میں واپس لوٹ آیا ہوں
آج میرے لئے بڑی شادمانی کی بات ہے کہ میں اپنے والد محترم کی زندگی کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔ گزشتہ ہفتے میں نے معروف پروڈیوسر اور مصنف جناب اکمل شہزاد گھمن کا اپنے والد صاحب کے ساتھ انٹرویو دیکھا۔ جسے دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں بھی اپنے والد کے ساتھ، اُن کی زندگی کے بارے میں گفتگو کروں اور اُسے تحریری شکل دوں۔ سو آج میں اُن کی زندگی کے با رے میں لکھ رہا ہوں۔ مجھے بڑی خوشی ہے اور میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے اپنے والد کے ساتھ تفصیلی گفتگو کرنے کا موقعہ ملا۔ عموماً ہمارے پنجابی ماحول میں باپ اور اولاد کے درمیان بہت فاصلہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے نہ باپ اولاد سے اپنے دل کی بات کر پاتا ہے اور نہ ہی اولاد اپنے دل کی بات اور جذبات، احساسات اور خیالات کا اظہار ایک دوسرے سے کر پاتے ہیں۔ اس لئے میں جناب اکمل شہزاد گھمن کے انٹرویو کے آغاز میں اُن کے جذبات اور نروس پن کو محسوس کر رہا تھا۔ جس میں اُنہوں نے کہا ”ویسے تو میں نے بے شمار شخصیات کے انٹرویو ریکارڈ کیے ہیں لیکن آج کا یہ انٹرویو میرے لیے بڑا جذباتی اور مشکل ہے۔ کیونکہ آج میں اپنے والد کا انٹرویو ریکارڈ کر رہا ہوں۔ عمومی طور پر ہم جب اپنے والدین بہن، بھائی، اور رشتے داروں کا انٹرویو کرتے ہیں تو وہ تھوڑا مشکل ہوتا ہے خاص طور پر والدین کے ساتھ ذرا احترام کا رشتہ ہوتا ہے اس لیے بھی۔“ یہ حقیقت ہے تب ہی میں نے سوچا کیوں نہ میں بھی اپنے والد کے ساتھ اس مکالمے کو آ رٹیکل کی شکل دوں اور اُن کی زندگی کی داستان، محنت، قربانی اور خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی زندگی پر لکھوں۔
میرے والد مورس رحمت کی پیدائش سیالکوٹ کے گاؤں منڈیاں والا میں 1956 کو ہوئی۔ آپ کے والد کا نام رحمت منڈیا والا اور والدہ کا نام سردار بی بی ہے۔ آپ چار بہن بھائیوں میں سے دوسرے نمبر پر ہیں۔
1960 میں جب گورنمنٹ آف پنجاب نے تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی پروگرام شروع کیا اور تھل کو آباد کرنے کے لیے زمینیں دی گئی۔ تب ہمارے دادا رحمت منڈے والا اپنے خاندان کے ہمراہ جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ تھل لوریتو چک نمبر 270 ٹی ڈی اے میں آباد ہوئے جہاں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم لوریتو مشن ہائی سکول سے حاصل کی جو اب ابن مریم ہائی سکول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1981 میں آپ کی شادی شریفاں بی بی سے ہوئی۔ جن سے آپ کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ 1993 میں آپ کام کے سلسلے کراچی شفٹ ہو گئے جہاں آپ نے کورنگی انڈسٹریل ایریا، چمڑا منڈی میں بطور لیدر مشین آپریٹر کام کا آغاز کیا۔ 2002 میں ہماری پوری فیملی کراچی مستقل طور پر شفٹ ہوئی۔ جہاں پانچ بچوں کی تعلیم جاری رکھنا ایک چیلنج تھا۔ لیکن اس کے باوجود آپ نے بچوں کی تعلیم اور تر بیت کو جا ری رکھا۔ مورس رحمت نے نا صرف کراچی میں بطور لیدر مشین آپریٹر کام کیا بلکہ مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز بھی اٹھائی اور 2007 میں مزدوروں کے حق میں یونین ایسوسی ایشن قائم کی جسے اپنے گھر کے ایڈریس پر رجسٹرڈ کروایا اور یو نین کے جنرل سیکرٹری بنے، آج تک یہ یو نین قائم ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ خدمت کمیٹی، چرچ کمیٹی اور کیپیٹل پولیس میں بطور رضاکار اپنی خدمات انجام دیں۔ پاکستان کرسچن سکاؤٹ (پی سی ایس) کے بھی ممبر رہے۔ اس کے علاوہ ادبی محفلوں اور ادبی سرگرمیوں میں بھی متحرک رہے۔ مورس رحمت ایک باپ ہو نے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے بیٹے بھی رہے، انہوں نے ہمیشہ اپنے والدین کے ساتھ ایک بہترین رشتہ اور تعلق قائم رکھا۔
آپ نے کراچی شفٹ ہو نے سے پہلے اپنے والدین سے وعدہ کیا تھا کہ جب آپ کو بڑھاپے میں میری ضرورت پڑے گی تو میں سب کچھ چھوڑ کر آپ کی دیکھ بھال اور خدمت کرنے واپس لوٹ آؤں گا۔ چنانچہ آپ 2010 میں واپس اپنے آبائی گاؤں لوریتو لوٹ آئے۔ جہاں کراچی میں طویل عرصہ زندگی گزارنے کے بعد گاؤں میں نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرنا ایک مشکل عمل تھا۔ لیکن زندگی میں ایک مشن، عزم اور ارادے کے ساتھ ایک نئے سفر کی بنیاد رکھی اور اپنے والدین کی فرمانبرداری کرتے ہوئے ان کے آخری ایام تک ایک بہترین بیٹے ہونے کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ زمینوں کو نئے سرے سے آباد کیا۔ جہاں بڑی تعداد میں کھیتوں کے اندر درخت لگائے وہیں دوسرے لوگوں کے لیے شجرکاری کی ایک نئی روایت قائم کی۔ وہیں باغات بھی لگائے۔ آج جب میں خود ایک طویل عرصہ شہر کی زندگی گزارنے کے بعد واپس اپنے گاؤں آیا ہوں۔ تو مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اپنے والد کی محنت، قربانی، سوچ، اور مشن کا ، جو انہوں نے اپنی اولاد اور والدین کے لیے دی ہے۔

