سپریم کورٹ آف پاکستان کا حالیہ فیصلہ۔ ایک جائزہ
وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں قائم ایک بلند و بالا سفید عمارت”سپریم کورٹ آف اسلامی جمہوریہ پاکستان“ یا عدالت عظمٰی کہلاتی ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں موجود تمام شہریوں کے لیے حصول انصاف کا سب سے بڑا زمینی وسیلہ یہی ”عمارت“ یعنی ”عدالت عظمٰی“ ہے۔
سپریم کورٹ نے مورخہ 24 جولائی 2024 بروز بدھ، کھلی عدالت میں کریمنل پٹیشن نمبر :L 1054 آف 2023 کی ریویو پٹیشن کا فیصلہ سنایا ہے۔ یہ کیس اپنی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ سے ہی وطن عزیز میں موجود مذہبی جماعتوں کی لیے دلکشی و دلچسپی کا باعث تھا، کیونکہ اس میں فریق مخالف کا تعلق مذہبی تنظیموں کی ”مرغوب ترین اقلیت“ سے تھا۔ ایف آئی آر سے لے کر ریویو پٹیشن کے فیصلے تک، کئی مرتبہ اس کیس کو متنوع ہیئتوں سے ”عوامی تحرک“ کا باعث بنایا گیا۔ اور اب اس فیصلہ کے بعد بھی یہی شکل و صورت دوبارہ قائم کی جا رہی ہے بلکہ قائم کی جا چکی ہے۔ اس کیس میں کیا کیا معاملات شرعی و غیر شرعی تھے، یہ میرا موضوع قطعاً نہیں۔ کیونکہ ان موضوعات پر میرا علم ان اکابرین سے ہرگز زیادہ بہتر نہیں جو اس کیس میں بطور فریق شریک و شامل تھے، اور ویسے بھی اکبر الہ آبادی نے خوب کہا ہے کہ :
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں
ایف آئی آر، کورٹ کی کارروائی، اور دونوں فیصلوں کا مطالعہ کرنے کے بعد، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کیس کے جن مقامات کو متنازع بتا کر ان پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں ان تمام میں بلاواسطہ یا بالواسطہ کوتاہی ”مذہبی تنظیموں“ اور ان کے وکلاء سے ہی ہوئی ہے۔ اور یہ سب صرف اس کیس کے ہی بلنڈرز نہیں ہیں بلکہ ان کی اصل جڑ اس موضوع سے منسلک چند سابقہ فیصلے اور قانون سازیاں ہیں جن سے ان ”مذہبی تنظیموں“ کو یہ نقصان اٹھانا پڑا ہے اور آئندہ کے بہت سے نقصانات اٹھانے کا راستہ بھی ہموار ہو گیا ہے۔
میں تفصیلاً ایک ایک جزو تو بیان نہیں کرتا، یہ کام کوئی ماہر وکیل یا قانون دان ہی کرے تو زیادہ موزوں ہو گا لیکن مختصراً عدالتی فیصلہ کی ترتیب سے ہی بلنڈرز کی نشاندہی کیے دیتا ہوں :
1) عدالتی حکم نامے میں بظاہر چند ایف آئی آر کے نقائص پیش کیے گئے، جب کہ اصولاً ریویو پٹیشن میں ان باتوں کا تذکرہ بے فائدہ ہے، یعنی نحوی اصطلاح میں وہ جملہ معترضہ ہیں۔ لیکن چونکہ واقعہ یہ ہے کہ ایف آئی آر میں جان بوجھ کر ”چند خامیاں“ رکھی گئی تھیں، جس کی وجہ بھی اس قضیے سے جڑے تمام حضرات کے علم میں ہے اور ثانیاً ریویو پٹیشن کی درخواست و تحاریر اکابرین بہ خدمت عدالت اس قدر متنوع تھیں کے عدالت عظمیٰ کو اپنے فیصلے کی وضاحت کے لیے وہ باتیں حکم نامہ میں لکھنا واجب ٹھہرا۔
2) حکم نامہ میں واضح طور پر درج ہے کہ 26 فروری 2024 ء کو اداروں کو نوٹس بھیجنے سے پہلے ”وکلاء“ سے پوچھا گیا کہ : اگر کسی کو کسی ادارے پر اعتراض ہے تو وہ اپنا اعتراض کھلے بندوں پیش کر سکتا ہے، لیکن کسی نے اعتراض پیش نا کیا۔ سو ”متفقہ طور پر المورد، عروۃ الوثقی اور جامعۃ المنتظر کے نام بھی منظور کر لیے گئے۔ جبکہ ایسے حساس موضوع پر شریعت مطہرہ، نصوص قطعیہ، آئین و قانون سے صریح متصادم، اجماع امت سے ہٹ کر ذاتی رائے کو مقدم رکھنے والے اداروں پر ”اعتماد“ کرنا یا رکھنا سمجھ سے بالاتر عمل ہے۔
3) عدالتی کارروائی میں چند باتیں ایسی بھی تھیں کہ جو فی نفسہ مفصل و مدلل جرح طلب تھیں، اور چند باتیں جو کہ ”مبہم“ تھیں اور عدالت کے لیے ضروری تھا کہ وہ ان کی صریح وضاحت کرتی، لیکن ان کے حکم نامہ میں لکھے ہونا ”فاضل وکلاء و فریق علماء“ کی تیاری کے ناقص ہونے پر واضح دلالت کرتا ہے۔
4) عدالت نے حکم نامہ میں اسی موضوع سے منسلک چند سابقہ فیصلہ جات کو بھی بطور سند کے پیش کیا ہے، اور ان فیصلوں میں شریعت بینچ و دیگر کے بلنڈرز بالکل واضح و عیاں ہیں کہ جن کو کیس میں فریق تنظیموں اور ان کے قانونی مشیر وکلاء حضرات کو تب ہی دیکھنا چاہیے تھا جب اس قسم کے ”متنازعہ فیصلوں“ کو بھی آئندہ کے لئے بطور سند بنانے کی شعوری طور پر مہم جوئی کی جا رہی تھی، لیکن تب انہیں نظر انداز کر دیا گیا، اب جب ”سپریم کورٹ“ نے انہی سابقہ و بلنڈرز شدہ فیصلوں سے استدلال کرتے ہوئے اپنا ”محفوظ کردہ فیصلہ“ صادر کیا ہے تو ”اکابر علماء و فاضل وکلاء“ اپنا مقدمہ ہی نہیں سنبھال پا رہے۔
5) آخری بات یہ ہے کہ جدید قانون سازی کا ہمیشہ سے ایک اصول رہا ہے کہ اس میں چند لوپ ہولز رکھے جاتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت فائدہ دے سکیں۔ اور اس کیس میں سب سے زیادہ قابل افسوس بات یہ ہے کہ ”مذہبی تنظیموں“ اور ان کے ”نمائندہ وکلاء حضرات“ کا کیس تو پہلے ہی کمزور ہو چکا تھا لیکن فاضل وکلاء ان ”لوپ ہولز“ سے بھی فائدہ نا اٹھا سکے اور وہ لوپ ہولز بھی عدالت کے سابقہ فیصلہ کی وضاحت میں استعمال ہو گئے یا پھر کر دیے گئے۔
امید ہے کہ کچھ حد تک بات واضح ہو گئی ہوگی، یہ سب بتانے کا مقصد ہرگز کسی فرد، تنظیم یا جماعت کی تضحیک و تذلیل کرنا نہیں ہے، یا اس حساس موقع پر منکرین ختم نبوت، لاہوری و احمدی گروپ ( غیر مسلم اقلیت ) کو کسی قسم کی شہ و تھپکی یا فائدہ پہنچانا ہے۔ لیکن اب جبکہ چاروں اطراف میں فیصلہ کو مسترد کرنے کے کھوکھلے نعروں اور احتجاجی مظاہروں کی کالز کی گونج میں سپریم کورٹ کی طرف طرح طرح کے سوالات داغے جا رہے ہیں، مختلف طریقوں سے عدالت عظمیٰ پر ”قادیانیت نوازی اور سہولت کاری“ کے جبری ٹائٹل لگانے کی جو سعی لا حاصل کی جا رہی ہے تو اس ”گھن گرج“ میں اگر اپنے گریبان میں بھی جھانک لیا جائے تو میزان کچھ متوازن ہو جائے گا، وگرنہ آج نہیں تو کل یہ سوالات زبان زد عام ہوں گے اور آپ تب جواب دینے کے قابل بھی نہ ہوں گے۔ اللہ پاک ہم سب کو دین مبین کی صحیح خدمت اور وطن عزیز ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کی سلامتی و استحکام کے لئے اپنے حصے کا موثر و مثبت کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


