گرم گرم چائے


سمیع کی زبان کے ذائقے کے سارے مسام حرکت میں آ گئے۔ اس نے پھر سوچا۔ ”گرم گرم چائے۔ “ صبح کی خنکی اس کے چوڑے ماتھے کو ٹھٹھرائے جا رہی تھی۔

اس تاریک اور سرد بنکر میں اس کو آئے ہوئے دس دن ہو گئے تھے۔ یہاں انتہائی مضبوط دیواروں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ بس ایک دروازہ پچھلی طرف سے کھلتا تھا، اور مشین گن سے فائر کرنے کے لئے کچھ سوراخ۔ شاید سمیع کو اس وحشتناک جگہ سے ریلیز کرنے کے لئے کوئی متبادل فوجی نہیں تھا۔

اکثر رات کی تاریکی میں گولہ باری شروع ہو جاتی جو کچھ گھنٹے جاری رہتی۔ گولہ باری کی آڑ میں دہشت گرد دشمن کے علاقے میں تخریبی کارروائیاں کرنے کے کیے بھیجے جاتے تھے۔

دن کی خاموشی میں تیس سالہ سمیع اکثر گہری سوچوں میں کھو جاتا۔ ”یہ دہشت گرد جا کر دشمن کے علاقے میں تخریبی کارروائیاں کریں گے، دشمن کے کچھ فوجی یا پولیس اہلکار مارے جائیں گے، کچھ زخمی ہوں گے، کتنے گھر اجڑ جائیں گے۔

پھر دشمن بھی ہمارے علاقے میں بمباری یا گولہ باری کرے گا۔ کتنی جانیں ضائع ہوں گی، کتنی مائیں دروازوں کو اپنے بیٹوں کے انتظار میں تکتی رہیں گی، کتنے سہاگ لٹ جائیں گے، کتنے بچے بے باپ پلیں گے، کتنے کاروبار تباہ ہو جائیں گے۔ یہ دونوں ملک آزاد ہیں، یہ کوئی آزادی کے لئے تو جنگ نہیں لڑی جا رہی۔ پھر یہ مار دھاڑ کیوں؟ یہ سب وسائل عوام کی حالت بہتر بنانے کے لئے استعمال ہو سکتے ہیں۔ دونوں طرف کے عوام آپس میں محبت سے رہ سکتے ہیں۔ ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان نفرتوں کے بیج کون بو رہا ہے! ”

سمیع پریشان ہو جاتا۔ اسے لگتا جیسے یہ باتیں سوچ کروہ کوئی جرم کر رہا ہے۔ شاید ملک سے غدّاری کر رہا ہے۔

سمیع کے باقی ساتھی تو ملک کے لئے بلا چون و چرا جان دینے کے لئے تیار تھے۔ ان کے لئے دشمن کی جان کی کوئی وقعت نہیں تھی۔ وہ دشمن ملک کے رسم و رواج کا مذاق اڑاتے، ان کے مذہبی عقائد پہ نکتہ چینی کرتے، ان کو انسان سے کم تر مخلوق سمجھتے۔ سمیع ان کی بات چیت سن کر خاموش رہتا، بس ہلکے سے مسکرا دیتا۔

اب وہ اپنی سوچوں پہ بہت پریشان رہتا تھا۔ اس کو ہر وقت گرم گرم چائے کی خواہش تنگ کرتی رہتی۔ اور جب بھی اسے چائے کی خواہش ہوتی اس کو شازیہ یاد آ جاتی۔ کتنی اچھی چائے وہ بناتی اور کس نفیس انداز سے وہ چائے کو پیش کرتی ہے۔ وہ چائے تھی یا شازیہ کا انداز تھا جس سے وہ مسحور ہو جاتا تھا! اس کی لمبی سیاہ زلفوں کی یاد اس کو ستانے لگ جاتی۔ ”پتا نہیں کہ میں یہاں سے زندہ بچ نکلوں گا کہ نہیں۔ اگر میں مارا گیا تو میرے ملک یا دشمن ملک کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا، اگر ہو گا تو کسی سیاستدان یا بیوروکریٹ یا کسی جنرل کو۔ یہ میرے نام کے آگے ’شہید‘ کا لفظ لگا دیں گے۔ لیکن میں آخرت کے دن انہی لوگوں کے خلاف شہادت دوں گا۔“ یہ سوچ کر اس کی آنکھیں پر نم ہو جاتیں۔

اس کا دل چاہتا کہ وہ بنکر کو چھوڑ چھاڑ کر دیوانوں کی طرح بھاگ کر شازیہ کے پاس پہنچ جائے۔

کبھی سمیع کو یاد آتا کہ وہ کتنی مشکلات کے بعد فوجی اکیڈمی میں داخلے کے امتحانات پاس کر پایا تھا، پھر اکیڈمی میں وہ کتنے جوش و خروش سے تعلیم اور تربیت حاصل کر رہا تھا۔ جب وہ شازیہ سے ملا اور اس کو فخر سے جنگ کی تکنیک کے بارے میں تفصیلات بتانے لگا تو شازیہ کے ایک جملے نے اس کی کئی سالوں کی ذہنی تعمیر شدہ عمارت کو ڈھیر کر دیا۔ ”سمیع، اگر ہم جنگ جیت بھی جائیں تب بھی عوام کے لئے وہ شکست ہی ہے۔ “

پھر وہ اپنے ذہن کو واپس بنکر میں لانے کے لئے جھٹکتا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد پھر وہی سلسلہ۔ وہ خود سے تنگ آ چکا تھا اور حسرت بھری نگاہوں سے اپنے ساتھیوں کو دیکھتا جو ٹھنڈی چائے سے لطف اندوز ہوتے۔ ایک دن ساتھیوں کے اصرار پر اس کے منہ سے نکل ہی گیا۔ ”گرم گرم چائے۔ “ پھر وہ خود ہی ندامت سے چپ ہو گیا اور پورا دن خاموش رہا۔ اس کے ساتھی سمیع سے بات کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن اس کی زبان پہ تالے پڑے ہوئے تھے۔

اگلے دن اس کی پلاٹون کا کمانڈر صبح سویرے آیا اور سمیع کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ کمانڈر نے اس سے پوچھا کہ وہ کیوں پریشان رہتا ہے۔ سمیع آنکھیں پھاڑے کمانڈر کو دیکھتا رہا اور کچھ نہیں بولا۔ کمانڈر نے سمیع سے پوچھا۔ ”تم کیوں اتنا سوچتے ہو، ایک فوجی کو کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فوجی کا کام احکامات یہ عمل کرنا ہے اور ملک کے لئے جان دینے کے لئے ہر وقت تیار رہنا ہے۔ تم کیا سوچتے رہتے ہو؟“

سمیع مسکرایا۔ ”مجھے صرف گرم گرم چائے چاہیے۔ “

دو ہفتوں کے بعد وہ اپنے گھر کے صحن میں کرسی پہ بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا جسم صبح کی خنکی سے ٹھٹھر رہا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں فوج سے برخاستگی کا خط تھا۔ شازیہ ہاتھ میں گرم گرم چائے کا کپ لئے اس کے سامنے کھڑی تھی۔ سمیع کے ذائقے کے مسام سُن ہو چکے تھے، لبوں پہ تالے پڑے ہوئے تھے، اور آنکھیں پتھر بن چکی تھیں۔

Facebook Comments HS