ڈاکٹر عمر عادل کی غریدہ فاروقی اور دیگر خواتین کے متعلق غلاظت سے بھرپور گفتگو


ہمارے بظاہر پڑھے لکھے لوگ بھی ذہنی اعتبار سے دولھے شاہ کے چوہے ہی ہوتے ہیں، بھلے کسی سبجیکٹ میں پی ایچ ڈی کر لیں یا سائنس گریجویٹ بن جائیں لیکن ان کی ذہنی سطح ہمیشہ انہی روایتی دھاگوں میں الجھی رہتی ہے جن کا ”آج“ کی دنیا سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ وہ ایک طرح سے ماضی کے انہی گھسے پٹے راستوں کے راہی ہوتے ہیں جو اب غیر متعلق ہوچکے۔

ہمارے علاقے میں ایک پی ایچ ڈی سکالر پائے جاتے ہیں، ان سے شادی کے متعلق گفتگو ہو رہی تھی۔ دوران گفتگو ازراہ مذاق پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کی عمر خاصی بیت چکی ہے، اب کوئی شادی وادی کا سوچ لینا چاہیے۔

انتہائی سنجیدگی سے فرمانے لگے کہ جناب! مجھے کوئی مخلص یا میرے ذہن کے مطابق کوئی موزوں خاتون نہیں ملی۔ میں نے پوچھا کہ جناب کا معیار کیا ہے؟

”جھٹ سے بولے کہ مجھے ایک ایسی خاتون چاہیے جو بھلے پرائمری ہو لیکن لالچی نا ہو، میرا اس سے شادی کرنے کا مقصد بس اتنا ہے کہ کچن اچھے سے چلائے، میرے ماں باپ کی خدمت کرے اور میرے بچوں کی دیکھ بھال اچھے سے کرے“

میں نے کہا حضور پھر یوں کہیے نا کہ آپ کو بیوی کے روپ میں ایک نوکرانی درکار ہے نا کہ ایک جیون ساتھی؟

کھلکھلا کر ہنس دیے اور انتہائی رعونت سے فرمانے لگے کہ عورت کو وہیں پہ رکھنا چاہیے جہاں کی اس کی اوقات ہو ورنہ آپ کی زندگی اجیرن بنا دے گی۔

دوران گفتگو پتا چلا کہ موصوف اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے بہت بڑے فین ہیں اور سلسلہ ”شہابیہ“ کے پیروکار ہیں اور وہ انہیں ایک حق گو روحانی بابا اور ملامتی صوفی سمجھتے ہیں اور انہوں نے مجھے راجہ گدھ میں سے کچھ حوالے بھی جڑ دیے۔

اتنی لمبی تمہید کا مقصد یہ بتانا مقصود ہے کہ بڑی بڑی ڈگریوں کے پیچھے اور بڑے بڑے چینلز کی اسکرین پر بہت چھوٹے لوگ چھپے ہوتے ہیں، جن کا ظرف اور ذہن کا دائرہ روم ٹمپریچر سے بھی بہت کم ہوتا ہے۔ جو صرف بھاشن بازی کی حد تک معتبر ہوتے ہیں لیکن سوچ انتہائی بدبودار اور غلاظت سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اس قسم کے لوگوں کا سب سے خوفناک روپ وہ ہوتا ہے جب یہ موٹیویشنل اسپیکر بن کر مختلف جگہوں پر نصیحت
آ موز باتیں کرنے لگتے ہیں اور رجعت پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔

اس طرح کے لوگ روحانی چٹکلے سنا کر نا صرف اپنی ڈیجیٹل مارکیٹنگ کو بڑھاوا دیتے ہیں بلکہ سامنے بیٹھے نوجوانوں کو سراب میں دھکیل کر ان کو لکیر کا فقیر بناتے ہیں، جو اپنی سوچ کو انہی روحانی بابوں کے آ گے بخوشی گروی رکھ دیتے ہیں، ساری زندگی کے لیے ان کی سوچ اغوا ہو جاتی ہے اور انہیں ادراک بھی نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر عمر عادل جو آج کل کسی نا کسی پوڈ کاسٹ کی زینت بنے رہتے ہیں، ان سے کوئی تعارف تو نہیں تھا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خواتین کے متعلق اپنی گھٹیا زبانی سے اپنا تعارف مکمل کر دیا ہے مزید جاننے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہ بھی اسی ”قمری سلسلہ“ کے سرخیل ہیں جن کی نظر میں خواتین کی حیثیت سیکشوئل ٹوائے سے زیادہ نہیں ہے اور یہ اس وجہ سے خود کو افضل سمجھتے ہیں چونکہ ان کی رانوں کے بیچ عضو تناسل ہے جو کہ ان کی نظر میں خواتین پر حاکمیت کی علامت ہے اور ان کو پوری کی پوری خاتون ٹانگوں کے درمیان میں ہی دکھائی دیتی ہے، باقی کے جسم، ذہن اور شخصیت میں انہیں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔

غالباً انہیں یہ لگتا ہے کہ ہر خاتون دستیاب ہوتی ہے جس کا ثبوت ان کا بننا سنورنا اور ہنس کے بات کرنا ہوتا ہے۔
اسی بدبودار سوچ کا اظہار ڈاکٹر عمر عادل نے ایک پوڈ کاسٹ میں کیا ہے۔

کہتے ہیں کہ جتنی بھی مشہور و معروف اینکرز ہیں وہ کسی نا کسی کی ”رکھیل“ ہوتی ہیں، یہ مشہور ہو کر اشرافیہ کے گھروں، گیسٹ ہاؤسز اور ریسٹ ہاؤسز کی زینت بنتی ہیں۔

یہ جتنی ”ٹپ“ ناچ رہی ہیں میری واشگاف باتوں کے بعد وہاں وہاں سے دھواں نکلے گا کہ سمجھ نہیں آئے گی ”
غریدہ فاروقی کا تو باقاعدہ نام لے کر ٹھٹھے اڑاتا رہا۔

عادل جی سے ایک سنجیدہ سوال ہے کہ جہاں کی یہ خواتین زینت بنتی ہیں وہاں کے طالبین یا مکینوں کے لیے جو ان کے منتظر ہوتے ہیں کے لیے کون سا شبد استعمال کریں گے؟

جو بن بلائے یا ایک فون کال پر رات کے پچھلے پہر کسی خاتون کے گھر اکیلے میں ملنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں کیا ایسے پاک بازوں کے لیے ”دو ٹکے کے مرد“ ایسے جملے استعمال کیے جا سکتے ہیں یا یہ جملے صرف خواتین کے ساتھ خاص ہیں؟

جن مردوں کا خواتین کو دیکھتے ہی ناڑا ڈھیلا ہو جاتا ہے کیا وہ نارمل کہلائے جانے کے مستحق ہیں یا وہ ایک طرح کے نفسیاتی مریض ہوتے ہیں؟

جو خواتین کو دیکھتے ہی اپنا عضو تناسل کھجانے لگتے ہیں اور ایستادگی کی وجہ سے باؤلے سے ہو جاتے ہیں انہیں کون سا مرد کہا جائے گا؟

یاد رہے کہ اسی بدبودار سماج نے ایک معروف خاتون اینکر کو ”حجاب میں لپٹی طوائف“ تک کہہ دیا تھا۔

ابھی تو وہ آپ کے بقول مختلف ہاؤسز کی زینت بنتی ہیں، ڈریں اس وقت سے جب یہی خواتین آپ کی مردانگی اور پاکیزگی کے قصے چوکوں چوراہوں میں سنانے لگیں گی۔

ایک خاتون بہت کچھ جانتی ہے جس دن اس کے کندھے ”عزت و غیرت“ ایسی پہیلیوں سے آ زاد ہو گئے اس وقت بہت سے مکھوٹے دھلیں گے اور مردانگی کے پرسونا ماسک اتریں گے۔

آ خر میں اس طرح کی بدبودار سوچ رکھنے والوں کے سرخیلوں سے ایک تلخ سا سوال ہے کہ کیا وہ اپنی قرابت دار خواتین کے متعلق بھی ایسا ہی سوچتے ہیں؟

Facebook Comments HS

2 thoughts on “ڈاکٹر عمر عادل کی غریدہ فاروقی اور دیگر خواتین کے متعلق غلاظت سے بھرپور گفتگو

  • 31/07/2024 at 3:27 صبح
    Permalink

    ڈاکٹر عمر عادل پی ٹی وی سے لیکر آج تک دس بارہ چینلز پر کام کا تجربہ رکھتے ہیں۔
    1988 سے لیکر آج تک 36 سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔

    پاکستان میں ٹی وی پر گفتگو کا معیار کچھ اور ہے جب کہ سوشل میڈیا پر بات چیت کا معیار اب بدل چکا ہے۔
    فحش لغو گفتگو ہو یا عریانی یا جسم دکھانا اب ایک عام بات ہوچکی ہے۔

    مجھے کسی پبلسٹی کی ضرورت نہیں لیکن کراچی ٹی وی اور ریڈیو سے میرا تعلق 1981 سے شروع ہوا۔
    اور آج تک گاہے بگاہے ان لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا رہا ہوں۔

    عمر عادل ایک بیس گریڈ کا سرکاری افسر بھی ہے اور فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سے بھی منسلک ہیں۔
    ایک اچھا آرتھوپیڈک سرجن بھی ہے۔

    پرویز مشرف کے آخری سال میں اسلام آباد پی ٹی وی اور مختلف چینلوں کے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رہا۔ اس وقت کی متعدد مشہور خاتون اینکرز اسی قماش کی تھیں جو عمر عادل نے بیان کیں۔

    یقین جانیں سب یقینا ویسی نہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ متعدد ایسی ہی ہیں اور فیصل واوڈا کی بیگم ہوں یا ن لیگ کے متعدد سیاست دانوں کی بیگمات کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں۔

    ایک اور مشہور اینکر جو ایک اور اینکر کی اب بیگم ہیں۔ شادی سے پہلے مختلف سفارت خانوں کی پارٹیوں میں پیتے پلاتے اور "خبر” نکالتے اس گناہ گار نے بھی دیکھا۔

    متحدہ کے متعدد سیاست دانوں نے خاتون اینکرز سے شادی کی اور سب کو چھوڑیں ہمارے عمران خان صاحب نے بھی ایک اینکر سے ہی کیوں شادی کی تھی۔ اور ان ہی دنوں غریدہ کا ہی دعوی تھا کہ 2014 کے دھرنے کے دوران خان غریدہ کو بھی فون کرتے رہے تھے۔ باقی چھوڑیں۔

    یہ ایسا گند ہے جسے نہ ہی کریدا جائے تو مناسب ہوگا۔ عمر عادل کے پاس توابارشن کا بھی ریکارڈ ہے۔

    ایک مشہور خاتون اینکر تو ایسی بھی رہی ہیں جن کے ببانگ دہل زرداری، شہباز شریف ہی نہیں گورنر سندھ زبیر عمر کے ساتھ بھی بہت کچھ مواد ویڈیو کی شکل میں موجود ہے۔

    کراچی کے مرد اینکر نور العارفین نے کئی سال پہلے دعوی کیا تھا کہ وہ صدر زارداری کا انترویو لینے ان کی رہائش گاہ تشریف لے گئے تو اس دوران بیڈروم سے انہی خاتون کو آدھے پونے کپڑوں میں لڑکھڑاتے اور بڑبڑاتے باہر آکر باتیں کرتے دیکھا تھا۔

    • 31/07/2024 at 3:44 صبح
      Permalink

      بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ پرائیویت ٹی وی چینل سے 2003 کے زمانے میں چلنے والے مشہور پروگرام "بیگم نوازش” کے جملے اور اسکرپٹ ڈاکٹر عمر عادل کی تحریر ہوتی تھی۔ بے شک ہمیں یا آپ کو وہ پسند نہ آیا ہو۔ لیکن ایک دنیا اس پروگرام پر پاگل تھی۔

      اور یادرہے کہ ہاجرہ خان پانیزئی نے بھی خان سے دوستی اینکر بن کر ہی بڑھائی تھی۔

Comments are closed.