نئی تنقید اور ابہام کی سات قسمیں
فیض احمد فیض کی نظم ”آخری خط“ مختلف قسم کے بیانات پر قائم ہے۔ کسی بیان کی کوئی توجیہہ موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس کی کئی سطریں ابہام کی اچھی مثال بن سکتی ہیں جیسے یہ سطر :
جب درد سے رک جائیں گی سب زیست کی راہیں ( )
اس سطر میں زیست کی راہیں زندگی کے رستے کہ کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ یہ انسانی صحت کے پہلو، سر گرمیاں، رستے، ہماری پوری زندگی کے تمام قرینے ہیں۔ درد ایسی قوت، بلا اور آفت ہے جس سے سب کچھ معدوم ہو جاتا ہے۔ راہیں محض رستے نہیں بلکہ تمام زندگی کی سر گرمیوں کا استعارہ ہیں۔
اک باد جس سے سانس کی کلیاں کِھلی رہیں
اک یاد جس سے آس کے ساغر بھرے رہے ( )
یہ شعر کسی مذہب اور عقیدے کا متن بھی ہو سکتا ہے، حمد کا حصہ بھی ہو سکتا ہے اور اردو غزلیہ شاعری کا بھی حصہ۔ اس کی توضیح دونوں طرح ممکن ہے۔ باد ممکن ہے محبوب کے لیے استعارہ ہو، ممکن ہے کوئی شخص گھٹن میں ہوا جیسا کام کرتا ہو اور اس کی یاد اس کے لیے امید کا پیغام ہو۔
’لفظ ”یاد“ کسی واقعے کو تازہ نہیں کرتا اور نہ ہی اس کا تعلق یاد داشت سے ہے بلکہ اس کے معانی ذکر اور مشغولِ بحق ہونے اور تسبیح و مناجات کے ہیں۔ ”سانس کی کلیاں“ کھلنا بمعنی سانس کی مکمل اور توانا آمد و رفت اور مہکا ہونا ہے۔
ن م راشد کی نظم ”سبا ویراں“ میں بہت منفرد قسم کا تقابل ہے۔
سلیماں سر بزانو اور سبا ویراں
سبا ویراں، سبا آسیب کا مسکن
سبا آلام کا انبارِ بے پایاں!
گیاہ و سبزہ و گُل سے جہاں خالی
ہوائیں تشنۂ باراں،
طیور اِس دشت کے منقار زیرِ پر
تو سرمہ در گلو انساں
سلیماں سر بزانو اور سبا ویراں!
سلیماں سر بزانو، تُرش رو، غمگیں، پریشاں مُو
جہانگیری، جہانبانی، فقط طرّارۂ آہُو،
محبت شعلۂ پر ّاں، ہوس بوئے گُلِ بے بُو
ز رازِ دہرِ کمتر گو!
سبا ویراں کہ اب تک اس زمیں پر ہیں
کسی عیّار کے غارت گروں کے نقشِ پا باقی
سبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی!
سلیماں سر بہ زانو،
اب کہاں سے قاصدِ فرخُندہ پَے آئے؟
کہاں سے، کس سُبو سے کا سۂ پِیری میں مَے آئے؟ ( )
لفظ ”سبا“ تلمیح ہے جو ملکہ سبا اور حضرت سلیمان کے قصے کی جانب اشارہ ہے۔ ملکِ سبا بہت ہی خوبصورت اور خوشحال ملک تھا جو حضرت سلیمان کے لیے باعثِ رشک تھا، نظم میں ملک سبا انتہائی ویران اور تباہ حال خطہ ہے جہاں ویرانی غربت اور پریشانی ہے۔ سبا صرف مٹی اور پتھروں کا ایک ڈھیر ہے۔ بظاہر ایک خطۂ شاداب کے اجڑنے کا قصہ ہے لیکن حقیقت میں بڑھاپے اور جسم کی معدومی میں تقابل ہے۔ یہ شہرِ سبا کی بربادی نہیں بلکہ جسم کی بربادی ہے۔ اس کی وجہ آخری دو سطروں میں ہے۔
اب کہاں سے قاصدِ فرخُندہ پَے آئے؟
کہاں سے، کس سُبو سے کا سۂ پِیری میں مَے آئے؟
جسم کی بڑھاپے کی صورت میں بربادی ہو چکی ہے، جوانی کے لیے قاصدِ فرخندہ پے استعارہ ہے۔ اب یہ قاصدِ فرخندہ پَے کہاں سے آ سکتا ہے۔ کا سۂ پِیری میں مے کی خواہش کا مطلب جوش ولولہ، طوفان خیزی ہے جو جوانی کا خاصہ ہوا کرتا ہے۔ اب جوانی لوٹ کر نہیں آ سکتی۔
ابہام کی دوسری قسم کے بارے میں ولیم ایمپسن کہتا ہے :
دوسری قسم کے ابہام میں، دو یا دو سے زیادہ معانی کو ایک معنی میں ڈھالا جاتا ہے، جب دو استعاروں کو بیک وقت برتا جاتا ہے اور ان سے ایک مرکزی معنی کی تشکیل ہوتی ہے۔ بعض دفعہ یہ معنی ایک لفظ یا ترکیب یا مرکب لفظ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جب کسی شے کی وضاحت کے لیے کولن یا سیمی کولن لگاتے ہیں مثلاً لوہے کی یہ خصوصیات ہیں اور کولن لگا کر خصوصیات درج کر رہے ہوتے ہیں۔ ولیم ایمپسن نے انگریزی ادب سے اس ابہام کی بہت مثالیں پیش کی ہیں ان میں سے ایک مثال:
Cupid is winged and doth range;
Her country so my love doth change.
But change she earth, or change she sky,
Yet I will love her till I die.
محبت کا پر دار دیوتا کیوپڈ ہر کہیں آزادی سے آتا جاتا ہے
لیکن اس (لڑکی) کا ملک میری محبت بدل سکتی ہے
وہ خود زمین کو بدل سکتی ہے، وہ آسمان بدل سکتی ہے
میں پھر بھی مرتے دم تک اس سے محبت کرتا رہوں گا
ولیم ایمپسن ان سطروں کی یوں وضاحت کرتا ہے :اس مثال سے یوں لگتا ہے جیسے میں تبدیلی کی مختلف قسموں کے بارے میں سن رہا تھا) (۔
اس ابہام کے حوالے سے میرا جی، مجید امجد اور غزل گو شعرا یکساں طور پر زرخیز ہیں جن کی شاعری میں دو یا تین معانی کو باآسانی ایک لفظ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ اور خاص طور پر مراثی میں تو مثالوں کی بہتات ہے۔ مجید امجد کی پوری نظم ایکٹرس کا کنٹریکٹ اس ابہام کی بہترین مثال ہے، پہلی چار سطریں مثال کے طور پر پیش ہیں :
مرا وجود مری زندگی کا بھید ہے، دیکھ
یہ ایک ہونٹ کے شعلے پہ برگِ گل سے خراش
یہ ایک جسم کے کندن میں گدگدی سے گداز
یہ ایک روح، بھنچے بازوؤں میں کھیلتی لہر) (
پہلی سطر میں موجود ”مرا وجود“ اصل میں ہونٹ کے شعلے پہ برگِ گُل سے خراش، ایک جسم کے کندن میں گدگدی سے گداز اور ایک روح، بھنچے بازوؤں میں کھیلتی لہر ہے۔ یعنی آخری تینوں سطریں اصل میں ”مرا وجود“ کو پیش کر رہی ہیں، ہر لمحہ یہی محسوس ہوتا ہے کہ میرا وجود کے بارے میں ہی سب کچھ کہا جا رہا ہے۔ وجود کے بغیر زندگی کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ ہر سطر میں وجود کا تقابل جسم کے کسی حصے یا کیفیت سے کیا گیا ہے۔ ”ہونٹ کے شعلے“ سے ذہن سرخی کی طرف جاتا ہے ممکن ہے کہ ہونٹ کسی انفیکشن کے نتیجے میں دہک رہے ہوں، جس پر بہت لطیف و نازک شے کا لمس بھی باعثِ تکلیف ہو چاہے پھول کی نرم پتی ہی کیوں نہ ہو۔ یا ہونٹوں کی طرح نرم نازک وجود ہے جس پر پھول کی پتی بھی خراش ڈال سکتی ہے۔ یہی کچھ زندگی ہے۔
انگریزی نظم و نثر میں پنکچوایشن کا بہت خیال رکھا جاتا ہے، کوما، کولن، سیمی کولن اور خاتمہ کی علامتیں باقاعدہ استعمال کی جاتی ہیں اس لئے یہ وضاحت آسان ہوتی ہے کہ کون سا لفظ کس لفظ کی وضاحت ہے یا کس لفظ سے متعلق ہے۔ اردو شاعری میں یہ رواج نہیں ہے۔ صرف اقبال کی زندگی میں شائع ہونے والی کتب میں تھوڑا بہت اہتمام ملتا ہے۔
میر انیس کے مشہور مرثیے کے ایک بند میں اسی ابہام کی مثال یوں ہے :
وہ دشت، وہ نسیم کے جھونکے، وہ سبزہ زار
پھولوں پہ جابجا وہ گہر ہائے آب دار
اٹھنا وہ جھوم جھوم کے شاخوں کا بار بار
بالائے نخل، ایک جو بلبل، تو گُل ہزار
”خواہاں تھے نخلِ گلشنِ زہرا جو آب کے
شبنم نے بھر دیے تھے کٹورے گلاب کے ( )
اس پورے بند میں لفظ سبزہ زار کو پیش کیا گیا ہے۔ پہلے مصرع کے بعد باقی مصرعوں میں سبزہ زار کے مختلف پہلو پیش کیے گئے ہیں۔ یہ مثال ابہام کی اس قسم کے لئے بھی پیش کی جا سکتی ہے جس میں ایک تشبیہ، استعارہ یا بات درمیان میں رہ جاتی ہے۔
بہارِ میکدہ تقسیم ہونے کو ہوئی لیکن
مرے حصے میں تم آئے، نہ مے آئی، نہ جام آیا ( )
اس شعر کے کلی معانی کو ایک لفظ بہارِ میکدہ سے ظاہر کیا گیا ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر ابرار کی نظم گدھے سے اترتے کیوں نہیں ہو، پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے قسم کے ابہام کی بہترین مثال ہے۔ ان سطروں میں ایک ضدی، بے وقوف اور جاہل شخص کو مختلف افعال ترک کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس کے تمام افعال کو گدھے پر سواری سے تشبیہ دی گئی ہے۔
گدھے سے اترتے کیوں نہیں ہو
جیتے ہو نہ جینے دیتے ہو
گدھے سے اترتے کیوں نہیں ہو
دن بھر دیواروں کے آسیب میں
پڑے رہتے ہو
گدھے سے اترتے کیوں نہیں ہو
موت کی مہک اوڑھ کر
بے سمت آوازیں لگاتے ہو
گدھے سے اترتے کیوں نہیں ہو
ہموار، سیدھی سڑک پر
ٹھوکریں کھاتے ہو
رفتار کے زمانے میں
گدھے سے اترتے کیوں نہیں ہو ( )
درج بالا تمام سطروں میں قاری یہی محسوس کرتا ہے کہ آدمی کو گدھے سے اتارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نظم کے دوسرے حصے میں، شاعر اسے ضد ترک کرنے یعنی گدھے سے اترنے کی ترغیب دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ اگر خود جینے لگے اور دوسروں کو بھی جینے دے تو یہ گدھے سے اترنے کا عمل ہے۔ کہیں ترغیب ہے کہیں دلیل ہے لیکن ہر لمحہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی کو گدھے سے اتارنے کی مسلسل کوشش ہور ہی ہے۔
جو آج ہے کل نہیں ہو گا
تو آج ہی دیکھ لینے میں کیا ہے
گدھے سے اترتے کیوں نہیں ہو
جگمگاتی، چمکتی دنیا
تمھارے اندر روشنی انڈیلتی ہے
تمھارا اندھیرا جاتا کیوں نہیں
گدھے سے اترتے کیوں نہیں ہو
نظم کی یہ بنیادی سطر گدھے سے اترتے کیوں نہیں، نظم کی دیگر تمام سطور کی تشبیہ ہے۔
تیسری قسم کے ابہام میں دو خیالات کو ایک خاص تناظر میں جوڑ کر بیک وقت ایک لفظ میں بیان کر دیا جاتا ہے۔ اس میں تقریباً تمام عمل مبالغے کا ہوتا ہے۔ مبالغے میں بھی رمزیہ انداز ہوتا ہے جس میں کئی واسطے ہوتے ہیں جنھیں قاری خود قائم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ دو استعاروں کو واحد معنی میں ڈھالا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس قسم کے ابہام میں ولیم ایمپسن نے ایہام، اغراق، صنعتِ تضاد، تعقید لفظی و معنوی سے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حوالے سے ولیم ایمپسن کی ایک مثال پیش کرنے سے پہلے اقبال کا شہرہ آفاق شعر دیکھیں :
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر ( )
یہ شعر مبالغے کی بہترین مثال ہے، پھول کی پتی سے نہ ہیرا کٹ سکتا ہے اور نہ مرد ناداں پر نرم اور شیریں بات اثر انداز ہو سکتی ہے۔ لیکن مبالغہ آرائی سے شعر بلند ہو گیا۔ اس شعر میں بہت سے وسیلے بھی نہیں ہیں اس لیے قاری آسانی سے شعر کی فہم کر لیتا ہے۔ ان وسیلوں کو ایمپسن درمیانی رستے کہتا ہے۔ اب ولیم ایمپسن کی مثال پیش ہے جسے پہلی قسم کے ابہام کے لیے بھی پیش کیا جا سکتا ہے :
Had I but any time to lose
On thee I would it all dispose.
Cease Tempter! None can chain a mind
Whom this sweet Chordage cannot bind. ( )
میرے پاس ضائع کرنے کو وقت ہوتا
میں تم پر ضائع کرتا
غصہ مت کرو، اس دماغ کو کوئی زنجیر نہیں کر سکتا
جسے یہ سریلے تار نہیں باندھ سکتے
بقول ایمپسن ان سطروں میں ایک نادر اشارہ ہے کہ تار، زنجیر سے کمزور اور نازک ہوتے ہیں، اور یہ تاریں نا محسوس ہیں کیوں کہ موسیقی کی تاریں ہیں۔ یعنی جسے نرم و نازک اور مدھر سر قید نہیں کر سکتے، اسے بھاری بھرکم زنجیریں بھی نہیں روک سکتی ہیں۔ یہ مبالغہ ہے اور دماغ کو درمیانی رستے کو پھاندنا نہیں پڑتا ہے۔
ایک اور مثال میں ایمپسن صرف ایک سطر سے معانی میں ایک نازک ربط پیدا کرتا ہے۔
That specious monster, my accomplished snare. ( )
اس کی وضاحت یوں کرتا ہے : Specious خوبصورت اور پر فریب، Monster غیر فطری قسم کی کوئی چیز، قابلِ توجہ جو تباہی کا نشان نظر آتی ہو، Accomplished ناز و ادا کے فنون میں ماہر، اور شوہر کالعدم کرنے میں ماہر۔ اس پوری سطر کے الفاظ میں تباہی و بربادی کی خوبی مشترک ہے۔ ناسخ کا ایک مشہور شعر بطور مثال درج ہے جس میں کوئے قاتل اور مصر کے بازار میں ایک لطیف فرق اور ربط موجود ہے :
سرِ عشاق یہاں بکتے ہیں معشوق وہاں
کوئے قاتل ہے جدا مصر کا بازار جدا ) (
کوئے قاتل اور مصر کے بازار کو sale point بنا نے کے باوجود ایک لطیف سا فرق قائم رکھا ہے۔ اردو میں اسے صنعتِ تفریق کہتے ہیں اور انگریزی میں اس کے لئے اصطلاح کو Anomoiosis کہتے ہیں۔ دونوں مقامات پر انسانی زندگی ہی داؤ پر لگتی ہے، تفریق کے نازک سے فرق نے شعر کو بلند کر دیا ہے۔
بازو کیے صدقے جو علم دار نے شہ پر
یاقوت کے بخشے اسے غفّار نے شہ پر
درج بالا شعر میں مبالغہ ہے لیکن شاہ پر اور شہ پر میں افتراق قابلِ غور ہے۔
چوتھی قسم کے ابہام کے لیے ولیم ایمپسن کا کہنا ہے : جب ایک بیان کے دو یا دو سے زیادہ معانی کی آپس میں ہم آہنگی نہ ہو اور یہ مل کر مصنف کے ذہن کی پیچیدہ کیفیت کو واضح کرتے ہوں۔ واضح طور پر یہ ایک گول مول تعریف ہے جو زیادہ تر ابہام کی تیسری قسم اور ابہام کی اگلی قسموں کی تعریف ہے۔
یہاں اس کا کچھ حصہ نفسیاتی تنقید سے مس ہونے لگتا ہے۔ دو یا دو سے زیادہ ناموافق معانی کو ملانے کی بات کا جہاں تک تعلق ہے، ولیم ایمپسن تعقیدِ لفظی اور کچھ اوقاف کا استعمال کر کے نتائج حاصل کرتا ہے۔ کہیں کہیں باقاعدہ تعقید لفظی موجود بھی ہے
ولیم ایمپسن نے چوتھی قسم کے ابہام کی درج ذیل مثال دی ہے :
I never saw that you did painting need,
And therefore, to your fair no painting set.
I found, or thought I found, you did exceed
The barren tender of a poet ’s debt.
And therefore, have I slept in your report,
That you yourself, being extant, well might show
How far a modern quill doth come too short,
Speaking of worth, what worth in you doth grow.
) Sonnets, Ixxxiii. ( )
مجھے کبھی احساس نہیں ہوا کہ تجھے تعریف کی ضرورت ہے
اس لیے میں نے کبھی تعریف کی ضرورت محسوس نہیں کی
مجھے احساس ہوا یا مجھے یہ بات معلوم ہو گئی کہ تم بڑھ کر ہو
شاعر کے مستعار بنجر احساس سے
اس لیے میں تمھاری خبر کے مطابق، غافل رہا
چونکہ تم زندہ ہو اس لیے اب تک خود اپنی لیاقت دکھا سکتے ہو
میرے قلم یا لکھنے کے انداز سے کہیں زیادہ بہتر
تم خود اپنی لیاقت اور قابلیت ظاہر کر سکتے ہو
ولیم ایمپسن درج بالا سطروں کے بارے میں کہتا ہے : یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شیکسپیر کو کم تری کے طعنے دیے جا رہے ہوں۔ یہ سانیٹ بلند بانگ دعووں اور تلخ مضحکہ خیزی سے گھری ہوئی ہیں۔ دوسری سطر، پہلی اور تیسری سطر سے متصل ہوتی ہے۔ اسے پہلی سطر سے ملائیں تو یہ معنی بنتے ہیں کہ شیکسپیر کا سروکار نوجوان آدمی کی بہترین دلچسپیوں سے تھا: میں نے تمھاری تعریف نظم میں اس لیے نہیں کی کہ میں یہ محسوس نہیں کرتا تھا کہ میری تعریف سے تمھاری شہرت کچھ مزید بڑھ سکتی تھی۔ جب تک میں نے تمھیں پا نہیں لیا؛میں ابھی تک یہ دریافت نہیں کر پایا تھا کہ تمھارے رخساروں کو غازے اور تمھارے کردار کو سفیدی کی ضرورت ہے۔ جب میں نے تم سے پہلی بار محبت کی تھی تب یہ نہیں جان پایا کہ تمھیں سادہ اور چھو لینے والی خوشامد کی خواہش ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

