ملکی صورتحال۔ کون کیا کر رہا ہے


ملک میں عام انتخابات کے 6 مہینے بعد صورتحال کچھ یوں ہے کہ نہ ملک میں سیاسی استحکام آ رہا ہے نہ معاشی استحکام اور نہ ہی امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ درجہ بالا تینوں کے بغیر عوام کو سہولت دینے اور ملکی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ہے۔

مسلم لیگ کی وفاقی حکومت کا خیال ہے کہ چونکہ ہمیں حکومت نہیں ایک بھاری ذمہ داری دی گئی ہے۔ خزانہ و داخلہ کی وزارتوں سمیت درجنوں اہم معاملات اب بھی براہ راست اسٹیبلشمنٹ دیکھ رہی ہے اس لئے وہ ملکی صورتحال کو بہتر کرنے کے لئے اسی انداز اور بے دلی سے کوشش کر رہی ہے جس انداز اور بے دلی کے ساتھ ان کو حکومت دی گئی ہے۔ ان کے کئی اہم عہدیدار کھل کر کہہ رہے ہیں کہ اگر ہمیں ہٹانا ہے تو ہٹا دو اور جو لوگ اس وقت ہم سے بہتر حکومت چلا سکتے ہیں ان کو لے آؤ۔ مسلم لیگ نون کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کو حکومت کے ساتھ چلنے پر مجبور کرنا اور پی ٹی آئی کو سنبھالنا اسٹیبلشمنٹ کا کام ہے۔

اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ عدلیہ کے ڈھکے چھپے ساتھ نے اب تک پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری رکھا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے پی ٹی آئی اور عمران خان کو سیاست سے آؤٹ کرنے کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی کوششیں ناکام نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ کے پاس آپشن بہت کم رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے فوجی ترجمان عدلیہ اور انتظامیہ سمیت تمام سویلین اداروں پر غصہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اور فوج کے قریب سمجھے جانے والے صحافی ایمرجنسی اور مارشل لاٗ کے نفاذ کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس کا مقصد عدلیہ اور حکومت پر دباو بڑھا کر اپنا ساتھ دینے پر مجبور کرنا بھی ہو سکتا ہے مگر اگر اس کے باوجود سیدھی انگلی سے گھی نہیں نکلا تو انگلی کو ٹیڑھا کر کے کام نکالنا کوئی بعید بھی نہیں۔

پیپلز پارٹی اس امید پر انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے کہ اگلی باری پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو کی ہے خواہ وہ مڈ ٹرم انتخابات کے ذریعے ہو یا اسی پارلیمنٹ کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کی صورت میں۔ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ نواز شریف کی ناراضگی اور پی ٹی آئی کی سخت مخالفت کے بعد اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کی دوستی زیادہ دیر چلنے والی نہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر مارشل لا کے بغیر حکومت کی تبدیلی ضروری ہوئی تو مقتدرہ کے پاس پیپلز پارٹی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ باقی تمام پارٹیوں کو حصہ بقدر جثہ پر راضی کرنا آصف علی زرداری کا پرانا تجربہ ہے۔ مگر یاد رہے کہ اگر پی ٹی آئی کا کوئی حصہ ان کے ساتھ شامل کر لیا گیا تو الگ بات ہے ورنہ حکومت چلانا پیپلز پارٹی کے بس کی بات بھی نہیں ہوگی۔

جہاں تک عمران خان کی جانب سے سخت ترین رویے کا تعلق ہے۔ انہیں احساس ہو چکا ہے کہ موجودہ فوجی قیادت کی موجودگی میں ان کا اقتدار میں دوبارہ آنے کا کوئی چانس بننے والا نہیں اس لئے ان کی دلی خواہش ہے کہ جتنا زیادہ ممکن ہو فوج اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی اور اختیارات کے جنگ کو مزید بھڑکایا جائے۔ خواہ اس کھینچا تانی میں ملک میں مارشل لا ہی کیوں نہ لگے۔ کیونکہ ان کے خیال میں جب تک مارشل لا کے بعد تمام پارٹیاں فوج کے خلاف یکجا نہ ہو جائیں، پی ٹی آئی کی سیاسی تنہائی ختم نہیں ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی، اے این پی، جمعیت العلما اسلام، ایم کیو ایم اور تحریک لبیک جیسی چھوٹی پارٹیاں اپنی مزاحمتی اور احتجاجی سیاست کے ذریعے خود کو عوام اور میڈیا کے ساتھ جڑے رکھنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔ کیونکہ ملک کے موجودہ گمبھیر مسائل کا حل کسی کے پاس بھی نہیں۔

میری ناقص رائے میں مقتدر قوتوں کی جانب سے نواز شریف کی بجائے شہباز شریف کو لانے کا فیصلہ غلط تھا۔ کیونکہ شہباز شریف ایک منیجر کی طرح دن رات محنت کر کے فیصلوں پر عمل درآمد تو کرا سکتے ہیں مگر سخت اور دو ٹوک فیصلے کرنا منیجر کا نہیں نواز شریف جیسے لیڈر کا کام ہوتا ہے۔ اگر اس وقت نواز شریف خود وزیر اعظم ہوتے تو چین، ترکیہ، انڈیا اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بھی مثالی ہوتے اور پی ٹی آئی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کی مقدار بھی جدا ہوتی۔ لگتا ہے تمام قوتیں بند گلی میں پہنچ چکی ہیں۔

Facebook Comments HS