آئی پی پیز معاہدے


اردو کی مشہور کہاوت ”مرے کو ماریں شاہ مدار“ اس وقت بولی جاتی ہے جب مصیبت پر مصیبت آتی چلی جائے یا جب کوئی شخص درد و تکلیف میں مبتلا دوا، دارو کا متلاشی ہو اور اس پر نیا، ظلم ڈھایا جائے، تو لوگ کہتے ہیں کہ ”مرے کو ماریں شاہ مدار“ مگر اس کے معانی اور متعلقات سے کم لوگ واقف ہیں۔ مشہور ہے کہ قصبہ مکن پور ضلع کانپور (یوپی) کے بزرگ حضرت بدیع الزمان زندہ شاہ مدارؒ کو مسلسل یاد الٰہی سے یہ قدرت حاصل تھی کہ جو صوفی مرتبہ فنا میں ہوتے، آپ اپنی ریاضت سے اُسے مقام فنا سے نکال کر فناء الفنا میں پہنچا دیتے، وہ صرف اپنے رب کا ہوجاتا، دنیا کا نہ رہتا، اس باعث یہ ضرب المثل زباں زد خاص و عام ہوئی، پاکستانی قوم حکمرانوں کی نا اہلی، غلط بخشی، کرپشن اور وسائل کو مال غنیمت سمجھ کر، باہر لے جانے کی عادت کے باعث مقام فنا کی طرف دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھی، قوت خرید مسلسل کم اور حکمران اشرافیہ کی ہوس مال زر پیہم افزوں رہی۔

بجلی کے بھاری بلوں نے ملک کے غریب عوام اور متوسط طبقے کو فناء الفنا کے مقام پر پہنچا کر جینے کی آرزو تو درکنار مرنے کی تمنا سے بھی محروم کر دیا ہے۔ عوام پر نازل ہوئے والے عذاب کا اصل سبب نجی شعبے میں بجلی پیدا کرنے والے آئی پی پیز ہیں۔ ان دنوں پاکستان میں یہ ایشو پھر موضوع بحث ہے۔ 1994 ء میں بے نظیر کے دوسرے حکومت میں لوڈ شیڈنگ سے نجات کے لیے جس نئی پاور پالیسی کا اجراء کیا گیا اس میں سرمایہ کاروں کو مائل کرنے کے لئے فیصلہ ہوا کہ انہیں ان کی (Capacity) کے مطابق ادائیگیاں کی جائیں۔ یعنی اگر وہ روزانہ 100 یونٹ پیدا وار کی حامل ہیں تو حکومت ان سے 50 یونٹ خریدے تب بھی انہیں 100 یونٹ کی قیمت ادا کرے اور وہ بھی امریکی ڈالروں میں۔ 27

بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو غلام اسحاق خان نے برطرف کرنے پر، کرپشن کے الزامات میں ان معاہدوں کا نمایاں ذکر تھا۔ نئے انتخابات میں نواز شریف وزیراعظم بنے تو محتسب سیف الرحمن نے احتساب شروع کیا مگر وہ ناکام رہے۔ نواز شریف جیسے کاروباری شخص کے مشیروں کو یہ بات سمجھنے میں بہت دیر لگی کہ پیداواری صلاحیت کے مطابق امریکی ڈالروں میں ادائیگی قابل رشک ترغیب تھی۔

بے نظیر کے بعد آنے والی حکومتوں نے بھی نجی شعبے میں بجلی پیداوار کی حوصلہ افزائی جاری رکھی۔ بجلی کے کارخانے لگتے چلے گئے اور بالآخر حکومت واجبات کی ادائیگی کے قابل نہ رہی اور گردشی قرضے کا پہاڑ کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔ لوڈشیڈنگ کے طویل دورانیے نے زندگی اجیرن اور کاروبار ٹھپ کر دیے۔ 2013 ء میں تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اپنی اولیں ترجیح ٹھہرایا۔ لوڈشیڈنگ سے نجات کی خاطر چین کے ساتھ سی پیک معاہدے کے بعد بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کو سرگرم توجہ کا مرکز بنایا گیا۔ چینی سرمایہ کار بجلی پیدا کرنے کی جانب مائل ہوئے۔ تیزی سے لوڈشیڈنگ سے نجات تو مل گئی مگر گردشی قرضوں نے بجلی کے بل بڑھا دیے۔

عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ بجلی کے ان منصوبوں کا ”حقیقی جائزہ“ لیا جائے۔ مگر عوام کی خواہشات پوری ہوتی نظر نہیں آتیں کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے محتاج پاکستان میں امریکی ڈالروں میں وصول کرنے کے عادی سرمایہ کاروں پر ہاتھ ڈالا گیا تو غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کو نظرانداز کرنا شروع ہوجائیں گے۔ اسی لیے حکومتیں معاہدوں کو آگے بڑھاتی رہیں جس کا خمیازہ عوام بجلی کی دنیا میں مہنگی ترین یونٹ کی صورت میں بھگت رہی ہے۔ بلوں کی ادائیگی کے بعد روزانہ و ماہانہ مصارف اٹھانا مشکل سے مشکل تر ہو گیا ہے۔ کسی مغربی ملک میں حکومت نے ایسے معاہدے کیے ہوتے تو ذمہ دار کیفر کردار تک پہنچائے جاتے مگر ہمارے ہاں اشرافیہ کو استثناء حاصل ہے۔

اگر یہ معاہدے درست نہیں تو آنے والی ہر حکومت نے اس کا تسلسل اور توسیع کا سلسلہ کیوں جاری رکھا یہاں تک کہ ”چوروں“ اور ”ڈاکوؤں“ کو للکارنے والی حکومت نے بھی نہ صرف آئی پی پیز سے معاہدوں کی تجدید کی بلکہ 60 روپے فی یونٹ پرایک نئی کمپنی سے معاہدہ بھی کیا۔ جب معاہدوں سے نکلنے کا قانونی راستہ اور مناسب موقع ہاتھ آیا تو عوام کا احساس نہ کیا گیا۔ ماضی کی حکومتوں کو تو بجلی کے شدید بحران کے ”شک“ کا فائدہ دیا جاسکتا ہے اب تو شمسی توانائی کا دور ہے اس کے باوجود نگران حکومت کی نیپرا کو مزید معاہدوں کی توسیع کی درخواست کو موجودہ حکومت نے قانونی شکل دی۔ حکومت چاہتی تو انکار کر دیتی۔ اب تک مقتدر جماعتوں میں سے ہر ایک نے عوام کو نوچنے سے دریغ نہیں کیا۔ کسی سیاسی جماعت کو آئی پی پیز کے سامنے دم مارنے کی جرات نہیں۔ معاہدوں کے مختصر خدوخال یہ ہیں۔

• 20 فیصد سرمایہ کاری پرآئی پی پیز تعمیر کیے جا سکتے ہیں، جبکہ 80 فیصد رقم حکومتی گارنٹی پر پاکستانی بینک فراہم کریں گے۔

• کچھ منصوبوں میں ڈیبٹ ایکویٹی شرح 75 : 25 بھی کی گئی۔ منافع کی ادائیگی ڈالر میں کی جائے گی۔

•۔ 2015 کی پالیسی میں جاپانی، چینی، یورپین اور برطانوی کرنسی کو بھی شامل کر کے مجموعی طور پر ادائیگیاں غیر ملکی کرنسی میں ہی کی جانی ر ہیں۔

• آئی پی پیز کو انکم ٹیکس، کسٹم ڈیوٹیز، سیلز ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسوں میں مکمل استثنا دیا گیا۔
• رعایتی نرخوں پر بانڈز کے اجرا کی اجازت دی گئی۔

• تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر ویری ایبل کاسٹ ادا کرنے کے علاوہ ادائیگیوں کو ڈالر کے ایکسچینج ریٹ اور افراط زر سے بھی منسلک کیا گیا یعنی اگر پاکستانی کرنسی کی قدر کم ہوتی ہے تو آئی پی پیز کی فی یونٹ قیمت میں کچھ سینٹس کا بھی اضافہ ہو جانا ہے۔

•سب سے بڑھ کر کپیسٹی پے منٹس (پیداواری صلاحیت پر مبنی ادائیگیاں ) کی شرط کے باعث آئی پی پیز بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، پیداواری صلاحیت کے مطابق حکومت ڈالروں میں ادائیگی کی پابند ہے۔ ایسی بجلی جو نہ کبھی پیدا ہوئی اور نہ صارف نے استعمال کی، لیکن اس کی قیمت بجلی کے صارفین سے وصول کی جاتی ہے۔

• آئی پی پیز کے ساتھ کم از کم 25 سال کے معاہدے کیے گئے ہیں، تاہم 25 سال کے بعد ان کا مستقبل کیا ہو گا، اس کی معلومات میسر نہیں۔

• سی پیک کے تحت لگنے والے منصوبوں میں البتہ بلڈ آن آپریٹ اینڈ ٹرانسفر، بلڈ آپریٹ ٹرانسفر، یا پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے اصول طے کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبے 25 سال تک چینی کمپنیوں اور بینکوں کی ملکیت رہنے کے بعد صوبوں، زیر انتظام علاقوں یا متعلقہ محکموں کی ملکیت میں چلے جائیں گے۔

• 2023 میں بجلی کے بلوں سے حاصل ہونے والی 2960 ارب روپے کی رقم میں سے 2010 ارب روپے کپیسٹی پے منٹس کی مد میں ادا کیے گئے۔

•کپیسٹی پے منٹس کے باعث، اس وقت 2300 ارب روپے سے زائد گردشی قرضے ہیں۔

• آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق 2000 ارب روپے کے گردشی قرضے رواں سال بجلی صارفین کی جیب سے نکال کر ادا کرنے ہیں۔ اس کے باوجود گردشی قرضوں میں 650 ارب روپے کا مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس کی بڑی وجہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی کی کھپت میں مزید کمی ہے۔

• آئندہ مالی سال میں 3 ہزار ارب روپے کپیسٹی پے منٹس کے نام پر ادا کیے جانے ہیں گویا بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس طرح بجلی کی فی یونٹ قیمت، جو اس وقت 61 روپے ہے، رواں سال کے آخر تک 89 روپے فی یونٹ تک بڑھائی جائے گی۔ حکمرانوں کے ان معاہدوں کا خمیازہ غریب عوام نہ جائے کب تک بھگتے رہیں گے۔

معاملہ چند نجی سرمایہ کاروں تک محدود رہتا تو شاید صبر کیا جاسکتا۔ بدقسمتی سے بجلی کے بلوں کے عذاب سے عوام کے دلوں میں ابلتا غصہ ”دیرینہ دوست چین کی طرف رخ کر رہا ہے۔ ہمارے میڈیا میں دبے لفظوں میں یہ بات آ رہی ہے کہ بجلی کے گردشی قرضے کا سب سے بڑا حصہ چین کو ادا کیا جانا ہے۔ پاک چین دوستی کے دشمن عوام کی اکثریت کے دلوں میں یہ تاثر جاگزیں کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں کہ بجلی کے بلوں کے عذاب کا اصل سبب عوامی جمہوریہ چین ہے۔

Facebook Comments HS