موسمیاتی تبدیلیاں اور ہم



اس وقت دنیا کو جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ موسمیاتی تبدیلیوں، گلوبل وارمنگ اور پانی کی کمی کا ہے۔ دیگر آفات کی طرح اس آفت سے بھی عورتیں اور لڑکیاں خواہ کسان ہوں یا مزدور، کنزیومر یعنی صارف ہوں یا اپنا گھر سنبھال رہی ہوں، ایکٹوسٹ ہوں یا لیڈر ہوں یا کاروباری منتظم ہوں، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ دنیا کے غریبوں میں اکثریت عورتوں اور بچیوں کی ہے اور اپنی روزی روٹی کے لئے مقامی وسائل پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ہر سطح پر ان مسائل کا حل بھی ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہیں۔ کراچی کے حوالے سے اگر میں بات کروں تو موسمیاتی تبدیلی پر کام کرنے والوں اور کراچی کو قابل رہائش بنانے کی کوشش کرنے والوں میں خواتین میں اس وقت سر فہرست نرگس رحمن ہیں، ان کے علاوہ عافیہ سلام، شبینہ فراز کے نام ذہن میں آتے ہیں۔ مردوں میں عارف حسن، نعمان الحق، محمد توحید، یاسر، احمد شبر، خالد محمود اور نالج فورم، اربن لیب اور دیگر این جی اوز کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کلائمیٹ ایکشن کے لئے عورتوں کو با اختیار بنانا کیوں ضروری ہے۔ ایسا کرنا اس لئے ضروری ہے کہ دنیا بھر میں خوراک کی پیداوار کی نصف ذمہ داری عورتوں نے اٹھائی ہوئی ہے۔ ترقی پذیر ملکوں میں تو وہ اسی فی صد تک اناج پیدا کرتی ہیں۔ دوسرے، ، عورتیں بغیر کسی معاوضے کے مردوں کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ گھر کے کام اور بزرگوں اور بیماروں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ جب کوئی قدرتی آفت آتی ہے جیسے سیلاب، جنگل کی آگ، قحط سالی یا طوفان تو عورتیں اضافی بوجھ سنبھالنی ہیں۔

عورتیں تبدیلی کی ایجنٹ ہیں، ان میں طالبات، مقامی عورتوں سے لے کر ممتاز شخصیات تک شامل ہیں۔ جو عالمی اور موسمیاتی تحریکوں کی قیادت کر رہی ہیں۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک اور خاتون کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے اور وہ ہیں شیری رحمن جو اپریل 2022 سے اگست 2023 تک موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطے کی وزیر رہیں۔ اتفاق سے اسی دوران 27 ویں بین الاقوامی کانفرنس آف پارٹیز ہوئی۔ جس میں انہوں نے انٹرنیشنل لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ قائم کرانے کے لئے لابنگ کی کیونکہ گلوبل وارمنگ کی ذمہ داری ترقی یافتہ صنعتی ممالک پر عاید ہوتی ہے اور اس کا خمیازہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کو اپنی تاریخ کے بد ترین سیلاب کا بھی سامنا کرنا پڑا ”۔ ہمیں بیک وقت موسمیاتی تبدیلیوں، آلودگی اور ماحولیاتی خطرات کا سامنا ہے۔ پاکستان ایک نہیں، کئی طرح کے موسمیاتی بحرانوں کا شکار ہے۔ اور ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے جسے گھما کر سارے مسائل کو حل کر دیا جائے۔“ ، گزشتہ دنوں کراچی پریس کلب کی اسکل ڈیولپمنٹ کمیٹی نے بھی موسمیاتی تبدیلی اور آبادی کے دباؤ پر ایک سیمینار کیا تھا۔

اس میں بھی ہم لوگوں کا یہی کہنا تھا کہ کلائمیٹ چینج کے لئے ہم جو بھی ایڈووکیسی کریں یا جو بھی پالیسی بنائیں، اس میں آبادی کی ڈائنامکس کو شامل کرنا ضروری ہے۔ ایک طرف آبادی میں اضافہ ماحولیاتی مسائل میں اضافہ کرتا ہے، دوسری طرف ماحولیاتی مسائل آبادی کو متاثر کرتے ہیں۔ جہاں ہمیں ایک طرف گلوبل گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو کم کرنا ہو گا، وہیں دنیا میں پائے جانے والی غربت اور نا برابری کو بھی کم کرنا ہو گا۔

کم آمدنی اور متوسط آمدنی والے طبقات کو خاص طور پر شہری علاقوں میں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ آبادی کی تعداد میں اضافے کا مطلب خوراک کی ضرورت میں اضافہ ہے۔ دوسری طرف کلائمیٹ چینج یا ماحولیاتی تبدیلی زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کرے گی۔ کیونکہ کلائمیٹ چینج کی وجہ سے درجۂ حرارت اور بارشوں میں کمی بیشی ہو گی۔ جیسے جون جولائی میں ہم نے کراچی میں ہیٹ ویو دیکھی اور اب بارشوں کی تباہ کاری دیکھیں گے۔

کچھ علاقوں میں کلائمیٹ چینج کی وجہ سے لوگوں کے معیار زندگی میں کمی آئے گی یا پھر انہیں اپنا پہلے والا معیار زندگی برقرار رکھنے کے لئے پہلے سے زیادہ وسائل درکار ہوں گے۔ کلائمیٹ چینج کے بہت سے سماجی اور اقتصادی اثرات کو اس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ پیداوار کے فکسڈ مقامی عوامل پر آبادی کا کتنا دباؤ ہے۔ ماحولیاتی اور ترقی کے بین الاقوامی انسٹیٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق سب صحارا افریقہ کا عالمی آبادی کے بڑھنے میں 18۔

5 % حصہ ہے جب کہ وہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اضافے کی شرح دو اعشاریہ 4 فی صد ہے۔ عالمی آبادی کی گروتھ میں امریکہ کا حصہ تین اعشاریہ چار فی صد ہے جب کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اس کا حصہ 12 اعشاریہ 6 فی صد ہے۔ آبادی کے عالمی اضافے میں چین کا 15 اعشاریہ 3 فی صد حصہ ہے۔ جب کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اس کا حصہ 44 اعشاریہ 5 فی صد ہے۔ چین میں پاپولیشن گروتھ میں بہت کمی آئی ہے کیونکہ وہاں حکومت سالوں سے آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیکن چین میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ کم آمدنی والی اقوام کا دنیا کی آبادی میں اضافے میں 52 اعشاریہ ایک فی صد حصہ ہے۔ لیکن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں صرف 12 اعشاریہ 5 فی صد حصہ ہے۔ جب کہ امیر اقوام کا دنیا کی آبادی میں اضافے میں صرف سات فی صد حصہ ہے۔ لیکن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اضافے میں 29 فی صد حصہ ہے۔ بیشتر اقوام جہاں آبادی میں اضافے کی رفتار سب سے زیادہ ہے وہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی شرح کم ہے۔

غریب قوموں میں ترقی، صحت اور انسانی حقوق کے حوالے سے مانع حمل اور جنسی اور تولیدی ہیلتھ سروسز کا زیادہ اہم حصہ ہے۔ لیکن یہ کلائمیٹ چینج کے مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کا سبب تو دنیا کی آبادی کے چھوٹے سے حصے کا حد سے زیادہ اسراف ہے۔ افریقہ کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ جو زندگی بھر غربت سے باہر نہیں آ پائے گا، وہ ماحولیاتی تبدیلی میں اپنا کیا حصہ ڈالے گا، خاص طور پر اگر وہ کم عمری میں ہی مر گیا جیسا کہ عام طور پر غریب ملکوں میں ہوتا ہے۔

جب کہ شمالی امریکہ یا یورپ کے کسی امیر گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ ایک بھر پور زندگی گزارے گا اور اعلی اسراف والا لائف اسٹائل اپنائے گا۔ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں ہزاروں گنا اضافے کا سبب بنے گا۔ یہ بات نہیں کہ بڑے صارفین صرف زیادہ آمدنی والے ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ ہمارے جیسے ملکوں کی اشرافیہ بھی کم نہیں ہے۔ ہر طبقاتی معاشرے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مشہور ایکٹوسٹ نومی کلائن کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تباہی کی ذمہ داری انسانوں یا کاربن پر نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام پر عاید ہوتی ہے۔ کیونکہ سرمایہ داری کا کام ہی وسائل ڈھونڈنا اور ان کا استحصال کرنا ہے۔ سرمایہ دار کو ماحول کی پروا ہوتی ہے نہ انسانوں کی۔ اسے صرف اپنے منافع سے غرض ہوتی ہے۔ ماحولیاتی مسائل کا مقابلہ کرنے کے لئے مساوات اور انصاف پر مبنی فلاحی معاشرے کا قیام ضروری ہے۔

Facebook Comments HS