ایک تصویر۔ کئی عنوان


مقتدرہ سندھی زبان یعنی سندھی لینگویج اتھارٹی حیدرآباد کی جانب سے سندھی زبان کی بنیادی تربیت کا آن لائن کورس جاری ہے۔ جس میں ملک خواہ بیرونِ ملک سے ایسے دلچسپی رکھنے والے طلبہ و طالبات یہ کورس اپنے گھروں میں بیٹھ کے کر رہے ہیں، جن کی مادری زبان کوئی اور ہے اور وہ سندھی زبان کو اپنی ثانوی زبان کے طور پر سیکھنا چاہ رہے ہیں۔ اس کورس کے دوسرے بیچ کی کلاسیں جاری ہیں۔ جس میں پی ایچ ڈی ڈاکٹرز سے لے کر 13 سال کے بچّوں تک کی عمر کے سیکھنے والے سندھی زبان کا یہ بنیادی کورس کر کے بنیادی سندھی زبان لکھنا، پڑھنا اور بولنا سیکھ رہے ہیں۔ جن میں سے کچھ اساتذہ اور کچھ دیگر پروفیشنل شعبوں سے وابستہ پیشہ ورانہ افراد بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں اس دوسرے بیچ کے طالب علموں کو مختلف علمی، عملی اور تخلیقی مقابلوں کا حصہ بھی بنایا جاتا ہے، تاکہ زبان سیکھنے کے سفر میں ان کی انفرادی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا جا سکے۔ اس ضمن میں کورس انچارج اور تربیت کار کی حیثیت سے میں نے اپنے اس بیچ کے سیکھنے والوں کو کچھ دن پہلے ایک ایسا ہی موقع فراہم کیا۔

اس سلسلے میں ان کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی گئی، اور انہیں اس تصویر کا عنوان تجویز کرنے کی دعوت دی گئی۔ اس تصویر میں تین بچیّاں دکھائی گئی ہیں۔ جن میں سے ایک بچّی چیری (پھل) ترازو میں تول رہی ہے۔ جبکہ دیگر دو بچّیاں اس کی خریدار بن کر اس سے وہ چیریز خرید رہی ہیں۔ جن میں سے ایک چھوٹی بچّی اپنے فراک کا دامن پھیلا کر وہ چیریز اس دکاندار بچّی سے لے رہی ہے، جبکہ دوسری بچی اپنے بازو میں خریداری کے لیے ایک ٹوکری لٹکائے ہوئے ہے۔

اس تصویر کو کلاس کے طلبہ و طالبات نے اپنے اپنے زاویے سے دیکھا۔ اپنی اپنی ذہنی سطح کے مطابق اس کی گہرائی کو محسوس کیا، اور ہر کسی نے اپنی اپنی سمجھ اور تخلیقی سطح کے مطابق اس کے مختلف موضوعات تجویز کیے۔ آئیے! وہ دلچسپ موضوعات آپ کے ساتھ بھی شیئر کریں اور آپ بھی اس تصویر کو غور سے دیکھ کر یہ بتائیں، کہ ان تمام عنوانات میں سے کون سا عنوان اس تصویر کے زیادہ قریب ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی حمیرہ جبین صاحبہ کو یہ لگا کہ اس تصویر کا عنوان ”بچّیوں کا کھیل“ ہونا چاہیے۔ کیونکہ وہ بچّیاں کھیل کھیل میں دکاندار اور خریدار کا یہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ کراچی ہی سے متعلق شگفتہ شفیق صاحبہ کا خیال ہے کہ اس تصویر کے لیے موزون عنوان ”بچّیوں کی سبزی والی دکان کا کھیل“ ہو سکتا ہے۔ ملتان کے راؤ اطہر سروش صاحب اس تصویر میں مستقبل کی ایک بزنس وومن (انٹرپرنیوئر) کو دیکھ رہے ہیں اور اس تصویر کا سرنامہ ”چھوٹی تاجر“ تجویز کرتے ہیں۔

نوکوٹ (تھر) میں رہنے والی شری متی جوتیکا کماری جی نے اس تصویر کی سرخی اِن الفاظ میں سوچی: ”چھوٹی چھوٹی خوشیاں“ جبکہ جامشورو کی شمائلہ صاحبہ نے اس تصویر کا عنوان ”آئیے! کھیل کھیل کر اپنا دل بہلائیں!“ موزوں کیا۔ اس سلسلے میں کراچی سے سندھی زبان کی تربیت حاصل کرنے والی ثنا رفیق صاحبہ نے اس تصویر کی ہیڈنگ ”ایک سبزی والی“ تجویز کی۔ جبکہ فیصل آباد (لائلپور) سے تعلق رکھنے والی پنجابی ادب کی نامور سکالر، ڈاکٹر ثوبیہ اسلم صاحبہ نے اس تصویر کا خوبصورت سرنامہ ”چھوٹی پریوں کی دکان“ تجویز کیا۔

لاڑکانہ میں پیدا ہونے والی اور آج کل حیدرآباد میں رہائش پذیر، اس کلاس کی طالبہ شہزادی شیخ صاحبہ نے اس تصویر کے لیے ”میری سہیلیاں“ کا عنوان مناسب سمجھا، جبکہ کراچی سے تعلق رکھنے والی طالبہ ریحانہ نعیم صاحبہ نے اس تصویر کے لیے مناسب سرخی تجویز کی: ”بچّیوں کا میٹھا پھل“ (یہاں ’پھل‘ سے مراد چیری ہی ہے۔ ) خیرپور جائی اردو کی استاد اور اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے والی قمرالنسا یوسف صاحبہ نے اس تصویر کے لیے ”ناپ تول کا کھیل“ کا عنوان مناسب سمجھا، جبکہ لاہور سے گیان سمیٹنے والی اس کورس کی شریک سائرہ بانو صاحبہ نے اس عکس میں موجود بچّیوں کو نازک تتلیوں سے تشبیہ دیتے ہوئے، اس تصویر پر ”تتلیوں کے رنگ برنگے پَر“ جیسا نفیس سرنامہ تجویز کیا۔

مسقط (عمان) سے سندھی زبان کی تربیت حاصل کرنے والی 15 سالہ کم عُمر شِکشَک (طالبہ) بتُول بنتِ فاطمہ نے اس تصویر کا عنوان تجویز کیا: ”چیریوں کی طرح میٹھا بچپن“ ۔ جبکہ ان سے دو سال چھوٹی ان کی بہن 13 سالہ (اس بیچ کی کم عمر ترین طالبہ) گلِ زہرہ صاحبہ نے اس تصویر کی سرخی تجویز کی: ”خوبصورت یادوں کو اکٹھا کرنا“ ۔ کراچی کی عروج فاطمہ صاحبہ نے بچّوں کے اس کھیل کو مختصر مگر جامع الفاظ میں ”بچّوں کی دنیا“ کا نام دینا مناسب سمجھا، تو اسی شہر سے وابستہ ایک نجی اسکول میں سندھی پڑھانے والی استانی، کرن مشتاق صاحبہ نے اس تصویر کی ہیڈنگ ”ناپ تول میں برابری“ تجویز کی۔

کراچی کی عائشہ شیخ صاحبہ نے اس تصویر کا عنوان ”زندگی، سمارٹ فون سے پہلے“ موزون کیا۔ جبکہ ٹنڈو محمد خان کے کریم بخش شیخ صاحب نے اس عکس کی سرخی ”خوش خصلت بچّیاں۔ سونے جیسے ان کے دل“ تجویز کیا۔ اور حیدرآباد کی عائشہ کوہساروی صاحبہ نے اس منفرد اور معنی خیز تصویر کے لیے ”بکھری پرانی معصوم چیریاں، دیگچی میں“ کا سرنامہ تجویز کیا۔

یہ بظاہر تو ایک چھوٹی سی سرگرمی تھی، لیکن اس سے نہ صرف ہمارے سیکھنے والوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع ملا۔ معمول سے ہٹ کر کچھ نیا کرنے اور سوچنے کا موقع ملا۔ ان میں سوچنے کی صلاحیت کو فروغ ملا، بلکہ ہمیں بھی انفرادی طور پر ہر سیکھنے والے کی تخلیقی اِستِعداد کا کسی حد تک اندازہ ہوا۔ یہ سرگرمی دو تین بار دہرائے جانے کے بعد یہی طالب العلم کسی تصویر کو دیکھ کر پوری کہانی بھی تخلیق کر سکتے ہیں۔

ہر اسکول، کالج یا درسگاہ کے ہر کلاس میں ہر استاد کو اس قسم کی سرگرمیوں سے اپنے سیکھنے والے طلبہ و طالبات کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا چاہیے، تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ سوچنے والے اور تخلیق کرنے والے اذہان پیدا کر سکیں۔

Facebook Comments HS