مائکرو فکشن (چار کہانیاں)

اخبار کے داغ
وہ خوش بھی تھا اور پر عزم بھی۔ کہنے لگا اب مجھے قومی اخبار میں نوکری ملی ہے۔ میں مزید محنت سے رپورٹنگ کروں گا۔ تنخواہ فی الحال مقامی اخبار جتنی ہے لیکن امید ہے میرا کام دیکھ کر مالکان بڑھا دیں گے۔
چند دن بعد پھر ملا تو خاصا پرجوش تھا۔ اسے چونکا دینے والی ایک سٹوری ملی تھی جو مشہور بس کمپنی کی خواتین میزبانوں سے متعلق تھی۔ اسے پتہ چلا تھا کہ غریب گھرانوں کی یہ نوجوان بچیاں کئی طرح کے مسائل سے گزرتی ہیں جن میں جنسی ہراسانی بھی شامل ہے۔ کچھ کا تو باقاعدہ جنسی استحصال کیا جاتا تھا۔ اس نے بتایا کہ دو تین لڑکیاں تو اس پر بات کرنے کو تیار ہیں لیکن زیادہ تر خوف میں مبتلا ہیں۔
مہینہ بھر وہ آیا ہی نہیں۔ جب آیا تو بعد کی کہانی اس نے مجھے سنائی۔
” اس سنسنی خیز سٹوری میں اخبار کا ایڈیٹر اور مالک خاصی دلچسپی لے رہے تھے۔ میں نے دن رات ایک کر دیا۔ مکمل تحقیق کی۔ بس کمپنی کی میزبان لڑکیوں کی تنخواہوں، کام کے اوقات، دور کے شہروں میں رہائش کے انتظامات سمیت ہر طرح کی معلومات اکٹھی کیں۔ ایسی دو خواتین کو ڈھونڈ نکالا جنہوں نے نامناسب مطالبات کے باعث نوکری چھوڑ دی تھی۔ خوش قسمتی سے وہ انٹرویو دینے پر بھی آمادہ تھیں۔ میں نے محنت اور دردمندی سے طویل خبر لکھی اور چھپنے کے لیے دے دی۔
ایڈیٹر نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ سٹوری اتوار کے اخبار میں نمایاں انداز میں بیک پیج پر چھپے گی۔ مجھے یقین تھا کہ اتنی اہم تحقیقی خبر کو ایک چوتھائی صفحے پر تو ضرور چھاپا جائے گا۔ اب مجھے اتوار کا انتظار تھا۔
بے قراری میں ساری رات مجھے نیند نہ آئی۔ اتوار کی صبح ہوتے ہی میں گھر سے نکلا اور قریبی نیوز سٹال سے اخبار لیا۔ سیدھا بیک پیج پر پہنچا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ وہاں استحصال کا شکار مظلوم لڑکیوں کی کہانی کے بجائے اسی بس کمپنی کا نصف صفحے کا اشتہار چھپا ہوا تھا جس میں وہ کام کرتی تھیں۔
مالکان نے میری کئی دن کی محنت کو استعمال کر کے تگڑا اشتہار لے لیا تھا۔ میں دفتر پہنچا تو ایڈیٹر نے کہا اس سٹوری کو بھول جاؤ اور ایسی ہی کسی اور خبر پہ کام کرو۔ جلد ہی تمہاری تنخواہ بڑھا دی جائے گی ”۔
*** ***
غیرتِ ایمانی
غلام رسول تھیٹر سے نکلا تو ٹھٹک کر رہ گیا۔ وہ ڈرامہ ختم ہونے سے پہلے کبھی ہال سے نہ نکلتا اگر پیشاب نے اسے تنگ نہ کر رکھا ہوتا۔ وہ بہت دیر تک ضبط کر کے اس لیے بیٹھا رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو ادھر وہ ٹائلٹ جائے اور اُدھر نرگس کا ڈانس شروع ہو جائے اور اسی ڈانس کی خاطر ہی وہ تیسری بار یہ کھیل دیکھنے آیا تھا۔ ناچ کے دوران ردھم میں سیٹی بجانے کا اسے بہت مزا آتا تھا۔ یوں وہ جانتا تھا کہ نرگس کے بھڑکیلے ناچ کے بعد جلد ہی سٹیج شو ختم ہو جائے گا۔ وہ پیشاب دبائے بیٹھا رہا تاکہ ایک ہی بار باہر جائے۔
چنانچہ جونہی نرگس کا بوٹی بوٹی تھرکتا بدن پردے کے پیچھے اوجھل ہوا، وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہال سے باہر آیا اور سیدھا ٹائلٹ میں گھس گیا۔ فارغ ہو کر باہر نکلا تو اُسے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہ آیا۔ ایک لٹھ بردار ہجوم تھیٹر کی عمارت کے باہر جمع تھا۔ ڈرامے کے جو پوسٹر ان کی لاٹھیوں کی پہنچ میں تھے وہ پہلے ہی ٹوٹ کر حملہ آوروں کے پاؤں میں بکھرے ہوئے تھے۔ جو ذرا اونچے تھے ان پر پتھر برسائے جا رہے تھے۔ خوبصورت فنکاروں کے کٹے پھٹے چہرے جوتوں کے نیچے تھے! ایک موٹا سا شخص، جس کی شلوار ٹخنوں سے بہت اوپر تھی اور سر پر سیاہ ٹوپی، ہجوم سے نعروں کے انداز میں مخاطب تھا۔
غلام رسول ایک طرف کھڑا ہو گیا اور فحاشی کے خلاف تقریر سننے لگا۔ دوسری طرف کچھ لوگ ٹکٹ گھر توڑ رہے تھے۔ ٹکٹ بیچنے والا شاید بھاگ چکا تھا۔
اسی اثنا میں ڈرامہ ختم ہو گیا اور تماشائی ہال سے باہر آنے لگے۔ حملہ آوروں میں سے کسی نے ایک پتھر تھیٹر سے نکلتے ہوئے تماشائیوں پر اچھال دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی پتھر پوسٹروں کے بجائے تماشائیوں پر برسنے لگے۔ تماشائی سراسیمہ ہو کر ادھر اُدھر بکھرنے لگے تو ہجوم نے نعرے بلند کیے۔ کئی تماشائی زخمی ہو کر گر گئے۔ سیاہ ٹوپی والا بدستور لوگوں کی غیرتِ ایمانی کو آوازیں دے رہا تھا۔
غلام رسول میں ایک عجیب سا جوش بھر گیا۔ اُسے لگا جیسے جذبات کا ایک مرغولہ اس کے پیٹ سے اُٹھ کر سر کی طرف بڑھ رہا ہو۔ اُس نے جھٹ سے ایک پتھر اُٹھایا اور تماشائیوں پر پھینک دیا۔ پھر وہ پتھر مارتا چلا گیا۔
*** ***
فتح یاب
منیر کی شادی کر دی تھی میں نے۔ تمہیں بلانے کا سوچا تھا لیکن ایڈریس نہ فون نمبر۔ تم بھی تو ایسی گئیں کہ پلٹ کر خبر لی نہ دی۔ اب اتنی مشکل سے تمہارا نمبر ڈھونڈا ہے۔ ہاں ہاں، بہو بہت اچھی ہے۔ بس یوں سمجھو اللہ میاں کی گائے ہا ہا ہا۔ اب ایسا بھی نہیں کہ آئی ہی ایسی تھی۔ تم جانو آج کل کی لڑکیاں کتنی تیز ہیں۔ مانو پھل کاٹنے والی چھری۔ اس بی بی نے بھی آتے ہی پورے گھر پر قبضہ جمانے کی ٹھان لی۔ منیر پر طرح طرح کے داؤ پیچ آزمائے پر میں نے منیر کو اپنے ہی ہاتھ میں رکھا۔ اللہ رکھے میرے منیر نے بھی ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ وہ کیا کہتے ہیں بیوی کو پاؤں کی جوتی سمجھا۔ بس میں نے تین مہینے ہی میں بہو بی بی کے سارے پر پُرزے کتر دیے۔ اب تو ایسے ”ماں جی، امی جی“ کہتی آگے پیچھے پھرتی ہے جیسے گھر کی بلی۔
ارے ہاں، روشنی شادی کے بعد بہت خوش ہے۔ میاں اس کا انجینئر ہے اور دل کا بہت اچھا۔ پہلی رات ہی روشنی کا دیوانہ ہو گیا۔ کیسے نہ ہوتا۔ میاں کو قابو کرنے کے ایک ہزار گُر سکھائے تھے میں نے روشنی کو ۔ بھئی ساس اس کی بہت جھگڑالو عورت ہے۔ بیٹے سمیت سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی تھی۔ توبہ پوری قبضہ گروپ۔ آئے روز جھگڑا کھڑا کر دیتی لیکن آفرین ہے میرے داماد پر کہ ہمیشہ روشنی کی طرف رہا۔ جب ساس صاحبہ کی دال کسی طور نہ گلی تو سامان اُٹھا بڑے بیٹے کے ہاں چلی گئی۔ میری تو دعا ہے خدا سب کی بیٹیوں کو ایسا شوہر نصیب کرے۔
*** ***
بہادر شمشیر زن
جامع مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ مولانا کا خطبۂ جمعہ جاری تھا۔ الفاظ کوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔ اہل ایمان اور اہل کفر کے کسی جنگی معرکے کا تذکرہ تھا۔ سامعین کی آنکھوں کے سامنے تلواریں چمک رہی تھیں۔ سر تن سے جدا ہو کر ہوا میں اڑ رہے تھے۔
خون کی پھواروں کے بیچ نعرے بلند ہوئے۔ نمازیوں میں و لولہ ایمانی بھر گیا۔ مولانا کے چہرے پر سپاہیانہ چمک آ گئی۔ وہ آنکھیں نکال نکال کر کفار کی بزدلی اور مجاہدین خدا کی بہادری کے قصے سنا رہے تھے۔ ان کے گلے کی رگیں اور نتھنے بار بار پھولتے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ خود ایک بہادر شمشیر زن ہوں اور عربی گھوڑے پر سوار ہو کر کفار کی گردنیں اڑا رہے ہوں۔
ایک دم قیامت آ گئی۔ خود کش بمبار نے نعرہ بلند کیا اور دروازے پر پھٹ گیا۔ دھماکے کی شدت سے مولانا منبر سے اڑے اور محراب کی دیوار سے ٹکرا کر فرش پر آ رہے۔ انہوں نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں۔ مسجد کی چٹائیوں پر سچ مچ کا خون نظر آیا تو مارے خوف کے ان کی دھڑکن رکنے لگی۔ کئی نمازی بے حرکت پڑے تھے۔ زخمی درد کی شدت سے چیخ رہے تھے۔
مولانا نے لرز کر آنکھیں بند کر لیں اور جسم ٹٹولنے لگے۔ انہیں کوئی زخم نہیں آیا تھا اور وہ بالکل ٹھیک تھے۔ آنکھیں کھولیں تو سامنے محراب کی دیوار پر انسانی گوشت کا لوتھڑا چپکا ہوا تھا جس سے قطرہ قطرہ خون ایک نمازی کی مردہ آنکھوں پر ٹپک رہا تھا۔
مولانا پر خوف سے کپکپی طاری ہو گئی۔ کانپتے کانپتے انہیں جھرجھری سی آئی۔ اچانک ان کا جسم پھڑکا اور ٹھنڈا ہو گیا۔

