راگ رنگ کا پروگرام
ایک زمانے میں پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات دن میں پانچ چھ گھنٹوں پہ مشتمل ہوتی تھیں اور ہفتے میں ایک دن (شاید سوموار کے دن) چھٹی ہوتی تھی۔ باقی اٹھارہ گھنٹے کسی قسم کی کوئی نشریات نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں ٹی وی سیٹ بند رہتا تھا۔ گویا ایک طرح امن و سکون ہوتا تھا۔ اس خالی وقت میں کچھ گھروں سے ریڈیو کی آوازیں آیا کرتی تھیں۔ جس میں چار پانچ منٹ کی خبروں کے علاوہ ریڈیو سیلون، آل انڈیا ریڈیو یا مقامی ریڈیو سٹیشن سے فلمی گانوں اور کہانیوں پہ مشتمل پروگرام ہوا کرتے تھے۔
تاہم سہ پہر کے بعد مقامی ٹی وی سٹیشن کی مکمل اجارہ داری ہو جاتی تھی۔ نشریات کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوتا، جس کے بعد ںور بصیرت، اردو، انگریزی اور مقامی زبانوں میں خبروں کے بلیٹن ہوتے تھے۔ اس کے بعد تین چار منٹ کا کارٹون چلتا اور پھر بچوں کے لئے آدھے گھنٹے کا کوئی پروگرام ہوتا تھا۔ ان میں کوئی ڈرامہ، کوئز شو، سہیل رعنا کا موسیقی کا پروگرام اور کٹھ پتلیوں کے پروگرام نمایاں ہوتے تھے۔ سات بجے کی خبروں کے بعد حالاتِ حاضرہ پہ مبنی کوئی پروگرام یا دستاویزی فلم ہوتی اور اس کے بعد آٹھ بجے ٹی وی سٹوڈیوز کے اپنے بنائے ہوئے ڈرامے یا ہفتے میں ایک یا دو امریکی ٹیلی ویژن سیریل اور سیریز بھی چلائے جاتے تھے۔ موسیقی کا ایک آدھ پروگرام بھی ہوتا تھا تاہم زیادہ تر ہلکی پھلکی موسیقی پہ مبنی گلوکاروں کے انفرادی نغمے فلر کے طور پہ نشر کیے جاتے تھے۔ نو بجے خبرنامہ ہوتا تھا۔
ہفتے میں ایک دفعہ رات گیارہ بجے کلاسیکی موسیقی کا پروگرام ”راگ رنگ“ بھی ہوتا تھا۔ ٹی وی کے تمام پروگراموں میں کوئی نا کوئی دلچسپی کا عنصر نکل آتا تھا لیکن راگ رنگ واحد پروگرام ہوتا تھا جس سے نا صرف ہمیں بلکہ گھر میں باقی لوگوں کو بھی سخت چڑ ہوتی تھی اور جیسے ہی یہ پروگرام شروع ہوتا ہم سب اِدھراُدھر ہو جاتے۔ ابو یا ہمارے تایا ابا ہی اس پروگرام میں کچھ دلچسپی رکھتے تھے اور وہ ٹی وی کے سامنے براجمان رہتے تھے۔ ہمیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ گلوکار کیوں اتنی مشکل میں پڑے ہوئے ہیں، کیوں اتنی بُری بُری شکلیں بنا بنا کے راگ الاپ رہے ہیں؟ ابو اور تایا ابا کی دلچسپی بھی اس پروگرام سے اتنی ہی ہوتی تھی کہ یہ پروگرام دیکھتے دیکھتے دس پندرہ منٹ ہی میں ان کی آنکھ لگ جاتی تھی، اور ہم میں سے کوئی جا کے ٹی وی بند کر دیتا تھا۔ ایک دم جیسے سکون آ جاتا تھا اور رات کے اس پہر چھائی وہ خاموشی بہت بھلی لگتی تھی۔
مملکتِ پاکستان بھی ایک بڑے سکیل پہ ستر کی دہائی کے ٹیلی ویژن کی طرح ہے۔ یہاں آپ کو خبریں بھی سننے کو ملتی ہیں، بچوں کے لئے کچھ نا کچھ تفریحی سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ جابجا مسجدیں آباد ہیں جہاں سے پانچ وقت اذان کی آواز گونجتی ہے اور لوگ نماز کے لئے آتے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ کم ہی سہی لیکن کھیلوں کے لئے میدان ہیں اور اگر کہیں کھیل کے میدان میسر نہ ہوں تو لڑکے بالے گلیوں سڑکوں کو ہی کھیل کا میدان بنا لیتے ہیں۔ ٹی وی ڈراموں کی طرح آئے دن کوئی نا کوئی واقعہ ہوتا رہتا ہے، رہزنی، قتل، چوری چکاری اور ڈکیتی کے واقعات بلا تعطل جاری رہتے ہیں۔ اور یار لوگ اس وقت تک ایسے واقعات پہ اپنے تبصرے جاری رکھتے ہیں جب تک کوئی اور واقعہ یا اندوہناک سانحہ پیش نہیں آ جاتا۔ پہلے والے کو بھول بھال سب نئے واقعے میں دلچسپی لینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح کچھ دن گزر جاتے ہیں کہ جب تک ایک اور نیا حادثہ نہیں ہو جاتا۔
سیاسی اور حکومتی سطح پہ بھی تفریح کا بھرپور انتظام رہتا ہے۔ معاملہ مقننہ کا ہو عدلیہ کا ہو یا انتظامیہ کا ! ہمارے ٹی وی (معاف کیجئے گا! ) ہمارے ملک میں ہر قسم کی تفریح کا ہمہ وقت بھرپور مظاہرہ کرتے رہتے ہیں اور عوام کی دلچسپی تمام جملہ امور سے قائم رہتی ہے۔ کچھ لوگ اسے ایک ٹی وی سیریز کی طرح لیتے ہیں۔ کچھ لوگ اس میں اپنی دلچسپی کا کھیل تلاش کر لیتے ہیں اور کچھ اس سب تماشے کے اندر ہلکی پھلکی موسیقی کی طرح حظ اُٹھاتے ہیں۔ تاہم دیکھنے میں آ رہا ہے کہ یہ تمام سلسلہ دھیرے دھیرے شدَھ کلاسیکی موسیقی کے پروگرام میں بدلتا جا رہا ہے۔ ہر کوئی اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے، اور لوگوں کے لئے اس میں دلچسپی کا کوئی سامان باقی نہیں رہا۔
مقتدرہ کے اپنے ”ٹھاٹھ“ ہیں جن کی بدولت اس نے ہر طرف کہیں مدھم، کہیں اونچے سروں میں تیزرفتار ”سوار“ پھیلا رکھے ہیں۔ کچھ سیاسی رہنما مقتدرہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ”درباری“ سنگت میں مصروف رہتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ سیاست دانوں کا مقتدرہ سے تعلق ان کے لئے باعثِ شرمندگی تصور ہوتا تھا۔ لیکن آج کل کے ہمارے مشہور سیاست دان تو برملا کہتے ہیں کہ اب وہ سنگت صرف اور صرف مقتدرہ سے کریں گے اور کسی سیاسی جماعت سے کوئی رابطہ نہیں ہو گا، چاہے اس ”دیپک“ کے نتیجے میں آگ لگنے سے سب کچھ جل کر خاکستر ہو جائے اور کوئی ”ملہار“ گانے والا بچے یا نہ بچے۔
دوسری طرف آج کل پنجاب میں ”میاں کی ٹوڈی“ کا دور دورہ ہے۔ ہر ایک چیز غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔ ایک اور صوبے میں جہاں اس سے پہلے ”مال کھونچ“ (مالکونس) کی تان لگائی جاتی تھی آج کل حاکم شہد سے بھرے پیالوں میں جلترنگ بجا رہا ہے۔ ایک علاقے میں پندرہ سال سے حکومت میں رہنے والوں نے ”بھیرویں“ میں سر بکھیرتے بکھیرتے صوبے کا حال ”بھیڑہ“ کر رکھا ہے۔ عوام پندرہ سال بعد بھی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ دوسرے علاقوں کے حاکم غالباً ابھی موسیقی کے ارتقائی عمل سے گزر رہے ہیں اور فی الحال جگل بندی میں مصروف ہیں۔
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ روم جل رہا ہے تو یہ سب نیرو مل کر اپنی اپنی بانسری کیوں بجا رہے ہیں؟ مسئلہ تب پیدا ہو گا جب کسی نے راگ رنگ کی اس نشریات کا سلسلہ منقطع کرتے ہوئے پاکستان کا ٹی وی سیٹ آف کر دیا۔ ستر کی دہائی میں ٹی وی سیٹ کو بٹن گھما کر بند کیا جاتا تھا۔ آج کل ٹی وی ریموٹ سے کنٹرول ہوتے ہیں اور کہیں سے بٹن دبا کر نظام لپیٹا جا سکتا ہے۔ کیا تب بھی ہمیں ویسا ہی سکون محسوس ہو گا جیسا ابو کے راگ رنگ پروگرام دیکھتے دیکھتے سو جانے کے بعد محسوس ہوتا تھا۔


