ آزادی ہم انگریزوں سے چھیننا چاہتے تھے، پھر ہم نے یہ نعرے انگریزوں اور ہندوؤں دونوں سے آزادی کے لئے لگائے اور اب یہ نعرے ہم کبھی کچھ اداروں سے آزادی کے لئے لگاتے ہیں تو کبھی کچھ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں سے آزادی کے لئے لگاتے ہیں۔ ان آزادی مانگنے والوں کی اکثریت کو خود یہ نہیں پتہ ہوتا کہ وہ کس چیز کی آزادی مانگ رہے ہیں اور کس لئے آزادی مانگ رہے ہیں؟ ان بنیادی سوالات کے جوابات نہ ہونے کے باوجود ایک جوش اور جذبہ ہے کہ آزادی ہر قیمت پر چاہیے۔

اب یہاں پہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سب آزادی کی مانگ کرنے والوں کو اگر ان کی خواہش کے مطابق آزادی دے دی جائے تو یہ اس آزادی کا کریں گے کیا؟

منطقی طور پہ سوچا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اس آزادی سے یہ سب ایک بھیانک غلامی پیدا کریں گیں اور ایسا اس لئے ہے کہ یہ سب گلا پھاڑ پھاڑ کر آزادی مانگنے والے صرف اپنے لئے آزادی چاہتے ہیں، اپنے ساتھ دوسرے لوگوں کے لئے انہیں آزادی بالکل بھی نہیں چاہیے۔ ایک باپ اگر حکومت سے مکمل آزادی مانگ رہا ہے تو دوسری طرف وہ اپنے بیٹوں کو اپنی غلامی میں رکھنا چاہ رہا ہے، ایک بھائی اگر ملکی اداروں سے اپنے لئے آزادی مانگ رہا ہے تو ساتھ ہی وہ اپنی بہنوں کو اپنی غلامی میں رکھنا چاہ رہا ہے، ایک ماں اگر معاشرے کے ظلم و ستم سے آزادی چاہ رہی ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ اپنی اولاد کو اپنی بھرپور غلامی میں رکھنا چاہ رہی ہے، ایک مذہبی شخص اگر موجودہ حکومتی نظام میں مطلق آزادی چاہ رہا ہے تو باقی مذاہبِ اور فرقوں کے ماننے والوں کو اپنی غلامی میں رکھنا چاہ رہا ہے، ایک لبرل اگر اس معاشرے اور نظام میں اپنے لئے مکمل آزادی مانگ رہا تو ساتھ ہی وہ کسی قیمت یہ آزادی اپنے سے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کو دینے کو تیار نہیں ہے۔ یہ سلسلہ اتنا لمبا ہے کہ اس کا مکمل احاطہ نہیں کیا جا سکتا بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس خطے میں آپ جو بھی ہوں، جس بھی مکتبہ فکر سے آپ کا تعلق ہو، آپ کو آزادی صرف اپنے لئے چاہیے اور وہ بھی اس لئے کہ آپ دوسروں کو غلام رکھ سکو۔

اسی نتیجہ پر ہم ایک دوسرے رخ سے بھی آ سکتے ہیں کہ آج سے کچھ دہائیوں پہلے چند نوابوں نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تھی، اور اس کے بعد جاگیر داروں، انڈین سول سروس کے لوگوں، مذہبی شخصیات، فوجیوں اور سرمایہ داروں نے ( عوام کی مدد سے ) آزادی کے نعروں سے بھرپور مہم چلا کر اپنے لئے تو آزادی لے لی لیکن کیا معاشرے کے ایک عام فرد کو آزادی ملی یا پھر غلامی؟

اس سوال کا جواب ہم سب جانتے ہیں کہ آج یہاں بسنے والا ہر انسان بدترین غلامی سے گزر رہا ہے اور یہ غلامی وقت کے ساتھ ساتھ سخت ترین ہوتی جا رہی ہے کیونکہ انگریزوں سے آزادی کی مانگ کرنے والے زیادہ سے زیادہ آزاد ہوتے جا رہے ہیں اور اب نہ تو وہ کسی اخلاقی ضابطہ کو ماننے کو تیار ہیں اور نہ ہی کسی آئینی ضابطہ کو۔ سارا نظام جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق چلایا جا رہا ہے۔ اس بات سے صرف وہی اختلاف کر سکتا جو یا تو خود اس نظام کا beneficiary ہے یا پھر جس کا اس معاشرے کے عام لوگوں سے تعلق ٹوٹ چکا ہوا ہے۔

اس ساری صورتحال کے بعد سوال یہ ہے کی کیا لوگوں کو آزادی کی مانگ بند کر دینی چاہیے؟

میرے خیال میں یہ مانگ بند نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں اور شدت آنی چاہیے لیکن ہر شخص کو آزادی اپنے آپ سے مانگنی شروع کرنی چاہیے۔ اپنے ان تمام فرسودہ خیالات سے آزادی مانگنی چاہیے جن کے لئے آپ کٹ مرنے کو تیار تو ہیں لیکن اگر غور و فکر کریں تو ان خیالات کی جڑیں انتہائی کھوکھلی ہیں۔ اپنے ان تمام معاشرتی نظریات (غیرت کے نام پہ قتل وغیرہ) سے آزادی مانگنی چاہیے جن کی وجہ سے لاکھوں بے گناہوں کا خون بہتا ہے۔

اپنی ان تمام حدود سے آزادی مانگنی چاہیے جو آپ نے اپنے دماغ پر لگا کر اسے باقی دنیا سے منقطع کر رکھا ہے۔ اپنی ان سوچوں سے آزادی مانگنی چاہیے جو کچھ بھی کرنے سے پہلے آپ کا حوصلہ پست کر دیتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر اپنے اس ڈر سے آزادی مانگنی چاہیے جو دوسروں کو آزادی دینے سے ڈرتا ہے۔ جب معاشرے کے افراد ان سب چیزوں سے آزادی حاصل کر لیں گیں تو پھر کوئی بھی زیادہ دیر تک ان کی سوچوں کو اور روحوں کو غلام نہیں رکھ سکے گا اور اگر اس اپنے آپ سے آزادی کے بغیر صرف موجودہ نظام سے آزادی کو کوشش کریں گیں تو صرف غلامی کی دلدل میں ہی دھنستے چلے جائیں گیں جس کا کوئی اختتام نہیں ہو گا۔

”

Facebook Comments HS