دیہی زندگی میں سرکار کی ناقص منصوبہ بندی
روٹی کے بعد زندگی کی دوسری بڑی ضرورت کپڑا تھی۔ کپڑے کے معاملے میں دیہاتی عموماً بے نیازی کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ کیوں کہ انہیں بخوبی علم تھا کے کپڑے کی عدم دستیابی کی صورت میں بھی زندگی کا پہیہ رواں دواں ہی رہتا ہے۔ عوام الناس کے پاس صرف ایک دو جوڑے صاف ستھرے کپڑوں کے ہوا کرتے۔ جنہیں وہ گاؤں میں باہر جاتے وقت بڑے اہتمام سے پہن لیا کرتے۔ کام کاج کے دوران وہ پیوند لگے ہوئے پرانے کپڑے پہنا کرتے۔ کام کاج سے فارغ ہو کر وہ نہا دھو کر صاف ستھرے ہو کر نسبتاً بہتر حالت میں صاف کپڑے پہن لیا کرتے۔
مہمان جاتے وقت یا شادی بیاہ میں شرکت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے کپڑے، جوتے یا گھڑی وغیرہ مستعار لے لینا ایک عام رواج تھا۔ اسے قطعی برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ گندم کے بعد گاؤں کی دوسری بڑی فصل کپاس ہوا کرتی تھی۔ کپاس نقد آور جنس تھی۔ گندم کی طرح کپاس کی نقدی بھی گاؤں کے تقریباً ہر گھر میں ہی پہنچ جایا کرتی تھی۔ کپاس کی چنائی ایک مشکل کام تھا اور اس کے لیے زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔ گاؤں کے غیر کاشت کار گھرانوں کی عورتیں اور بچیاں اس کام میں خوشی خوشی حصہ لیتیں۔ کپاس کی چنائی کرتیں اور چنائی کی گئی اس کپاس کا سولہواں حصہ مزدوری کی شکل میں وصول کر لیتیں۔ اس طرح کپاس کی فصل کے اثرات نقد رقم کی شکل میں گاؤں کے تقریباً ہر گھر میں ہی پہنچ جایا کرتے۔
یہ موسم زمیندار کی خوش حالی کا موسم ہوا کرتا اس موسم میں ہی وہ اپنے کسی بچے یا بچی کی شادی کر لیتا۔ نیا ڈھور ڈنگر خرید لیتا یا گھر میں کوئی اضافی تعمیر کا کام کر لیا کرتا۔ کیوں کہ اس وقت تک زمین دار کی معاونت کے لیے سرکاری زرعی بینک ابھی تک وجود میں نہیں آئے تھے اور اگر یہ موجود بھی تھے تو کاشت کاروں نے اپنی ذات کو ان کمرشل اداروں کی دستِ برد سے محفوظ رکھا ہوا تھا۔ ان اداروں کا کام حکومت کے پیسے کاشت کاروں کو آسان شرائط پر قرض کی شکل میں مہیا کرنا تھا۔
اس کے قرض خواہ کاشت کاروں کی عموماً زمینیں بک گئیں۔ قرض دینے والی حکومت کنگال ہو گئی۔ اگر چاندی ہوئی تو ان بنکوں کے ملازمین کی جو کوٹھیوں، پلازوں اور زمینوں کے مالک بن گئے۔ کاشت کار اور حکومت دونوں ہی لٹ گئے۔ یہ وطن ِ عزیز میں رائج معاشی نظام کی ایک عام فہم مثال ہے۔ زمین دار جس فصل پر چھ ماہ تک محنت کرتا ہے اس پر خرچ کرتا ہے اور پھر اُسے مارکیٹ میں لاتا ہے جہاں پر آڑھتی اُسے ضرورت مند تک پہنچاتا ہے۔ عموماً ضرورت مند تک جو فصل سو روپے میں پہنچتی ہے کاشت کار کو اس کے پچاس روپے ملتے ہیں اور بقیہ پچاس روپے درمیان میں ہی کہیں رہ جاتے ہیں۔ زمین دار کو ملنے والے پچاس روپوں میں اس کی محنت، مزدوری اور خرچہ بھی شامل ہوتا ہے۔ جب کہ درمیانی ہاتھ مفت میں پچاس روپے اڑا کر عیش کرتے ہیں۔
بات گاؤں کی ہو رہی تھی کہ کپاس کی چنائی کے موسم میں گاؤں کا تقریباً ہر گھرانا اس میں اپنا حصہ وصول کر لیتا۔ کپاس دو قسم کی کاشت کی جاتی تھی۔ دیسی اور نرما۔ نرما کپاس کو دکان پر بیچ کر پیسوں میں تبدیل کر لیا جاتا جب کہ دیسی کپاس مختلف مراحل سے گزر کر کپڑے کھدر میں تبدیل ہوتی۔ یہ ایک طویل اور محنت طلب عمل تھا۔ سب سے پہلے کپاس کی صفائی کی جاتی کپاس کے ایک ایک تونبے کو ہاتھوں سے گزارتے ہوئے اس کے ساتھ چمٹے ہوئے خشک پتوں اور تنکوں وغیرہ کو الگ کیا جاتا۔
اس کے بعد چارپائیوں پر باریک سی تہ کی صورت میں اس طرح پھیلا کر دھوپ لگوائی جاتی کہ دھوپ کی رسائی ہر ریشے تک ہو۔ دھوپ میں اچھی طرح خشک کرنے کے بعد لکڑی کی باریک اور لچکدار چھڑی سے اس کی اچھی طرح جھاپنی لگائی جاتی۔ پھر خواتین اُسے اپنے گھریلو بیلنے میں گزار کر بنولے اور روئی الگ کر لیتیں۔ بنولے گھر میں دودھ دینے والے جانوروں کو کھلا کر اُن سے حاصل کیے جانے والے دودھ کی مقدار میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جاتی اور روئی کو دھنائی کے لئے دھینے کے پاس بھیج دیا جاتا۔
ہمارے گاؤں میں یہ کام گاؤں کا تیلی سر انجام دیا کرتا تھا۔ جہاں اسے پینجے پر دھنک کر روئی کو تھوڑی سی مقدار کو بھی ایک بہت بڑے ڈھیر میں تبدیل کیا جاتا۔ اب یہ دھنکی ہوئی روئی آٹھ دس انچ لمبائی کے سرکنڈوں کے باریک باریک ٹکڑوں کے گرد لپیٹ کر پونیوں کی شکل میں تبدیل کی جاتی۔ ان پونیوں کو چرخے پر کات کر دھاگے میں تبدیل کیا جاتا۔ جس گھر میں نسبتاً بیٹھنے کی جگہ اور رزق میں کشادگی ہوتی۔ وہاں عورتیں گروہوں کی شکل میں مل بیٹھ کر یہ کام کیا کرتیں۔
روئی کاتنے والا یہ پورے کا پورا گروہ ترنجن کہلاتا تھا۔ ترنجن میں روئی کا تنے کے ساتھ ساتھ عورتیں گیت بھی گایا کرتیں۔ یہ گیت اجتماعی اور انفرادی دونوں طریقوں سے گائے جاتے یہاں پر لطیفہ بازی ہوتی زندگی کے دل چسپ تجربات بیان کیے جاتے۔ ترنجن دیہی خواتین کا ایک ایسا کلب ہوا کرتا تھا۔ جہاں وہ اپنی مصروف ترین زندگی میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ وقت ہنسنے بولنے کے لیے بھی نکال لیا کرتیں۔ لڑکیاں بالیاں اپنا ترنجن علیحدہ لگانے کی کوشش کرتیں۔ لیکن اُن کی مائیں ہی اُن کی راہ کی بڑی رکاوٹ بن جاتیں اور اپنی بچیوں کو اپنے ساتھ ہی ترنجن میں بٹھانے کو کوشش کرتیں۔ اس مقابلے بازی میں کبھی ایک فریق کی جیت ہوتی تو کبھی دوسرے کی۔ گرمیوں کی لمبی اور گرم دوپہروں میں ترنجن اپنے پورے عروج پر ہوا کرتے۔
یہاں پر روئی کو چرخوں پر کات کر مڈھوں کی شکل میں سوتی دھاگے میں تبدیل کیا جاتا۔ پھر اس سوتی دھاگے کو ایٹرن کے اُوپر دوہرا کر کے ایک اٹی کی شکل دی جاتی یہ وہی مشہور ِ زمانہ اٹی ہے جو مصر کے بازار میں ایک خاتون حضرت یوسف کو خریدنے کے لئے اپنے ساتھ لے کر آئی تھی۔ پھر اس اٹی کو ایک گول گول گھومنے والی اُوری پر چڑھا کر اس کے سوتی دھاگے کو چرخے کی مدد سے بانس کی باریک سوراخ دار پوریوں کے اوپر منتقل کر کے انہیں نڑوں میں تبدیل کر لیا جاتا۔
اب یہ سوتی دھاگا کپڑا بننے کے لیے تیار ہوتا اس سوتی دھاگے سے تانا بھی دیہی خواتین عموماً خود ہی تن لیا کرتیں۔ پھر اس تانے کو گاؤں کے جولاہے کے پاس بھیجا جاتا جو اس تانے کو اپنی لکڑی کی کھڈیوں پر منتقل کر کے اس میں بانا ڈال کر اسے باقاعدہ کپڑے کی شکل میں تبدیل کر دیتا۔ جو عرف عام میں کھدر کہلا تا تھا۔ اس کھدر سے گھر میں کپڑے کی بیشتر ضروریات کو پورا کیا جاتا۔ اسی کھدر پر چھینبا رنگ برنگے پھول دار ٹھپے لگا دیتا اور اس ٹھپے دار کپڑے سے رضائیوں اور تلائیوں کے غلاف بنتے۔
جن میں دھنکی ہوئی روئی ڈال کر روئی اور کپڑے کو دھاگے کے بڑے بڑے ٹانکوں کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر باقاعدہ لحاف تیار کر لیے جاتے۔ اسی سوتی دھاگے کی مدد سے جولاہا کھیس اور دوہریں تیار کر دیتا۔ ان کھیسوں اور دوہروں میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے ان میں رنگین حاشیے ڈالے جاتے۔ اس سلسلے میں سوتی دھاگا رنگنے کا عمل خواتین گھروں میں بھی کر لیتیں اور بعض اوقات یہی کام جولاہا بھی سر انجام دیتا۔ بعض باذوق خواتین سردیوں میں گرم چادر کی بجائے اوڑھنے کے لیے رنگ برنگے دل کش ڈیزائنوں والے کھیس تیار کرواتیں۔
انہیں مجنوں کھیس کہا جاتا۔ ان مجنوں کھیسوں پر بنائے جانے والے بیل بوٹوں کی شکل و شباہت اور ان میں استعمال ہونے والے رنگوں کو وہ خود ڈیزائن کیا کرتیں۔ ان مجنوں کھیسوں کی خوب صورتی اور دل کشی اس گھرانے کی خواتین کے ذوق ِ نفاست کا مظہر ہوا کرتی۔ اسی کھدر کے کپڑے سے مرد حضرات اپنے پہننے کے لیے تہبند اور کرتے بھی سلوا لیا کرتے اور اس کے لیے انہیں کسی درزی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ گھر کی خواتین بڑی سہولت اور آسانی سے یہ کام کر لیا کرتی تھیں۔
بعض اوقات اسی کھدر کو دیدہ زیب رنگ دے کر عورتیں انہیں اپنے پہناوے کے لیے بھی استعمال کر لیا کرتی تھیں۔ سوتی کپڑے کو رنگنے کا یہ عمل چنری کا رنگ کہلاتا تھا۔ اسی کھدر کو بڑی عقیدت کے ساتھ دھو دھلا کر پاک صاف کر کے اپنے کفن کے لیے بھی مخصوص کر لیا جاتا۔ بعض خوش عقیدت لوگ اس کفن کو آب زم زم ملے پانی میں بھگو کر خشک کر کے اس کی پاکیزگی کو مزید بڑھا وا دے لیتے۔ گویا کہ خاندان بھر کے کپڑے کی بیشتر ضروریات اسی کھدر سے پورا کر لی جاتیں۔
آج کل عیدین کے موقع پر اکثر ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ فلاں جگہ پر بچوں کو نئے کپڑے خرید کر استطاعت نہ رکھنے پر ماں بچوں کو ساتھ لے کر نہر میں کود گئی اور اسی قسم کی خبریں بعض اوقات والد سے بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ لیکن اُس وقت کی مائیں ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔ وہ اپنے ہاتھ سے محنت کے ساتھ تیار کیے گئے کپڑے مختلف قسم کے دیدہ زیب رنگوں میں رنگ کر اپنے اور اپنے اہل خانہ کے پہننے کے لیے اُن کے ملبوسات خود تیار کر لیا کرتی تھیں۔
اگر اس وقت سرکاری سطح پر دیہات میں اس صنعت کو فروغ دینے کے لیے مناسب راہنمائی اور سہولت کاری مہیا کی جاتی تو گاؤں میں اس سے متعلقہ دست کاری اور گھریلو صنعتوں کے کام کو بڑی آسانی کے ساتھ آگے بڑھایا جاسکتا تھا۔ یہاں پر تو پہلے ہی بغیر کسی کی مدد کے پورے گاؤں کی ضروریات کے لیے کپڑا تیار کیا جاتا تھا۔ اسی کو ری فائن کرنے کے لیے تھوڑی سی سہولت کاری درکار تھی لیکن یہ بات شاید ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہیں۔


