تتلیاں یا شیرنیاں۔چودہ سو سال میں کتنے حقوق ملے


dr tehreem javaid

درد کی شدت ایک وقت کے بعد محسوس کرنے کی صلاحیت کو مردہ کر دیتی ہے۔ جیسے قید خانے میں رہنے والا اپنی ذلت کو حتمی تسلیم کر لیتا ہے اسی طرح ایک پاکستانی بیوی بھی یہ جان لیتی ہے کہ وہ، اس کا خاندان اور اس کی سات پشتیں بے غیرت اور نا اہل ہیں۔ خاوند صاحب چونکہ جدی پشتی رئیس ہوتے ہیں (خیالوں میں ) ۔ اس لیے ان خیالات کا پرچار ہر دوسرے دن ضرور ہوتا ہے۔

بیوی کی بیماری، تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے جیے جانے والا مرد سلاد نا ہونے پہ چیخنے لگتا ہے تو پدر سری معاشرے کو یہ دھنیں بہت بھلی لگتی ہیں کیونکہ دین تو عورت کو سب حقوق چودہ سو سال پہلے دے چکا تھا۔ یہ اور بات کہ عرب سے ہند پہنچتے پہنچتے حقوق گرمی میں پگھلتی برف جتنے ہی رہ گئے۔

عورت اور مرد کا یہ مسئلہ آفاقی ہے لیکن پنجابی اربن کلاس میں ( نصابی ) تعلیم کے باوجود شدت اختیار کر رہا ہے۔ رہی سہی کسر فرحت ہاشمی جیسی مذہبی بیبیوں اور ساحل عدیم جیسے دانشوروں نے پوری کر دی ہے جو شوہر کے منہ ادھر ُادھر مارنے کا موردِ الزام بیوی کے نا بننے سنورنے کو ٹھہرا کر فارغ ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کے کوئی سے بھی گھریلو تشدد کے اعداد و شمار اٹھا کر دیکھیں، کلیجہ تھام کر دیکھیں اور سوچیں کہ وہ ڈھیر سارے حقوق ضرورت کے وقت کہاں مر جاتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ایک رشتہ توڑنے سے زیادہ آسان کسی کی جان لینا بن جاتا ہے۔ ماں باپ کو بیٹے کی عاشق مزاجیاں تو گراں نہیں گزرتیں لیکن بیٹی شوہر سے مار کھاتی ہوئی بھاتی ہے۔

اس کے بعد عقل مندی یا بندی کا وہ درجہ آتا ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ جی ہاتھ تو نہیں نا اٹھاتا۔ شکر جی شکر۔ نفل مان لیں کہ ایسا پیارا مرد تو اس سماج میں ناپید ہونے کو ہے۔ کسی کو کیا لگے کہ سارا دن ذہنی تشدد سہنے والی عورت کی کیا ذہنی حالت رہ گئی ہے۔ چائے میں چینی کم ہے یا نمک زیادہ۔ ابھی دو تھپڑ لگائیں اور گناہِ عظیم کی ایسی قرار واقعی سزا دیں کہ خواب میں بھی بھول چوک کا نا سوچ سکے۔ بس یہ نا سوچیں کہ جس عورت کو روز جاہل اور کتی کہا جاتا ہے وہ ایک عظیم نسل کی تربیت کیوں کر َکر سکتی ہے۔ ایسا تشدد نظر تو نہیں آتا لیکن پراگندہ ذہنوں کی وراثت ضرور چھوڑ جاتا ہے۔

نور مقدم اور سارا انعام ایسے کسی واقعے کے بعد بہت یاد آتی ہیں۔ کیوں کہ دونوں ہی پڑھی لکھی لڑکیاں تھی۔ خود کما سکتی تھیں۔ لیکن پڑھے لکھے ماں باپ یہ بتانا بھول گئے کہ ذہنی یا جسمانی تشدد کرنے والا محبت کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے۔ اور جو ہاتھ اٹھا سکتا ہے وہ گلا بھی دبا سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں گزارا کرتی رہیں اور جان سے گئیں۔ یاد رکھیں یہ صرف وہ کیس ہیں جو حد سے گزر جانے کے باعث رپورٹ ہو جاتے ہیں۔ ورنہ اچھی لڑکیاں تو چپ رہتی ہیں نا۔ پردہ ڈالتی رہتی ہیں تاوقتیکہ پردہ َڈلوانے تک نا جا پہنچیں۔

بیٹیوں کو تتلیاں نہیں شیرنیاں بنائیں۔ اولادِ نرینہ کی خواہش میں تتلیوں کی اتنی لمبی لائن نا لگا دیں کہ کوئی درندہ انہیں مسلنا چاہے تو آپ اپنا بوجھ ہلکا کر کے ُچپ ہو لیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے بیٹیوں کو پڑھا تو دیا ہے لیکن ان بیٹیوں کے ساتھ گزر بسر کرنے والے بیٹے پروان نہیں چڑھا سکے۔ اور کرتے بھی کیسے۔ جو لڑکا اپنی ماں کو مار کھا کھا کر گزارا کرتے دیکھتا رہا وہ یہ سوچ بھی کیسے سکتا ہے کہ تشدد کا انجام علیحدگی بھی ہو سکتا ہے۔ مزید کام ڈراموں نے کر دیا جہاں ضدی لیکن پیارا سا ہیرو بے وفائی اور جدائی کی جگہ ہیروئن کے لیے موت کا انتخاب کرتا ہے۔ خدارا اپنے لوگوں کو بتائیں شادی کی ناکامی زندگی اور موت کا فیصلہ نہیں ہوتی۔ اور چار سال میں چار بچے کسی حدیث سے بھی ثابت نہیں۔

Facebook Comments HS