ریاست کہانی ( 5 مائکروف)

ریاست اور بم لاش دو سو کلومیٹر دور سڑک کنارے پڑی تھی۔ بوڑھے باپ نے کرائے پر گاڑی لی۔ مقتول کا سات سالہ بیٹا ساتھ بٹھایا اور سفر شروع کر دیا۔ چند ماہ پہلے سفید کپڑوں میں ملبوس ریاستی اہلکار اسے گھر سے اٹھا کر لے گئے تھے۔ اسی دن سے وہ اس خبر کا منتظر تھا۔ اس کا بیٹا مٹی اور خون میں لتھڑا اوندھے منہ زمین پر پڑا تھا۔ ایک آنسو گرائے بغیر اُس نے لاش کو سیدھا

Read more

اسکندریہ کی ہائپیشیا اور مابعد جدید عہد

غالباً نوم چومسکی نے کسی جگہ لکھا تھا کہ آپ کون سے مابعد جدید عہد کی بات کرتے ہیں؟ آج بھی اسی فیصد امریکی ”خروج“ پر یقین رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ خروج عہد نامۂ عتیق (بائبل) کا وہ باب ہے جس میں خدا اسرائیلیوں سے کہتا ہے کہ جب حملہ کرو تو دشمنوں کو یکسر تہ تیغ کر دو ، ان کی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر رحم نہ کھاؤ اور ان کے گھروں عبادت گاہوں کو بھی جلا

Read more

بارڈر سے مائکرو فکشن – تین کہانیاں

1- جان بچانے کی خاطر جب یہ واقعہ پیش آیا، مجھے اُس پہاڑی سرحدی چوکی پر تعینات ہوئے ایک ماہ گزر چکا تھا۔ چوکی بلند پتھریلے پہاڑ کی ڈھلان پر بنائی گئی تھی۔ پوسٹ سے کوئی تین سو گز نیچے خشک برساتی نالہ تھا جس کا پاٹ کئی سو گز تھا۔ اس میں جابجا چھوٹے بڑے پتھر تھے۔ ہماری پوسٹ کے سامنے، نالے کے پرلے کنارے سے ایک ٹیکری بتدریج بلند ہوتی چلی گئی تھی۔ اس ٹیکری پر لگ بھگ

Read more

مائکرو فکشن – 3 مائکروف

1- زیرِ زمیں سے آتی آوازیں ہم جانتے ہیں کہ وہ آج پھر آئے گا۔ اس بڑے نیم تاریک کمرے میں، جہاں صرف دو زرد بلب روشن ہوتے ہیں۔ جب ہمیں لایا جاتا ہے، کچھ دیر بعد وہ آ جاتا ہے۔ وہ ہم سے خطاب کرتا ہے لیکن اپنے خطاب کو گفتگو کہتا ہے۔ کرسی پر بیٹھتے ہی، جس کے سامنے ہم زمین پر بیٹھے ہوتے ہیں، وہ آغاز کر دیتا ہے۔ لہجے میں مصنوعی شیرینی گھول کر وہ ہمارا

Read more

مائکرو فکشن (تین کہانیاں)

کہانی چل رہی ہے ”باتیں کرنے کا کیا فائدہ۔ آتے ہیں کچھ باتوں کے شوقین۔ پوچھتے ہیں کیا کہانی ہے تمہاری، کہاں سے آئی ہو؟“ پر وہ کم ہی ہوتے ہیں۔ زیادہ تر تو ۔ ہاہاہاہا۔ اب میں تمہیں کیا بتاؤں۔ ایک دن کی بات سنو۔ بس اتنا کہا ”کنڈی لگا دو “ میں دروازہ لاک کر کے پلٹی تو توبہ۔ وہ الف ننگا کھڑا تھا۔ لو جی بس یہی تین لفظ بولے اُس نے پوری ملاقات میں۔ کئی باتونی

Read more

سمپورن سنگھ کالرا : سرحد کے دونوں جانب مہکتا گلزار

دُنیا سے عدم اطمینان کا اظہار ہر بڑے فن کی بنیاد بنتا ہے۔ ہر نئی ایجاد، نئی کہانی یا نئی نظم، گویا دُنیا کو بہتر بنانے کی کوشش ہے یا پھر کسی خلا کو پُر کرنے کی کاوش۔ شاعر اور ادیب نغموں، نظموں اور کہانیوں میں دُنیا کی ایک اپنی تصویر بناتے ہیں۔ اِن کی تحریر میں ایک نئی دُنیا بستی ہے جو پڑھنے والوں کی آنکھوں میں بھی بَس جاتی ہے۔ یہ دُنیا در دُنیا بساتے ہیں۔ پھر ایک

Read more

مائکرو فکشن (چار کہانیاں)

اخبار کے داغ وہ خوش بھی تھا اور پر عزم بھی۔ کہنے لگا اب مجھے قومی اخبار میں نوکری ملی ہے۔ میں مزید محنت سے رپورٹنگ کروں گا۔ تنخواہ فی الحال مقامی اخبار جتنی ہے لیکن امید ہے میرا کام دیکھ کر مالکان بڑھا دیں گے۔ چند دن بعد پھر ملا تو خاصا پرجوش تھا۔ اسے چونکا دینے والی ایک سٹوری ملی تھی جو مشہور بس کمپنی کی خواتین میزبانوں سے متعلق تھی۔ اسے پتہ چلا تھا کہ غریب گھرانوں

Read more

عاشورے میں اتنی کشش کیوں ہے؟

اکثر یہ بات سننے پڑھنے میں آتی ہے کہ شیعہ اگر ملحد بھی ہو جائے تو رہتا شیعہ ہی ہے۔ پورا سال نہیں تو محرم کے 10 دن تو وہ ضرور امامی اور کربلائی نظر آئے گا۔ جون ایلیا کے اس مشہور شعر سے یہ بات ادبی دلیل بھی حاصل کر لیتی ہے خدا نہیں ہے تو کیا حق کو چھوڑ دیں اے شیخ غضب خدا کا ، ہم اپنے امام کے نہ رہیں جوش ملیح آبادی کے الحاد اور

Read more

احمد ندیم قاسمی کی برسی کے حوالے سے مضمون

10 جولائی 2006 کو حضرت احمد ندیم قاسمی کا انتقال ہوا۔ ان کی برسی کی مناسبت سے کچھ یادیں پیش ہیں۔ مضمون میں جس دفتر کا ذکر ہے اس میں آج کل جناب عباس تابش جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ (ش، ن) ۔ ۔ ۔ کیا میں سورج پہ روشنی ڈالوں! تحریر : شہزاد نیر اردو کی دسویں جماعت کی کتاب میں ایک کہانی تھی ”گھر سے گھر تک“ ۔ سکول میں پڑھنے سے پہلے ہی گھر پہ پڑھ لی۔ پھر

Read more

مائکرو فکشن (5 کہانیاں)

"دو ہزار بندے” استاد بندے علی خاں آنکھیں بند کیے سر سمندر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ٹھمری کی تانیں سامعین پر سحر طاری کر رہی تھیں۔ واہ واہ، سبحان اللہ کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ سازندوں نے جیسے سازوں میں جادو بھر لیے تھے۔ وہ استاد کی طرف دیکھتے ہوئے انگلیوں کو سروں کی رفاقت میں جنبش دے رہے تھے۔ رات کے سناٹے میں سماں بندھا ہوا تھا کہ اچانک پچھلی قنات کھل کر سٹیج پر آ گری۔ اس

Read more