سم فروش
کھڑکی کے پاس لگے بجلی کے کھمبے کا بلب خاموشی سے جل رہا تھا سردیوں کی راتیں کتنی جلدی سنسان ہو جاتی ہیں اور رات کو نیند نا آنا کتنا تکلیف دہ احساس ہوتا ہے اور خاص کر کے اس وقت جب آپ تنہا ہوں۔
”شکر ہے کام مل گیا اب بس کسی طرح یہ ہدف پورا ہو جائے پھر کمپنی میں ملازمت مل جائے گی۔ لیکن یہ کروں گی کیسے؟“
عالیہ بیڈ پر لیٹی خیالوں میں گم تھی۔ ماضی کی یادیں اس کے ذہن پر کچوکے لگا رہی تھیں۔ ”ابا تو چاہتے تھے میں بھی پڑھوں لوں لیکن پھر علیزہ کا کیا کروں؟ ابا آپ کیوں اتنے جلدی چلے گئے اور امی کو بھی بلا لیا۔
”بس یہ کام مل جائے پھر علیزہ تو پڑھ لے گی، علیزہ کو ڈاکٹر بناؤں گی انشاءاللہ پھر اس کی شادی بھی کروں گی۔“
اس کے ذہن میں بہت سارے خیالات کروٹیں لے رہے تھے۔ سونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اس نے کروٹ لی لیکن نیند کا تو کوسوں پتا نہیں تھا۔ اللہ اللہ کر کے رات کٹی اور صبح ہوئی۔
”علیزہ کے لیے ناشتہ بنا کر آج ہی سے کام شروع کرتی ہوں“ اس نے ہمت باندھی اور کچن کی طرف بڑھنے لگی۔
”عیلزہ جلدی سے اٹھ جاؤ سکول کا وقت ہو گیا ہے“
عالیہ نے ناشتہ بناتے ہوئے آواز لگائی۔ علیزہ کھلے بالوں کے ساتھ سکول کے کپڑے پہنے اداس سا چہرہ لیے کچن میں داخل ہوئی۔
”باجی“
”جی میری جان“ عالیہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
”میری شہزادی ادھر آؤ میں بال بنا دوں پھر ناشتہ کر کے سکول جاؤ اور اچھے سے پڑھنا۔“
علیزہ بغیر کچھ بولے سر جھکا کر دوسری جانب مڑ گئی عالیہ اس کے بالوں میں کنگھی کرنے لگی۔
”باجی امی کی یاد آ رہی ہے۔“
عالیہ کا ہاتھ اچانک رک گیا
”علیزہ دیکھو اب تم بڑی ہو گئی ہو پورے بارہ سال کی ہو تم۔ تمہیں پتا ہے امی اور ابو اللہ میاں سے ہمارے لیے دعا کرنے گئے ہیں اور میں ہو نا تمہارے پاس میں تمہاری امی بھی ہوں باجی بھی ہوں اور ابو بھی۔“
عالیہ نے پیار سے مسکرا کر علیزہ کے چھوٹے سے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنے سینے سے لگا لیا۔
عالیہ کی آنکھوں سے ایک آنسو کا قطرہ گر کر علیزہ کے سر پر آ گیا جسے شاید اس نے محسوس کر لیا اور اوپر دیکھ کر ننھے ہاتھوں سے اپنی باجی کے گال پر ہاتھ پھیر کر جیسے اسے تسلی دینے لگی۔
”چلو اب ناشتہ کر لو اور سکول جاؤ دیکھو سکول میں پریشان نا ہونا اور محنت سے پڑھنا ٹھیک ہے؟“
علیزہ نے سر ہلا کر جواب دیا اور پراٹھے کا ایک ٹکڑا توڑ کر منہ میں ڈالا۔
تھوڑی دیر بعد عالیہ ایک ہاتھ میں کچھ سم کارڈ اور دوسرے میں بائیو میٹرک تصدیق کی مشین اٹھائے ایک میٹرو سٹیشن کے نیچے کھڑی تھی۔ اس کی ٹانگیں کانپ رہیں تھیں اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کس طرح ان سموں کو بیچ کر کمپنی میں ملازمت حاصل کرے۔
دو لڑکیوں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر اس نے ہمت باندھی منہ سے آواز نکالی ”یہ سمیں“ لیکن آواز اتنی آہستہ تھی جسے صرف وہ ہی سن سکی۔
”ایسے تو یہ نہیں ہو گا، مجھے یہ کرنا ہی ہو گا اللہ تو میری مدد کر “ عالیہ نے خود کلامی کی اور اونچی آواز میں کہا ”یہ نئی سمیں دیکھیں بالکل مفت“
دو اور لڑکوں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ آگے بڑھی۔
”یہ سمیں دیکھیں بالکل مفت ہیں“ ایک نے ہاتھ سے اشارہ کر کے شکریہ کہا لیکن دوسرے لڑکے نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا ”ان میں ڈیٹا بھی ہے؟“
عالیہ کو ہلکی سی امید لگی ”جی جی بیس جی بی ڈیٹا بھی ہے“
اچھا نمبر دکھائیں۔ اس نے سارے سم کارڈ اس کے ہاتھ میں تھما دیے تھوڑی ہی دیر میں وہ سم کارڈ لے کر روانہ ہو گئے۔
”شکر ہے یا اللہ بس ایسے ہی باقی بھی نکل جائیں۔“
ایک سم کارڈ بک جانے پر وہ یوں محسوس کر رہی تھی جیسے اس نے دنیا فتح کر لی ہو اسے ایک عجیب سی خوشی ہوئی۔
”لیکن ابھی تو بہت سی باقی ہیں، یہ بھی نکل جائیں گی انشاءاللہ بس ایک ہفتے میں یہ ہو جائے پھر بس کمپنی میں ملازمت مل جائے گی۔ بس ایک ہفتے کی محنت ہے“
عالیہ خود کو تسلیاں دیتے ہوئے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔
چند لمحوں بعد کچھ اوباش لڑکے آئے
”ہمیں بھی دے دو ایک سم“ عالیہ نے جھجک کر کارڈ آگے بڑھائے۔
”جو نمبر پسند ہو وہ مل جائے گا؟“ ایک لڑکے نے مسکرا کر عالیہ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
اسکی نظر سے اسے الجھن ہونے لگی جسم میں جگہ جگہ اسے سوئیاں چبھتے ہوئے محسوس ہونے لگیں۔ اس کی ہلکی سی آواز نکلی ”جی“
”پھر تو ہمیں آپ کا نمبر پسند ہے وہ مل جائے گا؟“
تینوں نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور کارڈ الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے۔
اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی کانپتے ہوئے ہاتھ سے بغیر کسی آواز کے اس نے کارڈ واپس مانگے۔
”ارے آپ تو غصہ ہو گئیں ہم بس مذاق کر رہے تھے۔
چھوڑو یار دیر ہو رہی ہے تم جدھر دیکھو شروع ہو جاتے ہو۔ اپنی شکل دیکھو اور میڈم کا نمبر مانگ رہے ہو۔ ”ایک لڑکے نے مسکرا کر باقیوں کے ہاتھوں سے کارڈ لے کر عالیہ کے ہاتھ میں رکھ دیے۔
”اب چلو۔ میڈم یہ ہیں ہی فضول لوگ آپ برا نا ماننا لڑکے نے جاتے ہوئے کہا۔“
اس کا دل چاہا وہ کہیں دور جا کر چھپ جائے جہاں اسے کوئی نا دیکھ سکے یا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔
اسکی آنکھیں بھیگ گئیں اسے محسوس ہوا جیسے ساری دنیا اسے دیکھ رہی ہے اور اس کے کپڑوں کو نوچ نوچ کر اسے ننگا کر رہی ہے۔
وہ روتے ہوئے وہاں سے جلدی سے بھاگی اس کی ہچکیاں بندھ گئیں تھیں۔ بس پر سوار ہو کر کسی دوسرے سٹاپ پر پہنچی۔
یا اللہ یہاں ایسا کچھ نا ہو یہ بہت مشکل ہے تو میری مدد کر ۔
شام کو گھر جانے سے پہلے وہ چھ سمیں فروخت کر چکی تھی۔ لیکن اس کے کانوں میں بار بار وہ الفاظ گونج رہے تھے۔
”ہمیں تو آپ کا نمبر پسند ہے مل جائے گا؟ ، اپنی شکل دیکھو اور میڈم کا نمبر مانگ رہے ہو۔“
اسکی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ بستر پر بے سدھ پڑی ان خیالات کو جھٹک کر سو جانا چاہتی تھی۔
کہیں دور گھڑی نے بارہ بجائے اور گھنٹی کی آواز آئی۔ کھڑکی کے باہر لگے بجلی کے کھمبے کی روشنی چھن چھن کر کمرے میں داخل ہو رہی تھی وہ اٹھی اور کھڑکی بند کرنے لگی تو اس نے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنی باہر دیکھا تو کتے کسی کتیا کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ کتیا کو بے بس بھاگتا دیکھ کر اس افسوس ہوا اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
اس نے کھڑکی بند کی اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔ نا جانے کب آنکھ لگ گئی اور صبح ہو گئی۔
جلدی سے اٹھ کر باہر آئی تو علیزہ سکول کے کپڑے پہنے کچن میں خاموش بیٹھ کر اس کا انتظار کر رہی تھی۔
”باجی دیکھو میں آج خود اٹھ گئی“
”میری گڑیا تو بہت اچھی ہے میں جلدی سے ناشتہ بنا کر دیتی ہوں سکول میں اچھے سے پڑھنا۔“
تھوڑا وقت گزرا اور عالیہ فیض آباد میٹرو سٹیشن کے نیچے سم کارڈ ہاتھ میں تھامے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔
گیارہ بجے تک دو سمیں فروخت ہو سکیں۔
وہ مایوسی سے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتی اور اسے کوئی طاقت امید دلاتی تم کر سکتی ہو تمہیں کرنا ہی ہو گا۔
”سم بیچ رہی ہو؟ ہمیں بھی چاہیے“
دو موٹر سائیکل اس کے سامنے آ کر رک گئے۔ عالیہ نے نظریں اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور فٹ پاتھ پر تیز تیز آگے کو چلنے لگی۔
موٹر سائیکل سوار بھی اس کے پیچھے آوازیں کستے ہوئے آہستہ آہستہ آنے لگے۔
اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا وہ میٹرو سٹیشن کی طرف بھاگنے لگی موٹر سائیکل سوار بدستور اس کا پیچھا کر رہے تھے۔
اچانک اس کے ذہن میں رات کا واقع آیا جو اس نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے گلی میں لگے بلب کی روشنی میں دیکھا تھا۔
اسے اپنا وجود اس بے بس کتیا کی طرح محسوس ہونے لگا۔ وہ زور زور سے رونے لگی اور مزید تیز بھاگنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسے اپنے رونے کی آواز آ رہی تھی سٹیشن میں داخل ہو کر اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتی اور اس کتیا کو یاد کرتی۔
بس پر بیٹھ کر اسے محسوس ہوا ہر مرد اس کی طرف دیکھ رہا ہے سب کو پتا ہے اس کے ساتھ کیا ہوا سب اس کے وجود پر ہنس رہے ہیں۔
وہ گھر پہنچی تو اس نے کچن سے چوہوں کو مارنے والی گولیاں لیں اور کمرے میں چلی گئی اس نے زور سے سم کارڈ دیوار پر مارے۔
روتے روتے اس نے ایک پیکٹ کھول کر اس سے ایک گولی نکالی۔
اس کی نظروں میں ماں باپ کے مرنے کے بعد کی اپنی زندگی فلم کی صورت میں چلنے لگی لیکن اس مرتبہ کردار اس کی چھوٹی بہن علیزہ تھی۔


