ہمارے مقبول گیت کہاں سے آتے ہیں؟
انیسویں اور بیسویں صدیوں میں پروان چڑھنے والی موسیقی کی اقسام میں رُھمبا یا رُمبا (Rhumba / Rumba) ، سامبا (Samba) اور سنتانا (Santana) بہت مقبول ہوئیں، اور آج بھی یہ دنیا بھر میں بہت شوق سے سنی جاتی ہیں۔
ان اصناف میں اظہار کی بھرپور طاقت، متحرک بیٹ [تال] اور طرز کی طربیہ ادائیگی، جدید موسیقی کے شائقین کی پسندیدگی کا بنیادی سبب ہیں۔ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود، ملتے جلتے علاقائی اور ثقافتی پس منظر کے سبب ان کے سازینے کی خاص ترتیب شائقین، مبصرین اور نقادوں کی مستقل توجہ کا مرکز رہی ہیں۔
رُھمبا جیسی طرز موسیقی کی شروعات انیسویں صدی کے آخر میں کیوبا میں ہوئی۔ اسی لئے اس کی بیٹ (تال) میں روایتی کیوبن۔ افریقی اثرات بہت واضح ہیں، اور کیوں کہ اگلے مراحل میں اس صنف موسیقی کی پرورش وسطی اور جنوبی امریکی ممالک میں ہوئی، لہذا رُھمبا موسیقی مجموعی طور پر کیوبن۔ افریقی اور ہسپانوی روایات کا مسحورکن امتزاج بن گئی۔
بین الاقوامی سطح پر رُھمبا گیت، ریکارڈنگ تکنیک میں ترقی اور ریڈیو سروسز کے قیام کے سبب پوری دنیا میں تیزی سے مقبول ہونے لگے۔ پھر جہاں کہیں رُھمبا گیت گایا یا بجایا جاتا، وہاں موجود لوگ تھرکنا شروع کر دیتے۔ شاید رقص، اس طرز موسیقی کا کم و بیش لازمی حصہ ہے، لہذا یہ دھنیں بال رومز، کلبز اور پارٹیز کا لازمی جُزو سمجھا جاتی ہیں۔
خاص بات یہ کہ دنیا بھر کے موسیقاروں کی طرح پاکستانی اور ہندوستانی موسیقاروں نے بھی رُھمبا طرز پر بہت سے گیت ترتیب دیے۔ ان موسیقاروں میں او پی نیر، کلیان جی۔ آنند جی، خلیل احمد، مصلح الدین اور انو ملک شامل ہیں۔
برصغیر میں رُھمبا طرز پر پہلا گیت غالباً انیس سو چون میں فلم ’آر پار‘ کے لئے تیار گیا۔ یہ مقبول گیت، ’بابو جی دھیرے چلنا، پیار میں ذرا سنبھلنا‘ گیتا دت نے گایا، اس کے موسیقار او پی نیر اور نغمہ نگار مجروح سلطان پوری ہیں۔
کوئی سات برس بعد ، سال انیس سو اکسٹھ میں، فلم ’زمانہ کیا کہے گا‘ کے لئے موسیقار مصلح الدین نے رُھمبا دھن پر پہلا پاکستانی گیت ترتیب دیا۔ یہ گیت، ’رات سلونی آئی، بات انوکھی لائی،‘ ناہید نیازی اور احمد رشدی کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ نغمہ نگار فیاض ہاشمی ہیں۔
سال انیس سو پینسٹھ میں فلم ’جب جب پھول کھلے‘ کے لئے سنگیت کاروں کی مشہور جوڑی کلیان جی۔ آنند جی نے گیت، ’یہ سماں، سماں ہے یہ پیار کا،‘ ترتیب دیا۔ لتا منگیشکر کے گائے ہوئے اس گیت نے بہت شہرت حاصل کی؛ نغمہ نگار آنند بخشی ہیں۔
پھر صرف ایک برس بعد ، یعنی انیس سو چھیاسٹھ میں، پاکستانی موسیقار خلیل احمد نے فلم ’لوری‘ کے لئے رُھمبا طرز پر ایک خوبصورت گیت، ’میں خوشی سے کیوں نہ گاؤں، میرا دل بھی گا رہا ہے،‘ ترتیب دیا۔ مجیب عالم کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا یہ گیت بہت مقبول ہوا۔ اس گیت کے بول ممتاز شاعر اور نغمہ نگار حمایت علی شاعر نے تحریر کیے۔ یہ گیت فلمسٹار محمد علی پر فلمایا گیا۔
رُھمبا دھن پر تیار کیا گیا پاکستان کا سب سے مقبول گیت، ”رات چلی ہے جھوم کے، بانہوں کو تیری چوم کے“ ، فلم ’جوش‘ کے لئے مصلح الدین نے ترتیب دیا، یہ گیت احمد رشدی اور ناہید نیازی نے گایا، اور چاکلیٹی ہیرو وحید مراد اور روزینہ پر فلمایا گیا۔ اس گیت کے شاعر بھی فیاض ہاشمی تھے۔
آنے والے مختلف ادوار میں بھی دنیا بھر کے فنکاروں کی طرح پاکستانی اور ہندوستانی موسیقاروں اور گلوکاروں نے رُھمبا طرز پر گیت بنانے اور گانے کا سلسلہ کسی نہ کسی سطح پر جاری رکھا۔ مہیش بھٹ کی سال دو ہزار چار میں ریلیز ہونے والی فلم ’مرڈر‘ میں اسی دُھن پر تیار کیا گیا الیشا چنائے کا گایا ہوا گیت، ’دل کو ہزار بار روکا روکا روکا،‘ ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں یکساں مقبول ہوا۔ اس گیت کے موسیقار انو ملک اور نغمہ نگار سعید قادری ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ یادداشت رقم کرتا چلوں۔ اس فلم کے ڈائرکٹر مہیش بھٹ سے ایک بار گفتگو کے دوران اس گیت کے رُھمبا طرز پر بننے اور احمد رشدی والے پاکستانی گیت ’رات چلی ہے جھوم کے‘ کے میٹر سے اس کی مماثلت کا ذکر کیا، تو کہنے لگے مجھے میں فوراً احمد رشدی والے گیت کا لنک بھیج دو؛ اتفاق سے لنک فوراً مل گیا، سو بھیج دیا۔ تھوڑی دیر میں بھٹ صاحب کا میسج ملا، ”یہ تو بالکل ایک ہی جیسے گانے ہیں یار۔“ میں نے جواب میں لکھا کہ کبھی پوچھئے گا انو ملک سے۔ اس پر انہوں نے ایک اسمائلی سے کام چلا لیا۔
موسیقی کی دوسری قسم یعنی سامبا کی ابتدا برازیل سے ہوئی۔ یہ بھی ایک متحرک موسیقی کی صنف ہے جو مقامی ثقافت کی خاص آئینہ دار ہے۔ ان صنف کی تاریخ نوآبادیاتی دور میں برازیل لائے گئے افریقی غلاموں کی حالات زندگی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ ان مظلوم غلاموں نے اپنی افریقی تال اور رقص کو پرتگالی روایات کے ساتھ ملا کر، موسیقی کی اس نئی قسم کو جنم دیا۔ اس طرز میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید تبدیلیاں رونما ہوئیں اور آج، سامبا دُھنیں تہواروں اور عام سماجی سرگرمیوں کے دوران گائی اور بجائی جاتی ہیں۔
فلم خوبصورت کے لئے موسیقاروں کی جوڑی جتن۔ للیت کے بنائے ہوئے گیت، ’بہت خوبصورت ہو،‘ نے بہت مقبولیت حاصل کی، یہ فلم سال انیس سو نناوے میں ریلیز ہوئی، اور یہ ابھی جیت اور نیرجا پنڈت کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ فلم میں یہ گیت سنجے دت اور ارمیلا پر پکچرائز کیا گیا ہے۔ نغمہ نگار گلزار ہیں۔ یہ خالص سامبا دُھن پر تیار کیا گیا گیت ہے۔
اس گیت کی مقبولیت سے چند برس قبل پاکستان کے مایہ ناز گلوکار سجاد علی، اپنا مشہور گیت ’دھیرے دھیرے آ بادل دھیرے‘ ترتیب دے کر سامبا دُھن پر پہلے ہی ایک انتہائی کامیاب تجربہ کرچکے تھے۔ سجاد کا یہ سامبا گیت کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بسوں، ویگنوں اور مختلف تقریبات میں برسوں بجایا جاتا رہا۔
موسیقی کا تیسرا انداز، یعنی سنتانا، نسبتاً کافی نیا ہے۔ یہ طرز موسیقی شہرہ آفاق امریکی گٹارسٹ کارلوس سنتانا نے ساٹھ کی دہائی متعارف کرائی۔ موسیقی کی اس جدید طرز کا نام اس کے موجد کے اپنے نام پر رکھ دیا گیا۔
کارلوس سنتانا نے 1960 کی دہائی کے آخر میں راک، لاطینی، جاز اور بلیوز کے زیر اثر، اپنی سنتانا طرز پر انتہائی کامیاب تجربات کر کے غیرمعمولی شہرت کمائی۔ سنتانا دُھنوں کی تال میں بھی افریقی روایات کی نشانیاں ملتی ہیں۔
سرد جنگ کے عروج کا یہ دور دراصل وسطی، لاطینی / جنوبی امریکہ اور افریقی ممالک میں انقلابی تحریکوں کا دور تھا، اور ان تمام خطوں کے فنکار رُھمبا اور سامبا سمیت نئی طاقتور موسیقی کے تمام تجربات سے استفادہ کر رہے تھے۔ ان کے انقلابی گیتوں میں ان تین اصناف کے ساتھ ساتھ، مقامی لوک دھنوں اور سب سے بڑھ کر لاطینی / ہسپانوی طرز موسیقی مقبول ترین رہے ہیں۔
سنتانا نے اپنی دُھنوں کی تیاری کے دوران گلوکاری اور بیٹ پر خاص طور پر زور دیا، اسی لئے اس خاص طرز موسیقی میں گلوکار براہ راست رِدھم کے ساتھ مستقل تعلق قائم رکھتا ہے، گویا سنتانا فن گلوکاری میں بھی خاص اور نیا انداز ہے۔
سنتانا دُھنوں کی دنیا بھر میں مقبولیت کے دوران پاکستان میں پاپ سنگر عالمگیر شہرت پا رہے تھے۔ ان کے ابتدائی دور کا گایا ہوا گیت، ’البیلا راہی،‘ بہت مقبول ہوا، اور آج بھی بہت سے پاکستانی شائقین کی سنہری یادوں کا حصہ ہے۔ یہ گیت اوریجنل ’گوانتانامیرا‘ کی دھن پر مبنی ہے، یہ دُھن کیوبا کی خاص ’گواہیرا‘ موسیقی کے زیر ہونے کے باوجود، سنتانا سے بہت قریب سنائی دیتی ہے۔
اس گیت کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے عالمگیر نے چند برسوں بعد اسی دھن پر ایک اور گیت، ’کہہ دینا آنکھوں سے،‘ بنایا اور گایا؛ اور یہ گیت بھی بہت مقبول ہوا۔ عالمگیر کی یہ دھن بہت سے گلوکار اگلے کئی برسوں تک اپنے اپنے انداز میں گاتے رہے۔
محمد علی شہکی، پاپ میوزک میں عالمگیر کے مدمقابل جلوہ گر ہو رہے تھے۔ انہوں نے بھی سنتانا طرز پر ایک گیت، ’جا جا جا میرے او بے وفا،‘ گا کر خوب شہرت کمائی۔ خاص بات یہ کہ ان دونوں پاکستانی پاپ سنگرز نے سانتانا پر تیار کیے گئے اپنے اپنے گیت گاتے ہوئے رقص کا مظاہرہ بھی کیا۔ شہکی کا ایک اور گیت، ’جو تھوڑا شرمائے، جو تھوڑا گھبرائے،‘ بھی کم و بیش اسی دھن پر بنایا ہوا گیت ہے۔ اس گیت کے موسیقار، آفتاب احمد، تھے۔ یہ دونوں پاکستانی سنگرز ایک بڑے عرصے تک ملک بھر کے نوجوان شائقین میں بہت مقبول رہے۔
پاکستان میں پاپ سنگرز کی نئی جنریشن میں فاخر بہت پسند کیے جاتے رہے ہیں۔ ان کا مشہور گیت ’ماہی وے [تیری یاد آتی ہے رے ]، سنتانا دھن پر بنے ہوئے کئی مغربی گیتوں کی یاد دلاتا ہے۔ اس گیت کو مشہور نغمہ نگار خواجہ پرویز نے لکھا تھا۔
موسیقی کی ان تینوں مقبول اصناف پر افریقی، پرتگالی اور ہسپانوی روایات کے ساتھ ساتھ افریقی اور لاطینی بیٹ (تال) کے گہرے اور واضح اثر ات ہیں۔ البتہ مذکورہ خطوں میں ان تین بڑی اصناف کے زیر اثر، واہیرا سمیت موسیقی کی دیگر ان گنت اقسام مقبول ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ افریقی اور لاطینی خطوں میں جنم لینے والی موسیقی کی یہ اولین اقسام ہیں جن کی مقبولیت کا سفر، ترقی پذیر دنیا سے شروع ہو کر ترقی یافتہ دنیا میں مکمل ہوا۔


