پلوامہ حملہ۔ اب بھی وقت ہے!

جمو ں و کشمیر میں پلوامہ کے واقعے پر غم وغصّے کی شدید کیفیت میں مبتلا بھارتی حکام اور رہنماؤں کو اگرچہ یہ سمجھانا فی الحال ممکن نہیں کہ معاملات کا دیرپا اور حقیقی حل آج بھی صرف مذاکرات کی صورت میں ہی ممکن ہے، پاکستان کی جانب سے تحقیقات میں تعاون کا پیغام بہرحال سر حد پار بھیج دیا گیا ہے۔ لیکن یہاں یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ دنیا بھر میں ریاستی اداروں کی پُر تشدد کارروائیوں کے حوالے سے پہچانی جانے والی اِس وادی میں، پیرا ملٹری اہل کاروں سے بھری 78 بسوں پر مشتمل ایک طویل اور سست رفتار قافلے کو سری نگر سے صرف بیس کلومیٹر زکے فاصلے پر ایک معروف ہائی وے سے گزارنے کا خیال، کسی بھی اِہل عقل کے لئے نا قابل قبول ہے۔

Read more

کراچی میں سٹریٹ کرائم اور بچوں کا اغوا

اِس بار بھی حالات کچھ اَیسی ڈگر پر چلتے نظر آ رہے ہیں جس سے اِس دیرینہ خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ ملک کے سیاسی، سماجی، سیکورٹی اور اِقتدار میں شامل عناصر پر آج بھی ہرلمحہ شہر کراچی کو سنوارنے کے بجائے اِس پر کنٹرول حاصل کرنے کا شوق اور جنوں طاری رہتاہے۔ بلا…

Read more

بائیں ہاتھ سے لکھی تحریر

بروس ڈی برائون امریکا میں آزادی صحافت پر اپنے مضامین کے سبب خاصے مقبول ہیں۔ اِس سال فروری میں شائع کردہ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ پہلے اُن کا خیال تھا کہ اُ نہیں جلد شمالی و جنوبی امریکا کے ایسے ممالک کا دورہ کرنا ہوگا جہاں آزادی صحافت زیر عتاب ہو۔ لیکن کچھ…

Read more

ریاست دکن کی یاد میں

ٹھیک ستر برس پہلے، سال 1948کا ستمبر برصغیر میں شمال سے جنوب تک بسنے والے مسلمانوں کے لئے ایک انتہائی اَعصاب شکن مہینہ تھا۔ پاکستانی قوم نے چند روزبیشتر ہی اپنا پہلایوم آزادی منایا تھا لیکن ماہِ ستمبر کے شروع ہوتے ہی قائد اعظم محمد علی جناح کی صحت سے متعلق اچھی خبریں موصول نہیں…

Read more

اٹل بہاری واجپائی کیا چاہتے تھے؟

سال 1975میں بھارتی وزیر اعظم اِندرا گاندھی کی جانب سے لگائی گئی ایمرجنسی اُن کے سیاسی مخالفین پر قہر بن کر ٹوٹ پڑی۔ بغیر کسی جرم کے گرفتار کئے جانے والے اِن مخالف سیاست دانوں میں اٹل بہاری واجپائی بھی شامل تھے۔ لہٰذا اُنہیں ’’نقض امن‘‘ کے خطرے کے تحت اُنیس مہینے جنوبی ہند کے…

Read more

تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کا اتحاد کس کو فائدہ پہنچائے گا؟

سال 1987کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایم کیو ایم اِنتخابات میں اَپنے رِوایتی اَنداز میںبڑی کامیابیاں حاصل نہیں کرسکی۔ شہری سندھ کی کوئی تین دہائیوں پر محیط اِنتخابی تاریخ کے تناظر میں یہ یقینا ایک غیر معمولی تبدیلی ہے۔ اَگرچہ اِس نئی صورتحال کے اَسباب کو کئی پہلوؤں سے پرکھا جاسکتا ہے لیکن…

Read more

کراچی کی سیاست کا شہزادہ سلیم

سال 1993 تھا او ر موسم گرما کی آمد تھی ۔کراچی میں عبداللہ ہارون روڈٖ پر واقع اولڈ سرکٹ ہائوس میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سید غضنفر علی شاہ پاکستان آرمی کے فیلڈ انوسٹی گیشن یونٹ سے تعلق رکھنے والے میجر کلیم الدین اور اِن کے ساتھیوں کے اغوا اور تشدد…

Read more

اُن کا آنا ٹھہر گیا ہے

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار یہ انوکھی صورتحال پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ پولنگ کے دن گزشتہ انتخابات جیت کر حکومت بنانے اور موجودہ نگراں حکومت کو اقتدار منتقل کرنے والی سیاسی جماعت کا سربراہ جیل میں اپنی بیٹی کے ساتھ سزا کاٹ رہا ہوگا! اگرچہ ملک کے سیاسی و عوامی…

Read more

کرانچی سے لہور تک

کراچی والوں سے ایک سادہ سا سوال ہے کہ شہباز شریف نے بھلا ایسا کیا کہہ دیا جس پر اتنی قیامت ٹوٹ پڑی ہے؟ یہ متنازع بیان گزشتہ ہفتے شہر میں شہباز شریف کی مصروفیات کے دوران ایک صحافی کے سوال پر اِن کے جواب سے منسوب کیا گیا ہے۔ سارا جھگڑا مذکورہ جملے میں…

Read more

عوامی نمائندوں سے بازپرس ضروری ہے

آج سے صرف دس یا پندرہ برس پہلے تک سردار جمال خان لغاری، سردار سلیم جان مزاری اور سکندر بوسن جیسے بااَثر سیاست دَان اپنے ساتھ پیش آنے والے تازہ ترین واقعات کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اپنے آبائی علاقوں کے غریب اور نہتے باسیوں کی جانب سے جاگیر دار گھرانوں سے تعلق رکھنے…

Read more