وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص
کالم نگار: بلال مختار (آسٹریلیا)
کیٹگری: کتاب تبصرہ
تجسس بھی انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے۔ یہ میرے ادبی تجسس کی کارستانی ہے۔ جس سبب میں اک اہم ادیب سے جا ملا۔
احباب! ماجرا اک وائرل ویڈیو سے شروع ہوتا ہے۔
کلپ میں ہلکے سانولے، جنٹل مین تراش خراش کے ساتھ نظر کی عینک پہنے اک شاعر تھے۔ وہ لہک لہک کر اپنی شاعری سامعین کو سنا رہے تھے۔ پھر انہوں نے اک شعر کہا تو سکرین کے اس پار مجھے بھی واہ واہ کہنے پہ مجبور کر دیا۔ ورچوئل دنیا کے سبب مکرر کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔ دوبارہ پلے کرنے کے فیچر کی وجہ سے ویسی ضرورت بھی پیش نہیں آنی تھی۔ ہاں بارہا دفعہ سنا۔
شعر کچھ یوں ہے :
میں تو خود پر بھی کفایت سے اسے خرچ کروں
وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص
یہ میرا شہزاد نیئر سے پہلا تعارف تھا۔ پھر ہماری ورچوئل دنیا سے وابستگی چل نکلی۔ میرے اندر تجسس نے کُنڈلی ماری ہوئی تھی۔ اک آدھ اچھا شعر کہہ دینا بھی قابل ِداد و تحسین ہے۔ مگر کیا ان کے باقاعدہ و مکمل کلام میں بھی ایسی خصوصیت ہے؟ دراصل جن دنوں میں میٹرک کر رہا تھا۔ ادبی ذوق کی وجہ سے ہم دوستوں کا اک باقاعدہ گروپ بنا ہوا تھا۔ ہم شام کو فٹبال کھیلنے کے بعد مغرب تلک بیٹھے اپنی اپنی من پسند شاعری سنایا کرتے تھے۔
ایسے میں اک دوست نے شعر شیئر کیا اور ہم سب کو پسند آیا۔ دل کھول کر داد دی۔ شاعر کا نام پوچھا۔ ہم ششدر دیکھتے رہ گے۔ ہاں اس شعر کا خالق وہی دوست تھا۔ اب اس واقعہ کو تیرہ سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران موصوف دوست نے بولنے میں کمال فن پایا ہے۔ مگر لکھنے والی دنیا میں آٹے میں نمک برابر بھی نہیں لکھا ہے۔ اسی سبب میرا ماننا ہے کہ جو اک آدھ اچھا شعر نظر سے گزر بھی جائے۔ اسے بلاواسطہ اچھا شاعر کہہ دینا ادبی طور پہ زیادتی ہوگی۔ وہیں کو ہلکا یا قدرے سطحی شعر بھی کہہ دے۔ اسے کسی کی ادبی شناخت پہ سپرامپوز کرنا بھی ظلم ہو گا۔
چناں چہ، شہزاد نیئر کی شاعری کی گرہیں کھولنے کا سوچنا۔ اور جو کتاب ہاتھ لگی۔ اس کا نام ’گرہ کھلنے تک‘ ہے۔ سرِورق پہ کچھ الجھی سی لکیریں ہیں۔ ممکن ہے کہ کچھ ڈوریاں ہیں۔ جو الجھ گی ہیں اور انہیں سلجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب میں من ہی من میں سوچنے لگا کہ شہزاد صاحب ایسی کیا الجھنیں ہیں جنہیں ہمارے سامنے کھولنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے اک اچھا تخلیق کار ہمیشہ الجھی ہوئی پیچیدہ ڈوریوں کو کھولنے کی سعی میں رہتا ہے۔
عام سماج کے سامنے جو فلسفی سادہ سلیس بیان کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ بلکہ انڈیا کے سی ایس ایس لیول کے امتحان کا اک سوال یاد آ گیا۔ جس میں اک طویل مضمون لکھنے کا کہا گیا تھا کہ شعراء اور تخلیق کار بحیثیتِ مجموعی سماج کے قانون ساز ہوتے ہیں۔ وہ جن قوانین کو لاگو کرتے ہیں وہ ہمارے اندر ہی گہرائی میں جگہ بناتے جاتے ہیں۔ یہ قانون سازی کی الگ دنیا ہے۔
مذکور بالا کتاب میں نے مکمل پڑھی ہے۔ قارئین کی آسانی کی خاطر اہم موضوعات کو پس و پیش ذکر کروں گا۔ بالفاظ دیگر آپ کو کتاب میں ان حوالہ جات کو تلاش کرتے ہوئے ترتیب کم ملے گی۔
اک جگہ پہ چند سطریں مجھے سوچنے پہ مجبور کرنے لگیں :
کیا کہوں
سب کو اپنے عقیدے میں لانا
رواں ضابطہ بن گیا
سو وہ تلوار کی نوک پر حکم لکھتے چلے
سارے منکر سروں کو اڑاتے ہوئے
چار جانب کو لشکر چلے
دور و نزدیک تاراج کرتے رہے
آسمانوں پہ بیٹھے خدا میری دھرتی پہ لڑتے رہے
آگ اور خون کا کھیل کرتے رہے
دونوں جانب سے انسان مرتے رہے
وقت بہتا رہا
میں وہیں تھا
(بحوالہ: گرہ کُھلنے تک: صفحہ نمبر: 133 )
نجانے مجھے کیوں مشال خان، کوٹ رادھا کشن کی زندہ جلائی گی مسیحی جوڑی یاد آنے لگے۔ صفحات الٹ کر دیکھا تو کتاب کا انتساب کچھ یوں تھا:
”زمین کے اُن باسیوں کے نام جو آسمان کی خاطر قتل کر دیے گئے۔“
(صفحہ نمبر 7 )
سوشل ریئل اژم ہمیشہ میرے دل کے قریب رہا ہے۔ ایسا ادب تخلیق کیا جائے۔ جو سماج کو اس کا آئینہ دکھائے۔ جس میں تلخیاں، حیرانیاں، شکوے، بشری کمزوریاں سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ وہاں وارفتگی بھی ملتی ہے تو شکوک و شبہات کو بھی کھوجا جاتا ہے۔ ایسے ہی اک نظم میری نظر سے گزری:
کتنا چاہا ہے کہ میں پھول خریدوں تجھ سے
اور پھر پیار سے تجھ کو ہی تھما دوں، لیکن
آخری پھول کی مہکار ترے ہاتھوں سے
آج کی شام کا بازار مرے ہاتھوں سے
دھوپ کے ساتھ، کہیں اور پھسل جائیں گے
مفلسی ایک طرح وار کرتی ہے!
(ویلنٹائن ڈے، صفحہ نمبر 41۔ 42 )
احمد ندیم قاسمی صاحب کو میں اپنا روحانی ادبی استاد سمجھتا ہوں۔ ان کی اک رائے شہزاد صاحب سے متعلق پڑھنے کا موقع ملا۔ جس میں قاسمی صاحب انہیں صداقت والا شاعر و انسان کہہ رہے تھے۔ اس سوال کی کھوج مجھے صفحہ نمبر 29 پہ لے گی۔ ہاں ایک ایسا موضوع جو ہماری بدلتی ہوئی دنیا کا موضوع ہے۔ اور جسے خواتین کے ہاں بطور ِشکوہ بھی سننے کو ملتا ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ ہم خواتین کے مسائل و پریشانیوں سے آپ مرد کیسے یا کتنا واقف ہیں؟ ایسے میں شہزاد نیئر نے ’ورکنگ وومن‘ کے عنوان سے اک نظم تخلیق کر کے سچے شاعر ہونے کا حق ادا کیا ہے۔
وہ نازک سے کندھوں پر تم
کتنا بوجھ اٹھاتی ہو
گھر کی چھت کا
کمر توڑ مہنگائی، بھاری ٹیکسوں کا
دفتر کی ذمہ داری کا
تیز کسیلی باتوں، میلی نظروں کا
انگ انگ پر چلتی پھرتی آنکھوں کا
گلی میں بیٹھے وزنی فقروں
آنے والی کل کی بوجھل فکروں کا
کتنے بھاری پتھر ہیں!
بیتی یادوں
نئی محبت کے وعدوں کا
گھنی گھنیری زلفوں کا!
دو ننھے سے کاندھوں پر تم اتنا بوجھ اٹھاتی ہو
صنفِ نازک کہلاتی ہو!
(صفحات: 29۔ 30 )
کمال خوبصورتی سے طنز کا نشتر آخری سطر میں پڑھنے کو ملا۔ دیکھیے ناں صنف نازک بھی ہے اور اتنے بھاری پتھر اٹھا کر سماج میں زندہ رہنا بھی کمال ہے۔
نوحہ گر کے عنوان سے اک طویل نظم بھی کتاب کی زینت بنی ہے۔ ادیبوں کے ہاں عام طور پہ مافوق الفطرت واقعات سے لے کر ایسے مناظر باندھے جاتے ہیں جو کہ تصوراتی ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں جادوئی حقیقت نگاری میں ایس ٹی کالرج کا نام نمایاں ہے۔ قبلائی خان کے علاوہ The Rime of the Ancient Mariner ( 1798 ) کا دنیائے ادب میں اہم مقام ہے۔ ’نوحہ گر‘ پڑھتے ہوئے مجھے جہاں ساحرانہ کارسازی نظر آئی وہیں سائنسی نکتہ نظر بھی ابھرتا ہوا ملا۔ شروعات میں ہی سپرا پارٹیکل کا حوالہ ملتا ہے۔
”کچھ نہیں“ کی عدم دوش چوٹی سے
بس ایک لمحے کا پھسلاؤ
سمت آشنا غیر مادے سے ٹکراؤ
نقطے کا پھیلاؤ ”ہونے“ میں بدلا
(صفحہ نمبر 119 )
جدید دور میں اتنے طویل نوحہ کم ہی پڑھنے کو ملتے ہیں۔ بالخصوص ایک ایسا زمانہ کے جہاں کہانی داستان گوئی سے ہوتی ہوئی ناول، ناولٹ، افسانہ، فلیش فکشن تک محدود ہوتی ہی محسوس ہو رہی ہے۔ یاد رہے یہ نکتہ صرف الفاظ کی تعداد یا صفحات کے پھیلاؤ کے تناظر میں بیان کیا جا رہا ہے۔
راقم آج کل اک تعلیمی تھیوری پہ غور و فکر کر رہا ہے۔ بطور استاد مجھے علمی بہاؤ اور شعور کے سفر میں تیرنے کا گہرا شوق ہے۔ غار کے انسان میں جو تجسس پایا گیا یا وہ کیسے زمینی پھل (مادہ) سے علمی پھل (جاننا) کی طرف بڑھا۔ یہ سب جان لینا ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے۔
جب برہنہ وہ غاروں سے نکلے
تو لاکھوں جتن منتظر تھے
پھلوں سے بھرا ایک جنگل جسے یاد کے
دور گوشوں کی تاریکیوں سے بلانا
ارم اور عدن نام دینا تھا
اس کو وہ خود کاتنے لگ گئے
گھر بنے اور بستی بسی
پھر گھنے جہل کی تیرگی سے پرے
جاننے کا نیا پھل چکھا، آنکھ پردہ ہٹا
(صفحہ نمبر 124 )
یہ طویل نوحہ پڑھنے لائق ہے۔ بالخصوص ادب کی طویل فارمز سے دلچسپی رکھنے والے احباب کے لیے ادبی تحفہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس ضمن میں دانیال طریر کا تبصرہ اہم ہے۔
”یہ نظم خدا کو ایک ایسا نقطہ قرار دیتی ہے جس کے گرد پہلے انسان خود عقیدے اور عقیدت کا ہالہ بناتا ہے اور پھر اس عقیدے اور عقیدت کی آڑ میں زر اور زمین کی ہوس میں انسانی بقا کے ساتھ جابرانہ اور سفاکانہ کھیل کھیلتا ہے۔“
(صفحہ نمبر 144 )
آج کی نسل کا اہم مسئلہ بریک اپ ہے۔ پھر عام طور پہ ادیب یہ بتانے میں عموماً ناکام ہوا ہے کہ رشتے ٹوٹ جانے کے بعد کیا کیا جائے۔ یا غلط فہمیوں کی صورت میں روٹھنا ہی کیوں واحد حل ٹھہرا۔ جدید دور کی محبتوں میں بریک اپس کے رجحان سے پیچ اپ کی طرف نظم ”حسن ناراض کو مشورہ“ میں اک اہم حوالہ ملتا ہے۔
ادھر دیکھو! یہ رستہ اب بھی پیارا ہے
نئے وعدوں کی انگلی تھام کر پھر چل پڑیں
چلتے چلے جائیں
محبت راستہ ہے
اس میں پھولوں، تتلیوں اور جگنوؤں کے قافلے
اب تک ہمارے منتظر ہیں
اب بھلا ڈالو گلے مل کر گلے
شکوؤں سے دامن جھاڑ لو
پہلے قدم پر ہی محبت لوٹ آئے گی!
(بحوالہ: 94 )
المختصر، شہزاد نیئر کی کتاب ”گرہ کھلنے تک“ ادب کے طلباء کو خصوصاً پڑھنی چاہیے تاں کہ جدید اردو ادب میں کیا کچھ لکھا جا رہا ہے۔
اس کا ٹھیک طرح سے اعادہ کر سکیں۔
٭۔ ٭۔ ٭


