رابرٹ چانڈیو کا پہلا مس فائر


”اے سالک، اب کیسٹ کو اندر ڈال کے دیکھ بابا، ایسی ظالم گراری سیٹ کی ہے اب مکھی نہیں آئے گی فلم میں“ ۔ دینو نے نیشنل کمپنی کے وی سی آر کے ہیڈ کو دس روپے کے کرارے نوٹ اور سپرٹ سے صاف کرتے ہی سالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ سالک نے کیسٹ اندر ڈالی اور تھوڑی سی گھوں گھوں کرنے کے بعد ٹی وی کی اسکرین پر بناکا گیت مالا کا پہلا گانا شروع ہوا اور مادھوری ڈکشٹ جلوہ گر ہو گئی

دیکھا ہے پہلی بار
ساجن کی آنکھوں میں پیار

ساتھ ہی سب نے اپنی بندوقیں اٹھا کر خوشی کا اظہار کیا اور خدا بخش کا ڈھابہ ڈاکوؤں کی للکار اور بے ہنگم ناچ سے تھرتھرانے لگا۔

ڈاکو وریام سانگھی کا گینگ بہت دنوں سے اندرون سندھ میں حاجی خان نامی گاؤں کے آس پاس ڈیرہ ڈالے ہوئے تھا۔ بے چین مخبروں کا کہنا تھا کہ پولیس گھیرا تنگ کر رہی ہے لیکن وریام سانگھی اپنی طاقت کے نشے میں مست تھا۔ جو پولیس بارہ سال میں اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی وہ اب کیا کر لے گی۔ اپنی مرغوب غذا انڈا گھوٹالا کا آخری نوالہ لے کر وریام سانگھی نے تھالی پر لگا سالن چاٹا اور اس کو پلٹ کر بجاتے ہوئے گانے میں ایکسٹرا جھنکار شامل کرنے لگا۔

یہ دھما چوکڑی جاری تھی جب موٹا سانول بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا اور چیخ کر ”پولیس پولیس!“ کا شور مچانے لگا۔ کسی نے سانول کی آواز نہ سنی کیوں کہ بچپن میں گرم حلوہ کھانے سے اس کے گلے کے تار سڑ چکے تھے۔ اپنی طرف سے وہ پوری بات کرتا تھا لیکن دوسروں کو صرف غوں غاں ہی سنائی دیتی تھی۔ سب نے سمجھا موٹا سانول بھی مادھوری کو دیکھ کر خوش ہو رہا ہے۔

موٹے سانول کے ہاتھ میں اب بھی حلوے کی پلیٹ تھی جس کو سنبھالتے ہوئے اس نے وریام سانگھی کے کان میں کچھ غوں غاں کی جو اسے نہ سمجھ آئی۔ آخرکار سانول نے اسے سنتری کی طرح سلیوٹ مارا اور باہر کی طرف اشارہ کیا۔ یہ دیکھتے ہی وریام سانگھی نے باہر کی طرف دوڑ لگائی۔ قریب کی آبادی میں ہلچل محسوس کرتے ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ گھیرا واقعی تنگ ہے لیکن پھر اس نے پلٹ کر تقریباً ایک کلومیٹر دور آدم کی پہاڑی کی طرف دیکھا جہاں اس کے گھمنڈ اور غرور کی وجہ رابرٹ چانڈیو موجود تھا۔

اس پہاڑی پر ایک بڑا سا چپٹا پتھر بالکل ایسی شکل کا تھا جیسے کسی انسان کا پاؤں۔ اسی پتھر پر رابرٹ چانڈیو اوندھے منہ اور سر پر بھوری چادر تانے لیٹا ہوا تھا۔ چادر کے اندر سے بیرٹ ایم 90 نامی رائفل کی لمبی نال نکلی ہوئی تھی اور اس کے اوپر لگی دوربین سے وہ خدا بخش کے ڈھابے پر نظر رکھے ہوئے تھا لیکن اس کا دماغ بانو کے خیالوں میں گم تھا۔ بانو اسے مراد آباد کے پاس پیپل شاہ کے مزار پر ملی تھی۔ چال میں ہلکی سی لنگڑاہٹ لیے وہ اپنے گاؤں سے پیدل چل کر کسی کے لیے منت کا دھاگا باندھنے آئی تھی لیکن رابرٹ کے دھاگے میں بندھ گئی۔ وہ رات گئے مزار میں موجود پیپل کے پیڑ تلے ملنے لگے تھے۔

رابرٹ چانڈیو نے موٹے سانول کو بھاگ کر اندر جاتے ہوئے دیکھا تو سر سے چادر ہٹائی اور چاروں طرف نظر دوڑائی۔ مراد آباد کی طرف سے اسے دھول اڑتی نظر آئی جو تیزی سے حاجی خان گاؤں کی طرف بڑھ رہی تھی۔ یہ کمک تھی جو پہلے سے پہنچ جانے والی پولیس پارٹی کے لیے آ رہی تھی۔

رابرٹ چانڈیو نے چادر اتار پھینکی۔ وہ حیران تھا کہ پولیس ڈھابے تک پہنچ کیسے گئی۔ اب اس کا امتحان شروع ہونے والا تھا۔ اس نے محسوس کیا تھا کہ بانو کی وجہ سے اس کی توجہ اکثر بٹ جاتی ہے۔ لیکن اب وہ مکمل چوکنا تھا۔

اس نے سر کے پیچھے بندھے بالوں کے جوڑے میں اڑسی سگریٹ نکال کر دانتوں میں دبائی اور تیلی پتھر پر رگڑ کر سلگائی۔ کمر کے بل لیٹ کر اس نے لمبے کش لگائے اور بھرپور دھواں چھوڑا۔ ہوا کی سمت معلوم کرنے کا یہ طریقہ اس کے استاد بہرام سانگھی نے اسے سکھایا تھا جو وریام سانگھی کا بھائی تھا۔

10 سال پہلے بہرام سانگھی اس گینگ کا واحد توپچی (سنائپر) تھا جو ایک ڈاکے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے مر گیا تھا لیکن وہ گینگ میں نئے شامل ہونے والے نوجوان رابرٹ چانڈیو کو اتنا مشاق کر گیا تھا کہ اڑتی چڑیا کے ساتھ ساتھ دور کھڑے پولیس والے بھی اس کی لمبی نال والی رائفل سے نکلی گولیوں سے بچ نہ پاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ پولیس کو وریام سانگھی سے زیادہ رابرٹ چانڈیو کی تلاش تھی۔

”بچے یہ بات اپنی کھوپڑی میں بٹھا، جو تو کسی کا نشانہ لے گا تو یاد رکھنا، تو بھی کسی کے نشانے پر ہو گا۔ تجھے نظر نہیں آنا ہے، ایک دم غائب رہنا ہے بابا بھوت بن جانا ہے بھوت“ ۔ پکے سانولے رنگ پر سفید خشخاشی داڑھی والے بہرام سانگھی کا نوجوان رابرٹ چانڈیو کو توپچیوں کی دنیا میں قدم رکھنے پر یہ پہلا سبق تھا۔ اسے اپنے باپ سے ملنے والی سیکھ رابرٹ چانڈیو کو منتقل کرنی تھی جو انگریز سرکار کی فوج میں توپچی تھا۔

اس نے رابرٹ چانڈیو کو سکھایا کہ لمبی نال والی سنائپر رائفل سے نشانہ باندھتے وقت سانس کیسے لینی ہے، ہوا کا رخ کیسے ماپنا ہے اور لوہے کی دو انچ لمبی گولی کو نیچے کی طرف کھینچتی ہوئی زمین کی کشش کو بھی ذہن میں رکھنا ہے۔ ”کسی درخت کے پتے، کوئی جھاڑ یا کھیت کو دیکھ کر تو نے اندازہ لگانا ہے کہ ہوا کیسے چل رہی ہے۔ آگے سے پیچھے، دائیں سے بائیں یا اوپر سے نیچے“ ، زمین پر پیٹ کے بل لیٹے بہرام نے جب رابرٹ کو یہ سبق دیا تو رابرٹ نے حیرانی سے پوچھا تھا، ”اور اگر بنجر زمین ہو دور دور تک؟“ بہرام نے فخریہ نگاہوں سے رابرٹ کو دیکھا اور پوچھا، ”بچہ تو سگریٹ تو پیتا ہے نا؟“ ۔

آدم کی پہاڑی پر لیٹا رابرٹ چانڈیو سگریٹ کا دھواں پھونکتے ہوئے ہوا کے رخ کا اندازہ لگا چکا تو اس نے اٹھ کر بھوری چادر سے خود کو ڈھانپا اور بندوق کا رخ ایک فٹ بائیں کو موڑ کر دوربین پر دائیں آنکھ گاڑی اور پیٹ کے بل لیٹ گیا۔ اب کسی پولیس والے نے ذرا سی بھی حرکت کی تو یہ اس کی زندگی کی آخری حرکت ہو گی۔ لیکن اسے کوئی پولیس والا نظر ہی نہیں آ رہا تھا۔

بناکا گیت مالا رک چکی تھی اور سارے ڈاکو ڈھابے کی کھڑکیوں اور دروازے کی آڑ لے کر بندوقیں تانے پولیس کے حملے کا انتظار کر رہے تھے۔ ”وریام سانگھی! پولیس نے تمھیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو۔ یہ پہلی اور آخری وارننگ ہے“ ، انسپیکٹر الیاس کی آواز پورے علاقے میں گونج رہی تھی۔ وریام نے سب کو اشارہ کر دیا تھا کہ کوئی گولی نہ چلائے۔ اسے مکمل یقین تھا کہ رابرٹ باہر ہی سب کا حساب برابر کر دے گا۔

کچھ دیر اور خاموشی رہی تو انسپکٹر الیاس مائیکرو فون دوبارہ سنبھالتے ہوئے بولا، اگر تم لوگ رابرٹ چانڈیو کے حملے کے انتظار میں ہو تو بھی باہر آ جاؤ۔ وہ ہمارے قبضے میں ہے۔ ”یہ سنتے ہی پورے ڈھابے میں سراسیمگی پھیل گئی۔ سب نے پریشانی سے وریام سانگھی کی طرف دیکھا جو خود بھی بے یقینی کی کیفیت سے دوچار فرش پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آخر رابرٹ نے ابھی تک کسی پولیس والے پر گولی کیوں نہیں چلائی؟ کیا رابرٹ نے پولیس سے سودا کر لیا ہے؟ یہ نہیں ہو سکتا!

رابرٹ چانڈیو کو کوئی پولیس والا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ڈھابے کے آس پاس مکمل خاموشی تھی۔ اس کی پوری توجہ ڈھابے کے قریب موجود گھروں پر تھی جب اچانک اس کے قریب پڑے پتھروں پر ایک گولی آ کر لگی جن کے پیچھے وہ چھپا بیٹھا تھا۔ وہ کسی کے نشانے پر تھا۔ تیزی سے پیچھے کھسکتے ہوئے وہ اپنے مخصوص راستے سے اترنے لگا تو پولیس کو اپنے استقبال کے لیے موجود پایا۔

یہ گینگ ہی وریام سانگھی کا خاندان تھا۔ اس وقت گولی چلانا سب کو موت کے گھاٹ اتارنے کی سعی ہو گی۔ ہتھیار ڈال دیے گئے۔ مراد آباد تھانے میں جشن کا سماں تھا۔ دہشت ناک ڈاکوؤں کا گینگ اب قیدیوں کے روپ میں ڈھل چکا تھا۔ وریام اور رابرٹ کا سامنا ہوا۔ رابرٹ کی آنکھوں میں حسرت اور شرمندگی تھی وہیں وریام کی آنکھوں میں حسرت اور دلاسا تھا۔ انھیں معلوم تھا یہ آخری ملاقات ہے۔ رابرٹ کو الگ گاڑی میں سوار کرا کے اس کے منہ پر کپڑا ڈال دیا گیا۔

اگلے دن کراچی کے سینٹرل پولیس آفس میں مراد آباد کا تقریباً سارا تھانہ موجود تھا۔ سب کے لیے انعامات کا اعلان کر دیا گیا تھا خصوصی طور پر انسپیکٹر نائلہ بخاری اور اس کی ٹیم کے لیے تمغہ دیا جائے گا جس نے یہ کیس لیڈ کیا تھا۔

ڈی آئی جی روشن بیگ کے ساتھ چائے کی میز پر انسپکٹر الیاس موجود تھا۔ ”ویل ڈن الیاس! لیکن ابھی آدھا کام باقی ہے“ ۔ ”جی سر میں اچھی طرح سمجھتا ہوں آپ بے فکر رہیں“ ، انسپکٹر الیاس نے چائے کا گھونٹ بھرا اور بات جاری رکھتے ہوئے روشن بیگ سے مخاطب ہوا، ”لیکن آپ نائلہ بخاری کو زیادہ سر نہیں چڑھا رہے؟ انعام تو ٹھیک ہے لیکن تمغہ کس لیے ؟

روشن بیگ نے مسکراتے ہوئے چائے کی پیالی کو دیکھتے ہوئے کہا، ”پلان بھی تو سارا نائلہ کا ہی تھا نا، اسی کی وجہ سے تو گینگ پکڑا گیا ہے۔ تم خود بتاؤ اگر وہ یہ منصوبہ نہ بناتی تو کیا یہ سب ممکن تھا؟ اور پھر وہ چیف منسٹر کی پسندیدہ بھی تو ہے“ ۔ انسپیکٹر الیاس نے منہ بناتے ہوئے بڑبڑا کر یس سر کہا اور چائے کی خالی پیالی ایک طرف رکھ دی۔ ”لیکن سر جان جوکھم میں ڈال کر گینگ کو پکڑا تو میں نے اور۔“ ، انسپیکٹر الیاس کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا لیکن روشن بیگ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا، ”خاموش رہو، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، جو انعام تمھیں ملنے والا ہے اس کی فکر کرو، اور اب چلو چیف منسٹر صاحب اپنی آخری تقریب میں آنے ہی والے ہوں گے“ ، اسی کے ساتھ دونوں ہنستے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور انسپیکٹر الیاس نے ڈی آئی جی روشن بیگ کو سلیوٹ مار کر اس کے لیے کمرے کا دروازہ کھول دیا۔

ڈی آئی جی روشن بیگ کا بھائی کرامت بیگ، سرکار بنانے والی منتخب پارٹی کا رکن اور چیف منسٹر ہاشم درانی کے بعد دوسرے نمبر پر کرسی کا مضبوط امیدوار تھا۔ ہاشم درانی کچھ زیادہ ہی انصاف پسند واقع ہوا تھا۔ کرامت بیگ کے بہت سے بزنس اس کی وجہ سے بند ہونے کے قریب تھے۔ فیصلہ کیا گیا کہ ہاشم درانی کو راستے سے ہٹایا جائے اور قسمت سے وریام سانگھی گینگ کا سنائپر رابرٹ چانڈیو بھی ہاتھ لگ گیا۔ اب کرامت بیگ کو چیف منسٹر بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

حکومت کی طرف سے عوام کے لیے بنائے گئے نئے ہاؤسنگ کمپاونڈ کی تقریب کا پنڈال چار زیر تعمیر عمارتوں کے بیچ سجایا گیا تھا۔ رات آٹھ بجے تک مہمانوں کی آمد مکمل ہو چکی تھی اور چیف منسٹر ہاشم درانی سٹیج پر براجمان تھا۔ انسپکٹر نائلہ بخاری اور الیاس اپنی ڈیوٹی پر چیف منسٹر کے آس پاس موجود تھے۔

چار کانسٹیبل رابرٹ چانڈیو کو لے کر پنڈال کے سامنے والی عمارت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مخصوص جگہ پر پہنچ چکے تھے۔ رابرٹ چانڈیو کے منہ پر سے کالا کپڑا ہٹایا گیا تو اس نے اپنی پسندیدہ رائفل کو اپنے سامنے پایا۔ نامعلوم مقام پر چند ہفتے بغیر تشدد گزارنے کا مقصد تو وہ اسی وقت جان گیا تھا جب اسے چیف منسٹر ہاشم درانی کی تصویر ذہن نشین کرنے کے لیے دی گئی تھی۔

رابرٹ چانڈیو نے پیٹ کے بل لیٹ کر رائفل سنبھالی اور دوربین کی گراریاں گھمانا شروع کیں۔ ہاشم درانی اس کے نشانے پر تھا لیکن اس کا سر بار بار گھوم رہا تھا۔ رابرٹ نے اس سمت رائفل گھمائی تو اس نے دیکھا کہ ہاشم درانی ایک پولیس والی کے سراپے کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس نے پھر نشانہ باندھا تو ہاشم درانی کا سر اسی لمحے جھک گیا۔ ایک انسپکٹر اس کے کان میں کچھ کہہ رہا تھا جسے ہاشم درانی انہماک سے سن رہا تھا۔

رابرٹ نے دوربین کی گراری کو الٹی طرف گھمایا تو اسی لمحے انسپکٹر نے اپنی ٹوپی اتار کر بغل میں دبائی۔ رابرٹ انسپکٹر کو دیکھ کر چونک گیا۔ ماتھے پر زخم کا نشان، ناک کے دائیں نتھنے کی نیچے تل اور ٹھوڑی پر خراش کا نشان وہ پہلے بھی کہیں دیکھ چکا تھا۔ اتنی مماثلت! اس نے سوچا، نہیں یہ ناممکن ہے۔ وقت ہاتھ سے نکل رہا تھا۔ اسے جلد ہی کوئی فیصلہ کرنا تھا۔

انسپکٹر نے سر اٹھایا، ٹوپی واپس جمائی، چیف منسٹر کو سلیوٹ کیا اور ہلکا سا لنگڑاتا ہوا سٹیج کی سیڑھیوں کی طرف جانے لگا۔ رابرٹ کا شک یقین میں بدل چکا تھا۔ اس شرمناک دھوکے کی قیمت اس نے اپنے جذبات کے ساتھ ساتھ گینگ کی تباہی کی صورت میں چکائی تھی۔ رائفل پر اس کی گرفت سخت ہو چکی تھی۔ اس نے نشانہ باندھا اور گولی چلا دی۔ اس کے گولی چلاتے ہی چار گولیاں اور چلیں جو اس کے جسم میں پیوست ہو گئیں۔ یہی آرڈر دیا گیا تھا کہ گولی چلتے ہی رابرٹ چانڈیو کو ختم کر دیا جائے کیوں کہ وہ کبھی مس فائر نہیں کرتا۔

گولیاں چلنے کی آوازوں سے پنڈال میں افراتفری مچ گئی۔ چیف منسٹر کو فوراً حفاظتی حصار میں لے کر محفوظ مقام کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ انسپکٹر الیاس کی لاش سٹیج کی سیڑھیوں پر دھری تھی۔ گولی سر میں لگی تھی۔ صورت حال سنبھلنے کے بعد انسپکٹر الیاس کی لاش ایمبولینس کے حوالے کرتے ہوئے انسپکٹر نائلہ بخاری نے سوچا کہ ایک تمغہ تو اس بے چارے کو بھی ملنا چاہیے آخر سانگھی گینگ کی ساری معلومات اسی نے تو رابرٹ چانڈیو سے نکلوائی تھیں۔

Facebook Comments HS

خاور جمال

خاور جمال 15 سال فضائی میزبانی سے منسلک رہنے کے بعد ایک اردو سوانح ”ہوائی روزی“ کے مصنف ہیں۔ اب زمین پر اوقات سوسائٹی میں فکشن کے ساتھ رہتے ہیں۔ بہترین انگریزی فلموں، سیزن اور کتابوں کا نشہ کرتے ہیں۔

khawar-jamal has 54 posts and counting.See all posts by khawar-jamal

2 thoughts on “رابرٹ چانڈیو کا پہلا مس فائر

  • 25/07/2024 at 7:21 صبح
    Permalink

    good one

    • 25/07/2024 at 10:42 صبح
      Permalink

      Thank you

Comments are closed.