پاکستان میں حقوق نسواں اور اس کے مقبول نعرے
خواتین کے حقوق سے مراد وہ حقوق اور آزادیاں ہیں جو خواتین کو حاصل ہونی چاہئیں تاکہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں مردوں کے برابر مقام حاصل کر سکیں۔ یہ حقوق اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ خواتین سماجی، اقتصادی، سیاسی اور ذاتی زندگی کے تمام پہلوؤں میں برابری اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ جب ہم حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے یونانی اور رومی طرز معاشرت کی طرف دیکھنا پڑے گا جن کی اصلاحات کی بنیادوں پر آج کا ترقی یافتہ معاشرہ کھڑا ہے۔
قدیم یونان میں عورتوں کی حیثیت اور حقوق وقت کے ساتھ ساتھ اور معاشرتی طبقے، خاندانی حیثیت اور دیگر عوامل کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتے گئے۔
رومی خواتین عموماً ایک مرد سرپرست کے قانونی اختیار کے تحت ہوتی تھیں، جسے پاتر فیمیلیاس کہا جاتا تھا، جو خاندان کا سب سے بڑا مرد ہوتا تھا۔ یہ سرپرست اس کے مالی معاملات، قانونی امور اور ذاتی فیصلے کنٹرول کرتا تھا۔ ان خواتین کی عام طور پر نوعمری میں شادیاں کر دی جاتی تھیں۔ یہ شادیاں اکثر سیاسی یا سماجی اتحاد کے لیے کی جاتی تھیں۔ شادی کے بعد ، خواتین یا تو اپنے والد کے اختیار میں رہتی تھیں یا اپنے شوہر کے اختیار میں آتی تھیں۔ جائیداد کی مالک بن سکتی تھیں مگر کنٹرول محدود ہوتا تھا۔ ان کی نسبت بیوائیں زیادہ خود مختار ہوتی تھیں۔ جیسا آج عرب اور پاکستان کے کلچر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اعلیٰ طبقے کی خواتین بنیادی تعلیم حاصل کر سکتی تھیں، جس میں پڑھنا، لکھنا اور ریاضی شامل ہوتا تھا، اور بعض اوقات مزید اعلیٰ مطالعہ بھی کر سکتی تھیں، لیکن یہ نچلے طبقے کی خواتین کے لیے عام نہیں تھا اور یہ صورتحال آج بھی ہمارے یہاں موجود ہے۔ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتی تھیں۔ ووٹ دینے کا حق نہیں تھا۔
یورپ اور دیگر دنیا میں جمہوریہ اور شہنشاہی دور کے دوران، خواتین کی حیثیت بتدریج بہتر ہوئی۔ قوانین جائیداد کے حقوق کی حفاظت کے لیے بنائے گئے، اور اعلیٰ طبقے کی خواتین کو زیادہ سماجی آزادیاں اور اثر و رسوخ حاصل ہوتا چلا گیا۔
اب نظر ڈالتے ہیں یورپی دنیا پر کہ وہاں عورتوں کو حقوق کی فراہمی کب شروع ہوئی؟
19 ویں صدی کے دوران، بہت سے یورپی ممالک میں خواتین کے لیے تعلیمی مواقع میں اضافہ ہوا۔ لڑکیوں کے اسکول اور کالج کھلنے لگے اور پھر صنعتی انقلاب کے دوران، خواتین بڑی تعداد میں فیکٹریوں میں کام کرنے لگیں۔ 19 ویں صدی کے آخر میں، خواتین مزدور حقوق کی تحریکیں شروع ہوئیں، جن میں کام کے حالات، اوقات اور تنخواہوں میں بہتری کے مطالبات شامل تھے۔
20 ویں صدی کے اوائل میں، کئی یورپی ممالک میں خواتین کو ووٹ کا حق ملنا شروع ہوا فن لینڈ وہ پہلا یورپی ملک تھا جہاں 1906 میں ووٹ کا حق دیا گیا اور پھر یکے بعد دیگرے یورپ کے دیگر ممالک میں خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا اور اس عمل کو یورپ میں عام ہونے میں بھی کم ازکم 40 سال کا عرصہ لگا۔ کاروبار تعلیم ملازمت کے دروازے کھلنے لگے۔ 20 ویں صدی کے دوران، کئی قانونی اصلاحات کی گئیں جن کی بدولت خواتین کے حقوق میں بہتری آئی۔ مثال کے طور پر حق جائیداد، طلاق کے قوانین، اور ازدواجی حقوق میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ مختلف پالیسیاں بنائی گئی، حکومتی سطح پر اقدامات کیے گئے۔ یورپ میں بھی حقوق نسواں کے حوالے سے کئی تحاریک اٹھیں جیسے فیمینسٹ مومنٹ، سوفرج تحریک، ریپ ڈے مارچ، ویمنز لبریشن موومنٹ وغیرہ۔
ہندستان میں حقوق نسواں کی پکار قیام پاکستان سے پہلے پہنچ چکی تھی، انگریز سرکار کے دور میں ہی عورتوں کے حقوق سے متعلق مختلف اصلاحات کی گئی تھیں
پاکستان میں مختلف خواتین رہنماؤں نے بھی خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ان کے بعد گاہے بگاہے مختلف حکمرانوں نے زبانی، دستاویزی یا عملی طور پر حقوق نسواں کے لیے کام کیا۔ اگرچہ ان اصلاحات میں تبدیلیاں مسلسل آ رہی تھی لیکن اس کے معاشرتی اثرات بہت تیزی سے نہیں مگر بہت آہستہ اور سست تھے۔
بے نظیر بھٹو کے وزیراعظم بن جانے کے بعد پاکستان جیسے زرعی معاشرے میں عورت کا مورال بلند ہوا۔ اگر ہم 1947 سے 1990 تک کا عورتوں کی ترقی سے متعلق ریکارڈ اٹھا کے دیکھیں تو تعلیم، طب، زچہ بچہ کی صحت، قانونی معاملات اور سیاسی معاملات میں عورت کا حصہ لینے کی خاطر خواں تبدیلیاں نظر آنا شروع ہو گئی تھیں اگرچہ یہ تبدیلیاں سست ضرور تھیں مگر پائیدار تھیں کیونکہ حقوق کے سلسلے میں پاکستان میں تبدیلی ہی ممکن ہے کیونکہ انقلاب کی فضا یہاں دور دور تک نظر نہیں آ رہی تھی چونکہ یہ تبدیلیاں معاشرے میں وقت جدید تقاضے، معاشی تقاضے اور معاشرتی مجبوریوں سے رونما ہو رہی تھیں اس لیے متنازعہ اور بحث و مباحثے کا شکار نہیں ہو پائی تھیں۔ تبدیلیاں ہونا اور تبدیلی لائے جانے کا عمل ترقی پذیر معاشرے میں ایک مختلف حیثیت رکھتا ہے۔
آئیے اب ہم حقوق نسواں پر نظر ڈالتے ہیں کہ کون کون سے اہم اور بنیادی حقوق ہیں جن سے عورت کو محروم رکھا گیا اور مستقل رکھے جانے کی کوشش کی گئی
تو سب سے پہلا اور بنیادی حق زندگی ہے عورت کو زندہ رہنے کا حق ہے۔ پاکستان میں کئی ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ کئی لڑکیوں کو پیدائش سے پہلے لڑکے کی چاہ میں لڑکی کا پتہ چلنے پر ابارشن کے ذریعے قتل کر دیا جاتا ہے۔ بچیوں کے ہلاکتیں، بچیوں کو بچوں کے مقابلے میں ایدھی کے جھولے میں ڈالنے کے واقعات بہت زیادہ ہیں گویا جینے کی تمنا اس پدرسری نظام میں عورت کی اولین ترجیح ہے۔
دوسرا حق، حقِ خوراک ہے۔ پاکستان کی آبادی ساٹھ فیصد فیملی مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہیں، جو وقت کے ساتھ ساتھ اب 30 فیصد میں بدلتی جا رہی ہے۔ ان کی سوچ ہے کہ بچے کو بچی کے بنسبت زیادہ خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اور تقریباً ہر تیسری عورت اپنے ساتھ رونما ہونے والے ذاتی تجربات میں اپنے اور اپنے بھائی کے ساتھ ہونے والے اس صنفی امتیاز کا ذکر کرتے نظر آتی ہے۔
عورت کا تیسرا حق، حق ِتعلیم ہے پاکستان میں کراچی کو چھوڑ کر پورے پاکستان میں عورتوں کا تعلیمی تناسب مردوں سے بہت کم ہے۔ لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ پڑھایا جاتا ہے۔ صنفی امتیاز کی حد تو دیکھیں کہ اگر بیٹا بیٹی دونوں تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو کوشش کی جاتی ہے کہ معیاری اسکول میں بیٹے کا داخلہ کروایا جائے تاکہ وہ گھر کا سربراہ بن کر گھر کے معاشی معاملات چلا سکے۔ مگر اب یہ تصور بری طرح ڈھے چکا ہے۔
عورت کا ایک انسان ہونے کے ناتے چوتھا حق، حق روزگار ہے اس کا حق ہے کہ اس کی جاب کے لیے مخصوص ادارے نہ ہوں مرد عورت کی تنخواہ برابر ہو
سیکیورٹی یا تحفظ کا حق پانچواں حق ہے اداروں، گھروں میں جنسی اور صنفی طور پر ہراساں کیا جانا، بلیک میل کرنا بھی ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے اور عورت اس حق سے بھی محروم نظر آتی ہے اعداد و شمار کے مطابق ہر دوسری عورت گھر، جاب یا دیگر کام کرنے والے ادارے میں ہراسانی کا شکار ہوتی ہے۔
عورت کا چھٹا حق شادی اور خاص طور پہ پسند کی شادی کا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں مرد بھی عورت کے ساتھ پس گیا ہے کیونکہ عموماً مرد اس کا شکار عورت کی ہی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ غیرت کے نام پر اس حقوق سے محرومی عورت کے ہی حصے میں آتی ہے اور اس حقوق کے خلاف جتنے غیرت میں قتل ہوئے ہیں وہ لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے ہوئے ہیں لڑکے کے گھر والوں نے لڑکے کی شادی کو تسلیم کر لیا ہوتا ہے لیکن لڑکی کے اس حق کو تسلیم نہ کرنا گھر کے مردوں کے لیے غیرت کا مسئلہ بن جاتا ہے اور لڑکی کے ساتھ لڑکے کی بھی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
حق طلاق عورت کا ساتواں بنیادی حق ہے اگرچہ مذہب اسلام نے عورت کو علیحدگی کا حق دیا ہے مگر ہم ہندوستانی معاشرے میں رہتے رہے ہیں یہاں طلاق کا لفظ ڈکشنری میں موجود ہی نہیں تھا۔ ہم چونکہ کنورٹڈ مسلم ہیں تو طلاق کا عمل ہمارے معاشرے میں منحوس اور قبیح سمجھا جاتا ہے جب کہ مسلمانوں میں خلع لینے کا اختیار موجود ہے لیکن معاشرے کے مروجہ رواج نے اس طریقے کو مشکل اور گھناؤنا بنا دیا ہے خلع کے لیے کئی کئی سال کیسز چلنا، عورت کے کردار پہ کیچڑ اچھالنا، حق مہر سے دستبرداری، پیسوں کا ضیاع، کوٹ کچہری کے چکر لگانے نے اس طریقے کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
بیوگی کے بعد دوبارہ شادی کا حق، پاکستان برصغیر پاک و ہند کی روایات کا حصہ نہیں رہا ہے اس لیے یہاں ہزاروں سال سے عورت مرد کے ساتھ ستی ہوتی رہی تھی اور پھر انگریزوں کی اس رسم پہ پابندی یا دنیا کی بدلتے ہوئے تقاضوں نے حالات کو تبدیل کر دیا تو ستی تقریباً ہندو پاک سے ختم ہی ہو گئی لیکن اثرات اس کے خاتمے کے بعد بھی دکھائی دیتے ہیں۔ بیوہ کی زندگی جہنم سے بدتر کر دینے کا رواج عام ہوا بیوہ کا کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، گھومنا سب حرام ٹھہرا انڈین فلم پریم روگ میں اس مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اس موضوع پر کئی فلمیں بنائی گئیں۔ پاکستان میں آج بھی دیہی علاقوں میں بیوہ کے لیے زندگی گزارنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
سیاسی معاملات میں حصہ لینا عورت کا گیارہواں حق ہے۔ سیاسی معاملات میں حصہ لینا اور اپنی نمائندگی کو واضح طور پہ ریکارڈ کروانا ہے اور اسی حق کے ناتے مختلف سرکاری عہدوں پر فائز ہونا۔
عورتوں کو قانون کے دیگر معاملات میں پورے حقوق دیے جائیں اس کی پوری گواہی تسلیم کی جائے اور صنفی امتیاز کے بغیر اسے قانونی تحفظ اور تمام انسانی حقوق دیے جائیں۔
یہ سب عورت کے معاشرے میں لازمی اور بنیادی حقوق ہیں جو مرد کے مقابلے میں عام انسان ہونے کے باوجود اسے میسر نہیں ہیں آئیے اب ہم ایک نظر ڈالتے ہیں عورت مارچ پہ جو پاکستان میں 2018 میں منعقد کیا گیا اور اس کے بعد ایک متنازعہ صورت اختیار کر گیا۔ عورت مارچ سے پہلے میں آپ پر واضح کر دوں کہ میں حقوق نسواں کی بہت بڑی داعی ہوں اور خود بھی وہ تمام حقوق حاصل کر چکی ہوں۔ حقوق دو طرح سے حاصل ہوتے ہیں انقلاب کی صورت میں یا تو چھین لیے جاتے ہیں یا پھر معاشی اور معاشرتی تبدیلی جو وقت کی ضرورت ہوتی ہے اس کے تحت دے دیے جاتے ہیں۔ اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی اور ریاستی اصلاحات کو قانونی شکل دی جاتی ہے۔
پاکستان جیسے معاشرے میں یہ اقوال مشہور ہوتے ہیں کہ مرد کے پاس طاقت اور پیسہ آتا ہے تو اسے ایک سے زیادہ عورتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر عورت کے پاس پیسہ آ جائے تو اسے ایک مرد کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس طرح کی باتوں سے مرد میں عدم تحفظ کے جذبات ہمارے معاشرے میں پھیل رہے ہیں ایسے معاشرے میں جہاں 80 فیصد مردوں کو اپنا دفاع عورت کے استحصال کی صورت میں نظر آتا ہے اور وہ اس کے لیے مذہب کا ہتھیار خوب استعمال کرتے ہیں وہاں حقوق نسواں حاصل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ وہاں عورتیں مردوں کو گالیاں دے کر ان حقوق کو حاصل نہیں کر سکتی ہیں۔ ان عورتوں اور مردوں کو سمجھنا پڑے گا کہ گالیاں اور نعرے حقوق نسواں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔
عورت مارچ کے سلسلے میں جو نعرے اور پمفلٹ اس مارچ میں اٹھائے جاتے ہیں جو بعد میں سوشل میڈیا اور دیگر عوامی پلیٹ فارم کا متنازعہ حصہ بن جاتے ہیں وہ نعرے اپنی نوعیت کے ایک مختلف نعرے تھے اس سے پہلے 1960 اور 1970 میں ہونے والی تحریک جو کہ یورپ میں بہت مقبول ہوئی اور جس کی وجہ سے وہاں کی عورت آج اپنے تمام حقوق حاصل کرچکی ہے اس میں بھی نظر نہیں آئے تھے۔ مگر یورپ میں آزادی نسواں کی جتنی تحریکیں چلیں ان میں جتنا بھی سرچ کر لیں ایسے کوئی پوسٹر نظر نہیں آئے جو اس قسم کے نعروں کے نعم البدل ہوں۔
گویا ایسا معاشرہ جہاں بنیادی حقوق حق زندگی، حق خوراک، حق تعلیم، حق شادی، حق اولاد، حق جائیداد، حق طبی وسائل اور حق ووٹ اور سیاسی نمائندگی حق ہوں تو وہاں اس طرح کے نعرے کیا حقوق نسواں کے لیے بہتر راہیں ہموار کر رہے ہیں؟
جب عورت کو حق زندگی، حق تعلیم، حق روزگار مل جائے گا تو وہ چائے گرم کرنا، کھانا گرم کرنا، کھانا پکانا، بچے اپنی مرضی سے پیدا کرنے کے حقوق خود بخود اس کی جھولی میں آ گریں گے کیونکہ اکثر تعلیم یافتہ عورتوں کا کہنا یہی ہے کہ ان کے شوہر ان کے ہر طرح سے مددگار ہیں جبھی وہ تعلیم اور دیگر کام سر انجام دے پاتی ہیں تو گویا یہ نعرے شروعات میں لگانا، اور اصل حقوق کے نعروں کا منظر سے غائب ہو جانا حقوق نسواں کی تحریک کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، وہ بھی اس وقت جب حقوقِ نسواں کے سلسلے میں تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کے ایک سروے میں پاکستان کو خواتین کے لیے دنیا کا چھٹا خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔
عورت مارچ پاکستان میں لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں منایا جاتا ہے۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں پاکستان میں عورت مارچ کے سلسلے میں لگائے جانے والے نعروں پر، جس نے حقوق نسواں کی تحریک کو نقصان پہنچایا، ان میں کچھ نعرے اتنے سطحی تھے کہ میں نے لکھنا مناسب نہیں سمجھا۔
میرا جسم میری مرضی
میں رنگ مناواں کہ جنگ مناواں
آج واقعی ماں بہن ایک ہو رہی ہے
اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھ سے باندھ لو
عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین نہیں
لو بیٹھ گئی صحیح سے
خود کھانا گرم کرلو
رستہ چھوڑو اب ہم آ گئے
اب 1970 میں یورپی دنیا میں عورت مارچ کے نعرے۔
حاملہ عورتوں کو زچگی کی سہولیات دو۔
ہمیں انسانی حقوق فراہم کریں
عورتوں کی ہڑتال امن اور برابری کے لیے
Women are against of beauty contest
برابری کے حقوق کے بل منظور کر و
سوشل سیکورٹی کے قوانین کو ریوائز کرو
ڈھونڈنے سے بھی ایسے نعرے نہیں ملے جو پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں اس مارچ میں استعمال کیے گئے۔ جن بنیادی حقوق کا میں اوپر ذکر کرچکی ہوں ان سے متعلق پوسٹر نہ ہونے کے برابر تھے۔ یہ مرد عورت کی جنگ نہیں حقوق حاصل کرنے کا احتجاج ہے کچھ مخصوص خواتین اس مقصد کو پس پشت ڈال کر عورتوں سے دشمنی کر رہی ہیں۔
جب عورتوں کو مذکورہ بالا حقوق حاصل ہو جائیں گے تو اس سے مربوط بے شمار حقوق حاصل ہوجائیں گے۔ اس طرح کے نعرے مقاصد کے حصول میں مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں۔
عورت مارچ اور اس طرح کے نعروں کے بعد کیا خواتین کے حقوق کی فراہمی میں بہتری آئی ہے اگر ڈیٹا یا اسٹڈی دیکھیں تو نہ ہی تعلیم میں، نہ گھریلو تشدد میں نہ عصمت دری کے واقعات میں کمی آئی بلکہ اضافہ ہی دیکھا گیا ہے۔
ہاں اولاد کی پیدائش کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے چونکہ آبادی میں اضافہ حکومت کے مفادات اور ترجیحات سے تعلق رکھتا ہے تو اس کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں کی گئیں مگر دیہی علاقوں میں شرح سست رہی۔ زچہ بچہ کی صورت حال بہتر رہی اور اس کی وجہ عورت مارچ یا حقوق نسواں نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی حالات ہیں کہ ان حالات میں ایک مڈل کلاس فیملی ایک سے دو اولاد کی ہی متحمل ہو سکتی ہے۔
حقوق کی فراہمی اور حقوق نسواں سے متعلق واضح بہتری نہ آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ ہم اپنے مقاصد کو صحیح خطوط پر لے جانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ جذباتی نعرے بازی ہمارے مسائل کا حل نہیں، عورتوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مردوں کی تربیت و تعلیم پر زور دیا جائے تاکہ بہتر اور تعلیم یافتہ مردوں کے شانہ بشانہ رہ کر حقوق نسواں کی تحریک کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں اور مردوں کے برابر انسانی حقوق حاصل کیے جا سکیں۔



Nice article